عمران مائنس نہ ہوسکے :سہیل آفریدی، پنجاب حکومت پرتنقید
وزیرآباد میں مبینہ قاتل کوپکڑنے کادعویٰ ،بھرپوراستقبال ،متعدد کارکن گرفتار سیالکوٹ میں 150 افراد کیخلاف مقدمہ ، گجرات بھی پہنچے ،دکانیں زبردستی بند
سیالکوٹ، سمبڑیال، و زیرآباد(نمائندہ دنیا، تحصیل رپورٹر ، ڈسٹرکٹ رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ریحانہ ڈار نے خواجہ آصف کی ضمانت ضبط کروا کر انہیں شکست دی، پنجاب کے عوام پہلے بھی عمران خان کے ساتھ تھے اور اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔ پنجاب کی جعلی اور مسلط شدہ حکومت کہتی ہے کہ ہمیں بھارت سے خطرہ نہیں، حالانکہ اسے پنجاب کے عوام نے مسترد کر دیا ہے ۔ یہ پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ڈار ہاؤس میں سڑکوں پر احتجاجی تحریک کے سلسلے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ جہاں ہم نے رات گزارنی تھی، وہاں بجلی اور جنریٹر کے کنکشن کاٹ دئیے گئے ۔ یہ چیزیں عوام میں نفرت پیدا کر رہی ہیں۔ عمران خان کو مائنس کرنے میں چار سال لگ گئے لیکن وہ مائنس نہیں ہو سکے ۔ شہباز شریف نے پانچ بجٹ پیش کیے لیکن اس کے باوجود غریب رو رہے ہیں۔ 27 ستمبر کو عوام اپنے حقوق کیلئے نکلیں گے ۔ یہ حکومت غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے آئی ہے ، صوبوں کے فیصلے وہ لوگ کریں گے جو عوامی نمائندے ہونگے ۔دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ انہیں قتل کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ جب ان کا قافلہ وزیرآباد پہنچا تو وہاں بھی قافلے کے پیچھے قتل کی نیت سے سول کپڑوں میں ملبوس ایک شخص کو بھیجا گیا تھا۔
ان کی سکیورٹی نے اسے بھی پکڑ کر متعلقہ ایس ایچ او کے حوالے کیا اور اس سے پستول برآمد ہوا۔ انہوں نے پنجاب انتظامیہ اور پولیس کے رویے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب آمد کے بعد نہ صرف سکیورٹی کے سخت خدشات پیدا کیے گئے بلکہ پولیس نے ہمارا کھانا تک چھین لیا اور جس گھر میں ہم نے قیام کیا، وہاں کی بجلی بھی پیچھے سے کاٹ دی گئی جبکہ وزیرآباد سے نامہ نگارکے مطابق سہیل آفریدی کے گارڈز نے تھانہ سٹی کے سکیورٹی انچارج مقدس چیمہ کو مشکوک جان کر پکڑ ا اور زودکوب کیا اس دوران ان کے کپڑے پھٹ گئے اور اس سے سرکاری پستول 30 بور چھین لیا گیا ، سہیل آفریدی وزیرآباد پہنچے تو انہوں نے کچھ دیر آرام کیا اور دوپہر کے وقت ان کا قافلہ اندرون جی ٹی روڈ پر نکل کر ڈبل پھاٹک پہنچا جہاں پر کارکنوں نے اپنے قائد کا شاندار استقبال کیا، ایک کارکن کی کوئی نشانی دینے کی فرمائش پر سہیل آفریدی نے اسے اپنی ویسکوٹ اتار کر دے دی جبکہ ایک د کاندار نے اپنا مفلر وزیراعلیٰ کو پیش کیا جس کو انہوں نے سر پر باندھ لیا۔ قبل ازیں سیالکوٹ، وزیرآباد اور گجرات میں سہیل آفریدی کی آمد پر پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر دکانیں زبردستی بند کرانے کی اطلاعات بھی ملیں۔ سیالکوٹ میں تھانہ کوتوالی پولیس نے اشتعال انگیز نعرے بازی، پولیس پارٹی پر حملے اور سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 100 سے 150 افراد کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ۔ وزیرآباد میں پرانی کچہری کے قریب پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن، سابق چیئرمین حاجی اسد اللہ رندھاوا، سابق کونسلر میاں محمد منیر اور دیگر افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔پی ٹی آئی کھاریاں کے جنرل سیکرٹری چودھری شیراز لنگڑیال اور ان کے ایک ساتھی کو سہیل آفریدی کے استقبال پر میاں جی ہوٹل لالہ موسیٰ سے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments