عمران خان کو ریلیف ملتا نظر نہیں آرہا:سلمان اکرم راجہ
سپریم کورٹ اب سپریم نہیں رہی،26اور27ویں ترمیم سے نیا نظام تشکیل دیا گیا آئینی عدالت کے فیصلوں کی پابندی سپریم کورٹ پر ہوگی: ’’دنیا مہربخاری کیساتھ ‘‘
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ عدالتیں آمنے سامنے نہیں ، سپریم کورٹ نے تمام معاملات آئینی عدالت کے سپرد کرکے معاملہ موخر کردیا ۔ ایسا کوئی اشارہ نظر نہیں آرہا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کی طرف سے مزاحمت ہوگی۔مجھے عمران خان کو ریلیف ملتا نظر نہیں آرہا۔ یہ ایسی صورتحال ہے جو ہمیں بند گلی میں دھکیلتی ہے ۔ بحیثیت قوم ہمیں فیصلے کرنا ہونگے کہ اپنے حقوق کا تحفظ کیسے کرنا ہے ۔پروگرام ‘‘دنیا مہربخاری کے ساتھ’’ میں گفتگو کرتے سلمان اکرم نے کہا کہ جب آئینی عدالت کا حکم آجائے گا تو میرے خیال میں سپریم کورٹ کیلئے اس حکم کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ وہ حکم سپریم کورٹ کو درست لگے یا نہ لگے ، جس طرح 27ویں ترمیم لکھی گئی ، اس میں سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کیے گئے ہیں۔ جب آئینی عدالت کوئی حکم دے گی تو سپریم کورٹ کیلئے اس پر عمل کرنا لازم ہوگا۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ آئینی عدالت سپریم کورٹ سے اختیار چھیننے جارہی ہے ۔
سپریم کورٹ اور ہمارے پورے عدالتی نظام میں آئین اور قانون باہم جڑے ہوئے ہیں۔ عام قوانین کی تشریح بھی آئین کی روشنی میں کی جاتی ہے اور عام قوانین کے ذریعے بنیادی حقوق کا نفاذ ہوتا ہے ۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ جہاں بھی آئینی حق کی بات ہو، معاملہ آئینی عدالت اپنے پاس بلا کر فیصلہ کرے گی تو اس سے پورا عدالتی نظام متاثر ہوسکتا ہے ۔ ایسی صورتحال میں ہر عدالت یہ سوچے گی کہ ایسا فیصلہ نہ کر بیٹھے جس سے آئینی عدالت اس سے مقدمہ واپس لے ۔ اب سپریم کورٹ سپریم نہیں رہی۔ 26ویں اور 27ویں ترمیم کے ذریعے جو پورا نظام مرتب کیا گیا، اسکا مقصد بظاہر عمران خان اور تحریک انصاف سے متعلق مختلف عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات کے حوالے سے ایک عدالت کو حاوی کرنا تھا۔ 27ویں ترمیم کے تحت سپریم کورٹ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلوں کی پابند ہے جبکہ مقدمات کے تعین کا اختیار بھی آئینی عدالت کے پاس ہوگا۔ تین ہفتوں کے بعد آئینی عدالت کے فیصلے سامنے آئینگے اور سپریم کورٹ ان فیصلوں کی پابند ہوگی۔ اسکے بعد عمران خان کے حوالے سے بھی ایسا فیصلہ آسکتا ہے کہ الشفا ہسپتال جانا انکا حق نہیں اور اگر کسی ہسپتال جانا ہے تو پمز ہی لے جایا جائے ۔ ایسے میں صورتحال وہی رہے گی جو پہلے سے ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments