دھرنے والوں کے آگے عوام ہاتھ جوڑتے، مہنگائی اور بڑھ جاتی ہے : فضل الرحمٰن

دھرنے والوں کے آگے عوام ہاتھ جوڑتے، مہنگائی اور بڑھ جاتی ہے : فضل الرحمٰن

ملک میں اٹھائے جانیوالے مسائل اور، انکے پیچھے ایجنڈا کچھ اور ہوتا ہے ،ناموس رسالت قوانین کو چھیڑا تو بھرپور مزاحمت ہوگی مکہ پر حوثی باغیوں کے حملے کی دھمکی کی مذمت، آج کا اجتماع قادیانیت کیخلاف ریفرنڈم،تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب

کراچی (سٹاف رپورٹر)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں اٹھائے جانے والے مسائل اور ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے ایجنڈا کچھ اور ہوتا ہے ۔میں عالمی قوتوں اور پاکستان کی مقتدرہ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں سبق پڑھانا چاہتے ہیں، ہمیں قبول نہیں، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس میں ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کا امن تباہ ہو چکا ہے، کے پی کے اور بلوچستان جل رہا ہے ، سندھ میں ڈاکو راج ہے، بلوچستان میں حالات خراب ہیں کوئی محفوظ نہیں۔

ریاست ماں ہوتی ہے، ہم کہتے ہیں ریاست ماں بنے ڈائن نہ بنے۔ ہمارے کچھ دوست مہنگائی کے خلاف دھرنے دیتے ہیں، حکومت سے مذاکرات کرتے ہیں اور مہنگائی اور بڑھ جاتی ہے، عوام ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں آپ یہ دھرنے بند کر دیں۔ پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، لوگ احتجاج کر کے تھک چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دھاندلی والے الیکشن نہیں مانتے ، شفاف الیکشن دو اور عوام کو فیصلہ کرنے دو، میں عام پاکستانی کے مسائل کے لیے جنگ کر رہا ہوں، اس جنگ میں ہمارا ساتھ دیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کوشش کی کہ ایران اور امریکہ میں صلح کرا دے ، آج یمن سے ایک گروہ اٹھا ہے جو سعودی عرب پر حملہ آور ہے ، ہم سعودی عرب کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے جان دینے کو تیار ہے ۔ بندوق چھوڑ کر ہم نے جمہوریت کا راستہ اپنایا،ہماری پگڑیاں اس لیے ہیں کہ سر اونچا رہے اور سینہ تان کر جدوجہد کرتے رہیں،مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان کے دینی مدارس کو نشانے پر رکھا گیا ہے ، تمہارا باپ بھی نہ مدرسے بند کر سکتا ہے نہ مولوی بننے سے روک سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...