دہشتگردی کیسزکی خفیہ سماعت کیخلاف درخواست پر سماعت آج
پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف معین الدین ریاض قریشی نے درخواست دائر کی درخواست کے حتمی فیصلے تک ایکٹ کی نئی شق کا نفاذ معطل کیا جائے ، عدالت سے استدعا
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ میں دہشتگردی کے مقدمات کی خفیہ نظام کے تحت سماعت کی اجازت دینے والی قانونی ترمیم کے خلاف درخواست پر سماعت آج ہوگی جسٹس شہرام سرور چودھری پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف معین الدین ریاض قریشی کی درخواست پر سماعت کریں گے ۔لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف معین الدین ریاض قریشی نے درخواست دائر کی جس میں پنجاب کے انسداد دہشتگردی قانون میں حالیہ ترامیم کو آئین سے متصادم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی جانب سے انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں سیکشن 21AAA شامل کیا گیا ہے ، جس کے تحت بعض مقدمات کو ‘‘خصوصی سکیورٹی کیس’’ قرار دے کر خفیہ طریقہ کار کے تحت چلایا جاسکتا ہے ۔درخواست گزار کے مطابق اس شق کے تحت دہشتگردی کے مقدمات میں جج، پراسیکیوٹرز، دفاعی وکلا، پولیس افسروں اور گواہوں کی شناخت بھی خفیہ رکھی جاسکتی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ قانون آئین کے آرٹیکل 9، 10-A، 14، 25 اور 175(3)سے متصادم ہے ۔ نئے قانون میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن معروضی معیار کے تحت کسی مقدمے کو ‘‘خصوصی سکیورٹی کیس’’ قرار دیا جائے گا، اس لیے انتظامی اختیار کی حد سے زیادہ منتقلی بھی آئینی تقاضوں کے خلاف ہے ۔ درخواست میں لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کی نئی شامل کردہ دفعہ 21AAA کو آئین سے متصادم اور کالعدم قرار دیا جائے ، جبکہ درخواست کے حتمی فیصلے تک اس شق کا نفاذ معطل کیا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments