6پاکستانی جوہری گھر 3530 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ، ڈاکٹر علی رضا
پاکستان میں 83نیوکلیئر میڈیسن مراکز، 21کینسر ہسپتال موجود ، چیئرمین پی اے ای سی
اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر) پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے ویانا میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی 70ویں جنرل کانفرنس کے پلینری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے توانائی، صحت، زراعت، آبی وسائل کے انتظام، جوہری تحفظ و سلامتی اور انسانی وسائل کی ترقی میں پاکستان کی خدمات اور اقدامات کو اجاگر کیا۔ توانائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے چھ آپریشنل جوہری بجلی گھر مجموعی طور پر 3530 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں جس سے سالانہ تقریباً 15 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بچاؤ میں مدد مل رہی ہے ۔ چشمہ-5 (C-5) نیوکلیئر پاور پلانٹ پر بھی تیز رفتار پیش رفت جاری ہے۔
صحت کے شعبے میں انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 83 نیوکلیئر میڈیسن اور ریڈیوتھراپی مراکز موجود ہیں جن میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے 21 کینسر ہسپتال شامل ہیں۔ اپریل 2026 میں انمول لاہور کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے کولیبوریٹنگ سینٹر کا درجہ دیا گیا۔انہوں نے غذائی تحفظ، آبی وسائل اور جوہری تحفظ میں پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ پاکستان 2027 میں چوتھی انٹرنیشنل نیوکلیئر سائنس اولمپیاڈ کی میزبانی کرے گا۔ سعودی عرب میں تیسری اولمپیاڈ میں پاکستانی طلبہ نے ایک طلائی اور دو چاندی کے تمغے حاصل کیے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments