نجکاری کے بعد پی آئی اے کارکردگی مزید خراب، ڈسکوز ڈسکو پارٹی بن گئیں : قائمہ کمیٹی میں تنقید

نجکاری کے بعد پی آئی اے کارکردگی مزید خراب، ڈسکوز ڈسکو پارٹی بن گئیں : قائمہ کمیٹی میں تنقید

قائمہ کمیٹی نجکاری نے پی آئی اے ڈیل کے مبینہ اخراجات، 80 ارب کے استعمال ،اثاثوں کی تفصیلات کے گوشوارے مانگ لیے ڈسکوز کے تمام اثاثے طلب ،کمیٹی ارکان کالوڈشیڈنگ، کے الیکٹرک اور بجلی تعطل پر تشویش کا اظہار ، سب کمیٹی دورہ بھی کرے گی

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نجکاری نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے بعد کارکردگی مزید خراب ہو گئی ۔ سیٹیں اکھڑ گئی ہیں اور کیٹرنگ میں بدانتظامی ہے ۔ 80ارب روپے مالک کے اکاؤنٹس میں منتقل کہاں خرچ ہو رہے ہیں یا ہوں گے ؟ پی آئی اے ڈیل کے مبینہ اخراجات کے مکمل گوشوارے طلب کر لیے گئے ۔ ڈسکوز ‘‘ڈسکو پارٹی ’’ بن گئی ، کمیٹی ارکان نے شکایات کے انبار لگا دئیے ۔کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ڈاکٹر فاروق ستار کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے تمام اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لی گئیں۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ہر بجلی فراہم کرنے والی کمپنی میں کم از کم 50 لاکھ سے زیادہ صارفین ہیں۔ ایک پارٹی کو تمام ڈسکوز حوالے نہیں کی جائیں گی۔سیکرٹری نجکاری نے زرعی ترقیاتی ادارے میں کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھوٹے قرضوں میں رشوت طلب کرنے کی عام شکایات ہیں۔ کرپشن پر قابو پانا ہے ، نجکاری ضروری ہے ۔قائمہ کمیٹی میں انشورنس پالیسی ہولڈرز کا معاملہ بھی پیش کیا گیا۔

پوسٹل سروسز کے ملازمین کئی سالوں سے اپنی پالیسی ہولڈرز کی رقوم سے محروم ہیں۔ ارکان کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ یہ رقم کیوں دبا کر بیٹھی ہے ۔ شاہانہ اخراجات جاری ہیں، بجٹ خدمات کے نام پر وزیراعظم آفس اور وزارت خزانہ کے ملازمین نے چھ، چھ اضافی تنخواہیں وصول کر لیں۔ انشورنس والے ملازمین رل گئے ہیں، اپنے بچوں کی شادیاں کروانی ہیں، رقم ہی نہیں مل رہی۔ کمیٹی نے ادائیگیوں کا ٹائم فریم مانگ لیا ہے ۔ وزارت خزانہ کے حکام کو طلب بھی کر لیا گیا ہے ۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد میں بلدیاتی اداروں کے 25 ہزار پنشنرز پنشن سے محروم ہیں، سندھ میں شاہانہ اخراجات جاری ہیں۔قائمہ کمیٹی میں پی آئی اے اور ڈسکوز کی نجکاری پر بریفنگ دی گئی۔ پی آئی اے کی ڈیل پر ارکان نے تحفظات اٹھائے اور ارکان کا کہنا تھا کہ یہ رقم کہاں سے آئی، کس سرمایہ دار کی یہ رقم تھی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پہلے مرحلے میں 90 ارب کی سرمایہ کاری ہو گئی ہے ، 80 ارب پی آئی اے میں استعمال کیے جائیں گے ، 10 ارب حکومت کو منتقل ہوئے ہیں۔

اگلے بارہ ماہ میں 45 ارب روپے مزید پی آئی اے میں منتقل ہوں گے اور 45 ارب روپے حکومت پاکستان کے خزانے میں جائیں گے ۔ ارکان نے کہا کہ یہ نہیں بتایا جا رہا کہ پی آئی اے کو ایک سو پینتیس ارب روپے جو منتقل ہوں گے ، کہاں خرچ ہوں گے ۔ نئے جہاز خریدے جائیں گے ، قرضے ادا کیے جائیں گے یا کیٹرنگ میں بہتری لائی جائے گی۔حال ہی میں عمرہ سے واپس آنے والی خاتون رکن نے کہا کہ کیٹرنگ خراب تھی، سیٹیں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ اجلاس میں کنسلٹنٹ تسلی بخش جواب نہ دے سکے ۔ کمیٹی نے پی آئی اے کے بڑھتے ہوئے کرایوں پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آزاد چھوڑ دیا گیا ہے ۔ کمیٹی نے خط لکھ دیا ہے ، حکومت تفصیلی رپورٹ پیش کرے ۔کمیٹی نے ڈسکوز کے تمام اثاثے طلب کر لیے ہیں۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ڈسکوز ‘‘ڈسکو پارٹی’’ بن کر رہ گئی ہے ۔ کے الیکٹرک کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔دن رات بجلی کے تعطل نے اہل کراچی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ، نیپرا کہاں ہے ؟ کمیٹی نے دونوں اداروں تک رسائی مانگ لی ہے ، سب کمیٹی کے ارکان کے الیکٹرک کا دورہ کریں گے ۔

کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کراچی سمیت مختلف جگہوں پر رات دن لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے ۔ ڈھائی، ڈھائی گھنٹے کے بعد کچھ دیر بجلی، پھر لوڈشیڈنگ، اور وزیراعظم کے احکامات کی دھجیاں اڑا دی گئی ہیں۔ یہ معاملہ براہ راست ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے اٹھایا گیا تھا۔ کارکردگی پر سوالات ہوئے ۔کمیٹی میں سحر کامران نے تمام متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی، جس پر ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سحر کامران کو پیپلز پارٹی کی کابینہ میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ وزیر بن جائیں، پھر ہم کارکردگی کے بارے میں سوالات کریں گے ۔پی آئی اے میں ہر دور حکومت میں تباہی آئی۔ تاہم کمیٹی میں یہ خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ پی آئی اے کے نام پر منتقل 80 ارب روپے سے کوئی اور کمپنی تو نہیں چلائی جا رہی، رقم تو مالک کے اکاؤنٹ میں گئی ہے ، مرضی تو نہیں ہے پیسے کے استعمال کی۔ بتایا جائے ، کوئی نئے جہاز، کوئی قرضوں کی ادائیگی، کیا بہتری لائی گئی ہے ۔ تمام اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ پی آئی اے میں ہر دور حکومت میں خرابیاں ہوئیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...