حاضری معافی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور کی مقامی عدالت میں صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی فیک ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے پر سماعت، عدالت نے عظمیٰ بخاری کی حاضری معافی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔۔۔
ملزمہ فلک جاوید کے وکیل نے بیان پر جرح کے لیے پیش نہ ہونے پر عظمیٰ بخاری کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کردی ۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے کیس کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران عظمیٰ بخاری کے وکیل علی بخاری نے فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی ۔درخواست میں مو قف اختیار کیا گیا کہ گزشتہ سماعت پر میاں علی اشفاق نے عظمیٰ بخاری کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے نہ کرنے پر کہا کہ عدالت مدعیہ کے دبائو میں ہے ایسا بیان توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے ۔ ملزمہ فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق نے توہین عدالت کی درخواست کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پر عظمیٰ بخاری جرح کے لیے عدالت پیش نہیں ہوئی تھیں، عدالتی احکامات کے باوجود مدعیہ پیش نہ ہو تو قانون میں وارنٹ جاری کرنے کی گنجائش موجود ہے ۔ توہین عدالت کی درخواست دراصل عدالتی کارروائی کو تاخیر کا شکار کرنے کی کوشش ہے ۔عظمیٰ بخاری کے وکیل نے کہا کہ عدالتیں کبھی کسی کے دباؤ میں نہیں آیا کرتیں،فلک جاوید کے وکیل میاں علی اشفاق نے حاضری معافی کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت سے عظمیٰ بخاری کی درخواست مسترد کرکے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے ریمارکس دئیے کہ جو جج بھی عدالت میں بیٹھتا ہے وہ دل بڑا کرکے بیٹھتا ہے ، فریقین ہماری بچیوں کی طرح ہوتی ہیں اور وکیل آفس آف دی کورٹ ہوتا ہے ۔چاہتے ہیں کہ سپیڈ بریکر لگانے کی بجائے کیس کا فیصلہ کریں۔ میرے لیے دونوں پارٹیاں ایک جیسی ہیں ، عدالت نے عظمیٰ بخاری کی حاضری معافی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments