فضل الرحمن پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے ؟

فضل الرحمن پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے ؟

محسن نقوی سہیل آفریدی کے مذاکرات بظاہر ختم ،تن تنہا لانگ مارچ چیلنج

(تجزیہ:سلمان غنی )

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے ایک عمومی رائے یہ بن رہی ہے کہ جو وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان مذاکرات کا عمل چل رہا تھا جس کا مقصد دھرنے کو ختم کرنا تھا وہ بظاہر ختم ہو گیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے دھرنے یا لانگ مارچ سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی والے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے تو ان کے خلاف طاقت کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لوگ اگر انتشار یا گولی کی سیاست کریں گے تو انہوں نے فورسز کو کہہ دیا ہے کہ وہ بھی جوابی کارروائی کرنے کا حق رکھتے ہیں۔پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ وہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور مولانا فضل الرحمن کو بھی مشترکہ اپوزیشن کے طور پر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ پر راضی کر سکیں۔لیکن اب تک جو خبریں سامنے آرہی ہیں اس میں مولانا فضل الرحمن کی جماعت اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے سے گریز کر رہی ہے اور ان کا موقف ہے کہ ہم پارلیمنٹ میں مشترکہ اپوزیشن کا ساتھ دیں گے۔

ادھر پی ٹی آئی نے جماعت اسلامی سے بھی رابطہ کیا ہے اور ان کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنا 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملتوی کر کے ہمارے ساتھ 27 ستمبر کے لانگ مارچ میں مشترکہ کوشش کا حصہ بنے لیکن جماعت اسلامی کی طرف سے بھی ابھی پی ٹی آئی کو کوئی خاص رسپانس نہیں ملا ۔دوسری طرف پی ٹی آئی کے لوگ بھی اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ میں تقسیم نظر آتے ہیں ۔ایک گروپ سمجھتا ہے کہ ہمیں براہ راست حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی اختیار نہیں کرنی چاہیے جبکہ دوسرا گروپ یہ سمجھتا ہے کہ جب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے لیے تمام سیاسی راستے بند کر دئیے ہیں تو ہمارے پاس لانگ مارچ کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں بچتا۔اہم بات یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی تن تنہا اسلام آباد کی طرف ایک بڑا لانگ مارچ کر سکے گی اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو باہر نکال سکے گی اور کیا یہ پرامن احتجاج ہوگا یا یہ احتجاج تشدد کی سیاست اختیار کر جائے گا۔

ستمبر میں ہونے والے دھرنوں کی سیاست نے پہلے ہی اسلام آباد کو انتظامی بنیادوں پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور پورا شہر کنٹینروں کی مدد سے بند ہو جائے گا۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر گوہر بار بار حکومت کو یہ یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ ہمارا احتجاج پرامن ہوگا اور کسی قسم کا تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔لیکن حکومتی وزرا بار بار پی ٹی آئی کو ایک پرتشدد جماعت کے طور پر سیاسی طعنہ دے رہے ہیں جس سے حالات کشیدگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ایسے موقع پر جب ملک میں دہشت گردی عروج پر ہے ، کوہاٹ کے ہونے والے دہشت گردی کے سنگین واقعے کے بعد سیاسی سطح پر محازآرائی اور تشدد کی سیاست قومی مفاد میں نہیں۔

کہا جا رہا ہے ایک دو دن تک پی ٹی آئی کی قیادت تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت سمیت مولانا فضل الرحمن اور جماعت اسلامی کے ساتھ بیٹھنے کا ارادہ رکھتی ہے اور کوئی مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینا چاہتی ہے ۔لیکن حالات کو جس نہج پر پہنچا دیا گیا ہے اگر دھرنا دینے والے پسپائی اختیار کرتے ہیں اور اس سے انکار کرتے ہیں تو اسے ان کی سیاسی شکست تسلیم کیا جائے گا اور اگر حکومت اسلام آباد میں سیاسی دھرنوں کی اجازت دیتی ہے تو اسے حکومتی کمزوری سمجھا جائے گا۔کیونکہ حکومت کو لگتا ہے کہ اگر بڑی تعداد میں لوگ دھرنوں کی صورت میں اسلام آباد کی طرف آتے ہیں تو اس سے حکومت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت طاقت کی بنیاد پر دھرنے اور لانگ مارچ کرنے والوں کو ہر صورت میں اسلام آباد آنے سے روکنا چاہتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...