آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کیلئے بڑا چیلنج
امریکا ،ایران مؤقف پر قائم، مختلف ممالک ثالثی کیلئے بدستور متحرک
(تجزیہ:سلمان غنی)
امریکا، ایران کشیدگی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور خود امریکا سمیت دنیا بھر کے اہم ممالک بھی اس جنگ کے مضر اثرات سے بچ نہیں پارہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ دعویٰ کرتے نظر آرہے ہیں کہ امریکا جنگ میں فاتح ہوگا اور ساتھ ہی پٹرولیم قیمتیں نیچے آجائینگی دوسری جانب ایران بھی اپنے موقف پر ثابت قدم نظر آرہا ہے ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ہم نے قطر کے ذریعہ امریکا کو باور کرادیا کہ وہ پابند یاں اٹھائے تو ایران آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر مشروط رضا مند ہے لیکن ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں ۔ابتک کی صورتحال میں سنجیدگی نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ امریکا دباؤ مکمل برقرار رکھنا چاہتا ہے تاہم جہاں تک فتح کے قریب ہونے کا تعلق ہے تو یہ پیغام دراصل امریکی قوم کے اطمینان کیلئے ہے اور ٹرمپ کے بار بار جیت کے دعوے دراصل مذاکراتی دباؤ کا حصہ ہے اور فتح کو بنیاد بنا کر ایران کو زیادہ رعایتیں دینے پر مجبور کرنے کیلئے ہے ،آخر یہ جنگ کب تک چلے گی اس بارے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کشیدگی برقرار رہی تو اسکے مضر اثرات سے دنیا بچ نہیں پائے گی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ دونوں فریق اپنی شرائط پر ڈٹے ہوئے ہیں، ایران کے پاس ہرمز کا کنٹرول ہے اور وہ اسے بغیر کسی بڑی رعایت کے نہیں چھوڑے گا اور امریکا ایران کو مزید کمزور کرنے کیلئے پابندیوں اور ناکہ بندیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ، دنیا کیلئے یہ جنگ بڑا مسئلہ بن چکی ہے ،آ بنائے ہرمز کی بندش میں تاخیر کا مطلب تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے ۔ یورپ سب سے زیادہ متاثر ہے ۔ یورپی یونین کے توانائی بحران نے افراط زر بڑھا دیا ہے ،پاکستان میں بھی پٹرولیم کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں، اب اس تنازعہ کو فرسودگی کی جنگ قرار دیا جارہا ہے ، جہاں تک دونوں متحارب ممالک میں ثالثی اور سفارتی کوششوں کا سوال ہے تو یہ مختلف ممالک کی طرف سے جاری ہیں ،پاکستان نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کی میزبانی کی لیکن بات چیت بغیر نتیجہ ختم ہوگئی،اسکے بعد ایران نے پاکستان کے ذریعہ کئی تجاویز امریکا کو پہنچائیں ،پاکستان کی ممکنہ کوششوں کے بعد اب قطر ، عمان ، ترکی، چین بھی اپنے طور پر سرگرم ہیں تاہم جب تک آبنائے ہرمز کی بندش جاری رہے گی تیل کی قیمتیں بلند رہیں گی اور عالمی معیشت کی بحالی مشکل ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments