عدالت گورنر راج،ایمرجنسی غیرآئینی قرار دے سکتی :قانونی ماہرین
مضبوط کیس تو فیصلہ ریورس:احمد بلال ، مشرف کی ایمرجنسی غیر آئینی قرار دی ،عابد ساقی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستانی آئین کی شق نمبر 236 کے تحت اس کے 10ویں باب میں موجود کسی بھی آرٹیکل کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا،تاہم ماضی میں اس نوعیت کے اقدامات کو عدالتوں میں چیلنج کیا جاتا رہا ہے ،احمد بلال محبوب کے مطابق ماضی میں اس نوعیت کے اقدامات کے بعد درخواستیں دائر ہوئیں اور کئی درخواستوں کے تحت گورنر راج کو ختم بھی کیا گیا ،انہوں نے کہا کہ عدالت مضبوط کیس کی صورت میں اسے ریورس کر سکتی ہے ، تاہم وفاقی حکومت کے پاس ٹھوس وجوہات ہوں تو اس فیصلے کو واپس کرنے کے امکانات کم ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کے لیے یہ بڑا امتحان ہے کیونکہ اب سے براہ راست شدت پسندی کو کنٹرول کرنا ہو گا ‘اب وہ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ صوبائی حکومت تعاون نہیں کر رہی یا رکاوٹیں ڈال رہی ہے ،اگر واضح تبدیلی رونما نہ ہوئی تو وفاقی حکومت پر یہ تنقید ہو گی۔
قانونی ماہر عابد ساقی نے کہا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی جسے عدالت نے غیر آئینی قرار دیا تھا،ان کا خیال ہے کہ اس بار بھی عدالت اسے غیر آئینی قرار دے سکتی ہے ،اسی طرح قانونی ماہر عبدالمعیز جعفری نے کہا ہے کہ روایتی طور پر اور جب تک عدالتیں آزاد ہوں، ایسے معاملات میں مداخلت ضروری ہے کیونکہ ان کے بقول یہ آرٹیکل 232 کا غلط استعمال ہے ،تاہم ان کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتیں اس معاملے میں مداخلت کریں گی یا نہیں، وہ الگ بحث ہے ،وہ کہتے ہیں کہ آئین و قانون کے بدنیتی پر مبنی استعمال میں عدالتیں ہی فیصلہ کر سکتی ہیں۔ اشتر اوصاف نے کہا ہے کہ اگر کسی صوبے میں سکیورٹی کے خدشات ہوں تو وفاق کے پاس ایمرجنسی لگانے کا اختیار ہے اور ساتھ ہی آرٹیکل 234(1)کے ذریعے صوبے کا نظم و نسق گورنر کو سونپ دیا گیا ہے ،انہوں نے کہا کہ 2009 میں پنجاب میں گورنر راج لگا تھا اور سلمان تاثیر صوبے کے چیف ایگزیکٹو بن گئے تھے ، اُن کے بقول اُس وقت صرف آرٹیکل 234(1) کا اطلاق کیا گیا تھا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments