مارشل لا سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج تک، پاکستان میں اکتوبر ہمیشہ تبدیلیوں کا مہینہ

مارشل لا سے خیبر پختونخوا میں  گورنر راج تک، پاکستان  میں اکتوبر ہمیشہ تبدیلیوں کا مہینہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اکتوبر محض ایک مہینہ نہیں بلکہ اقتدار کی تبدیلیوں، سیاسی بحرانوں اور تاریخی موڑ کی یاد دلاتا ہے ، 16 اکتوبر 1951 کو ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا۔۔۔

لیاقت علی خان کے قتل کے آٹھ برس بعد 24 اکتوبر 1960 کو گجرات میں سب انسپکٹر محمد شاہ کو بھی مارا گیا جس نے لیاقت علی خان کے قاتل اکبر علی کو گولی ماری تھی، 7 اکتوبر 1958 کو پہلا مارشل لا نافذ ہوا اور 12 اکتوبر 1999 کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ دیا،اسی مہینے 24 اکتوبر 1954 کو گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی تحلیل کی، جبکہ 7 اکتوبر 1998 کو آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کے استعفے کے بعد پرویز مشرف کو فوج کی کمان سونپی گئی، جو اگلے ہی سال اقتدار پر قبضے کا سبب بنی۔اکتوبر سیاسی تحریکوں کے حوالے سے بھی اہم رہا۔ 2011 میں عمران خان کے مینار پاکستان پر جلسے اور 2019 میں مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ نے ملکی سیاست میں نئی بحثوں کو جنم دیا،اب 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے نے ایک بار پھر اکتوبر کو سیاسی تاریخ کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے ۔ آزادی کے بعد پہلے ہی اکتوبر میں کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ شروع ہوئی ، 11 اکتوبر 1947 کو ریاست خیرپور نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تو 17 اکتوبر کو ریاست بہاولپور نے پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ اسی طرح 24 اکتوبر کوہزاروں قبائلی مظفرآباد میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے ‘آزاد کشمیر’ کی حکومت قائم کی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...