دیکھنا ہوگا، پی ٹی آئی پختونخوا میں تحریک جاری رکھ پائے گی
ایمرجنسی سے انتشار اور عدم استحکام بڑھے گا، دباؤ دیگر صوبوں پر بھی آسکتا
(تجزیہ: سلمان غنی)
صدر مملکت نے پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتحال کو بنیاد بناتے ہوئے یہاں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کردیا، جس کے بعد وفاق کی زیر ہدایت صوبے میں انتظامی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ چیف سیکرٹری سمیت اہم انتظامی عہدوں پر ردوبدل کا سلسلہ جاری ہے ۔ آئین کی دفعات 232 اور 234 کے تحت کئے گئے اس اقدام کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ریاستی رٹ قائم، دہشت گردی کا خاتمہ اور امن و امان بحال ہوسکے گا اور پی ٹی آئی کا ردعمل کیا ہوگا۔ایمرجنسی کے نفاذ کا ایک بنیادی سبب صوبائی حکومت کا دہشت گردی کے خاتمے کیلئے وفاق سے عدم تعاون بتایا جارہا ہے ۔ اب اس اقدام کی کامیابی کا انحصار وفاق، گورنر اور انتظامیہ کی اس صلاحیت پر ہوگا کہ وہ صوبے میں بدامنی پر قابو پاسکتے ہیں یا نہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے اقدام مسترد کرتے ہوئے اسے صوبائی خودمختاری کے منافی قرار دیا ہے ۔ اس صورتحال میں وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی ٹکراؤ کے امکانات موجود ہیں جس کے سیاسی و معاشی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں۔ایمرجنسی کے فیصلے سے قبل مذاکراتی آپشن کو نتیجہ خیز بنانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کو وفاق سے عملی تعاون پر آمادہ نہ کیا جاسکا۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی کوششیں بھی نتیجہ خیز نہ بن سکیں۔ اب پی ٹی آئی کیلئے یہ ایک مشکل صورتحال ہے اور دیکھنا ہوگا کہ وہ پختونخوا میں احتجاجی و مزاحمتی سیاست جاری رکھ پاتی ہے یا سیاسی حکمت عملی اختیار کرکے اپنا کردار برقرار رکھتی ہے ۔ 13 اکتوبر کو لائحہ عمل کا اعلان بھی اہم ہوگا۔
بظاہر پی ٹی آئی کی سرگرمیاں پختونخوا تک محدود ہیں جبکہ پنجاب سمیت دیگر مقامات پر نمایاں ردعمل نظر نہیں آرہا۔ بعض حلقوں کے مطابق مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، تاہم پی ٹی آئی میں غالب آنے والے سخت گیر عنصر نے صورتحال کو یہاں تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ سہیل آفریدی خود کو بانی پی ٹی آئی کی نظر میں سرخرو کرنا چاہتے تھے اور لانگ مارچ کے ذریعے سیاسی جدوجہد کا اظہار کرتے رہے ، لیکن اب پختونخوا کی حکومت بھی ان کے ہاتھ سے چلی گئی ہے ۔ملکی سیاست پر اس صورتحال کے اثرات کے حوالے سے سیاسی انتشار اور عدم استحکام بڑھنے کا خدشہ ہے ، جس کا دباؤ بلوچستان سمیت دیگر صوبوں پر بھی آسکتا ہے ۔ وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشمکش مزید تیز ہونے کا امکان ہے ۔ تاہم اگر گورنر راج کے نتیجے میں امن و امان بہتر اور دہشت گردی کے رجحانات میں کمی آتی ہے تو پی ٹی آئی کی مقبولیت متاثر ہوسکتی ہے کیونکہ صوبے کے عوام بدامنی سے پریشان ہیں۔ایمرجنسی اور گورنر راج وفاقی حکومت کیلئے ایک حساب شدہ مگر خطرناک اقدام ہے ۔ صوبے پر انتظامی کنٹرول حاصل کرنا ایک اہم مرحلہ ہے ، مو ثر انتظامی گرفت اور سیاسی استحکام قائم کرنا اصل چیلنج ہوگا۔ گورنر راج کے مقاصد میں دہشت گردی کا خاتمہ، امن و امان کا قیام اور صوبے کو عدم استحکام سے نکالنا شامل ہیں مگر موجودہ حالات میں آنے والے چند روز اہم ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments