جنگ روکنے کیلئے سفارتی رابطے تیز :امریکا ایران پر اسی ہفتے حملہ کرسکتا :یورپی حکام ،پاکستان کا ثالثی میں فعال کر دار ،شرائط مان لی جائیں تو دو دن میں آبنائے ہرمز کھل جائیگی :ایرانی وزیر خارجہ

 جنگ روکنے کیلئے سفارتی رابطے تیز :امریکا ایران پر اسی ہفتے حملہ کرسکتا :یورپی حکام ،پاکستان کا ثالثی میں فعال کر دار ،شرائط مان لی جائیں تو دو دن میں آبنائے ہرمز کھل جائیگی :ایرانی وزیر خارجہ

ٹرمپ کی ایران پر دوبارہ حملے کی دھمکی سے خلیجی ممالک میں نئی جنگ کے خدشات،لڑائی کا نیا دور پہلے سے زیادہ تباہ کن ہوگا ،کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوگا:مصری وزیر خارجہ ایران کو اپنی سلامتی کے دفاع کیلئے بیجنگ کی حمایت حاصل ہے :چینی وزیر خارجہ ، نئی فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی تشویشناک :روس ،عالمی منڈی میں تیل6فیصد سستا

منامہ (رائٹرز)امریکی صدر ٹرمپ کی ایران پر دوبارہ حملے کی دھمکی نے خلیجی ممالک میں ایک نئی جنگ کے خدشات بڑھا دئیے ہیں۔ عرب ممالک کو اندیشہ ہے کہ واشنگٹن میں کیا گیا جنگ کا فیصلہ انہیں ایرانی جوابی کارروائیوں کا نشانہ بنا سکتا ہے ، جبکہ خطے میں قائم امریکی فوجی اڈے ان کے تحفظ کے بجائے ان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔گزشتہ جنگ کے دوران امریکی فوجی اڈوں اور خلیجی توانائی تنصیبات پر ایرانی میزائل  حملوں نے واشنگٹن کے کئی دہائیوں پرانے دفاعی نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کردیا تھا۔ بحرین میں ہونے والی سالانہ منامہ ڈائیلاگ کانفرنس میں وزرا، پالیسی سازوں اور سکیورٹی حکام کی گفتگو کا محور بھی یہی خدشہ رہا کہ نئی جنگ کی صورت میں امریکی فوجی موجودگی خلیجی ممالک کو مزید خطرات سے دوچار کرسکتی ہے ۔ٹرمپ نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے ۔ چار یورپی حکام کے مطابق امریکا نے خطے میں اتنے فوجی وسائل اور سازوسامان جمع کرلیا ہے کہ وہ مختصر نوٹس پر ایران پر حملہ کرسکتا ہے ، ممکنہ طور پر یہ کارروائی اسی ہفتے ہوسکتی ہے ۔

ایک یورپی عہدیدار نے خلیجی رہنماؤں کے حوالے سے کہا کہ جنگ قریب دکھائی دیتی ہے ، لیکن کوئی بھی اسے نہیں چاہتا۔مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے بھی خبردار کیا کہ جنگ کا نیا دور پہلے سے زیادہ تباہ کن ہوگا اور اس سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔رائٹرز کے مطابق امریکی حملے کا ممکنہ ہدف ایران کی جوہری تنصیبات اور تحقیقی مراکز ہوسکتے ہیں، تاہم اس سے ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے کمزور ہی ہوپائے گی۔ دوسری طرف تہران نے ممکنہ حملے کے جواب میں امریکی فوجی اڈوں، توانائی تنصیبات، زیر سمندر مواصلاتی کیبلز اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔بحرین، جہاں امریکی پانچویں بحری بیڑے کا صدر دفتر ہے ، پہلے ہی حملوں کے اثرات دیکھ چکا ہے ۔ امریکی اڈے کے قریب رہائشی علاقوں کے ساتھ واقع گودام کو نقصان پہنچا جبکہ ایران کی سمت نصب ریڈار ڈش کا ایک تہائی حصہ تباہ ہوچکا ہے ۔خلیجی ممالک کو خدشہ ہے کہ نئی جنگ کے فیصلے پر ان کا اختیار محدود ہے ، مگر اس کی قیمت انہیں ادا کرنا پڑے گی۔ سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ذریعے جنگ روکنے کی کوشش کررہے ہیں، جبکہ قطر نے بھی تہران اور دوحہ میں مذاکرات کیے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ عہدیدار انور قرقاش نے کہا کہ وہ سفارتی پیش رفت کے خواہاں ہیں، تاہم بدترین صورت حال کے لیے تیار بھی ہیں۔رائٹرز کے مطابق خلیجی ممالک کا بنیادی خدشہ اب یہ نہیں کہ امریکا خطے میں ان کے تحفظ کے لیے موجود رہے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ جب امریکی تحفظ کا بنیادی ڈھانچہ ہی ایرانی حملوں کا ممکنہ ہدف بن جائے تو امریکی سکیورٹی ضمانتوں کی عملی اہمیت کیا رہ جاتی ہے ؟۔

 

تہران (نیوز ایجنسیاں )ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کی نزاکت اور بحران کی سنگینی کے پیش نظر سفارتی رابطوں اور مشاورت کا عمل پہلے سے زیادہ تیز ہو گیا ہے ۔ قطر اور پاکستان ثالث کے طور پر انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔انھوں نے ترکمانستان میں نے ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کو بتایا کہ ایران اور قطر کے درمیان تین روزہ مذاکرات اتوار کو کسی واضح پیش رفت کے بغیر  ختم ہوگئے ، جس کے بعد ایرانی وفد پیر کے روز تہران واپس پہنچ گیا۔ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کی شرائط تسلیم کیے جانے کی صورت میں ہی آبنائے ہرمز کو دو دن میں دوبارہ کھولا جا سکتا ہے اور مذاکراتی عمل بحال ہو سکتا ہے ۔ ستمبر میں ایران نے سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت امریکا کی جانب سے تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنے ، ایرانی اثاثے منجمد کرنے کا فیصلہ واپس لینے ، تیل پر پابندیاں اٹھانے اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی جوابی ناکہ بندی ختم کرنے کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیش کش کی گئی تھی۔ دوسری جانب چین نے بھی مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے ، جبکہ ایران کے اعلیٰ قومی سلامتی عہدیدار نے روسی صدر پیوٹن سے جنگ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔

چینی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے چین کی حمایت حاصل ہے ۔ جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق روسی صدر پیوٹن نے بھی ایرانی قومی سلامتی کے عہدیدار محسن رضائی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور جنگ کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ ‘اس بات کے اشارے موجود ہیں کہ ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور یہ انتہائی تشویشناک ہے ۔ماریا زاخارووا نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے تلخ تجربات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ فوجی مہم جوئیاں، جن سے ایران میں ہلاکتیں اور تباہی پھیلتی ہیں، ایرانی عوام کے اپنے ملک کی خودمختاری اور آزادی کے دفاع کے عزم کو نہیں توڑ سکتیں۔ جو لوگ آج نئے حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں، انھیں اس پر دوبارہ غور کرنا چاہیے ۔ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کو جاری امن مذاکرات کے سلسلے میں بعض اختیارات تفویض کیے ہیں ، انھوں نے ان اختیارات کی نوعیت یا دائرئہ کار کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ان سفارتی پیش رفتوں کی خبروں کے بعد عالمی تیل منڈی میں 6فیصد تک کمی دیکھی گئی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً چھ فیصد کمی کے بعد 106.65 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 6.1 فیصد گر کر 97.75 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ وسط مدتی انتخابات سے قبل انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے 80 سالہ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا ایران کے معاملے کو ابھی ختم نہ کرنے کی واحد وجہ یہ ہے کہ میں نرمی برتنا چاہتا ہوں۔ میں کوشش کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ممکن ہو تو ان تمام لوگوں کی جانیں بچائی جاسکیں۔ لیکن کسی مرحلے پر ہمیں ایران پر ہتھوڑا برسانا پڑے گا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...