آج مڈٹرم الیکشن :ٹرمپ کے سر پر شکست کی تلوار ، اتحادیوں کو صدارتی معافیاں دینے کا فیصلہ

 آج مڈٹرم الیکشن :ٹرمپ کے سر پر شکست کی تلوار ، اتحادیوں کو صدارتی معافیاں دینے کا فیصلہ

ڈیموکریٹس ایلون مسک سمیت ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کو تحقیقات کا نشانہ بنا سکتے ،گرفتاری کا بھی خدشہ،یہ محض باتیں، ایسا ہی ہے تو ہمیں ان کا تحفظ کرنا ہوگا:امریکی صدر میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ایک دو ماہ تک مسلسل ویٹو کے بعد وہ میرے پاس آئیں گے اور ہم کوئی سمجھوتا کرلیں گے ،ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کے ناپسندیدہ قوانین کا حل نکال لیا

واشنگٹن (اے ایف پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس پر ری پبلکنز کا کنٹرول ختم ہونے کے خدشے کے پیش نظر اپنے اتحادیوں کو بڑے پیمانے پر صدارتی معافیاں دینے کا عندیہ دیا ہے ، جبکہ خبردار کیا ہے کہ وہ آئندہ کانگریس سے منظور ہونے والے ڈیموکریٹس کے کسی بھی ناپسندیدہ قانون کو ویٹو کردیں گے ۔نیویارک پوسٹ کے پوڈکاسٹ ’’پوڈ فورس ون‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے بعد اپنی حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اتحادیوں کو دھڑا دھڑ صدارتی معافیاں دیں گے ۔انتخابی جائزوں کے مطابق اگر ڈیموکریٹس کانگریس کے ایک یا دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو انہیں ٹرمپ انتظامیہ کے موجودہ اور سابقعہدیداروں کے طرزِ عمل کی تحقیقات اور سماعتیں کرنے کے وسیع اختیارات مل جائیں گے ۔اس کے علاوہ قانون سازی کا ایجنڈا بھی ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں آجائے گا اور وہ اپنی ترجیحات کے مطابق بل منظور کراسکیں گے ۔ اس صورت حال سے ٹرمپ کیلئے مزید مشکلات پیدا ہوں گی، جنہیں اب تک کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ری پبلکنز کی مکمل حمایت حاصل رہی ہے ۔تاہم ٹرمپ نے واضح کردیا ہے کہ آئندہ کانگریس سے منظور ہونے والی کوئی بھی ایسی قانون سازی جس سے وہ اتفاق نہیں کرتے ، اسے ویٹو کردیں گے ۔پوڈکاسٹ کی میزبان نے امکان ظاہر کیا کہ ڈیموکریٹس ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کو بھی تحقیقات کا نشانہ بنا سکتے ہیں، جن میں دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک بھی شامل ہیں، انہیں ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی دور میں ہزاروں سرکاری ملازمین کو فارغ کرنے اور مختلف سرکاری پروگراموں کی فنڈنگ میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کی کھلی چھوٹ دی گئی تھی، مسک کو گرفتاری کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ اس پر ٹرمپ نے جواب دیاکہ یہ محض باتیں ہیں، لیکن اگر ایسی باتیں ہورہی ہیں تو ہمیں ان کا تحفظ کرنا ہوگا۔ ڈیموکریٹس طویل عرصے سے ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران اخلاقی ضابطوں کی خلاف ورزیوں اور مفادات کے ٹکراؤ پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ اس دوران صدر اور ان کے خاندان کی ذاتی دولت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔

کانگریس کی تحقیقات کے نتیجے میں براہِ راست فوجداری مقدمات قائم نہیں کیے جاسکتے ، تاہم تحقیقاتی کمیٹیاں متعلقہ افراد کو بیان دینے اور شواہد فراہم کرنے پر مجبور کرسکتی ہیں۔ حاصل ہونے والے شواہد مزید کارروائی کیلئے محکمہ انصاف کو بھی بھیجے جاسکتے ہیں، تاہم محکمہ انصاف بدستور ٹرمپ کے زیرِ کنٹرول رہے گا، اس لیے ان تحقیقات کے نتیجے میں فوجداری مقدمات قائم ہونے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے ۔ اس کے باوجود اگر کوئی مقدمہ قائم نہ بھی ہو تو ایسی تحقیقات اور کانگریس میں ہونے والی سماعتیں سیاسی طور پر صدر اور ان کے اتحادیوں کیلئے مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔ ٹرمپ نے گزشتہ دو برس میں اپنی حکومتی کارکردگی کو بڑی کامیابی قرار دیا، تاہم پوڈکاسٹ میں کہا کہ یہ پیشرفت ایسے لوگوں کے اقتدار میں آنے سے متاثر ہوسکتی ہے جو ہمارے ملک سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کا اشارہ منگل کو منتخب ہونے والے ممکنہ ڈیموکریٹ ارکان کی جانب تھا۔ٹرمپ نے کہاکہ میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا۔ ان کا کہنا تھاکہ وہ بل منظور کرکے میرے پاس بھیجتے رہیں گے اور میں انہیں ویٹو کرتا رہوں گا۔ بالآخر ایک یا دو ماہ تک مسلسل ویٹو ہونے کے بعد وہ میرے پاس آئیں گے اور ہم کوئی سمجھوتا کرلیں گے ۔ امریکی کانگریس صدر کے ویٹو کو دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے مسترد کرسکتی ہے ، تاہم اگر ڈیموکریٹس کو ایوانوں میں معمولی اکثریت حاصل ہوئی تو صدر کے ویٹو کو ناکام بنانا ان کے لئے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...