ابتدائی بیان کے بعد استغاثہ گواہ واپس نہیں لے سکتا:سپریم کورٹ
مقدمہ قتل کے 2مجرموں کی درخواستیں مستردکر دیں ،عمرقید سزابرقرار 48 کلو چرس کیس ، ماتحت عدالتوں کا فیصلہ کالعدم،ملزم بری کرنے کا حکم
اسلام آباد (حسیب ریاض ملک)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی گواہ کا بیانِ ابتدائی قلمبند ہو نے کے بعد استغاثہ اسے دستبردار نہیں کر سکتا کیونکہ اس مرحلے پر ملزم کا حقِ جرح قانونی طور پر قائم ہو جاتا ہے ۔ سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے قتل کے مجرموں قیصر محمود اور اشتیاق احمد کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے عمرقیدکی سزاکے فیصلے کو برقرار رکھا ۔ سپریم کورٹ نے مقتول کی اہلیہ مسرت بی بی کو ابتدائی بیان قلمبند ہونے کے بعد دستبردار کرنے کے عمل پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور درخواستیں مسترد کر کے ملزم کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم نے قتل کے مقدمے میں دو بھائیوں میں سے ایک ملزم شہریار کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا جبکہ دوسرے ملزم اسفندیار کی عمر قید سزا برقرار رکھی۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 48 کلوگرام چرس برآمدگی کیس میں ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے تیمور خان کو بری کرنے کا حکم دیا ۔دریں اثنا سپریم کورٹ نے اچانک جھگڑے کے دوران بھائی کو قتل کرنے کے مقدمے کے مجرم ابو ہریرہ کی عمر قید سزا 14 سال قید میں تبدیل کر دی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments