نئے حالات میں پاکستان امریکا کے تعلقات، مبصرین کی رائے منقسم

نئے حالات میں پاکستان امریکا کے تعلقات، مبصرین کی رائے منقسم

اسلام آباد (رائٹرز )امریکی کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی نے پاکستانی حکمراں قیادت کیلئے واشنگٹن میں اپنے اثرورسوخ اور مستقبل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ تک رسائی پر سوالات کھڑے کردئیے ہیں،

جبکہ عام پاکستانی اس تبدیلی سے مہنگائی میں کمی اور ایران جنگ کے خاتمے کی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی قیادت نے گزشتہ دو برس کے دوران ٹرمپ انتظامیہ سے قریبی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی، لیکن منگل کے روز کانگریس کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد اب اسلام آباد کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ کے قریبی حلقوں تک اس کی رسائی اور ان سے کیے گئے معاملات کانگریس کی جانچ پڑتال کی زد میں آسکتے ہیں۔ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک نے دسمبر 2025 میں ریکوڈک کے تانبے اور سونے کے منصوبے کیلئے ایک ارب 25 کروڑ ڈالر کی منظوری دی تھی، لیکن امریکی محکمہ خزانہ سے 10 ارب ڈالر کی مالی سہولت حاصل کرنے کی پاکستان کی اہم درخواست تاحال جواب کی منتظر ہے ۔

پاکستان کیلئے ایک نیا سیاسی خطرہ یہ بھی ہے کہ اس کے بعض سرکاری اور نجی معاہدوں میں ٹرمپ کے خاندان یا قریبی ساتھیوں کے مفادات شامل ہیں۔اسلام آباد نے ٹرمپ سے منسلک کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل کی جاری کردہ ڈیجیٹل کرنسی ’یو ایس ڈی ون‘ کے ذریعے ادائیگیوں کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ۔ جنوری میں اس معاہدے پر دستخط کے موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ جدت کو ضابطوں، استحکام اور قومی مفاد کے مطابق ہونا چاہیے ۔پاکستان نے نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی ازسرنو تعمیر کیلئے بھی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ۔ اس معاہدے پر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بات چیت کی تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان نے پاورَس نامی کمپنی سے محدود تعداد میں ڈرون خریدنے کا آرڈر بھی دیا ہے ، جس کے سرمایہ کاروں میں ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور ایرک ٹرمپ شامل ہیں۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ستمبر میں پاورَس کے حوالے سے سوال پر رائٹرز کو بتایا تھا کہ اس معاملے میں مفادات کا کوئی ٹکراؤ نہیں ہے ۔

واشنگٹن میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ مفادات اور لین دین پر مبنی تعلقات قائم کیے ہیں۔ ان کے بقول صدر کے دوستوں اور رشتہ داروں سے جڑے بعض معاہدے شاید برقرار نہ رہ سکیں اور پاکستان اس نوعیت کی جانچ پڑتال کیلئے بالکل تیار دکھائی نہیں دیتا۔واشنگٹن کے اسٹمسن سینٹر سے وابستہ ڈینیئل مارکی نے خبردار کیا کہ اگر ان معاملات سے یہ تاثر ملا کہ فیصلے قومی مفاد کے بجائے نجی مفادات کے تحت کیے گئے تو تحقیقات سے پاکستان اور امریکا کے وسیع تر تعلقات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے پاس اب بھی کچھ سفارتی راستے موجود ہیں۔ اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون اور ایران سے متعلق سفارت کاری کو امریکا میں دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے ۔ ان کے خیال میں ڈیموکریٹس متنازعہ معاہدوں کا ذمہ دار پاکستان کے بجائے ٹرمپ کو ٹھہرانے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں، تاہم کوگل مین نے خبردار کیا کہ پاکستان کیلئے اصل خطرہ یہ ہے کہ اس نے اپنی سفارتی امیدیں وائٹ ہاؤس سے اس قدر وابستہ کرلیں کہ اب ڈیموکریٹس کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کیلئے اس کے پاس زیادہ کچھ باقی نہیں بچا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...