بشریٰ بی بی کا ذاتی خرچ پر ماہر ڈاکٹرسے علاج کیلئے عدالت رجوع

بشریٰ بی بی کا ذاتی خرچ پر ماہر  ڈاکٹرسے علاج کیلئے عدالت رجوع

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)اڈیالہ جیل میں قید سابق خاتون اول بشریٰ بی بی نے ذاتی خرچ پر ماہر ڈاکٹر سے علاج کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا، ان کے وکیل سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ سے ملاقات کے بعد بیان حلفی عدالت جمع کرا دیا۔

190 ملین پاؤنڈ کیس زیر التوا اپیلوں میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائردرخواست میں کہاگیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ کی آنکھوں کی حالت تیزی سے خراب ہو رہی ہے ،بشریٰ بی بی نے مکمل میڈیکل ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کی متفرق درخواست کی جس میں اڈیالہ جیل حکام سے تازہ اور جامع میڈیکل رپورٹ طلب کرنے کی استدعا کرتے کہاگیاکہ بشریٰ بی بی کی تشخیص اور علاج کی مکمل تفصیلات جیل حکام سے طلب کی جائیں،استدعا ہے کہ فوری طور پر ماہر امراضِ چشم سے ذاتی خرچ پر علاج کی اجازت دی جائے ، بیرسٹر سلمان صفدر نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بیان حلفی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دیا، جس میں کہا کہ 31 اکتوبر اڈیالہ جیل حکام نے اطلاع دی، 2 نومبر کو دن ساڑھے 3 بجے میری بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات شام 4 بجے شروع ہوئی تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی، ملاقات کے دوران بشریٰ بی بی نے غیر معمولی طور پر گہرے سیاہ رنگ کے چشمے پہن رکھے تھے اورانہوں نے بتایا وہ سورج کی روشنی برداشت کر سکتی ہیں نہ مصنوعی روشنی،(بغیر چشمے کے )وہ اپنی آنکھیں بھی نہیں کھول سکتیں ، مجھے محسوس ہوا کہ بشریٰ بی بی کی بینائی شدید متاثر ہو چکی ہے ۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی بھی ان کی بگڑتی بینائی سے متعلق واضح پریشان دکھائی دے رہے تھے ، بشریٰ بی بی نے بتایا ڈاکٹروں نے ان کی بیماری کو مچیور کیٹریکٹ (پختہ موتیا)قرار دیا ہے اورڈاکٹرز نے کہا ہے 15 نومبر کے قریب آنکھوں کا ایک اور آپریشن کرنا ہوگا ۔بشریٰ بی بی نے جیل میں صفائی کے معیار اور انہیں فراہم کردہ علاج پر عدم اطمینان کا اظہار کیا،بشریٰ بی بی نے درخواست کی کہ ان کا معائنہ اور علاج ان کے اپنے ڈاکٹروں سے کروایا جائے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...