حکومت لیوی کا فوری خاتمہ کرے، ریلیف کے نام پر جان نہیں چھڑا سکتی : حافظ نعیم
ملک میں مافیا کا راج، پیپلز پارٹی کراچی کو سندھ کا حصہ تسلیم کرنے کے بجائے صرف وسائل کے حصول کے لئے استعمال کرتی جمہوری استحکام کیلئے شفاف الیکشن ناگزیر، غلط طریقے سے پی ٹی آئی حکومت گرانا پی ڈی ایم کا افسوسناک اقدام تھا،پریس کانفرنس
کراچی (سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا، حکومت لیوی کا بتدریج نہیں بلکہ فوری خاتمہ کرے ، ریلیف دینے کے نام پر لیوی سے جان نہیں چھڑائی جاسکتی، حکومت نے گزشتہ سال 1567ارب روپے پٹرولیم لیوی وصول کی اور ہر ماہ تقریباً 150 ارب روپے وصول کررہی ہے ، جبکہ عوام کو صرف 26 ارب روپے کا ریلیف دیا جارہا ہے ۔ ہمارا مطالبہ ہے ریلیف کا دائرہ کار 800 سی سی کے بجائے 1300 سی سی تک بڑھایا جائے اور کسانوں کے زیر استعمال ٹریکٹرز کو بھی اس میں شامل کیا جائے ،حکومت کا مؤقف ہے لیوی ختم کرنے سے بڑی گاڑیوں کے مالکان کو فائدہ ہوگا، ہم کہتے ہیں 1800 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر 200 روپے فی لٹر لیوی عائد کردی جائے ، اگر کوئی بڑی گاڑی رکھ سکتا ہے تو زیادہ لیوی بھی ادا کرے ، اس طرح متوسط طبقے کے افراد پر لیوی کا بوجھ 30 سے 40 روپے فی لٹر تک کم ہوسکتا ہے ، ہمارا مطالبہ ہے آئندہ بجٹ میں پٹرولیم لیوی ختم کرنے کا اعلان کیا جائے ،جماعت اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں حکومت ریلیف دینے اور ریفائنریوں سے کچھ بازپرس کرنے پر مجبور ہوئی ہے ، لیکن یہ اقدامات ناکافی ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں پٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہدو دیگر امور کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دریں اثنا حافظ نعیم الرحمن نے امیر کراچی منعم ظفر خان،امیر ضلع وسطی حارث علی خان،ٹاؤن چیئرمین نارتھ ناظم آباد عاطف علی خان کے ہمراہ ٹی ایم سی نارتھ ناظم آباد کے تحت نارتھ ناظم آباد بلاک ڈی میں شافعی فیملی پارک کا افتتاح کیا۔حافظ نعیم نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی کو سندھ کا حصہ تسلیم کرنے کے بجائے شہر کو صرف وسائل کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہے ، اسی لیے اہل کراچی اسے مسترد کرچکے ہیں، ایم کیو ایم بھی عوام کا اعتماد کھو چکی ہے ۔
اخباری رپورٹس کے مطابق رہائش کے اعتبار سے دنیا کے 173 بدترین شہروں کی فہرست میں کراچی 170ویں نمبر پر ہے ، جو حکمرانوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ انہوں نے کہا کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانا اور شہر کو اس کے جائز وسائل فراہم کرنا ضروری ہے ، پاکستان میں انتخابات متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہونے چاہئیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو ان کی حقیقی عوامی حمایت کے مطابق نمائندگی مل سکے ،موجودہ حکومت عوام کی نمائندہ نہیں بلکہ فارم 47 کی پیداوار ہے، پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، پی ڈی ایم کی جانب سے غلط طریقے سے پی ٹی آئی کی حکومت گرانا بھی افسوسناک اقدام تھا، چلتی ہوئی حکومت کو غیر جمہوری طریقے سے گرانے سے ملک میں کبھی سیاسی استحکام اور امن قائم نہیں ہوسکتا،ملک میں جمہوریت کے استحکام کے لیے عوامی مینڈیٹ کا احترام اور شفاف انتخابات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا پاکستان میں مافیاز کا راج ہے ، جب ہم نے ونڈ فال لیوی کا معاملہ اجاگر کیا تو معلوم ہوا کہ ریفائنریوں نے بدترین حالات میں بھی اپنا منافع ایک ہزار فیصد تک بڑھا لیا ہے ، سوال یہ ہے اس منافع میں عوام کا حصہ کہاں ہے ؟ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذمہ بھی لیوی کی مد میں 400 ارب روپے واجب الادا ہیں، لیکن وہ یہ رقم ادا نہیں کررہیں اور مختلف مقدمات میں الجھی ہوئی ہیں، اگر یہ 400 ارب روپے وصول کیے جائیں تو پٹرول کی قیمت میں نمایاں کمی آسکتی ہے ۔حکومت نے آئی پی پیز سے مذاکرات کرکے چار سے پانچ ہزار ارب روپے کا فائدہ حاصل کیا، لیکن اس کا اثر عوام تک کیوں نہیں پہنچ رہا؟ حکومت آئی پی پیز کو مؤثر طریقے سے کنٹرول اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے فوائد عوام کو منتقل کرے ، حکومت قوم پر بوجھ ڈال کر بینک مافیا کو طاقت فراہم کررہی ہے ، جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے ، ریفائنریوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے معاملات میں شفافیت لائی جائے اور مافیاز کے خلاف کارروائی کی جائے ۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ امریکہ میں حالیہ انتخابات میں ٹرمپ اور اسرائیلی لابی کی شکست پر ہم امریکی عوام اور دنیا بھر میں اسرائیلی دہشت گردی کا شکار ہونے والے افراد کو مبارکباد پیش کرتے ہیں،سرمایہ دارانہ نظام اب ناکام ہوچکا ہے ، دنیا کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جو انسانیت کو انصاف اور امن فراہم کرسکے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران عوام کے ٹیکسوں پر عیاشیاں کرنے کے بجائے بنیادی سہولتیں فراہم کریں، حکومت کی ذمہ داری ہے عوام کو معیاری تعلیم فراہم کرے ، والدین اپنی آمدن کا بڑا حصہ بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے ، کراچی کے اداروں پر قبضہ کرکے انہیں اختیارات دینے سے انکاری ہے، شہر کی تباہی کے ذمہ دار جعلی مینڈیٹ کے ذریعے مسلط ہونے والے حکمران ہیں، عوام کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد اور آئندہ بلدیاتی انتخابات کی بھرپور تیاری کرنا ہوگی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments