فضل الرحمٰن پر پی پی کی تنقید، اصل امتحان ن لیگ کا ہوگا
مولانا فضل الرحمن اپنے موقف پر پسپائی کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آرہے
(تجزیہ:سلمان غنی)
جے یو آئی کے سربراہ مولانافضل الرحمن کے لہجے میں شدت اور اسٹیبلشمنٹ کو مسلسل ٹارگٹ کرنے کے عمل نے حکومت اور مسلم لیگ ن کی قیادت کو شدید پریشانی سے دوچار کررکھا ہے ، کچھ وزرا فضل الرحمن کے طرزعمل کو ٹارگٹ کرتے دکھائی دے رہے ہیں، انکے اور انکے بیٹے کے خلاف نیب کے نوٹس کا جواز پیش کرتے نظر آ رہے ہیں، مگر دوسری طرف رانا ثنااللہ خان کا فضل الرحمن کے حوالے سے سافٹ کارنر ظاہر کر رہا ہے کہ حکومت فضل الرحمن کے حوالے سے یکسو نہیں اور اس حکمت عملی کا انہیں نقصان کم اور فائدہ زیادہ مل رہا ہے۔
فضل الرحمن کسی طور بھی پسپائی اختیار کرنے کو تیار نظر نہیں آتے ، جس سے بعض ذمہ دار حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے اور وہ حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن جنہوں نے ماضی میں پی ٹی آئی کی حکومت سے نجات میں بنیادی کردار ادا کیا تھا اور آج کی حکمران جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ان کی سربراہی میں اس وقت کی حکومت کے خلاف جدوجہد کی تھی آج وہ ان جماعتوں کی حکومت کے ساتھ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو بھی ٹارگٹ کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔یہ سوال اہم حلقوں میں ضرور اٹھایا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کو شکنجے میں کسنے والے فضل الرحمن پر ہاتھ ڈالنے سے گریزاں کیوں ہیں، اور کیا وجہ ہے کہ ان کے معاملے میں حکومت خود دفاعی محاذ پر کھڑی نظر آتی ہے۔
ویسے تو پیپلزپارٹی کی جانب سے بھی فضل الرحمن کے بیانات پر تنقید جاری ہے مگر اس ضمن میں اصل امتحان ن لیگ اور اسکی حکومت کا ہے اور اب ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ حکومت فضل الرحمن کے حوالے سے سنجیدہ ہو رہی ہے ۔ اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ حکومت فضل الرحمن کے بیانات اور طرز عمل پر ان کے قریبی حلقوں کو یہ باور کر ا رہی ہے کہ وہ اتنا آگے نہ جائیں کہ ہمارے لئے امتحان بن جائیں،مگر فضل الرحمن اپنے موقف پر پسپائی کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آرہے اور وہ اپنے اس موقف کو آئین اور قانون کے تابع اور جمہوریت کی روح کے مطابق قرار دیتے نظر آ رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments