امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی پارلیمانی سیکرٹری سے ملاقات
امریکہ اور پاکستان کا باہمی اشتراک عظیم الشان ورثے کی حفاظت میں حقیقی پیش رفت اے ایف سی پی پروجیکٹ کی کامیاب تکمیل پر منعقدہ تقریب کے شرکاء سے گفتگو
کوئٹہ (سٹی رپورٹر)امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان باہمی اشتراک سے عظیم الشان ورثے کی حفاظت میں حقیقی پیش رفت کررہے ہیں۔ اس نوعیت کے منصوبے اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ امریکی مہارت دیرپا اور واضح نتائج دیتی ہے جو نہ صرف تاریخ کو محفوظ بناتی ہے بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرکے مقامی برادریوں کو بھی با اختیار بناتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے گزشتہ روز بلوچستان کے پارلیمانی سیکرٹری نواب زادہ میر محمد زرین خان مگسی اور سندھ ایکسپلوریشن اینڈ ایڈونچر سوسائٹی (سیز) کی قیادت کے ساتھ مہر گڑھ عجائب گھر بلوچستان کے لئے امریکن ایمبیسیڈرز فنڈ فار کلچرل پریزرویشن (اے ایف سی پی) پروجیکٹ کی کامیاب تکمیل پر منعقدہ تقریب کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ پروجیکٹ بلوچستان میں اے ایف سی پی کے تحت شروع کیا جانے والا پہلا اقدام ہے۔
محکمہ ثقافت بلوچستان کے اشتراک سے مکمل کیئے جانے والے اس منصوبے کے تحت قدیم نیؤلیتھک (حجری دور) اور تاریخی مہر گڑھ تہذیب کے آثار قدیمہ کو محفوظ کیا گیا، عجائب گھر کی کیوریشن کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید بنایا گیا، عوام میں آگاہی کے دائرہ کار کو وسعت دی گئی، اور آثار کی طویل مدتی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیئے مقامی ماہرینِ ثقافت کو تربیت دی گئی۔ اس منصوبے کی تکمیل کے ساتھ ہی اے ایف سی پی کا دائرہ کار اب پاکستان کے تمام چاروں صوبوں تک پھیل چکا ہے ، جو پاکستان کے عظیم الشان ثقافتی ورثے کی حفاظت کے لیئے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے دیرپا عزم کی عکاسی کرتا ہے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے پائیدار نتائج کے حصول اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی اعتماد کو استحکام دینے کے لیے امریکی مہارت کے کلیدی کردار پر زور دیا۔
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا: آج ہمیں اس امر پر دلی مسرت ہے کہ عجائب گھروں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں اعلٰی امریکی مہارت کی بدولت مہر گڑھ عجائب گھر بلوچستان، 8ہزار سال قدیم مہر گڑھ تہذیب اور دیگر تاریخی ادوار کو شاندار انداز میں اجاگر کرے گا۔ اس نوعیت کے منصوبے اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ امریکی مہارت دیرپا اور واضح نتائج دیتی ہے ۔جو نہ صرف تاریخ کو محفوظ بناتے ہیں بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کر کے مقامی برادریوں کو بھی بااختیار بناتے ہیں۔ امریکہ اور پاکستان باہمی اشتراک سے اس عظیم الشان ورثے کی حفاظت میں حقیقی پیشرفت کر رہے ہیں۔\'\' تقریب کے دوران امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر، پارلیمانی سیکرٹری نواب زادہ زرین مگسی، اور پروجیکٹ لیڈز ڈاکٹر اسماء ابراہیم اور ڈاکٹر کلیم اﷲ لاشاری نے ایک یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی جو رواں ماہ کوئٹہ میں مہر گڑھ میوزیم کی باضابطہ دوبارہ کشادگی سے قبل میوزیم کے مرکزی دروازے پر نصب کی جائے گی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments