فضل الرحمان کو حصہ مل جاتا توچپ کاروزہ رکھتے :کنڈی
13 سال کا گند 13 روز میں صاف نہیں کر سکتے ،کرپشن کی انکوائری کررہے
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو اگر حکومت میں حصہ ملتا تو وہ پھر چپ کا روزہ رکھتے لیکن کبھی کبھی ثواب کا روزہ بھی رکھنا چاہیے جبکہ صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں ،تاہم ابھی فل فلیج آپریشن کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔پشاور کے نجی ہوٹل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے 13 سال کا گند 13 روز میں صاف نہیں کر سکتے ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، گزشتہ روز نادرا دفتر کے سامنے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں، اس قتل میں جو کوئی بھی ملوث ہوگا، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
پولیو ٹیم کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جب بھی پولیو کے خاتمے کے لیے مہم شروع کی جاتی ہے ، پولیو ورکرز پر حملے کیے جاتے ہیں،سابقہ حکومت میں کرپشن کے کیسز سامنے آئے ہیں، اب اس کی مکمل تحقیقات ہو رہی ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ جو بھی اس میں ملوث ہوں ان کے خلاف ٹھوس ثبوت ہوں تاکہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ ہر محکمے میں کی گئی کرپشن کی انکوائری کررہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان خود کہتے ہیں کہ اس کے بغیر نہ کوئی حکومت قائم ہو سکتی ہے اور نہ چل سکتی ہے ، اب اگر کوئی حکومت اس کے بغیر چل رہی ہے تو وہ واویلا کیوں کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق اور معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے اور صحت مند آبادی ہی مضبوط معیشت، فعال افرادی قوت اور خوش حال مستقبل کی ضمانت ہے ، نوجوان ڈاکٹروں کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتیں نکھارنے اور عوام کی خدمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے چاہئیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments