ماڈلنگ میں‌عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی , بابرہ شریف

ماڈلنگ میں‌عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی , بابرہ شریف

اسپیشل فیچر

تحریر :


خوب صورتی ہی معیار ہو ‘صلاحیتیں ہی پیمانہ ٹھہریں یا چانس ملنے تک بات ہوتو شوبز کی دنیا تسخیر کرنا کچھ ایسا مشکل بھی نہیں‘لیکن ان سب پر حاوی تقدیر بھی ہے جو ساتھ دے تودروازہ کھلتا چلا جاتا ہے ورنہ وہ ایک چہرہ جو چھوٹی اسکرین نے متعارف کروایا‘ بڑی اسکرین پر اتنی شان سے حکمرانی نہ کرتا ۔ بابرہ شریف نے شو بز میںاپنی آمد کے بارے میں بتایا کہ مجھے اداکاری کا شوق بالکل نہیں تھا اور جس وقت میں اسکرین پر آئی اس وقت میری عمر اتنی بھی نہیںتھی کہ میں جان سکتی کہ میرا شوق کیا ہے۔ واشنگ پائوڈر کے کمرشل سے میری پہچان ہوئی۔ ٹی وی ڈرامے میری فلم میں آنے کی وجہ نہیں بنے تھے میںنے ٹی وی پر کوئی خاص کام بھی نہیں کیا تھا اور نہ ہی فلم والوں نے مجھے کاسٹ کرتے ہوئے یہ دیکھاتھا کہ میں ٹی وی ڈرامے میں کام کرچکی ہوں۔نہ تو میرا کوئی یادگار ٹی وی ڈرامہ تھا اور نہ کوئی یادگار کردار جس کی پرفارمنس سب کو یاد رہے ۔ فلم والوںکومیرے کمرشل نے متاثر کیاتھا۔ ایک سوال پرکہ ایک ماڈل کی عمر دس سے پندرہ سال تک ہی ہوتی ہے لیکن آپ اب بھی ماڈلنگ میں ایک کامیاب ماڈل ہیں؟ بابرہ شریف نے کہا کہ فلموں میںکام کے دوران تو ماڈلنگ کی طرف کم توجہ رہی تھی۔ لیکن پھر 2003ء میں بہترین ماڈل کاایوارڈحاصل کرنے کے بعد ماڈلنگ کی طرف زیادہ توجہ دی اور اس کے بعد سے اب تک میں اس فیلڈ میں ہوںاورمیںنے ثابت کیا کہ ماڈلنگ میں عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ ایک سوال پر کہ جب آپ رومانٹک فلموں میں کام کررہی تھیں شمیم آرا نے آپ میں کیاخاص بات دیکھی کہ آپ کو ’’مس ہانگ کانگ ‘‘جیسی ایکشن فلم میںکاسٹ کرلیا؟ بابرہ نے بتایا کہ ’میرا نام ہے محبت‘شبانہ‘ پیار کاوعدہ اور مہمان میں کامیابی کے بعد ہدایت کار حسن عسکری کی فلم ’’سلاخیں‘‘میںمجھے بھر پور پرفارمنس کا موقع ملا لیکن رومانٹک فلموں میں کام کرنے بعد شمیم آرا باجی کی فلم ’’ مس ہانگ کانگ‘‘ میں مجھے فائیٹ کے ساتھ اپنی ڈریسنگ میں بھی تبدیلی لانا پڑی جس کو دیکھنے والوں نے بے حد پسند کیا اور اس کے بعد شمیم آرا باجی کی مس سیریز میں کام کیا جس میں ’’مس کولمبو‘‘میں مجھے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنا پڑی۔ہمارے ایک سوال پر کہ کیاوجہ ہے شمیم آرا نے مس سیریز کے بعد جو کامیاب فلمیں بنائیں ان میں آپ کو شامل نہیں کیا ‘آج بھی لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں؟بابرہ شریف کاکہنا تھا کہ فلم انڈسٹری میںایک اصول ہے کہ ہیرو یا ہیروئن ٹاپ پر ہوں تو ان کے ساتھ رشتے قائم کرلیے جاتے ہیںتاکہ کام باآسانی چلتا رہے۔ شمیم آرانے بھی مجھے بیٹی بنایاتو میں نے ان کے ساتھ بہت اچھا کام کیا میری ان کے ساتھ فلمیںکامیاب رہیں لیکن آخری فلم ’’لیڈی کمانڈو‘‘کے دوران ان کی شادی ہوگئی اور میں نے بھی فلموں میں کام کم کر دیا اس لیے میں ان کے ساتھ کام نہ کر سکی لیکن میں ان کا احترام کرتی رہی۔ آج کل وہ شدید بیمار ہیں میری دعا ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو کرآئیں۔ آج کل ہمارے فن کار بھارتی فلموں میں کام کرنے وہاں جارہے ہیں اور آپ کودلیپ کمار نے اپنے ساتھ کام کرنے کی آفر کی تھی اس بارے میںبتائیں؟ بابرہ شریف نے کہاکہ جب یہاں فلمیںنہیں بن رہی ہیں تو یہ کہاں کام کریں‘لیکن چند منٹ کے کرداروں میںاپنے آپ کو ضائع کرنا کہاںکی دانش مندی ہے۔ہاں اگر یہاں فلمیں بن رہی ہوتیں تو پھر بھارتی فلموںمیں کام کرکے یہاں کی فلموں میں کام حاصل کرنا آسان ہوتا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ہمارے دور میں حکومت کی ویزا پالیسی سخت تھی ہم وہاں کی فلموں میںکام نہیں کرسکتے تھے اور وہاں کا کوئی اداکار بھی پاکستانی فلموں میں کام نہیں کرسکتاتھا ۔ایسی کئی فلمیں جن میں پاکستانی فن کاروںنے بھارتی فلموں میں کام کیا اور بھارتی اداکاروں نے پاکستانی فلموں میں کام کیا یہاں ریلیز نہ ہوسکیں۔جہاں تک میری بھارتی فلم میں کام کرنے کی بات تھی تو میرے ساتھ کام کرنے کی خواہش دلیپ کمار صاحب نے کی تھی۔انہوں نے میری فلم’’سلاخیں‘‘ دیکھی تھی۔ وہ اپنی فلم ’’راستہ‘‘ کے نام سے بنارہے تھے جس میں ان کا کردار ایک چالیس سالہ شخص کا تھا جو بیس سال کی لڑکی سے شادی کرلیتا ہے۔دونوں ایک دوسرے سے شدید محبت کرتے ہیں پھر بچہ پیدا ہوتا ہے اور اس کی پیدائش کے دوران وہ لڑکی مر جاتی ہے۔ وہ شخص جوبہت پیار کرنے والا ہوتا ہے ۔ بیوی کے مرنے کاصدمہ برداشت نہیں کرپاتا اور اپنے ہی بیٹے کے خون کا پیاسا ہوجاتاہے۔حالاں کہ اس کردار کے لیے بھارت میں اور بھی کئی اداکارائیں موجود تھیں لیکن دلیپ کمار صاحب کا کہناتھا ان کا کردار جتنی شدت سے تبدیل ہوتا ہے اور جس چیز کے لیے میں نگیٹیوہوتا ہوں وہ چیز بھی جان دار ہونی چاہیے اور میرے(بابرہ شریف) کے چہرے پر وہی معصومیت‘ خوبصورتی اور سب سے بڑھ کر صلاحیتیں ہیں۔ لیکن افسوس ہوا کہ میں اس فلم میں کام نہ کرسکی۔ ہمارے سوال پر کہ شائقین اب بھی آپ کوفلموںمیں دیکھناچاہتے ہیں کیا آپ فلم میںکام کریںگی؟ بابرہ کا کہناتھا کہ میں خود بھی کام کرنا چاہتی ہوںاگر کوئی فلم ساز مجھے اچھا کردار دے گا تو میں ضرور کام کروںگی۔ویسے کچھ دنوں پہلے ایک معروف فلم ساز و ہدایت کارنے مجھے اپنی فلم میں کام کرنے کی پیش کش کی ہے ‘کردار بھی اچھاہے ‘ہوسکتا ہے میں اس کو قبول کرلوں اور میرے مداح مجھے ایک بار پھر سلور اسکرین پر دیکھ سکیں۔فلمی صنعت کے موجودہ بحران کو ختم کرنے کے بار ے میں بابرہ شریف کا کہنا تھا کہ یہ ہماری بد قسمتی رہی ہے کہ ہم اچھے ہدایت کارنہیں پیداکرسکے جوہدایت کار تھے انہوں نے اپنا فن دوسروںمیںمنتقل نہیں کیا۔انور کمال پاشا‘ایس سلیمان‘جاویدفاضل سے لے کر سید نور تک ہی ہمیں ہدایت کار نظر آتے ہیںجب کہ شباب کیرانوی (مرحوم) نے بھی صرف اپنے صاحبزادوں کو ہی فلموںمیںچانس دیا لیکن اب جو چند ہدایت کارفلمیںبنارہے ہیں جیسے شہزاد رفیق اور شعیب منصور میرے خیال میںان کا کام دوسرے ہدایت کاروںسے مختلف ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی فلمیں کامیاب بھی ہیں۔ہدایت کاروں کے ساتھ ساتھ فن کاروںکی بھی کمی رہی ہے ۔ہماری انڈسٹری میںبیک وقت دو یا تین ہی فنکار رہے ہیں جن میں مقابلے کا رجحان نہ ہونے کے برابرتھا ۔بھارتی فلموں کے سوال پربابرہ شریف کا کہناتھا کہ ہم بھارتی فلموں کے سحر میں اس طرح سے گرفتار ہوگئے ہیں کہ وہی اچھائی برائی کا پیمانہ بن کر رہ گئی ۔بھارتی فلموں سے ہماری فلموں کا مقابلہ کرنا بڑی بے وقو فی ہے ۔ بھارت کی فلم انڈسٹری اس وقت دنیا بھر میںپہلے نمبر پر ہے اور اب یہ ہالی ووڈ کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ وہاں وسائل ہیں ‘ سرمایہ ہے اور بہت بڑا سرکٹ ہے اور اب انہوں نے اپنی فلمیں دنیا بھر میںریلیز کرنا شروع کردی ہیں چند سالوں سے بھارتی فلمیں ہمارے سینمائوں پر بھی ریلیز کی جارہی ہیں جس سے بھارتی پروفیشن ازم کا احساس ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں تو بڑے بڑے فلم ساز فلمیںبناتے تھے اب بھارتی فلموں کو ریلیز کرکے منافع کمارہے ہیں اور یہ ان کا حق بھی بنتا ہے کہ جس فلم انڈسٹری میں نہ کہانی نویس منفرد کہانی دے سکیں نہ ہدایت کار معیاری ڈائریکشن دے سکیں اور نہ ہی فن کار تو پھر کس طرح فلم ساز اپناپیسہ انڈسٹری میں لگائے کہ جس کو یہ معلوم ہی نہیں کہ اتنی محنت کرنے کے بعد اس کی فلم کامیاب بھی ہوتی ہے یا نہیں۔ اپنے آپ کو فٹ رکھنے کے لیے کیا کرتی ہیں؟ بابرہ شریف کاکہنا تھا کہ میں روزانہ گھر میںڈانس کرتی ہوںجس سے چاق چوبند رہتی ہوں۔ وزن کو کم کرنے کے لیے ڈائٹنگ بھی کرتی ہوں لیکن ایکسر سائزکرنے میں اپنے آپ میںایک توانائی محسوس کرتی ہوں۔اپنے ملک کی سیاست کے بارے میں بابرہ شریف کا کہنا تھا کہ آج کل ملک کے موجودہ حالات نے ہر محب وطن شخص کی طرح مجھے بھی پریشان کررکھا ہے ۔ اس ملک کو حقیقی اور ایماندارقیادت کی ضرورت ہے جو عوام کو اس مشکلات سے نکالنے میںان کی مددکرسکیں۔ ہمارے سوا ل پر کہ آپ ایک عورت ہونے کے ناتے آپ کیا پریشانیاںمحسوس کرتی ہیں ؟ بابرہ شریف نے کہا کہ یہ مردوںکا معاشرہ ہے اور ان کو زیادہ اہمیت حاصل ہے جو بھی عورت اپنی پروفیشنل لائف میں آتی ہے تواسے مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اگر یہ ثابت قدم ہے توساری مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں جو کہ میرے ساتھ ہوا۔ کیا آپ کو کبھی اپنے پروفیشن پر پچھتاوا یا شرمندگی ہوئی؟ بابرہ شریف نے کہا کہ نہیںمیں نے بہت سوچ سمجھ کر اداکاری کی فیلڈ میںقدم رکھاتھا اور میںنے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک گم نام لڑکی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جائے گی اور شوبز میں اتنی عزت ملے گی۔بابرہ شریف کا شمار اپنے دور کی ایک ورسٹائل اداکارہ میںہوتا ہے۔ ان کا فنی سفربھی بڑا دل چسپ ہے۔بابرہ کی دو بہنیں فردوس اورفاخرہ ٹیلی ویژن ڈراموںاور اسٹیج پر وگراموں میںحصہ لے رہی تھیں مگر بابرہ کو اداکاری کا بالکل بھی شوق نہیںتھا۔اکثر ایسا بھی ہوتاتھا کہ یہ اپنی بہنوں کے ہمراہ ٹیلی ویژن اسٹیشن چلی جاتی تھیں ۔ایک دفعہ یہ اپنی بہن کے ساتھ تھیں کہ ڈرامہ پروڈیوسر کی نظر ان پر پڑی اور چہرے مہرے سے اداکاری کا اندازہ لگا کر ڈرامے میں حصہ لینے کے لیے کہا مگر بابرہ بجائے خوش ہونے کے یہ سن کر اداس ہوگئیں۔ ان کی بہن نے بتایا کہ وہ فلم اور ٹی وی کے نام سے بھاگتی ہے۔ اور بات وہیںختم ہوگئی۔لیکن چند دنوں بعدبابرہ شریف کو معروف ڈرامہ نگار کمال احمد رضوی نے ڈرامہ’’مس فوراوکلاک‘‘کے مختصر کردار میں کاسٹ کرلیا۔ڈرامہ سیریل ’’کرن کہانی‘‘ بابرہ شریف کا تعارف بن گیا۔اسی دوران ہدایت کار نذیر صوفی نے انہیں اپنی فلم ’’کاغذ کے پھول‘‘کے لیے منتخب کرلیا۔اس فلم میں ان کے ساتھ ایک نیا اداکارتنویر تھا۔اس فلم کانام بدل کر’’ایک اور ایک گیارہ‘‘ رکھ دیاگیا لیکن یہ فلم مکمل ہونے کے باوجود ریلیز نہ ہوسکی۔1972ء کی بات ہے جب ٹیلی ویژن پر ایک واشنگ پائوڈر کے کمرشل نے ان کوبے حد شہرت دی اور اس کو دیکھتے ہوئے فلمساز شمیم آر ااور ہدایت کار ایس سلیمان نے ان کو فلم ’’بھول‘‘ میں کاسٹ کرلیاجس میںندیم‘شبنم اور ممتاز نے مرکزی کردار ادا کیے اور بابرہ شریف کا پیئر مزاحیہ اداکار منور ظریف (مرحوم) کے ہمراہ تھا۔اس فلم کے بعد بابرہ کی کئی فلمیں ریلیز ہوئیں لیکن جب ہدایت کار شباب کیرانوی کی فلم ’’میرا نام ہے محبت ‘‘میں یہ ٹی وی اداکار غلام محی الدین کی ہیروئن بنیں تو بہترین اداکاری پر انہیں ہیروئین کے طور پرمانا جانے لگا۔ انہوں نے150سے زائد فلموں میںہیروئن کے کردار ادا کیے۔اور ساتھ ساتھ ماڈلنگ بھی کرتی رہیں۔ بابرہ شریف کو آج بھی شائقین فلموںمیں دیکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ فیشن شوٹس پرتوجہ دے رہی ہیں۔ ان سے ان کی فنی زندگی پر بات چیت ہوئی جو یہاں پیش کی جارہی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مسجد خواجہ اویس کھگہ

مسجد خواجہ اویس کھگہ

ملتان میں فن تعمیر کا شاہکارملتان جو صدیوں سے صوفیا کرام اور اسلامی ثقافت کا مرکز رہا ہے، اپنے تاریخی مقامات اور صوفیانہ ورثے کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں متعدد مساجد اور مزار ایسے ہیں جو نہ صرف مذہبی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ فن تعمیر کا شاندار نمونہ بھی پیش کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک نمایاں مقام خواجہ اویس کھگہ مسجد ہے جو مغلیہ دور کے فن تعمیر کی منفرد خصوصیات کی حامل ہے اور صوفی بزرگ خواجہ اویس کھگہ کے مزار کے ساتھ واقع ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد کی تاریخ کے بارے میں مصدقہ تاریخی معلومات کی کم دستیاب ہیں لیکن مورخین کا اندازہ ہے کہ یہ مسجد غالباً سولہویں سے اٹھارہویں صدی کے دوران تعمیر کی گئی ۔ اس مسجد کے فن تعمیر میں وہ تمام عناصر نمایاں ہیں جو مغلیہ دور کے حسنِ تعمیر کی پہچان ہیں۔ اس کے بلند گوشہ دار مینار، آرائشی کام اور محرابیں عکاسی کرتی ہیں کہ یہ عمارت مغلیہ فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد میں سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہاں کوئی گنبد موجود نہیں، اس کے بجائے مسجد کے گوشوں میں بلند و بالا مینار نصب کیے گئے ہیں جو چھوٹے چھوٹے پویلین یا چتریوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ یہ تکنیک عمارت کے حجم کو بڑا اور باوقار دکھاتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے تاج محل میں بڑے پیمانے پر اس کا استعمال ہوا ہے۔ اس کی بناوٹ اور حجم کی ترتیب مسجد کو نہ صرف دیکھنے میں دلکش بناتی ہے بلکہ کشادہ اور کھلے ماحول کا احساس بھی دلاتی ہے جو روحانی سکون اور عبادت کے لیے موزوں ہے۔مسجد کے اندر کا منظر بھی دلکش ہے۔ محراب نہایت نفیس اور خوبصورت کام سے مزین ہے۔محراب کی آرائش اس بات کا ثبوت ہے کہ مسجد کی تعمیر میں چھوٹی چھوٹی تفصیلات پر بھی کس قدر توجہ دی گئی ہے۔ محراب کے ارد گرد کی دیواروں پر نقش و نگار اور جیومیٹریکل نمونے مسجد کے اندرونی حصے کو روحانی اور جمالیاتی تاثر دیتے ہیں، جو ہر زائر کو متاثر کرتا ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد کی موجودہ حالت اور مرمت کی صورتحال بھی قابلِ ذکر ہے۔کچھ سال پہلے مسجد کی جزوی مرمت کی گئی ہے۔ مرمت کے کام کو نہایت نفاست اور اصل فن تعمیر کی مکمل احتیاط کے ساتھ انجام دیا گیا۔ مرمت کے دوران مسجد کے فن تعمیر کے تمام عناصر کو برقرار رکھا گیا جس سے مسجد کی تاریخی اور جمالیاتی اہمیت محفوظ رہی۔ اس عمل نے نہ صرف عمارت کی حفاظت کی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی تاریخی ورثے کو برقرار رکھا۔خواجہ اویس کھگہ مسجد کا جغرافیائی محل وقوع بھی اس کی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ مسجد ملتان سے ملحقہ بستی دائرہ میں صوفی بزرگ خواجہ اویس کھگہ کے مزار کے بالکل نزدیک واقع ہے۔ مزار کے قرب میں واقع ہونے کی وجہ سے مسجد میں آنے والے زائرین کو عبادت کے ساتھ ساتھ صوفیانہ ماحول کا بھی تجربہ ہوتا ہے جو ملتان کی صوفیانہ روایت کو اجاگر کرتا ہے۔مسجد کا فن تعمیر جو آج بھی زائرین اور تاریخ کے شائقین کو اپنی طرف کھینچتا ہے، مغلیہ دور کے ثقافتی اور مذہبی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والا مواد، آرائش کے انداز اور تعمیراتی تکنیک اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دور میں عمارت سازی محض فعالیت کے لیے نہیں بلکہ جمالیات اور روحانیت کے امتزاج کے لیے کی جاتی تھی۔ مسجد کے کھلے صحن، بلند مینار، اور محراب کی نفاست ایک ایسا توازن پیدا کرتے ہیں جو عبادت کرنے والے کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔خواجہ اویس کھگہ مسجد نہ صرف مذہبی حوالے سے بلکہ تاریخی اور ثقافتی حوالے سے بھی اہم ہے۔ یہ مسجد اس بات کا ثبوت ہے کہ مغلیہ فن تعمیر کی خصوصیات صرف بڑی شاہی عمارتوں تک محدود نہیں ، صوفیاکے مقامات میں بھی یہ حسن و جمال موجود ہے۔ آج کے دور میں جہاں تاریخی عمارتوں کی حفاظت اور مرمت ایک چیلنج بنی ہوئی ہے خواجہ اویس کھگہ مسجد ایک مثال ہے کہ کس طرح مہارت اور توجہ کے ساتھ تاریخی ورثے کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ملتان کی تاریخی اور روحانی فضا میں خواجہ اویس کھگہ مسجد ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف شہر کے ماضی کی یاد دلاتی ہے بلکہ موجودہ دور میں بھی لوگوں کو روحانی سکون اور جمالیاتی لطف فراہم کرتی ہے۔ اس مسجد کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی فن تعمیر میں جمالیات، اور روحانیت کس قدر اہمیت رکھتے ہیں۔ زائرین، تاریخ کے شائقین اور فن تعمیر کے ماہرین کے لیے یہ مسجد ایک لازمی مقام ہے جہاں وہ مغلیہ دور کے فن تعمیر کی باریکیاں اور صوفیانہ ماحول کو بیک وقت محسوس کر سکتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ خواجہ اویس کھگہ مسجدایک منفرد تاریخی عمارت ہے جو مغلیہ دور کے فن تعمیر کے اہم عناصر، صوفیانہ روحانیت اور خوبصورتی کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ مسجد کا کھلا صحن ہو، بلند مینار ہوں یا نفیس محراب، ہر عنصر اپنے اندر ایک کہانی سناتا ہے جو ملتان کی تاریخی اور روحانی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔یہ مسجد آنے والی نسلوں کے لیے ایک ثقافتی اور تاریخی ورثہ ہے جو مغلیہ فن تعمیر کی عظمت اور صوفیانہ روایت کی گہرائی کو واضح کرتی ہے۔

عالمی یومِ سماجی خدمت

عالمی یومِ سماجی خدمت

معاشرتی بہتری میں سماجی کارکنوں کا کرداردنیا بھر میں ہر سال مارچ کے تیسرے ہفتے میں ورلڈ سوشل ورک ڈے منایا جاتا ہے۔ اس سال یہ دن 17 مارچ کو منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد سماجی کارکنوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور معاشرے میں انسانی ہمدردی، سماجی انصاف اور باہمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ سماجی کارکن وہ افراد ہوتے ہیں جو معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کی مدد کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں اور انہیں بنیادی حقوق اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں سماجی خدمت کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت، بے روزگاری، تعلیم کی کمی، صحت کی سہولیات کی قلت اور دیگر سماجی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں سماجی کارکن معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتے ہیں اور ضرورت مند افراد تک مدد پہنچانے کے لیے مختلف اداروں اور تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔پاکستان میں سماجی خدمت کا تصور نیا نہیں بلکہ اس کی جڑیں ہماری مذہبی اور ثقافتی روایات میں موجود ہیں۔ اسلام میں انسانیت کی خدمت کو بہت بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے۔ زکوٰۃ، صدقات اور فلاحی سرگرمیوں کی صورت میں پاکستانی معاشرے میں مدد اور تعاون کی روایت ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیمیں بھی سماجی خدمات کے میدان میں سرگرم ہیں۔پاکستان میں کئی معروف سماجی اور فلاحی تنظیمیں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں غریب اور نادار افراد کو طبی سہولیات، تعلیم، خوراک اور مالی مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کے دوران بھی امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتی ہیں۔ ان اداروں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ سماجی خدمت کے جذبے کے ساتھ اگر منظم انداز میں کام کیا جائے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔پاکستان میں سماجی کارکنوں کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وسائل کی کمی، بڑھتی ہوئی آبادی، قدرتی آفات اور بعض علاقوں میں سماجی مسائل کی پیچیدگی ان کے کام کو مشکل بنا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ پیشہ ورانہ تربیت اور حکومتی سطح پر مضبوط پالیسیوں کی کمی بھی سماجی شعبے کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس کے باوجود ہزاروں سماجی کارکن خاموشی سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے امید کی کرن بنے ہوئے ہیں۔عالمی یومِ سماجی خدمت ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم سماجی کارکنوں کی خدمات کو سراہیں اور ان کے کام کی اہمیت کو تسلیم کریں۔ یہ دن اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ معاشرے کی بہتری صرف حکومت یا چند اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کو اپنی سطح پر کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر ہر شخص اپنے اردگرد موجود ضرورت مند افراد کی مدد کرے اور سماجی مسائل کے حل میں حصہ لے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔پاکستان میں نوجوان آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں، اگر انہیں سماجی خدمت کی طرف راغب کیا جائے تو یہ ملک کے لیے ایک بڑی طاقت ثابت ہو سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں میں رضاکارانہ سرگرمیوں کو فروغ دینا، کمیونٹی سروس کے پروگرام متعارف کرانا اور سماجی شعور بیدار کرنا اس سلسلے میں اہم اقدامات ہو سکتے ہیں۔ اس طرح نوجوان نسل نہ صرف معاشرے کے مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکے گی بلکہ ان کے حل میں عملی کردار بھی ادا کرے گی۔ سماجی خدمت دراصل انسانیت کی خدمت ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں بہت سے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، وہاں سماجی کارکنوں کی خدمات بے حد قیمتی ہیں۔ عالمی یومِ سماجی خدمت ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمدردی، تعاون اور سماجی انصاف کے اصولوں کو فروغ دے کر ہم ایک زیادہ منصفانہ اور خوشحال معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

رمضان کےمشروب و پکوان

رمضان کےمشروب و پکوان

چکن قیمہ کچوریاجزا:میدہ: 2 کپ،گھی یاتیل: 3،4 کھانے کے چمچ،نمک: آدھا چائے کا چمچ،چکن کا قیمہ: 250 گرام،پیاز (باریک کٹی ہوئی): 1 عدد،ادرک لہسن پیسٹ: ایک چائے کا چمچ،لال مرچ (پسی ہوئی): ایک چائے کا چمچ،زیرہ، دھنیا (بھنا اور کٹا ہوا): ایک چائے کا چمچ،ہرا دھنیا،ہری مرچ: حسب ذائقہ،تیل: فرائی کے لیےترکیب: میدے میں گھی اور نمک ملا کر اچھی طرح مکس کریں، سخت آٹا گوندھ کر 30 منٹ کے لیے ڈھانپ دیں۔ پین میں تیل گرم کر کے پیاز اور ادرک لہسن بھونیں۔ قیمہ اور تمام مصالحے ڈال کر قیمہ گلنے تک پکائیں۔ آخر میں ہرا دھنیا ڈال کر ٹھنڈا کر لیں۔ گوندھے ہوئے آٹے کے پیڑے بنائیں، انہیں بیلن سے بیلیں، درمیان میں فلنگ بھریں اور کناروں کو اچھی طرح بند کر دیں۔ کڑاہی میں درمیانی آنچ پر تیل گرم کریں اور کچوریوں کو ہلکی آنچ پر سنہری ہونے تک تل لیں۔منٹ مارگریٹااجزا :تازہ پودینہ ایک چھوٹی گٹھی،لیموں کا رس : چار چائے کے چمچ ، کالا نمک : حسبِ ذائقہ،چینی : چھ چائے کے چمچ ( حسبِ ذائقہ زیادہ یا کم بھی کی جاسکتی ہے)،سیون اپ یا سپرائٹ : تین گلاس،برف (چھوٹی ٹکڑیوں کی صورت میں ضرورت کے مطابق)۔ترکیب: پودینے کے پتے الگ کر لیںاور انہیں اچھی طرح دھو لیں۔ پھر بلینڈر میں پودینے کے پتے، لیموں کا رس، چینی اور برف ڈال دیں اور اچھی طرح بلینڈکر لیں۔ جب پودینہ بالکل باریک ہو جائے تو بلینڈر میں تین گلاس سیون اپ یا سپرائٹ جو بھی ہے ڈال کر دوبارہ بلینڈ کر لیں۔تقریباًچار گلاس منٹ مارگریٹا تیار ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

سینٹ پیٹرک ڈے17 مارچ کو منایا جانے والا سینٹ پیٹرک ڈے آئرلینڈ کے سینٹ پیٹرک کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق سینٹ پیٹرک کا انتقال 17 مارچ 461ء کو ہوا تھا اور اسی نسبت سے یہ دن ان کے نام سے منسوب ہو گیا۔ یہ دن صرف ایک مذہبی یادگار تک محدود نہیں رہا بلکہ آئرلینڈ کی قومی اور ثقافتی شناخت کی علامت بن گیا۔ اس دن آئرلینڈ میں جلوس، مذہبی تقریبات اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ لوگ سبز لباس پہنتے ہیں جو آئرلینڈ کی علامتی رنگت ہے۔ اٹلی کے اتحاد کا اعلان17 مارچ 1861ء کو متحدہ اٹلی کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس دن ساردینیا کے بادشاہ وکٹر ایمانوئل دوم کو متحدہ اٹلی کا بادشاہ تسلیم کر لیا گیا اور ایک نئی قومی ریاست وجود میں آئی۔انیسویں صدی کے آغاز تک اٹلی کئی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا۔ اس صورتحال نے اطالوی قوم پرست رہنماؤں کو متحدہ اٹلی کے قیام کی تحریک شروع کرنے پر مجبور کیا۔ اس تحریک کو ریسورجیمنٹو کہا جاتا ہے۔17 مارچ 1861ء کو اطالوی پارلیمنٹ نے متحدہ مملکتِ اٹلی کے قیام کا اعلان کیا۔ اگرچہ روم اور وینس بعد میں اس ریاست کا حصہ بنے لیکن یہ دن اطالوی اتحاد کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ چین میں ثقافتی انقلاب 17 مارچ 1966ء کو چین میں ایک سیاسی مہم کا آغاز ہوا جسے بعد میں ثقافتی انقلاب کے ابتدائی مرحلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ تحریک چینی رہنما ماؤ زے تنگ کی قیادت میں شروع ہوئی اور اس کا مقصد کمیونسٹ نظریات کو مزید مضبوط بنانا اور پارٹی کے اندر موجود مخالف عناصر کو ختم کرنا تھا۔اس تحریک کے دوران چینی معاشرے میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ثقافتی انقلاب تقریباً ایک دہائی تک جاری رہا اور اس نے چین کی سیاست، تعلیم اور معاشرت پر گہرے اثرات مرتب کیے ، چین کی معیشت اور سماجی ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلیاں آئیں۔ دلائی لامہ کی منتقلی 17 مارچ 1959ء کو تبت کی تاریخ میں ایک اہم موڑ آیا جب تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے دارالحکومت لہاسا چھوڑ دیا۔چین نے 1950ء میں تبت پرکنٹرول قائم کیا تھا لیکن تبتی عوام اور مذہبی قیادت اس صورتحال سے مطمئن نہیں تھی۔ مارچ 1959ء میں لہاسا میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوا ۔ اسی وجہ سے 17 مارچ کو انہوں نے خفیہ طور پر لہاسا چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ دشوار گزار پہاڑی راستوں سے سفر کرتے ہوئے چند دن بعد بھارت پہنچ گئے۔ مصر اسرائیل امن معاہدہ17 مارچ 1979ء کو اسرائیل کی پارلیمنٹ نے مصر کے ساتھ امن معاہدے کی منظوری دی۔یہ معاہدہ امریکی صدر جمی کارٹر کی ثالثی میں ہونے والے کیمپ ڈیوڈ مذاکرات کا نتیجہ تھا۔ مصر کے صدر انور سادات اور اسرائیل کے وزیر اعظم بیگن نے مذاکرات کے بعد امن معاہدے پر اتفاق کیا۔اسرائیلی پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد 26 مارچ 1979ء کو واشنگٹن میں اس معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

مسجد گوہر شاہ: تیموری عہد کا عظیم شاہکار

مسجد گوہر شاہ: تیموری عہد کا عظیم شاہکار

ایران کے شہرمشہد میں واقع مسجد گوہر شاہ اسلامی فن تعمیر، روحانیت اور تاریخ کا ایک شاندار سنگم ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد دراصل امام رضا کے روضہ مبارک کے وسیع و عریض احاطے میں واقع ہے اور اسے خطے کی اہم ترین مذہبی اور تاریخی عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس مسجد کی تعمیر 15ویں صدی میں تیموری سلطنت کے دور میں ہوئی اور اس کی بنیاد تیموری فرمانروا شاہ رخ کی اہلیہ بیگم گوہر شاہ نے رکھی تھی، جن کے نام پر اس مسجد کو گوہر شاہ یا گوہرشاد مسجد کہا جاتا ہے۔گوہرشاہ بیگم اپنے دور کی نہایت بااثر اور صاحب ذوق خاتون تھیں۔ انہوں نے 1418ء میں اس مسجد کی تعمیر کا حکم دیا تاکہ زائرین حرم کو عبادت کیلئے ایک وسیع اور خوبصورت مقام میسر آسکے۔ اس مسجد کی تعمیر کیلئے اس دور کے ممتاز معمار شیرازی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ استاد شیرازی کی زیر نگرانی یہ مسجد بارہ سال میں مکمل ہوئی۔ مسجد سمر قندی طرز تعمیر سے تیار کی گئی۔تیموری دور اسلامی فن تعمیر کے عروج کا زمانہ تھا، چنانچہ مسجد کی تعمیر میں اس دور کی جمالیاتی روایات پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں نظر آتی ہیں۔ خط کوفی میں قرآنی آیات اتنی خوشخطی سے تحریر کی گئی ہیں کہ چھ صدیاں گزرنے کے بعد بھی زمانے کے حوادث ان کی آب و تاب میں سرموفرق نہیں لا سکے۔ گوہر شاہ مسجد کا فن تعمیر اپنی دلکشی اور نفاست کے باعث بے مثال سمجھا جاتا ہے۔ مسجد کا وسیع صحن، بلند و بالا ایوان، دلکش گنبد اور باریک و نفیس نیلی ٹائلوں کی آرائش دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ پیازی طرز کا گنبد مسجد کی شان ہے۔ گنبد کا رنگ فیروزی ہے، مسجد کا کل رقبہ 101292مربع فٹ ہے اور صحن 180فٹ لمبا اور 160فٹ چوڑا ہے۔ مسجد کے صحن میں سنگ مر مر استعمال کیا گیا ہے صحن کے تینوں اطراف میں برآمدے بنائے گئے ہیں۔ مسجد کے دو مینار ہیں جو 131فٹ بلند ہیں۔ گنبد کا قطر49فٹ اور اس کا محیط207فٹ ہے صحن سے مسجد کے اندر ہال میں داخل ہونے کیلئے نو محرابی دروازے ہیں۔ گنبد کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ دہری تہہ میں بنایا گیا ہے۔ مسجد کی تعمیر میں سرخ اینٹوں، ٹائلوں اور سنگ مر مر کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس مسجد کے چار بڑے ایوان ہیں جو ایرانی طرزِ تعمیر کی کلاسیکی روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔ مسجد کے گنبد اور دیواروں پر بنے نقش و نگار، قرآنی آیات اور خطاطی کے نمونے اسلامی فنونِ لطیفہ کی اعلیٰ مثالیں پیش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ مسجد کے اندرونی حصے میں موجود محراب اور منبر بھی نہایت خوبصورتی سے آراستہ ہیں۔ مسجد کا منبر اخروٹ کی لکڑی سے تیار کیا گیا ہے۔ منبر کی تیاری میں کہیں بھی لوہے کی میخ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ رنگین ٹائلوں، جیومیٹرک نقشوں اور نفیس خطاطی کے امتزاج نے اس مسجد کو فن تعمیر کا ایک زندہ عجائب گھر بنا دیا ہے۔چونکہ یہ مسجد امام رضا کے روضہ مبارک کے قریب واقع ہے، اس لیے یہاں دنیا بھر سے آنے والے زائرین بڑی تعداد میں نماز اور عبادت کیلئے حاضر ہوتے ہیں۔ صدیوں سے یہ مسجد نہ صرف عبادت کا مرکز رہی ہے بلکہ اسلامی ثقافت، تعلیم اور روحانی اجتماع کا بھی اہم مقام رہی ہے۔ رمضان المبارک، محرم اور دیگر مذہبی مواقع پر یہاں خصوصی اجتماعات اور عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔مسجد کے ہال میں ہاتھ سے تیار کردہ خوبصورت ایرانی قالین بچھائے گئے ہیں۔ مسجد سے ملحق ایک بڑی لائبریری ہے جس میں 35ہزار کتب رکھی گئی ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ مسجد زلزلوں اور بعض سیاسی ہنگاموں سے متاثر بھی ہوئی، تاہم ہر بار اس کی مرمت اور بحالی کا کام کیا گیا۔ ایرانی حکومت اور مذہبی اداروں نے اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کیلئے مسلسل اقدامات کیے ہیں تاکہ یہ آئندہ نسلوں کیلئے بھی باقی رہے۔ صفوی حکمران شاہ عباس نے مسجد گوہر شاہ کی مرمت اور تزئین و آرائش پر خاص توجہ دی۔1803ء میں زلزلے نے اس مسجد کے کچھ حصے کو نقصان پہنچایا جس کی بعد میں مرمت کر دی گئی۔مسجد گوہر شاہ نہ صرف ایک عبادت گاہ ہے بلکہ اسلامی تہذیب، فن تعمیر اور روحانی روایت کی عظیم علامت بھی ہے۔ اس کی دلکش عمارت، تاریخی پس منظر اور مذہبی اہمیت اسے عالم اسلام کی ممتاز مساجد میں شامل کرتی ہے۔ آج بھی جب زائرین اس مسجد کے صحن میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں تاریخ، روحانیت اور فن کے حسین امتزاج کا دلنشیں منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔

رمضان کے پکوان

رمضان کے پکوان

ڈیٹ ڈئیلائٹ اجزاء :کھجوریں دو پیالی( درمیان میں سے گٹھلی نکال کر گودا بنالیں) ۔ میری بسکٹ ایک پیکٹ، ناریل گری آدھی پیالی ،چینی آدھی پیالی، فریش کریم ایک پیالی۔ مارجرین چار کھانے کے چمچترکیب :سب سے پہلے ایک دیگچی میں مارجرین کو ہلکا سا گرم کریں، پھر اس میں کھجوروں کا گودا ڈال کر ہلکا سا بھون لیں۔ تاکہ اچھاسا پیسٹ بن جائے پھر شکر اور ناریل کی گری ڈال کر پانچ سے دس منٹ تک بھونیں بسکٹ کو توڑ کر چورا کرلیں پھر سب چیزوں کے ساتھ بسکٹ بھی ڈال دیں۔ دوتین منٹ بھون کر ایک تھالی میں ذرا سی چکنائی لگاکر کھجور اور بسکٹ کے آمیزے کو پھیلا کر رکھ دیں۔ ٹھنڈا ہونے دیں فریش کریم کو خوب پھینٹیں، جب وہ گاڑھی ہو جائے تو اس کے اوپر ڈال دیں، چوکور ٹکڑے کاٹ کر پیش کریں۔ نوٹ:یہ ڈش چار سے چھ افراد کے لیے کافی ہے۔ منچ ویج کباباجزاء : قیمہ آدھا کلو،شملہ مرچ ایک عدد ، گاجر ایک عدد، آلو 3 عدد، نمک ایک ٹیبل سپون، کالی مرچ ایک ٹیبل سپون،کٹی لال مرچ ایک ٹیبل سپون، لہسن ادرک 2 ٹیبل سپون، انڈا ایک عدد ، ڈبل روٹی کا چور آدھا کپترکیب:آلو ابال کر میش کرلیں۔گاجر کو بھی باریک چوپ کر کے ابال لیں۔شملہ مرچ کو بھی باریک کٹ لگا لیں۔اب تما م سبزیوں میں سارے مصالحے ڈا ل کر مکس کریں۔انڈا اور چورا ڈال کر مکس کریں اور کباب بنا کر پیش کریں۔