مختلف اقوام کے عقیدے
اسپیشل فیچر
9۔ بدھسٹ: ہر سال 13 اگست کو بدھ مذہب کے پیروکار ’’یوم ارواح‘‘ مناتے ہیں۔ اس تہوار پر تمام بدھی لوگ اپنے آباء و اجداد رشتے دار اور بزرگوں کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں اور پھول چڑھاتے ہیں۔ جاپان میں اس دن ’’بون میلہ‘‘ لگتا ہے۔ موری اوکا شہر کے ’’دائی شو آن مندر‘‘ میں لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور امیتابھا (نور احمد) کی شان میں گاتھا (نعتیں) اور مناجات (درود) پڑھتے ہیں۔ ان کے عقائد کے مطابق ان گاتھاؤں اور مناجات کو پڑھنے سے بدھا (احمد) اپنی روحانی شعاعیں ہمارے اوپر پھینکتے ہیں۔ قبروں پر پھول چڑھاتے وقت وہ لوگ مناجات پڑھنے کے ساتھ ساتھ مرحومین سے اس طرح گفتگو بھی کرتے جاتے ہیں جیسے وہ وہاں ان کے سامنے بیٹھے ہوں۔ دائی شو آن کے مندر میں بون میلہ کی تقاریب میں لوگ امیتابھا کی گاتھائیں پڑھتے ہوئے وجد میں آ جاتے ہیں اور والہانہ رقص کرتے ہیں انہوں نے تنکوں کی ٹوپیاں پہن رکھی ہوتی ہیں ان کی روایات کے مطابق اس موقع پر بھجن گانے اور رقص کرنے سے مرحومین کو روحانی سکون پہنچتا ہے۔ 10۔ تبت: راز ہائے سربستہ کا مدفن تبت تو منسوب ہی پراسراریت اور ماورائیت سے ہے۔ یہاں کے لوگ مظاہر پرست تھے۔ تبت میں بدھ مت چوتھی صدی عیسوی میں پوری طرح پھیل چکا تھا اور یہ ملک کا اکثریتی مذہب بن گیا تھا۔ بدھ ازم میں بھی آواگون کا عقیدہ بنیادی اساس ہے جسے زندگی کا چکر یا ’’کرما‘‘ کہتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان بار بار مر کر دوبارہ پیدا ہوتا ہے اور اس کا اگلا جنم اس کے اعمال کے مطابق ہوتا ہے۔ تبت میں روحانی تربیت کے ہی تعلیمی ادارے قائم تھے اور وہاں کا سربراہ بھی روحانی عالم ہوتا تھا جسے ’’دلائی لاما‘‘ کہا جاتا ہے۔ بدھ مت میں دلائی لاما کی وہی حیثیت ہے جو عیسائیوں میں پوپ کی۔ ایشیا بھر میں قائم بدھ مت کی حکومتیں اس کی اہمیت تسلیم کرتی ہیں۔ چینی زبان میں لاما کے لیے لفظ بیوفو…… استعمال کیا جاتا ہے جس کے معنی ’’زندہ بدھا‘‘ کے ہیں یعنی ایسا شخص جو بار بار جنم لیتا ہے۔ (روحانی تعلیم و تربیت کے نتیجے میں تبتی لاما دوران مراقبہ اپنے اوپر مصنوعی موت طاری کر لیتے تھے اس دوران طبعی نقطہ نظر سے ان پر موت طاری ہو جاتی یعنی سانس اور دل کی دھڑکن رک جاتی وہ عارضی طور پر اپنے نفس کو جسم سے الگ بھی کر لیتے اس طرح ماضی و مستقبل میں سفر کرتے تھے۔) بدھ مت میں عبادت کا مخصوص تصور نہیں ہے وہ اسے مشق کا نام دیتے ہیں۔ تبتی مختلف روحانی مشقیں کرتے ہیں ان میں سے ایک گروہ چاڈ کا خیال ہے کہ روح جزو خدا ہے اسے جسم کی آلائشوں سے پاک کرنا کمال بندگی ہے۔ 11۔ سکھ: سکھ روح کو یونی ورسل روح کا حصہ مانتے ہیں ان کے مطابق روح کائنات کا حصہ ہے اور کائنات خدا۔ وہ روح کو آتما اور رب کو پرماتما کہتے ہیں۔ AGGS (Aad Guru Granth Sahib) کی کتاب میں ہے۔ Soul (ATMA) to be part of universal soul which is God (Permatma)12۔ ہندو ازم: ہندوازم میں سنسکرت کا لفظ Jiva روح سے مطابقت رکھتا ہے جس کا مطلب ہے انفرادی روح یا ذات اور آتما کا مطلب ہے روح یا خدا۔ ہندو ازم کے عقائد کے مطابق آتما برہمن کا کچھ حصہ ہے جو ہمارے اندر آ گیا ہے اور روح برہمن کے ساتھ جڑی ہوئی ہے یعنی یہ خدا کا سر ہے۔ بدھسٹ کے عقائد بھی آتما اور پرماتما سے مماثلت رکھتے ہیں۔ 13۔ عقیدۂ تناسخ: تناسخ کا عقیدہ ہندو مذہب کا خصوصی شعار ہے جو اس کا قائل نہیں وہ ہندو دھرم کا فرد نہیں۔ باس دیو، ارجن کو عقیدہ تناسخ کی حقیقت سمجھاتا ہے اور بتاتا ہے کہ موت کے بعد اگرچہ جسم فنا ہو جاتا ہے لیکن روح باقی رہتی ہے اور وہ اپنے اچھے اعمال کی جزاء اور برے اعمال کی سزا بھگتنے کے لیے دوسرے اجسام کے لباس پہن کر اس دنیا میں لوٹ آتی ہے اور یہ چکر غیر متناہی مدت تک جاری رہتا ہے۔ (موت کے بعد روح کے دیگر لباس پہن کر اپنے اعمال کے مطابق سفر کی روداد کو دیگر زندگیاں یا بار بار زندگی تصور کر لیا گیا حالاںکہ یہ ایک ہی زندگی کے سفر کی روداد ہے جسے غلط معنوں میں لیا جا رہا ہے اور اسی تاریخی غلطی کو کرما کا نظریہ کہا جاتا ہے)۔ 14۔ کرما کا نظریہ Karma: ہندو ازم اور بدھ ازم کے عقائد کے مطابق اس بار بار کے جینے مرنے کے تسلسل سے اس وقت ہی انسان کو نجات مل سکتی ہے جب وہ وجود حقیقی میں کھو جاتا ہے جب بھی روح مادہ کے قفس کو توڑ کر آزاد ہوتی ہے تو ہر قسم کے رنج و الم سے محفوظ ہو جاتی ہے۔ اس عقیدے کی رو سے ایک بار مرنے کے بعد انسان دوسرے جنم میں کسی اور وجود میں ظاہر ہوتا ہے۔ وہ وجود انسانی، حیوانی بلکہ نباتاتی بھی ہو سکتا ہے۔ پہلے جنم میں اس سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں تھیں اس کے مطابق اس کو نیا وجود دیا جاتا ہے جس میں ظاہر ہو کر وہ طرح طرح کی مصیبتوں، بیماریوں اور ناکامیوں میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اگر اس نے اپنی پہلی زندگی میں نیکیاں کی تھیں تو اس کو ان کا اجر دینے کے لیے نئے وجود کا کوئی ایسا قالب بخشا جاتا ہے جس میں ظاہر ہونے سے اس کو اس کی گزشتہ نیکیوں کا اجر ملتا ہے اور اس طریقہ کار کو کرما (Karma) کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ کم بیش اہل یونان کا بھی یہی عقیدہ تھا۔