برین ٹیومر کا عالمی دن
اسپیشل فیچر
دماغی رسولی: خاموش مگر سنگین بیماری
جدید طبی سائنس کی بے شمار ترقیوں کے باوجود برین ٹیومر آج بھی ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ بیماری تصور کی جاتی ہے، جس کے علاج اور تشخیص کیلئے مسلسل تحقیق جاری ہے۔برین ٹیومر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے، اس بیماری کی بروقت تشخیص کی اہمیت اجاگر کرنے اور اس مرض میں مبتلا افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے کیلئے ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں برین ٹیومر کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔
برین ٹیومر دراصل دماغ یا اس کے ارد گرد موجود بافتوں میں غیر معمولی خلیات کی نشؤونما کو کہا جاتا ہے۔ یہ رسولی سومی (Benign) بھی ہو سکتی ہے اور سرطانی (Malignant) بھی۔ اگرچہ ہر برین ٹیومر کینسر نہیں ہوتا، تاہم دماغ کے حساس حصوں پر دباؤ ڈالنے کی وجہ سے یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس بیماری کا اثر نہ صرف مریض کی جسمانی صحت پر پڑتا ہے بلکہ اس کی ذہنی، جذباتی اور سماجی زندگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔
برین ٹیومر کی علامات رسولی کے سائز، نوعیت اور مقام کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ مسلسل یا شدید سر درد، بینائی میں دھندلا پن، چکر آنا، متلی، یادداشت کی کمزوری، بولنے میں دشواری، جسم کے کسی حصے میں کمزوری یا سن ہونا اور دورے پڑنا اس بیماری کی نمایاں علامات میں شامل ہیں۔ بدقسمتی سے بعض اوقات لوگ ان علامات کو عام بیماریوں سے منسوب کر کے نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق برین ٹیومر کی بروقت تشخیص مریض کے علاج اور صحت یابی کے امکانات کو بہتر بنا سکتی ہے۔ جدید دور میں ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور دیگر تشخیصی طریقوں کی مدد سے دماغی رسولیوں کا نسبتاً جلد پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ علاج کیلئے سرجری، ریڈی ایشن تھراپی، کیمو تھراپی اور بعض جدید ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔
اگرچہ برین ٹیومر کی وجوہات مکمل طور پر معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم ماہرین بعض جینیاتی عوامل، تابکاری کے زیادہ اثرات اور خاندانی طبی تاریخ کو ممکنہ خطرات میں شمار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود زیادہ تر مریضوں میں بیماری کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آتی، جس کی وجہ سے اس شعبے میں مزید تحقیق کی ضرورت برقرار ہے۔
برین ٹیومر کا عالمی دن اس امر کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو صرف طبی نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی تعاون کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بیماری کی تشخیص کے بعد مریض اکثر خوف، بے یقینی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں خاندان، دوستوں اور معاشرے کی جانب سے حوصلہ افزائی اور تعاون ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔