عالمی یوم بحر:سمندربچائیں، مستقبل سنواریں
اسپیشل فیچر
ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں سمندروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں سمندروں کی اہمیت، ان کے تحفظ اور آبی ماحول کو درپیش خطرات کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ زمین کا تقریباً 71 فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے، جبکہ کرہ ارض پر موجود آکسیجن کا نصف سے زیادہ حصہ سمندری نباتات کی بدولت پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر انسانی زندگی، موسمی نظام اور عالمی معیشت کیلئے نہایت اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
سمندر صرف پانی کے وسیع ذخائر ہی نہیں بلکہ لاکھوں اقسام کے جانداروں کا مسکن بھی ہیں۔ مچھلیاں، وہیل، ڈولفن، کچھوے، مرجان اور بے شمار دیگر آبی مخلوقات سمندروں میں زندگی گزارتی ہیں۔ دنیا کے کروڑوں افراد اپنی خوراک، روزگار اور تجارت کیلئے سمندروں پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہی گیری، بحری نقل و حمل، سیاحت اور معدنی وسائل کی فراہمی میں سمندروں کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
بدقسمتی سے آج سمندر متعدد خطرات سے دوچار ہیں۔ پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال سمندری حیات کیلئے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک کا فضلہ سمندروں میں جا پہنچتا ہے، جس سے آبی جانور متاثر ہوتے ہیں اور ان کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ بہت سے سمندری پرندے اور مچھلیاں پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر نگل لیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکت واقع ہو جاتی ہے۔
عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ بھی سمندروں کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ زمین کے درجہ حرارت میں اضافے سے سمندری پانی گرم ہو رہا ہے، جس کے باعث مرجانی چٹانیں تباہ ہو رہی ہیں اور کئی آبی انواع کے قدرتی مسکن متاثر ہو رہے ہیں۔ سمندروں کی سطح بلند ہونے سے ساحلی علاقوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سمندروں کے تحفظ کیلئے عالمی سطح پر مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں سرگرم ہیں۔ تاہم اس مقصد کے حصول کیلئے حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ پلاسٹک کے استعمال میں کمی، ساحلوں کی صفائی، ماحول دوست طرزِ زندگی اختیار کرنا اور سمندری وسائل کا دانشمندانہ استعمال انفرادی سطح پر کیے جانے والے مؤثر اقدامات ہیں۔
سمندروں کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ سمندر صرف آج کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔ اگر ہم نے ان کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو ماحولیاتی توازن، انسانی صحت اور عالمی معیشت سب متاثر ہوں گے۔