حضرت ذوالکفل علیہ السلام
اسپیشل فیچر
حضرت ذوالکفل علیہ السلام کے بارے میں یہ واقعہ ذکر کیا جاتا ہے کہ جب یسع علیہ السلام بہت ضعیف ہو گئے تو ایک دن ارشاد فرمایا:’’کاش، میری زندگی ہی میں کوئی شخص ایسا ہوتا ،جو میرا قائم مقام بن جاتا،تو مجھے اطمینان ہو جاتا کہ وہ میرے بعد نبوّت کی ذمے داریاں صحیح طریقے سے سنبھال سکے گا۔‘‘چناں چہ انہوں نے ان خیالات کا اظہار کرنے کے لیے بنی اسرائیل کے تمام لوگوں کو جمع فرمایا۔آپ ؑ نے فرمایا: ’’میں تم میں سے ایک شخص کو اپنا خلیفہ بنانا چاہتا ہوں،لیکن اُس بندے کو جس میں تین صفات موجود ہوں،اوّل یہ کہ دن بھر روزہ رکھے،دوسرے رات بھر اللہ تعالیٰ کو یاد کرتاہو اورتیسرے اُسے کبھی غصّہ نہ آتا ہو۔‘‘چناں چہ یہ تقریر سُن کر ایک ایسا شخص کھڑا ہُوا جو لوگوں میںکسی بڑی حیثیت کا حامل نہیں تھا۔ اُس نے ہاتھ بلند کرکے کہا:’’ حضرت یسع ؑ ! میں ان تینوں شرائط پر پورا اُترتا ہوں، لہٰذا مجھے خلیفہ بنا دیجیے۔‘‘حضرت یسع علیہ السلا م نے تینوںشرطیں دوبارہ بیان کیں اور دریافت کیا:’’ ان کی پابندی کروگے؟ ‘‘اُس شخص نے جواب دیا:’’ بے شک، میں ان شرائط پر پورا اُترتا ہوں ۔‘‘حضرت یسع علیہ السلام نے دوسرے دن پھر بنی اسرائیل کو جمع کیا اور گزشتہ روزکی بات دُوہرائی ۔ سب خاموش رہے، اُسی شخص نے پھر آگے بڑھ کر خود کو پیش کیا اور تینوں شرائط پوری کرنے کا عہد کیا ،تب حضرت یسع علیہ السلام نے پوری قوم کے سامنے اُس شخص کو اپنا خلیفہ بنادیا۔وہ شخص حضرت ذوالکفل علیہ السلام تھے۔حضرت ذوالکفل ؑ کا معمول تھا کہ وہ دن رات عبادات میں مشغول رہتے اوردوپہرمیں کچھ دیر آرام فرماتے ۔ایک دن حضرت ذو الکفل ؑدوپہر میں آرام فرمارہے تھے کہ شیطان نے انسانی شکل میں حضرت ذوالکفل ؑ کے دروازے پر آکر زور سے دستک دی۔ حضرت ذوالکفل ؑ باہر تشریف لائے،جہاں شیطان ایک مظلوم اورپراگندہ حال بوڑھے کی شکل میںموجود تھا۔حضرت ذوالکفل ؑنے اُس سے حال دریافت کیا۔ بوڑھے نے کہا:’’ ایک معاملہ لے کر آیا ہوں کہ میرے اور میری قوم کے درمیان جھگڑا ہُواہے۔ میری قوم والوں نے مجھ پر بہت ظلم کیا ہے۔‘‘اُس نے اپنی جھوٹی داستانِ ظلم کو اتنا لمبا کیا کہ آرام کا وقت ختم ہو گیا۔حضرت ذوالکفل ؑنے فرمایا: ’’اب تم جاؤ، شام کو جب میری مجلس منعقد ہوگی، تب آنا،میںوہیں تمہارا دعویٰ سُنوں گا اور فیصلہ کروں گا۔‘‘ جب شام کو مجلس منعقد ہوئی تو حضرت ذوالکفل ؑانتظار کرتے رہے وہ نہیں آیا، مجلس ختم ہوگئی ۔دوسرے دن صبح جب مجلس منعقد ہوئی ،تب بھی شیطان نظر نہیں آیا۔ مجلس ختم ہونے پر جب حضرت ذوالکفل ؑ نے آرام کرنے کی غرض سے تنہائی اختیار کی تو پھر کسی نے دستک دی ۔دروازہ کھولا تو اُسی بوڑھے کو موجود پایا ۔اُس نے گزشتہ روزکی طرح بات چیت شروع کردی ۔تب حضرت ذوالکفل ؑنے فرمایا:’’میں نے تمہیں کہا تھا کہ مجلس میں آنا مگر تم نہیں آئے۔‘‘شیطان بولا:’’ میری قوم بڑی خبیث ہے، جب آپؑ کو مجلس میں پاتی ہے تو آہستہ سے اقرار کر لیتی ہے کہ جھگڑا نہ کرو، ہم تمہارا حق ضرور دیں گے لیکن مجلس برخاست ہونے کے بعد پھر منکر ہو جاتی ہے۔‘‘حضرت ذوالکفل ؑ نے فرمایا:’’ آج شام کو ضرور آجانا۔ میں اپنی موجودگی میں تمہیںحق دلاؤں گا ۔‘‘اس بات چیت میں بھی آرام کا وقت جاتا رہا اورحضرت ذوالکفل ؑکو نیند نے بہت ستایا، مگر شام کی مجلس حسبِ وعدہ منعقد کی لیکن وہ بوڑھااس بارپھر نہ شام کی مجلس میںآیا اور نہ صبح کی مجلس میں۔ تیسرے دن حضرت ذوالکفل علیہ السلام کو نیند کے غلبے نے عاجز کردیااور آپؑ نے آرام کرنے کے لیے تنہائی اختیار کی تو اُس بوڑھے نے دستک دی اور حضرت ذوالکفل ؑ اُٹھے اور باہر جاکر دیکھا کہ یہ وہی شخص ہے۔ حضرت ذوالکفل علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ شیطان ہے جومظلوم بوڑھے کی شکل میں بار بار تنگ کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ انہیں حضرت یسع علیہ السلام سے کیے ہوئے وعدہ سے ہٹا سکے کہ وہ غصّے میں نہیں آئیں گے ۔ حضرت ذوالکفل ؑغصّے میں نہیں آئے اوراِسے برداشت کر کے اپنا وعدہ پورا کرنے میں کام یاب ہو گئے،اس لیے اللہ تعالیٰ نے اُنہیں ذوالکفل ؑکے نام سے معروف کیا۔