وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا
اسپیشل فیچر
گزشتہ دو عشروں سے گلستانِ اُردو ادب میں جس بات کا سب سے زیادہ چرچا ہے،وہ ہے فیضؔ شناسی۔میرؔ ،غالبؔ اور اقبالؔ کے بعد جس شاعر کے فلسفہ ٔ حیات اور فکر کی روشنی کو سب سے زیادہ سمجھنے کی ضرورت محسوس کی گئی، وہ یقینا فیضؔ ہے۔ 3فروری 1911ء کو سیالکوٹ کے گائوں کالا قادر میں پیدا ہونے والے اس رومان پرور انقلابی شاعر نے اُردو شاعری کو نئی جہتوں اور نئی فکر سے آشنا کیا۔ 1961ء میں فیضؔ کو’’ لینن امن ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ اُنھیں یہ ایوارڈ عالمی امن کے پیامبر کی حیثیت سے ملااور یہ ایوارڈ چلّی کے شہرہ آفاق شاعر پابلو نیرودا نے اُنھیں اپنے ہاتھ سے دیا۔ فیضؔ ،عمر بھر تحریک آزادیٔ فلسطین کے پرُجوش حامی رہے اور اُنھوں نے اس موضوع کے حوالے سے کئی نظمیں بھی تحریر کیں۔ فیض ؔنے اپنے ایک شعری مجموعے کو یاسر عرفات کے نام کیا ہے۔فیض ؔکی شاعری کا سب سے بڑا وصف غم ِجاناں اور غم ِ دوراں کا حیرت انگیز امتزاج ہے۔ اُنھیں محبت اور انقلاب کا شاعر کہا جاتا ہے، جس انقلاب کے وہ داعی ہیں، وہ رومانوی انقلابیت ہے۔ وہ رومانس میں انقلاب اور انقلاب میں رومانس تلاش کرنے کی کامیاب سعی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جو شعری اُسلوب اور طرز ِ احساس اُنھوں نے دیا ،اُس کے نقوش بہت گہرے ہیں، اسی لیے تو اُنھوں نے کہا:ہم نے جو طرزِ فغاں کی ہے قفس میں ایجادفیضؔ گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھہری ہےفیضؔ نے اپنے کلام پر کسی بھی پیش رو شاعر کی چھاپ نہیں لگنے دی۔ کچھ نقادوں کے خیال میں فیض ؔ کو معاشرے کے طبقاتی تضادات سے صحیح معنوں میں اس وقت آگاہی ہوئی جب وہ ایک دَور میں بے روزگار ہوئے تھے۔اس کے بعد اُنھوں نے طبقاتی تفریق کا گہرا جائزہ لیا اور معاشی و سماجی ناہمواریوں کو اپنی فکر کا حصہ بنایا۔ اُنھوں نے اپنی شاعری میں پسے ہوئے طبقات کے دکھوں کو شعریت کا لباس پہنائے رکھا،لیکن اسے نعرے بازی میں تبدیل نہیں کیا۔ اگرچہ ڈاکٹر وزیر آغا نے فیضؔ کو نعرے باز کہا تھا،لیکن یہ اُن کی اپنی رائے تھی، جس سے ہر کسی کا متفق ہونا لازم نہیں۔فیضؔ کا کمال یہ ہے کہ وہ کلاسیکل ڈکشن کے ساتھ اپنا شعری فلسفہ بیان کرتے ہیں اور یہ کام اس قدر سلیقے اور عمدگی سے انجام دیتے ہیں کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ اُن کی نظمیں انسان دوستی کی غمازہیں۔سکہ بند نقادوں کی رائے میں فیضؔ کی نظمیں اُن کی غزلوں سے زیادہ طاقتور ہیں کیوں کہ وہ نہ صرف اُسلوب کے حوالے سے بل کہ فکری توانائی سے اس قدر معمور ہیں کہ قاری اُن کا مطالعہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ وہ عمر بھر استبدادی قوتوں اور جبرو ستم کے سامنے عزم و ہمت کی چٹان بن کر کھڑے رہے اور اپنے نظریے کی پاس داری کی خاطر اُنھوں نے قیدو بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ اپنی اسیری کے دوران اُنھوں نے خود یہ معرکتہ الآرا قطعہ تخلیق کیا تھا:متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میَں نےزباں پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہےہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میَں نےفیض ؔطبقاتی تفریق پر کڑھتے ہیں، لیکن کبھی مایوسی اور نااُمیدی کے اندھیرے نہیں پھیلاتے۔ وہ قدم قدم پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ مظلوم عوام کا مقدر اندھیرے نہیں بل کہ روشنی ہے۔ اُن کے اس نظریئے کو بھی ردّ نہیں کیا جا سکتا کہ ایک سچا رومانیت پسند (Romanticist) ہی سچا انقلابی (Revolutinary)ہو سکتا ہے۔ وہ رجائیت کے علمبردار ہیں اور وہ بھی حیات افرور رجائیت ۔ اُنھیں اس چیز کا بھی غم نہیں کہ اگر اُنھوں نے اپنی زندگی میں انقلاب کا موسم نہیں دیکھا ،تو کیا ہوا۔ اس انقلاب کے ثمرات ایک دن مخلوقِ خدا تک ضرورپہنچیں گے:بجا کہ ہم نے نہ دیکھا تو اور دیکھیں گےفروغِ گلشن و صوتِ ہزار کا موسمفیضؔ کی چھوٹی بحر کی غزلیات بھی ایک اور داستان ِ جہان بیان کر رہی ہیں۔ اُس دَور میں اُن کے بعد جن شعرا کی چھوٹی بحر میں غزلیں پڑھنے کو ملتی ہیں اورجنھیں بجا طور پر سہلِ ممتنع (Deceptive Simplicity)کہا جا سکتا ہے، اُن میں ساغر ؔصدیقی، عبدالحمید عدمؔ اور سیف الدین سیفؔ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ فیضؔ کی چھوٹی بحر کی غزلیں خیال کی ندرت اور منفرد اُسلوب کی وجہ سے اپنا ایک الگ مقام رکھتی ہیں:کر رہا تھا غمِ جہاں کا حسابآج تم یاد بے حساب آئے………………شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کیشکر ہے زندگی تباہ نہ کی………………ہجر کی شب تو کٹ ہی جائے گیروزِ وصلِ صنم کی بات کروفیضؔ کی بہترین نظموں میں ’’تنہائی‘‘ ، ’’ملاقات‘‘ ، کتے‘‘ ، ’’زنداںکی ایک صبح‘‘ ، ’’نثار میں تری گلیوں کے‘‘ ، ’’شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں‘‘ ، ’’پاس رہو‘‘ ، ’’ویرا کے نام‘‘ ، ’’دِل من مسافرِ من‘‘ ، ’’لہو کا سراغ‘‘ اور کئی دوسری نظمیں شامل ہیں۔ فیض ؔ ایک عہد ساز شاعر تھے ،یہی وجہ ہے کہ ہمیںاحمد فرازؔ اور ساحرؔ لدھیانوی جیسے شعراکے ہاںبھی فکر ِفیض ؔکی پر چھائیاں ملتی ہیں۔ فیض ؔاشتراکیت سے بہت متاثر تھے اور اُن کی شاعری میں اس فلسفے کے اسرار و رموز کو بآسانی تلاش کیا جا سکتا ہے۔دوسری طرف فیضؔ خود غالبؔ سے متاثر تھے ، اُن کے کئی شعری مجموعوں کے عنوانات غالبؔ کی وہ تراکیب ہیں، جو اُردو کی شعری زبان کی آبرو ہیں۔ اُن کے کلیات کا مجموعہ ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ غالبؔ کے اس شعر میں استعمال کی گئی ترکیب ہے:تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میَںمجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھافیضؔ کو کوئی طاقت عصری صداقتوں کی شمع جلانے سے نہ روک سکی۔ دراصل وہ اپنے عہد کے جس فکر کو لے کر چلتے ہیں ،وہ توانائی سے بھر پور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی شاعری کو اس قدر پذیرائی ملی۔ جبرو ستم کے خلاف وہ جس طرح میدان میں آتے ہیں ،اُس کا اندازہ اُن کی نظم ’’مرثیہ امام‘‘ سے لگایا جا سکتا ہے۔ جبر کی قوتوں سے سمجھوتہ کرنے والوں کے بارے میں، وہ گرجدار آواز میں کہتے ہیں:جو ظلم پہ لعنت نہ کرے، آپ لعیں ہےجو جبر کا منکر نہیں وہ منکرِ دیں ہےفیضؔ نے ’’دستِ صبا‘‘، ’’نقشِ فریادی‘‘، ’’دستِ تہِ سنگ‘‘،’’ زنداں نامہ‘‘،’’ سرِوادی ٔسینا‘‘،’’ شامِ شہریاراں‘‘،’’ مرے دِل مرے مسافر‘‘ اور’’غبارِ ایام‘‘ جیسے شعری مجموعے تخلیق کرنے کے علاوہ پنجابی شاعری بھی کی اور اس میدان میں بھی اپنی فکر کے وہ چراغ جلائے جن کی روشنی سے اب تک قارئین ادب فیض یاب ہو رہے ہیں۔ ’’ربّا سچّیا‘‘ اُن کی شاندار پنجابی نظم ہے۔ اس کے علاوہ پنجابی کسان کے لیے ،جو ترانہ اُنھوں نے تخلیق کیا، وہ انتہائی قابلِ تحسین ہے۔ سادہ اور سلیس پنجابی زبان میں اُنھوں نے کسان کی عظمت و رفعت بیان کی ہے اور اُسے یہ بتایا ہے کہ اس کا وجود باقی لوگوں کے لیے کتنی اہمیت کا حامل ہے۔فیض ؔنے کچھ فلموں کے گیت بھی لکھے، جن میں ’’جاگو ہوا سویرا‘‘ ، ’’قسم اُس وقت کی‘‘ اور ’’سُکھ کا سپنا‘‘ شامل ہیں۔’’جاگو ہوا سویرا‘‘ کے ایک گیت کے بول ملاحظہ فرمائیں:اب کیا دیکھیں راہ تمھاریبیت چلی ہے راتچھوڑو، چھوڑو غم کی باتتھم گئے آنسوتھک گئی اکھّیاںگزر گئی برساتبیت چلی ہے راتفیضؔ عالم انسانیت کے شاعر تھے۔ اپنی ذاتی زندگی میں بھی وہ انسانیت نواز روایات قائم کرتے رہے۔کہا یہ جاتا ہے کہ موت کی وادی میں اُترنے سے چند روز قبل فیضؔ اپنے گائوں کالا قادر گئے تھے اور اپنی ساری زمینیں مزارعوں میں تقسیم کر دی تھی، یعنی صرف گفتار کے نہیں بل کہ وہ کردار کے بھی غازی تھے۔ 20نومبر 1984ء کو محبت اور انقلاب کا یہ پیامبر اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ 73برس کی عمر تک یہ مردِ طرحدار،جس طرح اپنے جن اصولوں اور نظریات پر عمل پیرا رہا، وہ ہر نظریاتی شخص کے لیے ایک مثال ہے۔ موت کے سفر پر جانے سے پہلے بھی وہ اپنے دشمنوں کو خبر دے رہے ہیں اور چارہ گر کو خوشخبری سُنا رہے ہیں کہ اُنھوں نے بالآخر جان کا قرض چکا دیا ہے۔٭…٭…٭