علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ (سیاسی زندگی کا احوال)

علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ  (سیاسی زندگی کا احوال)

اسپیشل فیچر

تحریر : ابتسام الٰہی ظہیر


حضرت بابا شہید فطری طور پر سیاسی رجحانات رکھتے تھے۔ قومی جرائد ہی کا مطالعہ نہ کیا کرتے بلکہ بین الاقوامی جرائد بھی اکثر آپ کے زیر مطالعہ رہا کرتے تھے اور ویسے بھی ایک شخص جو سیاسی معاملات کو سمجھتا ہوں ان کو سلجھانے کی صلاحیت رکھتا ہو، ان پر ماہرانہ رائے دینے کا اہل ہو، وہ کیونکر زیادہ دیر سیاست سے کنارہ کش رہ سکتا ہے۔ آپ کی سیاسی زندگی کا آغاز تو اسی دن ہو گیا تھا ،جب آپ نے مینار ِپاکستان میں عید کے اجتماع سے خطاب کیا تھا، لیکن باضابطہ طور پر آپ میدان سیاست میں اس وقت قدم رنجہ ہوئے جب سقوط ِمشرقی پاکستان کا المناک سانحہ رونما ہوا۔ اس سانحے نے آپ کے جذبات کو دنیا میں تلاطم پیدا کردیا تھا۔ آپ اتنے مضطرب ہوئے کہ آپ نے نظری سیاست کو ترک کر کے عملی سیاست میں کودنے کا ارادہ کرلیا۔جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا، اس وقت میری عمر بمشکل چار ماہ تھی اور میں بابا کا پہلا بیٹا تھا۔ بابا نے میری پیدائش پر بہت خوشی اور مسرت کا اظہار کیا تھا اور غالباً اسی مسرت اور خوشی کی نسبت سے میرا نام ابتسام یعنی ’’ مسکراہٹ‘‘ رکھ دیا تھا، لیکن بنگال کے علیحدہ وطن بننے پر آپ اتنے مغمور ہوئے کہ آپ نے بے ساختہ یہ کہا تھا: ’’ میرا ایک ہی بیٹا ہے اگر کٹ جاتا،مر جاتا ،تو مجھے اتنا افسوس نہ ہوتا ،جتنا آج مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر ہوا‘‘۔آپ نے سقوط ڈھاکہ کے موقع پر چینیانوالی مسجد میں خطبہ ارشاد فرمایا تھا، وہ آج بھی مجھے رلا رہا ہے ،آپ نے کہا تھا: ’’ مسجدیں تمہیں بلاتیں رہیں!منبر و محراب تمہیں آوازیں دیتے رہےربّ کا قرآن تم کو روکتا رہا!رسول اللہﷺ کا فرمان تم کو ٹوکتا رہا!لیکن تم نے ہر چیز کو پامال کردیا!اور نتیجتاً تم خود پامال ہو کر رہ گئے ہو!‘‘خطبہ کا دوسرا مقام ملاحظہ ہو:’’ آج ڈھاکہ کی مسجد بیت المکرم اپنی ماں کعبۃ اللہ کو کہہ رہی ہو گی، اے میری ماں! آج مجھ کو تیرے رکھوالے اغیار کے حوالے کر کے بھاگ نکلے ہیں‘‘۔آپ کو مشرقی پاکستان سے کتنا پیار تھا۔ آپ اس کے شہروں کو کتنا یاد کرتے تھے۔ سقوط ڈھاکہ پر پڑھائے گئے خطبہ جمعہ میں آپ کے کتنے پیار سے مشرقی پاکستان کے شہروں کا نام لے رہے تھے۔ آپ کیسے کہہ رہے تھے۔ تم نے پٹنہ کو چھوڑا۔ تم نے پونا کو چھوڑا۔ تم نے کھلنا کو چھوڑا، تم نے چٹاگانگ کو چھوڑا،تم نے راس کماری کو چھوڑا ہے۔ آپ نے عالم وارفتگی میں یہ کہا تھا:’’خدا کی قسم! مجھے چٹاگانگ کی سرزمین اتنی ہی پیاری ہے، جتنا مجھ کو لاہور اور سیالکوٹ پیارا ہے‘‘۔ سانحہ سقوط ِمشرقی پاکستان آپ کو صحن مسجد سے کھینچ کر بازاروں، چوراہوں اور میدان میں لے آیا تھا۔ آپ نے قریہ قریہ، نگر نگر،بنگلہ دیش نامنظور کی تحریک چلائی۔ یہاں تلک کہ بیرونی نیوز ایجنسیاں بھی اس بات کو ماننے کو مجبور ہو گئیں کہ پاکستان میں چار افراد بنگلہ دیش نامنظور کی تحریک میں سرفہرست رہے ہیں، جن میں سے ایک احسان الٰہی ظہیر ہے۔سانحہ مشرقی پاکستان کے ساتھ ہی مغربی پاکستان یا بقیہ پاکستان میں میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت قائم ہو گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کا کردار چونکہ تقسیم وطن کے حوالے سے کافی مشکوک تھا۔ ’’ادھر ہم اور ادھر تم‘‘ کے نعرے کا زخم ابھی بہت سے محب وطن لوگوں کے سینوں پر موجود تھا۔ اس لیے ملک میں ذوالفقار علی بھٹو کے فطری مخالفین کافی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ سانحہ مشرقی پاکستان نے چونکہ بابا کی روح کو گھائل کر کے رکھ دیا تھا۔ اس لئے آپ بھی اس سانحہ شعوری یا غیر شعوری، ارادی یا غیر ارادی، بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث کسی بھی شخص کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرنے پر تیار نہ تھے۔ چنانچہ آپ قدرتی طور پر ذوالفقار علی بھٹو کے حریف بن گئے ۔ ان حریفانہ جذبات میں ذوالفقار علی بھٹو کے سوشلزم کے نعرے اور سیکولر نظریات کے سبب بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ آپ نے ملک بھر میں ذوالفقار علی بھٹو کے سیکولر نظریات کی مخالفت میں تقاریر کیں۔ اپنی طوفانی خطابت کی وجہ سے آپ اہل ِاختلاف کے دلوں میں سمانے لگے۔آپ چونکہ اہل ِحدیث تھے۔ اس لئے آپ نے اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو بھی جمعیت ِاہل ِحدیث کے پلیٹ فارم سے جاری رکھا ہوا تھا۔ مولانا دادو غزنوی کی رحلت کے بعد جماعت کے ایک معروف تاجر میاں فضل حق مرحوم جماعت کے ناظم اعلیٰ بنے ،میاں صاحب بنیادی طور پر ایک تاجر آدمی تھے۔ آپ سیاست میں کھل کر حصہ لینے کے قائل نہ تھے، تا ہم درمیانی سی چال چلتے ہوئے ہلکے پھلکے انداز میں سیاست کرنے کے مخالف بھی نہ تھے۔بابا شہیداس پالیسی کے قائل نہ تھے۔آپ اس بات کو درست نہ سمجھتے تھے کہ انسان ’’صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں‘‘ کے مصداق ہو، آپ کہتے تھے کہ انسان جو کام بھی کر دے ڈنکے کی چوٹ کرے۔ غلط کو غلط کہے درست کو درست کہے۔ آپ تبلیغی پلیٹ فارم سے حکمرانوں کی غلطیوں کی نشاندہی بڑے بھرپور انداز میں گرنے لگے تھے۔ آپ کے تیور جمعیت کے قائدین کو کھٹکنے لگے۔ جمعیت کے قائدین نے ان جلسوں اور جلوسوں میں شامل ہونے سے احتراز کرنا شروع کر دیا، جن میں بابا شہید شریک ہوا کرتے تھے۔ جب کوئی شخص حکومت وقت کی پالیسیوں پر متواتر تنقید کرتا رہتا ہے، تو وہ وقت کی حکومت کے عتاب کا نشانہ بھی بنتا ہے، مقدمات بھی بنتے ہیں، جیلوں میں بھی جانا پڑھتا ہے، مشکلات بھی جھیلنا پڑتی ہیں۔ بالکل اسی قسم کے معاملات شہید بابا کے ساتھ بھی رونما ہونے لگی۔ مختلف شہروں اور اضلاع میں آپ پر حکومتی کارندوں اور اہل کاروں کی طرف سے مقدمات کو دائر کیا جانے لگا۔ جوں جوں یہ مقدمات بڑھے ،توں توں قائدین جمعیت آپ سے دُور ہونے لگے، یہاں تک کہ وہ دن بھی آگیا جب جمعیت ِاہل ِحدیث پاکستان نے مکمل طور پر آپ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ اس عالم تنہائی میں بابا نے اس بات کو ضروری خیال کیا کہ کسی نہ کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کو اختیار کیا جائے۔ ایئر مارشل اصغر خان ان ایام میں بہت بڑے انقلابی رہنما کے طور پر متعارف ہوئے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ بابا کا اپنا مزاج بھی ویسا تھا چنانچہ آپ نے ایئر مارشل اصغر خان کی جماعت’’تحریک ِاستقلال‘‘ میں شمولیت اختیار کر لی۔ اللہ تعالیٰ شہید بابا کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت بخشے (آمین)٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
رمضان کے مشروب و پکوان

رمضان کے مشروب و پکوان

فروٹ سلاداجزا: سیب: ایک عدد، پپیتا:آدھا، سرخ مرچ: کٹی ہوئی ایک عدد، لیمن جوس: دو کھانے کے چمچ، مونگ پھلی:چوتھائی کپ، کیلا:ایک عدد، کوکونٹ ملک: ایک کپ، تازہ دھنیا :کٹا ہوا ایک چمچ، فش ساس: ایک چمچ، سلاد کے پتے :6عددترکیب:سیب کو آدھا کاٹ لیں اور درمیان سے بیج اور سخت حصہ نکال دیں۔ پھر سیب کے باریک سلائس بنالیں، پپیتا کے باریک ٹکڑے بنالیں۔ کوکونٹ ملک، مرچ، دھنیا،لیمن جوس ، فش ساس اور سیب ایک بائول میں ڈال دیں اور اچھی طرح مکس کرلیں ۔اسے ڈھانپ کر ایک گھنٹہ کیلئے فریج میں رکھ دیں۔ چاروں طرف سلاد کے پتوں سے بارڈر لگادیں۔ملکی لیموئنیڈاجزا: لیمن جوس:آدھی پیالی، سوفٹ ڈرنک :ایک چھوٹی بوتل، دودھ: دو پیالی، چینی: چار کھانے کے چمچ، فریش کریم: آدھی پیالی، کُٹی ہوئی برف: حسب پسند۔ترکیب: دودھ، سوفٹ ڈرنک اور فریش کریم کو علیحدہ علیحدہ پیالوں میں رکھ کر یخ ٹھنڈا کر لیں۔ بلینڈر میں پہلے چینی اور لیمن جوس ڈال کر بلینڈ کر لیں پھر اس میں سوفٹ ڈرنک ڈال کر بلینڈر کو ایک سے دو منٹ چلائیں۔ آخر میں اس میں دودھ ، فریش کریم اور کٹی ہوئی برف ڈال کر بلینڈ کر لیں۔

فون چارجنگ کی عادت بدلیں

فون چارجنگ کی عادت بدلیں

یہ ایک عمل گھروں میں آگ کے خطرات کو کم کر سکتاہےفائر ڈیپارٹمنٹس کے ماہرین موبائل فون چارج کرنے کی ایک عام عادت کو گھروں میں آگ لگنے کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔فائر سیفٹی حکام کے مطابق سب سے خطرناک عادت یہ ہے کہ لوگ موبائل فون کو بستر، تکیے یا کمبل کے نیچے رکھ کر چارج کرتے ہیں یا رات بھر چارجنگ پر لگا چھوڑ دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی بات لگتی ہے لیکن یہ عادت حرارت کے غیر معمولی اضافے سے آگ بھڑکنے کا سبب بن سکتی ہے۔حرارت کیوں بڑھتی ہے؟زیادہ تر سمارٹ فونز میں لیتھیم آئن بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ بیٹریاں طاقتور اور مؤثر ضرور ہیں مگر ان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ زیادہ حرارت برداشت نہیں کر پاتیں۔ جب فون کو بستر یا تکیے پر رکھا جاتا ہے تو ہوا کا گزر رک جاتا ہے نتیجتاً فون اور چارجر کی پیدا کردہ حرارت باہر نہیں نکل پاتی۔اگر یہ درجہ حرارت ایک حد سے بڑھ جائے تو بیٹری میں کیمیائی ردعمل تیز ہو جاتا ہے جسے ماہرین تھرمل رن اوے کہتے ہیں۔ اس مرحلے پر بیٹری پھول سکتی ہے، دھواں نکل سکتا ہے یا شعلہ بھڑک سکتا ہے۔ فائر ڈیپارٹمنٹس بار بار اس عادت سے بچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔رات بھر چارجنگ ، خطرات اکثر لوگ سونے سے پہلے فون کو چارج پر لگا دیتے ہیں اور پوری رات وہ بجلی سے منسلک رہتا ہے۔ اگرچہ جدید فونز میں اوورچارجنگ سے بچاؤ کے کچھ نظام موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود چارجر، کیبل یا ساکٹ میں خرابی ہو تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ غیر معیاری چارجرز اس حوالے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ان میں حفاظتی سرکٹس کمزور ہوتے ہیں جس کے باعث شارٹ سرکٹ یا اوور ہیٹنگ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ فائر حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے متعدد واقعات میں غیر معیاری چارجر یا خراب کیبل بنیادی وجہ بنے۔ بستر، صوفہ یا قالین جیسی سطح نہ صرف حرارت کو جذب کرتی ہیں بلکہ خود بھی آتش گیر مواد سے بنی ہوتی ہیں۔ اگر فون یا چارجر میں چنگاری پیدا ہو تو یہ نرم سطح فوراً آگ پکڑ سکتی ہے۔ اگر فون کو کسی سخت سطح جیسے لکڑی کی میز یا ماربل پر رکھا جائے تو حرارت نسبتاً کم جمع ہوتی ہے اور اوورہیٹنگ کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔بچوں کے لیے اضافی خطرہآج کل بچے اور نوجوان موبائل فون کو تکیے کے نیچے رکھ کر ویڈیوز دیکھتے دیکھتے سو جاتے ہیں۔ اس دوران فون چارجنگ پر بھی لگا ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف آگ کے خطرے کو بڑھاتی ہے بلکہ زیادہ حرارت کی وجہ سے جلد یا آنکھوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچوں کو محفوظ چارجنگ عادات سکھائیں اور سونے کے کمرے میں چارجنگ کے بجائے کسی کھلی اور محفوظ جگہ کا انتخاب کریں۔محفوظ چارجنگ کے اصولفائر سیفٹی ماہرین نے چند بنیادی احتیاطی تدابیر تجویز کی ہیں:1 ۔موبائل فون کو ہمیشہ سخت، ہموار اور غیر آتش گیر سطح پر چارج کریں۔2۔ بستر، تکیے، کمبل یا صوفے پر چارجنگ سے گریز کریں۔3 ۔ممکن ہو تو فون کو رات بھر چارجنگ پر نہ چھوڑیں۔4 ۔صرف اصل یا مستند برانڈ کے چارجر اور کیبل استعمال کریں۔5 ۔اگر کیبل کٹی ہوئی، جلی ہوئی یا ڈھیلی ہو تو فوراً تبدیل کریں۔6 ۔اگر فون غیر معمولی حد تک گرم ہو جائے یا بیٹری پھول جائے تو فوری طور پر استعمال بند کر دیں۔سموک الارم کی اہمیتفائر ڈیپارٹمنٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ گھروں میں سموک الارم کا فعال ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اگر خدانخواستہ چارجنگ کے دوران آگ لگ جائے تو سموک الارم ابتدائی مرحلے میں خبردار کر سکتا ہے جس سے جانی و مالی نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کے تناظر میںپاکستان میں بجلی کے اتار چڑھاؤ، غیر معیاری ایکسٹینشن بورڈز اور سستے چارجرز کے استعمال کی وجہ سے یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ خصوصاً گرمیوں کے موسم میں جب درجہ حرارت پہلے ہی زیادہ ہو موبائل فون اور چارجر مزید گرم ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صارفین کو اضافی احتیاط کی ضرورت ہے۔موبائل فون ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے مگر اس سہولت کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔ چند احتیاطی تدابیر نہ صرف آپ کے گھر کو کسی بڑے نقصان سے محفوظ رکھ سکتی ہیں بلکہ آپ اور آپ کے اہل خانہ کی جان بھی بچا سکتی ہیں۔

حکایت سعدیؒ:عیبوں کی ٹوہ

حکایت سعدیؒ:عیبوں کی ٹوہ

حضرت سعدیؒ بیان کرتے ہیں، ایک نوجوان حُسنِ صورت اور حُسنِ سیرت کے ساتھ علم کی دولت سے بھی مالا مال تھا۔ وہ جس موضوع پر لب کشا ہوتا تھا، لوگ اس کی بات بہت شوق اور توجہ سے سنتے تھے اور اس کے فیصلوں کو درست مانتے تھے۔ وہ ایسا روشن چراغ تھا کہ اس کے سامنے کسی اور کا چراغ مشکل ہی سے جلتا تھا لیکن ان ساری خوبیوں کے باوصف اس میں ایک کمزوری یہ تھی کہ وہ الفاظ کو ان کے صحیح تلفظ کے ساتھ ادا نہ کر سکتا تھا۔ ایک دن ایک بزرگ کی محفل میں اس ہمہ صفت موصوف نوجوان کا ذکر چھڑا تو میں نے اس کی اس کمزوری کا ذکر کرنے کے بعد رائے ظاہر کی کہ میرے نزدیک اس کی تقریر میں یہ نقص اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ اس کے سامنے کے دانت درست نہیں ہیں۔ میری یہ بات سن کر بزرگ بہت ناراض ہوئے۔ انہوں نے فرمایا:تعجب ہے کہ اس نوجوان کی اتنی بہت سی خوبیوں کے مقابلے میں تمہاری نگاہ اس کے اس معمولی عیب کی طرف گئی۔ کیا یہ افسوس کی بات نہیں کہ طاؤس کو دیکھنے والے کی نگاہ اس کے بدزیب پیروں پر ہی مرکوز رہ جائے۔ مناسب تو یہ ہے کہ انسان ہنر اور خوبیاں دوسروں کی ذات میں تلاش کرے اور عیب اپنی ذات کے یاد رکھے۔ دنیا میں اچھائیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی۔ جس طرح گلزار میں پھول بھی ہوتے ہیں اور خار بھی۔ جس کے دل کا آئینہ میلا ہو، اسے ہر چیز دھندلی اور جس کا روشن ہو اسے ہر چیز روشن نظر آتی ہے۔ شیشۂ دل کو مجلا کرنے پر سب سے زیادہ توجہ صرف کرنی چاہیے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!آغا طالش: ایک بڑا اداکار (1998-1923ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!آغا طالش: ایک بڑا اداکار (1998-1923ء)

٭... 10 نومبر 1923ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام آغا علی عباس قزلباش تھا۔٭... والد پولیس میں ملازم تھے جن کے مختلف شہروں میں تبادلوں کی وجہ سے آغا طالش کو شہروں اور انسانوں کو دیکھنے کا بھر پور موقع ملا۔٭... قیامِ پاکستان کے بعدریڈیو پشاور سینٹر سے عملی زندگی میں قدم رکھا اور پھر فلم کی طرف آگئے۔٭... تقسیم سے قبل انہوں نے بمبئی میں بننے والی ایک فلم میں بھی کام کیا تھا۔٭... 1962ء میں فلم ''شہید‘‘ نے آغا طالش کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔٭...اپنی طویل فنی زندگی میں 400سے زائد اردو، پنجابی فلموں میں کام کیا۔٭... ان کی مشہور فلموں میں نتھ، جھیل کنارے، سات لاکھ، باغی، شہید، سہیلی، فرنگی، زرقا، وطن، نیند، زینت، امرائو جانِ ادا اپنے وقت کی کامیاب فلمیں تھیں۔٭...وہ کبھی نواب کے بہروپ میں سکرین پر نظر آئے تو کہیں ایمان دار اور فرض شناس پولیس افسر، کسی فلم میں انہوں نے ڈاکو کا روپ دھارا تو کہیں ایک مجبور باپ کے رول میں شائقین کے دل جیتے۔٭... فلم کے سیٹ پر بروقت پہنچنا، اپنے سکرپٹ اور کردار پر غور کرنا، کوئی بات سمجھ نہ آئے تو ڈائریکٹر سے پوچھنا اس بڑے اداکار کا شیوہ تھا۔ ٭... شاندار اداکاری کی بدولت انہوں نے پاکستان فلم نگری کا نگار ایوارڈ سات مرتبہ اپنے نام کیا۔٭... چند مفاد پرست فلمسازوں کے رویے کے باعث فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ ٭... 19فروری 1998ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

آج کا دن

آج کا دن

روزویلٹ کا ایگزیکٹو آرڈر19فروری1942ء کو امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے ایگزیکٹو آرڈر 9066 پر دستخط کیے جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکی شہری حقوق کی تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ یہ آرڈر امریکی حکومت کو اختیار دیتا تھا کہ وہ تقریباً 125,000 لوگوں ،جن میں اکثر جاپانی نژاد امریکی تھے ، کو فوجی زونوں سے باہر منتقل کر کے انٹرنمنٹ کیمپوں میں قید کر دے۔ اس فیصلے کا پسِ منظر جنگ کی خوفناک شدت اور جاپان کے حملے کے بعد پیدا شدہ بے یقینی تھا۔ حکومت نے دلیل دی کہ اس اقدام سے سکیورٹی کو تحفظ ملے گا، مگر حقیقت میں پوری برادری کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنا پڑا۔ایڈیسن کا فونوگراف پر پیٹنٹ 19فروری1878ء کو مشہور امریکی موجدایڈیسن نے فونوگراف (دنیا بھر میں پہلی مشین جو ریکارڈ شدہ آواز کو محفوظ اور دوبارہ بجاسکتی تھی) پر پیٹنٹ حاصل کیا ۔ یہ ایجاد دنیا کے صوتی تجربات میں انقلاب لے آئی۔ فونوگراف دراصل گھومتے ہوئے سلنڈر اور ایک سلیکون سٹائل سے مل کر کام کرتا تھا۔ ایڈیسن نے پہلے اس مشین کو اپنی وائس میں ایک نظم ریکارڈ کر کے چلایا، جس نے لوگوں کو حیران اور محظوظ کیا۔ یہ ایجاد دنیا بھر میں انفارمیشن اور تفریح کے علاقے میں ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ فونوگراف بعد میں ریکارڈ پلیئرز، ٹیپ ریکارڈرز، اور جدید ڈیجیٹل آڈیو کی سمت گامزن ہوا۔ ڈونر پارٹی کی بچاؤ مہم 19فروری1847ء کو ڈونر پارٹی کے اراکین کو سیرا نیوا پہاڑوں میں شدید سردی اور برف میں پھنس جانے کے بعد آخرکار بچا لیا گیا۔ڈونر پارٹی ایک گروپ تھا جو مغربی سفر کے دوران غلط راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے برفانی طوفان میں پھنس گیا تھا اور کئی ماہ تک خوراک کی شدید کمی کا شکار رہا۔ ان حالات میں کچھ لوگوں کو بچاؤ کے لیے خطرناک راستہ اختیار کر کے مدد طلب کرنی پڑی۔ بالآخر 19فروری کوریسکیو ٹیموں نے انہیں برف سے نکال لیا مگر اس تک پہنچنے تک بہت سے افراد کا زندہ رہنا مشکل ہو چکا تھا۔ یو ایس مارینز کا حملہ19فروری 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران امریکی بحری فوج نے جزیرہ Iwo Jima پر حملہ کیا۔یہ جاپان کے ساحل سے قریب ایک چھوٹا مگر اہم جزیرہ تھا جسے امریکی فوج نے اپنے فضائی بمباروں کی خدمات کے لیے ایک سٹریٹیجک مقام کے طور پر استعمال کرنا تھا۔ جاپانی فوج نے جزیرے کی حفاظتی پوزیشن مضبوط کی تھی۔ Iwo Jima کی فتح نے امریکہ کو جاپانی دفاع کی گہرائیوں میں مزید حملوں کی راہ ہموار کی۔ سوویت یونین کاخلائی سٹیشن 19فروری1986ء کو سوویت یونین نے Mir (میر) خلائی سٹیشن کو زمین کی مدار میں بھیجا۔ Mir دنیا کا پہلا ماڈیولر خلائی سٹیشن تھا جسے مختلف ماڈیولوں کے جوڑ سے بنایا گیا تھا۔Mir نے 28 طویل مدت کے مشنز کو ہوسٹ کیا جس میں مختلف ممالک کے خلائی مسافر شامل تھے۔ اس نے سائنسی تحقیق، خلائی رہائش اور عالمی تعاون کی مثال قائم کی، جس نے بعد میں انٹر نیشنل سپیس سٹیشن جیسے بڑے پراجیکٹس میں مدد دی۔ 2001ء میں Mir کو واپس زمین کی فضا میں لایا گیا۔Mir کے اثرات آج بھیخلائی تحقیق میں محسوس کیے جاتے ہیں۔

منہ کے جراثیم اورجسمانی پیچیدگیاں

منہ کے جراثیم اورجسمانی پیچیدگیاں

درست طریقے سے برش نہ کرنا 50سے زائد بیماریوں کی وجہجدید طبی تحقیق نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ صحت مند زندگی کی بنیاد چھوٹی مگر باقاعدہ عادات میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دانتوں کو صحیح طریقے سے برش کرنا نہ صرف منہ کی صفائی اور خوشبو کیلئے ضروری ہے بلکہ یہ ڈیمنشیااور گٹھیا سمیت پچاس سے زائد دیگر بیماریوں سے بچاؤ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ بظاہر ایک سادہ سا عمل، اگر نظر انداز کر دیا جائے تو اس کے اثرات پورے جسم پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسوڑھوں کی بیماری اور منہ میں موجود جراثیم خون کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں تک پہنچ کر سوزش اور دیگر پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہی سوزش دل، دماغ اور جوڑوں سمیت کئی اعضا کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس تناظر میں روزانہ کم از کم دو مرتبہ درست طریقے سے برش کرنا، فلاس کا استعمال اور باقاعدہ ڈینٹل چیک اپ محض ذاتی صفائی نہیں بلکہ مجموعی صحت کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق دانتوں کو درست طریقے سے برش کرنا ڈیمنشیا (dementia)، ریمیٹائیڈ آرتھرائٹس (rheumatoid arthritis )(گٹھیا کی ایک قسم) اور پارکنسنز(Parkinson's) سمیت پچاس سے زائد بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بات دنیا کی سب سے بڑی عمومی سائنسی کانفرنس میں ماہرین کے ایک پینل نے پیش کی، جہاں بتایا گیا کہ منہ میں موجود بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی سوزش اور انفیکشن کے پھیلاؤ کا تعلق جسم کے مختلف حصوں میں پیدا ہونے والے مسائل سے جوڑا جا رہا ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ وہ ابھی اس تعلق کو مکمل طور پر سمجھنے کے ابتدائی مرحلے میں ہیں، تاہم یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ منہ کی صحت جوڑوں، دماغ اور آنتوں سمیت مختلف اعضا اور بافتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف مینیسوٹا (Minnesota) کے شعبہ دندان سازی کے پروفیسر الپدوگان کانترچی (Alpdogan Kantarci)نے کہا کہ مسوڑھوں کی شدید بیماری، جسے پیریوڈونٹائٹس (periodontitis) کہا جاتا ہے، لازمی طور پر ڈیمنشیا جیسی بیماریوں کی براہِ راست وجہ نہیں بنتی، تاہم یہ مشترکہ خطرے کے عوامل کو متحرک کر سکتی ہے اور ان افراد میں بیماری کی رفتار تیز کر سکتی ہے جو پہلے ہی اس کیلئے حساس ہوں۔تحقیقات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ہلکی یا درمیانی نوعیت کی بیماریوں میں مبتلا وہ افراد جو باقاعدگی سے برش کرتے ہیں، دانتوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں یا ڈینٹسٹ سے رجوع کر کے مکمل صفائی کرواتے ہیں، ان میں ذہنی کارکردگی کے نتائج کہیں بہتر دیکھے گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ہمیں یقین ہونے لگا ہے کہ دانتوں کو صحت مند رکھنا پچاس سے زائد جسمانی امراض کے خطرے میں کمی سے وابستہ ہو سکتا ہے۔پروفیسر کانترچی نے چوہوں پر کی گئی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پیریوڈونٹائٹس دماغی سوزش میں اضافہ کر سکتی ہے اور منہ کے مضر بیکٹیریا خون اور دماغ کے درمیان موجود حفاظتی رکاوٹ (بلڈ برین بیریئر) کو عبور کر سکتے ہیں، خصوصاً عمر رسیدہ چوہوں میں۔اسی دوران جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے شعبۂ طب کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فیلیپ اینڈریڈ(Dr Felipe Andrade) نے شواہد پیش کیے کہ مسوڑھوں کی بیماری پیدا کرنے والے جراثیم ریمیٹائیڈ آرتھرائٹس (rheumatoid arthritis)کی نشوؤنما میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔اسی طرح یونیورسٹی آف مشی گن سے وابستہ ڈاکٹر نوبوہیکو کامادا( Dr Nobuhiko Kamada) نے وضاحت کی کہ منہ کے بیکٹیریا آنتوں کے مائیکرو بائیوم (جرثومی نظام) کو متاثر کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں آنتوں کی سوزشی بیماری (Inflammatory Bowel Disease) اور بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق دل کے امراض، فالج اور ذیابیطس بھی ان بیماریوں میں شامل ہیں جن کا تعلق منہ کی صحت سے جوڑا جا رہا ہے۔پروفیسر کانترچی نے خبردار کیا کہ زیادہ چینی اور حد سے زیادہ پراسیس شدہ غذاؤں کا استعمال دانتوں کی خرابی اور مسوڑھوں کی بیماری میں تیزی سے اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے منہ کی دیکھ بھال کے حوالے سے برطانیہ کا موازنہ تیسرے درجے کے ملک سے کرتے ہوئے کہا کہ پراسیس شدہ خوراک، نرم غذا اور موٹاپا لوگوں کو دانتوں کے مسائل کی طرف مائل کر رہے ہیں۔انگلینڈ کے اورل ہیلتھ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق 1998ء سے 2009ء کے درمیان واضح دانتوں کی خرابی کی شرح 46 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی تھی، تاہم اب یہ رجحان الٹ چکا ہے۔ 2023ء کے تازہ ترین سروے کے مطابق قدرتی دانت رکھنے والے 41 فیصد بالغ افراد میں نمایاں کیویٹیز یا دانتوں کی خرابی پائی گئی۔مزید یہ کہ تقریباً 93فیصد افراد میں مسوڑھوں کی بیماری کی کم از کم ایک علامت موجود تھی، جیسے سوزش، ٹارٹر (میل) کا جماؤ یا دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان خلا بن جانا۔پروفیسر کانترچی نے کہا کہ فوڈ ڈیلیوری سروسز کے بڑھتے ہوئے رجحان اور پراسیس شدہ غذاؤں کے زیادہ استعمال نے لوگوں کو قدرتی غذا اور گھر کے پکے کھانوں سے دور کر دیا ہے۔اس کا اثر لوگوں کے دانتوں اور منہ کی صحت پر پڑ رہا ہے۔ اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ بیماریاں زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہیں۔حل بالکل واضح ہے، ہمیں مجموعی جسمانی صحت کیلئے منہ کی صحت سے متعلق آگاہی کو بہتر بنانا ہوگا۔ یہ ماہرِ دندان سازی اور مسوڑھوں کے سرجن ان محققین کی ایک ٹاسک فورس کا بھی حصہ ہیں جو اس بات کا اندازہ لگانے پر کام کر رہی ہے کہ عوام کی منہ کی صحت بہتر بنانے سے معاشی اور سماجی سطح پر کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔