جب اردو ناولوں کو فلموں میں ڈھالا گیا

جب اردو ناولوں کو فلموں میں ڈھالا گیا

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


ایسی فلموں کی کامیابی کا تناسب 80فیصد رہا، اب یہ رجحان بھی ختم ہوا*****ہندوستان اور پاکستان میں اردو ناولوں پر بڑی شاندار فلمیں بنائی گئیں ۔یہ الگ بات کہ ہندوستان میں کم اور پاکستان میں زیادہ فلمیں بنائی گئیں ۔اردو کے دو ناول ایسے ہیں جن پر ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں فلمیں بنائی گئیں اور دونوں ممالک میں ان فلموں نے عدیم النظیر کامیابی حاصل کی۔رضیہ بٹ اور عصمت چغتائی دو ایسی خواتین ناول نگار تھیں ۔جن کے دو دو ناولوں کو فلم کے قالب میں ڈھالا گیا پہلے ہم رضیہ بٹ کے ناولوں پر بات کرتے ہیں۔ رضیہ بٹ پاکستان کی مشہور ترین خاتون ناول نویس تھیں۔ خواتین کی بہت بڑی تعداد ان کے ناول پڑھتی تھی اور آج بھی ان کے ریڈرز کی بڑی تعداد موجود ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے مداحین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ 1965ء میں ان کے ناول ’’نائلہ‘‘ پر فلم بنائی گئیں ، فلم کا نام بھی ’’نائلہ‘ ‘تھا۔ اس فلم کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ یہ پاکستان کی پہلی رنگین فلم تھیں۔اس فلم کے ہدایت کار شریف نیر تھے جبکہ موسیقی ماسٹر عنایت حسین نے ترتیب دی تھی۔یہ ایک نہایت خوبصورت رومانوی فلم تھی جس نے خاص طور پر خواتین کو بہت متاثر کیا۔ سنتوش کمار، درپن، شمیم آرا اور راگنی کی اداکاری کو بے حد پسند کیا گیا۔ قتیل شفائی اور حمایت علی شاعر کے نغمات زبان زدعام ہوئے ۔خاص طور پر یہ گیت بہت مقبول ہوئے۔’’ اب ٹھنڈی آہیں بھر پگلی، اور تڑپنا بھی ہمیں آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے۔‘‘اس فلم کی ریلیز کے بعد اس ناول کی شہرت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ غالباً چار یا پانچ برس بعد رضیہ بٹ کے ایک اور معروف ناول’’ صاعقہ ‘‘کو فلمی سکرین کی زینت بنایا گیا یہ فلم بھی باکس آفس پر بے حد کامیاب ہوئی۔ ’’نائلہ اور صاعقہ‘‘ دونوں فلموں میں شمیم آرا نے مرکزی کردار ادا کیا تھا اور یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔دونوں ناولوں میں ہیروئن ایک مظلوم لڑکی کے روپ میں قارئین کے سامنے آتی ہے جس طرح قارئین کی ہمدردیاں ناول کے مرکزی کردار کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ اسی طرح شمیم آرا نے فلم بینوں کی ہمدردیاں سمیٹیں۔’’صاعقہ‘‘ کی موسیقی بے مثل موسیقار نثار بزمی نے مرتب کی تھی اور اس فلم کے نغمات بھی بڑے مسحور کن تھے ۔یہ دو نغمات لاجواب تھے،’’ اک ستم اور میری جاں ابھی جاں باقی ہے، اور اے بہارو گواہ رہنا۔‘‘ شمیم آرا کے علاوہ اس فلم میں محمد علی نے بھی متاثر کن اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ رضیہ بٹ کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے مڈل اور اپر مڈل کلاس کی لڑکیوں کے مسائل کو بڑی خوبصورتی سے اپنے ناولوں میں اجاگر کیا۔ انانیت کے خول میں بند رہنے والے لوگ کس طرح پورے خاندان کے لیے عذاب بن جاتے ہیں انہوں نے اس تلخ حقیقت کو بھی اپنے موضوعات کا حصہ بنایا۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں یہی پیغام دیا کہ عورت کو بھی انسان سمجھا جائے اور اپنی بے جا ضد اور انا کی آڑ میں اس کے احساسات اور جذبات کا خون نہ کیا جائے ۔عصمت چغتائی کا شمار برصغیر کی ممتاز افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ افسانہ نگاری کے علاوہ انہوں نے کچھ ناول بھی تخلیق کئے جن میں’’ ضدی،سودائی اور ٹیڑھی لکیر ‘‘خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان میں’’ضدی اور سودائی‘‘ کو سلولائیڈ کے فیتے پر منتقل کیا گیا ۔’ضدی‘‘ کوئی ضخیم ناول نہیں، کچھ لوگ اسے ناولٹ کی حیثیت دیتے ہیں، اس ناول پر 1948ء میں فلم بنائی گئی اور فلم کا نام بھی یہی تھا۔ ناول کی طرح فلم ضدی، بھی عوام کی توجہ کا مرکز بنی، اس فلم میں کامنی کوشل اور دیو آنند نے مرکزی کردار ادا کئے۔کہا جاتا ہے کہ اس فلم کی ریلیز کے بعد اخبارات میں یہ اشتہار شائع ہوتا تھا کہ جن لوگوں نے ’ضدی ‘دیکھی ہے وہ یہ بتائیں کہ اس فلم میں سب سے زیادہ ضدی کون ہے……؟ناول میں یہی دکھایا گیا کہ فلم کے سبھی کردار ضدی ہیں ۔عصمت چغتائی بڑی بے باک ،دبنگ اور راست گو ادیبہ تھیں۔ انہوں نے اس ناول میں عورتوں کی نفسیات کے حوالے سے بھی بڑی جرات مندی سے یہ کہا کہ عورت کی ذات بڑی ڈھکوسلے باز ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کے ناول ’’سودائی‘‘ پر پاکستان میں ’’ضمیر ‘‘نامی فلم بنائی گئی یہ فلم 1978ء میں ریلیز ہوئی۔ اس میں محمد علی، دیبا، روحی بانو اور وحید مراد نے اہم کردار ادا کیے۔ ناول کا مرکزی خیال یہ تھاکہ کسی کو دیوتا نہیں بنانا چاہیے اور اگر کسی کو یہ درجہ دے دیا جائے تو یہ فیصلہ صادر نہ کریں کہ وہ دیوتا اپنی فطری خواہشات اور ضروریات کو بھی کچل ڈالے کیونکہ بہرحال وہ انسان ہے جو فطرت کے دائرے سے باہر نکل ہی نہیں سکتا۔اس فلم میں محمد علی اور روحی بانو کی اداکاری کو بہت سراہا گیا محمد علی نے بڑے بھیا کا کردار انتہائی عمدگی سے ادا کیا شاید انہیں خود بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس کردار کے لیے ان کا انتخاب کس قدر درست فیصلہ تھا ۔اس فلم کا ایک گیت بڑا ہٹ ہوا’’ ہم نہ ہوں گے تو ہمیں یاد کرے گی دنیا‘‘، اس فلم نے باکس آفس پر درمیانے درجے کا بزنس کیا۔1972ء میں حمیدہ جبیں کے مقبول ناول’’تمنا‘‘کو’’ محبت‘‘ کے نام سے فلمی سکرین پر منتقل کیا گیا۔اس فلم کے ہدایت کار ایس سلیمان تھے مرکزی کردار محمد علی ،زیبا، صبیحہ خانم اور سنتوش کمار نے ادا کیے تھے یہ ایک کامیاب فلم تھی ۔جس کی موسیقی نثار بزمی نے ترتیب دی تھی جبکہ نغمات قتیل شفائی نے لکھے تھے ۔اس فلم میں زیبا کی اداکاری کو بہت زیادہ پسند کیا گیا۔اس کے علاوہ نوخیز اداکارہ عندلیب نے بھی فلم بینوں کو متاثر کیا۔ عندلیب نے بعدازاں کچھ فلموں میں کام کیا لیکن پھر وہ نظر نہیں آئیں۔فلم’’محبت‘‘ کی موسیقی اعلیٰ درجے کی تھی۔یہ دو گیت تو بڑے ہی باکمال تھے ’’یہ محفل جو آج سجی ہے، اور بانورا من ایسے دھڑکا نہ تھا‘‘۔ اس کے علاوہ مہدی حسن کی آواز میں احمد فراز کی اس غزل نے تو فلم کو چار چاند لگا دیے’’ رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ۔‘‘حمیدہ جبیں کے دیگر دو ناولوں پر بھی فلمیں بنائی گئیں یہ دو فلمیں تھیں ’’پرائی آگ اور سہاگ‘‘۔ یہ معیاری فلمیں تھیں لیکن باکس آفس پر زیادہ کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ پریم چند کا شمار اردو کے بڑے ادیبوں میں ہوتا ہے وہ نہ صرف بہت عمدہ افسانہ نگار تھے بلکہ اعلیٰ درجے کے ناول نویس بھی تھے ان کے مشہور ترین ناولوں میں نرملا،بیوہ اور گئودان کے نام لئے جا سکتے ہیں۔1963ء میں بھارت میں ان کے ناول’’ گئودان‘‘ پر فلم بنائی گئی۔’’گئودان‘‘ کا شمار ہندوستان کے عظیم ترین ناولوں میں کیا جاتا ہے۔ اس فلم میں راج کمار محمود اورششی کلا نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ ہدایت کار ترلوک جیٹلی کی اس فلم کی موسیقی روی شنکر نے مرتب کی تھی ۔یہ ایک زبردست فلم تھی جو باکس آفس پر بھی کامیاب رہی۔گئودان، کے بارے میں اس امر کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ 2004ء میں اس ناول کو شاعر اور ہدایت کار گلزار نے ٹی وی سکرین کی زینت بنایا اور یہ ٹی وی سیریز 26قسطوں پر محیط تھی۔اب ہم ایک ایسے ناول کا تذکرہ کر رہے ہیں جس پر بھارت میں د و اور پاکستان میں ایک فلم بنائی گئی یہ شاہکار ناول ہے’’امرائو جان ادا‘‘۔ اسے اردو کے کلاسیکی ادیب مرزا رسوا نے تخلیق کیا تھا اس ناول کی اہمیت اور شہرت آج تک برقرار ہے یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ جن اداکارائوں نے’’ امرائو جان ادا‘‘ کا مشکل کردار ادا کیا انہیں بھی بہت شہرت ملی۔ ان اداکارائوں نے بڑی محنت اور جانفشانی سے اس کردار کو ادا کیا۔ ان کی توصیف نہ کرنا صریحاً ناانصافی ہو گی۔ سب سے پہلے 1973ء میں’’ امرائو جان ادا‘‘ بنائی گئی۔ حسن طارق کی ہدایت کاری بے مثال تھی۔ سیف الدین سیف کے انتہائی معیاری نغمات کو نثار بزمی نے اپنی دلکش دھنوں سے ایسا مزین کیا کہ شائقین فلم ہکا بکا رہ گئے۔مرکزی کردار رانی نے ادا کیا اور کیا خوب کیا ۔ فلم بینوں نے رانی پر دادو تحسین کے ڈونگرے برسائے۔ اس کے علاوہ شاہد، رنگیلا اور آغا طالش کی اداکاری کو بھی بے حد سراہا گیا۔اس کے علاوہ رونا لیلیٰ نے اپنی آواز کا وہ جادو جگایا کہ امرائو جان ادا کے نغمات ملک کے گلی کوچوں میں گونجنے لگے خاص طور پر ان کا گایا ہوا یہ گیت ’’کاٹے نہ کٹے رتیا‘‘،آج بھی سحر طاری کر دیتا ہے۔ فلم کا آخری نغمہ شائقین پر گہرا تاثر چھوڑتا ہے۔اسے میڈم نور جہاں نے اپنی لافانی آواز میں گایا تھا۔ اس گیت کی پکچرائزیشن بھی لاجواب تھی جس سے اس گیت کی تاثریت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اس گیت کے بول تھے’’ جو بچا تھا وہ لٹانے کے لیے آ گئے ہیں‘‘۔ اس فلم نے ناول کی طرح بے پناہ مقبولیت حاصل کی اور فلمساز کو دولت کی بارش میں نہلا دیا۔ اسے رانی کی زندگی کی بہترین فلم قرار دیا جا سکتا ہے۔ہندوستان میں 80ء کی دہائی میں ’’امرائو جان ادا‘‘کے نام سے فلم بنائی گئی۔ اس فلم نے بھی بہت کامیابی حاصل کی ۔ہدایت کار مظفر علی نے بلاشبہ اس فلم پر بہت محنت کی ۔ریکھا ،فاروق شیخ، نصیر الدین شاہ اور راج ببر نے بہت عمدہ اداکاری کی۔ خیام کا میوزک بھی لاجواب تھا اور انہوں نے آشا بھوسلے سے بڑی شاندار غزلیں گوائیں جو آج تک فلم بین بہت پسند کرتے ہیں۔ امرائو جان ادا کی کہانی دراصل فطرت اور حالات کی ستم ظریفی سے جنم لینے والا وہ فلسفہ ہے جسے سمجھنا ہم انسانوں کے لیے ضروری ہے اس فلم کا یہ گیت تو فلم بینوں کو اشک بار کر دیتا ہے’’ یہ کیا جگہ ہے دوستو! یہ کون سا دیار ہے۔‘‘ اگرچہ اس فلم میں ریکھا نے اعلیٰ پائے کی اداکاری کی لیکن ان کی رائے میں پاکستانی اداکارہ رانی نے ان سے زیادہ اچھی اداکاری کا مظاہرہ کیا۔اب آخر میں ہم اپنے قارئین کی توجہ اردو کے ایک اور اہم ناول کی طرف مبذول کرائیں گے ۔یہ ناول ہے’’ اک چادر میلی سی‘‘۔ اسے راجندر سنگھ بیدی نے تحریر کیا تھا۔راجندر سنگھ بیدی کی فنی عظمت سے کون انکار کر سکتا ہے وہ ایک باکمال افسانہ نگار اور شاندار ناول نویس تھے۔ جنہوں نے کئی فلموں کے سکرپٹ اورمکالمے لکھے۔سب سے پہلے پاکستان میں 1978ء میں اس ناول پر فلم بنائی گئی۔ جس کا نام تھا ’’مٹھی بھر چاول ‘‘اسے سنگیتا نے ڈائریکٹ کیا تھا اور انہوں نے اداکاری بھی غضب کی تھی۔ان کے علاوہ ندیم، غلام محی الدین ،کویتا، راحت کاظمی، شہلا گل اوررو مانہ نے بھی قابل تحسین اداکاری کا مظاہرہ کیا۔راجندر سنگھ بیدی نے اس بات پر بڑی مسرت کا اظہار کیا تھا کہ ان کے ناول پر پاکستان میں ایک معیاری فلم بنائی گئی ہے۔ باکس آفس پر اس فلم کا بزنس درمیانہ تھا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک شاندار فلم تھی۔غالباً 80ء کی دہائی کے آخر میں بھارت میں بھی اس ناول پر فلم بنائی گئی اور اس کا نام بھی ناول کے نام پر تھا، یعنی’’ اک چادر میلی سی‘‘ اس فلم میں رشی کپور، ہیما مالنی اور کلبشن نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔اس فلم کو بھی بے حد سراہا گیا اور باکس آفس پر بھی اس کا بزنس مناسب تھا۔اس بات پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ اب اردو ناولوں پر فلمیں بنانے کا رجحان ناپید ہو چکا ہے اب فلمسازوں کی ترجیحات مختلف ہیں کمرشل ازم اور جدید ٹیکنالوجی نے اگرچہ فلم بینوں کو بہت اعلیٰ تفریح فراہم کی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے بے رحم تازیانے نے پرانی اقدار کے بدن کو بری طرح گھائل کیا ہے اب اردو ناولوں پر کون فلمیں بنائے گا اور کیوں بنائے گا؟٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
سونے کا صحیح طریقہ کونسا؟

سونے کا صحیح طریقہ کونسا؟

اچھی نیند کا دارومدار سونے کے انداز پر ہےنیند ہماری صحت کیلئے ایک بنیادی ضرورت ہے، اور صرف یہ کہ ہم کتنی دیر سوتے ہیں اہم نہیں بلکہ سونے کا انداز بھی جسم اور دماغ پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ مختلف نیند کے انداز، جیسے پیٹ کے بل سونا، پشت کے بل سونا یا پہلو کے بل سونا کے اپنے منفرد فوائد اور ممکنہ خطرات ہوتے ہیں۔ بعض انداز ریڑھ کی ہڈی، گردے یا دل کی صحت کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ کچھ طریقے طویل مدت میں جسمانی مسائل یا شدید نقصان کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم مقبول نیند کے انداز اور ان کے طبی اثرات پر روشنی ڈالیں گے تاکہ قارئین اپنی نیند کے طریقے کو زیادہ صحت مند بنا سکیں۔ہم اپنی زندگی کا تقریباً ایک تہائی حصہ نیند میں گزارتے ہیں، مگر بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ہم کیسے سوتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈیبورا لی( Dr Deborah Lee) جو ڈاکٹر فاکس آن لائن فارمیسی سے وابستہ ہیں کے مطابق سونے کی پوزیشن ریڑھ کی ہڈی کی سیدھ، سانس لینے اور مجموعی نیند کے معیار میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اچھی نیند کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ کیلئے بہترین سونے کی پوزیشن تلاش کی جائے ، ایسی پوزیشن جس میں آپ کی ریڑھ کی ہڈی درست سیدھ میں ہو، سانس لینے کا راستہ کھلا رہے اور اعضاء کو حرکت کی آزادی حاصل ہو۔سونے کی پوزیشن جسم پر کیا اثر ڈالتی ہے اور کونسی پوزیشن نقصاندہ ہو سکتی ہے؟ ان کے بارے میں جانتے ہیں۔پہلو کے بل سوناپہلو کے بل سونا نیند کی سب سے عام کیفیت ہے،تقریباً 41 فیصد لوگ اس پوزیشن کو ترجیح دیتے ہیں۔ ڈاکٹر لی کے مطابق کروٹ لے کر، جسم کو سمیٹ کر سونا صحت کیلئے کئی فوائد رکھتا ہے۔ یہ خاص طور پر ان افراد کیلئے مفید ہے جنہیں ''سلیپ ایپنیا‘‘(sleep apnoea ) یا نیند کے دوران سانس کی بے ترتیبی کا مسئلہ ہو، کیونکہ پہلو کے بل لیٹنے سے ہوا کی نالی کھلی رہتی ہے۔کمر درد کے شکار افراد کیلئے بھی پہلو کے بل سونا فائدہ مند ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھا جائے تاکہ ریڑھ کی ہڈی مڑنے سے محفوظ رہے۔حاملہ خواتین کو بھی پہلو کے بل سونے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر لی کہتی ہیں کہ حمل کے دوران سیدھا چت لیٹنا مناسب نہیں، کیونکہ بڑھا ہوا رحم بڑی خون کی نالیوں کو دبا سکتا ہے اور خون کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔ بدہضمی یا تیزابیت کے مسئلے میں مبتلا افراد کیلئے وہ بتاتی ہیں کہ بائیں کروٹ سونا خاص طور پر مددگار ہو سکتا ہے، کیونکہ معدے کی ساخت اور اس کی جگہ ایسی ہوتی ہے۔پہلو کے بل سونے کی دیگر شکلیں بھی تقریباً وہی فوائد رکھتی ہیں۔ لاگ پوزیشن ، جس میں بازو جسم کے ساتھ سیدھے رکھے جاتے ہیں،کندھے، گردن یا بازوؤں کے درد میں مفید ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب اوپری بازو کے نیچے نرم تکیے کا سہارا دیا جائے۔ یرنر پوزیشن (yearner position) جس میں بازو سامنے کی طرف پھیلائے جاتے ہیں، کندھوں اور بازوؤں پر دباؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔چت لیٹ کر سوناچت لیٹ کر سونا نسبتاً کم عام ہے۔ تقریباً 8 فیصد افراد سولجر پوزیشن کو ترجیح دیتے ہیں، یعنی سیدھا چت لیٹنا اور بازو جسم کے ساتھ رکھنا جبکہ مزید 5 سے 7 فیصد لوگ اسٹارفِش پوزیشن اختیار کرتے ہیں، جس میں بازو اوپر کی طرف اور ٹانگیں پھیلی ہوتی ہیں۔ڈاکٹر لی کے مطابق چت لیٹ کر سونے کے بھی کچھ فوائد ہیں۔ اس پوزیشن میں ریڑھ کی ہڈی درست ترتیب میں رہتی ہے، اس لیے یہ کمر کے بعض اقسام کے درد اور اکڑن میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔یہ بند ناک یا سائنَس کی صفائی میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ اس اندازِ نیند سے چہرے پر جھریاں پڑنے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں، کیونکہ کششِ ثقل گالوں کو نیچے کی بجائے اطراف کی سمت کھینچتی ہے۔تاہم، وہ خبردار کرتی ہیں کہ خراٹوں اور نیند کے دوران سانس کی بے ترتیبی کیلئے یہ سب سے بدترین پوزیشن ہے۔پیٹ کے بل سوناتقریباً 7 فیصد افراد پیٹ کے بل سوتے ہیں، عموماً فری فال پوزیشن میں،جس میں سر ایک طرف گھمایا ہوا ہوتا ہے اور بازو تکیے کے گرد لپٹے ہوتے ہیں۔ڈاکٹر لی کے مطابق، یہ پوزیشن خراٹوں میں کمی کر سکتی ہے، کیونکہ سر کو ایک طرف موڑنے سے ہوا کی نالی کھل جاتی ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ سونے کا تجویز کردہ انداز نہیں ہے۔وہ پیٹ کے بل سونے کو ریڑھ کی ہڈی کی صحت کیلئے بدترین پوزیشن قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق، اس انداز میں ریڑھ کی ہڈی غیر فطری طور پر پیچھے کی طرف کھنچتی ہے، جس سے پٹھے اور رباط حد سے زیادہ تن جاتے ہیں اور کمر کے درد میں اضافہ ہوتا ہے۔

کائٹ سرفنگ کے معمر ترین کھلاڑی

کائٹ سرفنگ کے معمر ترین کھلاڑی

عمر کو اکثر کمزوری اور سست روی کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر کچھ لوگ اپنی جرات اور حوصلے سے اس تصور کو بدل دیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک پردادا نے سمندر کی لہروں سے ٹکرا کر کائٹ سرفنگ کے میدان میں نئی تاریخ رقم کر دی اور دنیا کے معمر ترین کائٹ سرفر بن گئے۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف کھیلوں کی دنیا میں ایک منفرد سنگ میل ہے بلکہ اس بات کا واضح پیغام بھی ہے کہ شوق، جذبہ اور حوصلہ عمر کے محتاج نہیں ہوتے۔ یہ واقعہ بزرگ افراد کیلئے نئی امید اور نوجوان نسل کیلئے حوصلہ افزا مثال بن کر سامنے آیا ہے۔یہ غیر معمولی کارنامہ انجام دینے والے بزرگ کی زندگی عام لوگوں کیلئے ایک روشن مثال ہے۔ کئی دہائیوں پر محیط زندگی گزارنے کے بعد، جب بیشتر لوگ آرام، تنہائی اور محدود معمولات کو اپنا لیتے ہیں، اس پردادا نے سمندر کی بے رحم لہروں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کائٹ سرفنگ ایک ایسا کھیل ہے جس کیلئے جسمانی توازن، تیز ردِعمل، مضبوط اعصاب اور ذہنی یکسوئی درکار ہوتی ہے۔ نوجوانوں کیلئے بھی یہ کھیل آسان نہیں، مگر اس بزرگ نے نہ صرف اسے اپنایا بلکہ عالمی سطح پر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔کائٹ سرفنگ دراصل ایک جدید آبی کھیل ہے جس میں کھلاڑی ایک بڑی کائٹ (پتنگ نما کپڑا) کی مدد سے ہوا کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے بورڈ پر کھڑا ہو کر پانی کی سطح پر سفر کرتا ہے۔ تیز ہوا، بلند لہریں اور بدلتے موسم اس کھیل کو مزید چیلنجنگ بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں ایک معمر شخص کا اس کھیل میں حصہ لینا ہی حیرت کی بات ہے، اور پھر اسے کامیابی سے انجام دے کر ریکارڈ قائم کرنا غیر معمولی حوصلے کی عکاسی کرتا ہے۔2006ء میں ڈومینیکن ریپبلک کے شہر کاباریٹے کے سفر کے دوران رِک بریکنز (Rick Brackins) جن کا تعلق امریکہ سے ہے نے ساحل پر لوگوں کو کائٹ سرفنگ کرتے دیکھا اور خود بھی اسے آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اور وہ 87 برس کی عمر میں آج بھی یہ کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال اگست میں رِک کو باضابطہ طور پر کائٹ سرفنگ کرنے والے دنیا کے معمر ترین مرد کا اعزاز دیا گیا، جب ان کی عمر 87 سال اور 20 دن تھی۔ یہ پردادا آج بھی سمندر کی لہروں میں اترنے سے نہیں رکتے اور ان کا حوصلہ کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتا۔رِک، جو ماضی میں کمرشل رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے وابستہ رہے اور اب ٹیمپا، فلوریڈا میں ایک بار اور ریسٹورنٹ کے مالک ہیں، کائٹ سرفنگ سے بے حد محبت کرتے ہیں کیونکہ یہ خود کو فِٹ رکھنے کا ایک خوشگوار طریقہ ہے۔ یہ شوق وہ اپنے خاندان کے ساتھ بھی بانٹتے ہیں۔ وہ اکثر اپنے بیٹے کینیٹھ اور پوتی کنلے کے ساتھ کائٹ سرفنگ کیلئے جاتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جذبہ نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ ان کے علم کے مطابق دنیا میں کوئی اور ایسا خاندان نہیں جس کی تین نسلیں ایک ساتھ سمندر میں کائٹ سرفنگ کرتی رہی ہوں۔ ان کے بیٹے کینیٹھ کا کہنا ہے کہ لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ ان کے والد اب بھی کائٹ بورڈنگ کر رہے ہیں۔ ساحل پر موجود بہت سے افراد جب انہیں کائٹ سرفنگ کرتے دیکھتے ہیں تو وہ بھی اس کھیل کی تربیت لینے کا سوچتے ہیں، حالانکہ عام طور پر وہ خود کو عمر کے باعث اس کیلئے بہت بڑا سمجھتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ رِک نے واضح طور پر ثابت کر دیا ہے کہ ایسی کوئی حد موجود نہیں۔ رِک کے تین بچے، چار پوتے پوتیاں اور چار پڑپوتے پڑپوتیاں ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک شوقیہ غوطہ خور (ڈائیور) اور اسپیئر فِشنگ کے بھی دلدادہ ہیں۔اس پردادا کی کہانی محض ایک کھیل یا ریکارڈ تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانی ارادے کی طاقت کا مظہر ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی نشیب و فراز دیکھے، اس کے باوجود زندگی سے محبت اور نئے تجربات کا شوق کبھی ختم نہیں ہونے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان اگر خود کو زندہ محسوس کرنا چاہے تو اسے نئے چیلنجز قبول کرنے چاہئیں، چاہے عمر کوئی بھی ہو۔یہ واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ زندگی کا حسن مسلسل سیکھنے اور آگے بڑھنے میں ہے۔ چاہے عمر کے کتنے ہی سال کیوں نہ گزر جائیں، اگر انسان میں کچھ نیا کرنے کا جذبہ زندہ ہو تو وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔ کائٹ سرفنگ کرنے والے اس معمر پردادا نے نہ صرف ایک ریکارڈ قائم کیا بلکہ سوچ کے دروازے بھی کھول دیے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کہانی صرف ایک کھیل یا ریکارڈ کی نہیں، بلکہ انسان کے اندر چھپی بے پناہ صلاحیت کی داستان ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ اگر حوصلہ زندہ ہو، ارادہ مضبوط ہو اور دل میں جذبہ موجزن ہو تو انسان کسی بھی مرحلے پر تاریخ رقم کر سکتا ہے۔ پردادا کی یہ جرات مندانہ کامیابی آنے والی نسلوں کیلئے ایک روشن مثال اور ہمیشہ یاد رکھی جانے والی داستان بن چکی ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!عبدالرحمن چغتائی پاکستان کے ممتاز مصور  (1975-1897)

آج تم یاد بے حساب آئے!عبدالرحمن چغتائی پاکستان کے ممتاز مصور (1975-1897)

٭...21 ستمبر 1897ء کو لاہور میں پیدا ہوئے ،ان کا تعلق شاہجہاں کے دور کے مشہور معمار خاندان سے تھا۔٭...1914ء میں میو اسکول آف آرٹس لاہور سے امتحان پاس کرنے کے بعد انھوں نے استاد میراں بخش سے فنِ مصوری میں استفادہ کیا۔٭...1919ء میں لاہور میں ہندوستانی مصوری کی ایک نمائش منعقد ہوئی جس نے انہیں باقاعدہ اپنا فنی سفر شروع کیا۔٭... کلکتہ کے رسالے ''ماڈرن ریویو‘‘ میں ان کی بھیجی گئی تصاویر شائع ہوئیں اور چغتائی صاحب کا فن شائقین اور ناقدین کے سامنے آیا تو ہر طرف ان کی دھوم مچ گئی۔٭...1928ء میں ''مرقعِ چغتائی‘‘ شائع ہوا جس میں عبدالرّحمٰن چغتائی نے غالب کے کلام کی مصوری میں تشریح کی تھی۔ یہ اردو میں اپنے طرز کی پہلی کتاب تھی جس کی خوب پذیرائی ہوئی۔٭...1935ء میں غالب کے کلام پر مبنی ان کی دوسری کتاب ''نقشِ چغتائی‘‘ شائع ہوئی۔ یہ کتاب بھی بے حد مقبول ہوئی۔٭... ہندوستان اور ہندوستان سے باہر عبدالرّحمٰن چغتائی کے فن پاروں کی متعدد نمائشیں منعقد ہوئیں اور وہ صاحبِ اسلوب آرٹسٹ کے طور پر پہچان بناتے چلے گئے۔٭...قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان کے ابتدائی چار ڈاک ٹکٹوں میں سے ایک ڈاک ٹکٹ ڈیزائن کیا۔٭... ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے مونوگرام بھی انہی کے تیار کردہ ہیں۔٭...مصوری کے ساتھ افسانہ نگاری بھی کی، ان کے افسانوں کے دو مجموعے ''لگان‘‘ اور'' کاجل‘‘ شائع ہوئے۔٭...انہوں نے مغل دور اور پنجاب کو اپنے فن پاروں میں پیش کیا۔٭... ان کی بنائی ہوئی تصویریں دنیا کی مختلف آرٹ گیلریوں میں سجائی گئیں۔٭... 1960ء میں حکومت پاکستا ن کی جانب سے ''ہلالِ امتیاز‘‘، 1964ء میں مغربی جرمنی میں ''طلائی تمغے‘‘ سے نوازا گیا۔٭...17 جنوری 1975ء کو پاکستان کے ممتاز مصور عبدالرحمن چغتائی وفات پا گئے۔

آج کا دن

آج کا دن

سلامتی کونسل کا پہلا اجلاس سلامتی کونسل اقوام متحدہ (UN) کے چھ اہم اداروں میں سے ایک ہے۔ اس کی ذمہ داریوں میں بین الاقوامی امن اور سلامتی کو یقینی بنانا، اقوام متحدہ کے چارٹر میں کسی بھی تبدیلی کی منظوری دینا، امن کی کارروائیاں کرنا، بین الاقوامی پابندیاں لگانا اور فوجی کارروائی کو اختیار دینا شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی طرح سلامتی کونسل دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی امن کو برقرار رکھنے کیلئے بنائی گئی تھی۔ اس نے اپنا پہلا اجلاس 17 جنوری 1946ء کو منعقد کیاتھا۔ ''کنگ آف باکسنگ‘‘ محمد علی عالمی شہرت یافتہ امریکی باکسر محمد علی 17 جنوری 1942ء کو ایک امریکی مسیحی گھرانے میں پیدا ہوئے اور ان کا نام کاسیئس کلے تھا، انہوں نے 70ء کی دہائی میں اسلام قبول کیا۔ 1974ء میں جارج فورمین کو ہرا کر 32سال کی عمر میں باکسنگ کا عالمی ٹائٹل اپنے نام کیا۔کریئر میں 61 فائٹس لڑیں، 56 میں فتح کا جھنڈا گاڑا جبکہ 5 میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیجنڈ باکسر نے 37 بار حریف باکسرز کو ناک آؤٹ کیا۔ ورلڈ باکسنگ کونسل کی جانب سے ''کنگ آف باکسنگ‘‘ کا خطاب دیا گیا۔3 جون 2016ء کو انتقال ہوا۔ ساریکمیش کی جنگ ساریکمیش کی جنگ پہلی عالمی جنگ کے دوران روس اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان لڑی جانے والی اہم لڑائی تھی ۔یہ جنگ 22 دسمبر 1914ء سے 17 جنوری 1915ء تک جاری رہی۔اس جنگ میں روس نے فتح حاصل کی۔ عثمانی فوجیں جو موسم سرما کے حالات کیلئے تیار نہیں تھیں، انہیں پہاڑی علاقوں میں شدید جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑاجہاں سلطنت عثمانیہ کے 25ہزار فوجی جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلے گئے۔

14 جنوری ورلڈ لاجک ڈے:عقل،دلیل اور سچ کی عالمی ضرورت

14 جنوری ورلڈ لاجک ڈے:عقل،دلیل اور سچ کی عالمی ضرورت

ہر سال 14 جنوری کو دنیا بھر میں ورلڈ لاجک ڈے (World Logic Day) منایا جاتا ہے، جسے یونیسکو نے باقاعدہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد منطق (Logic)، تنقیدی سوچ (Critical Thinking) اور معقول استدلال کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے تاکہ افراد اور معاشرے جذبات، تعصبات اور غلط معلومات کے بجائے عقل و دلیل کی بنیاد پر فیصلے کر سکیں۔ آج کے پیچیدہ اور تیز رفتار دور میں جہاں معلومات کی بھرمار ہے مگر سچ تک رسائی مشکل ہو چکی ہے ورلڈ لاجک ڈے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔منطق کیا ہے؟منطق دراصل سوچنے کا وہ منظم طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم دلائل کو پرکھتے ہیں، نتائج اخذ کرتے ہیں اور سچ اور جھوٹ میں فرق کرتے ہیں۔ یہ صرف فلسفے تک محدود نہیں بلکہ سائنس، ریاضی، قانون، صحافت، ٹیکنالوجی، سیاست اور روزمرہ زندگی کے فیصلوں میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ منطقی ذہن جذبات سے بالاتر ہو کر حقائق کو دیکھتا ہے اور ثبوت کی بنیاد پر رائے قائم کرتا ہے۔ورلڈ لاجک ڈے کا پس منظرنومبر 2019ء میں یونیسکو نے بین الاقوامی کونسل برائے فلسفہ اور انسانی علوم (CIPSH) کے اشتراک سے ہر سال 14 جنوری کوورلڈ لاجک ڈے منانے کا اعلان کیا۔ اس دن کو منانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ جدید دنیا میں عقلی مکالمہ کمزور پڑتا جا رہا ہے‘ سوشل میڈیا، افواہوں اور سازشی نظریات اور جذباتی بیانیوں نے منطق کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ ورلڈ لاجک ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی ترقی کا انحصار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ سوچ کے معیار پر بھی ہے۔ یہ دن فلسفی کرٹ گوڈل(Kurt Gödel) کی سالگرہ کے قریب بھی آتا ہے، جو منطق اور ریاضی کے عظیم مفکر مانے جاتے ہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی میں منطقسائنس کی بنیاد ہی منطق پر ہے۔ تجربہ، مشاہدہ اور نتیجہ یہ سب منطقی ترتیب کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی طرح کمپیوٹر سائنس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور پروگرامنگ میں لاجک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر منطق نہ ہو تو جدید ٹیکنالوجی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ورلڈ لاجک ڈے اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سائنسی ترقی عقل و دلیل کی مرہونِ منت ہے۔تعلیمی نظام میں منطق کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں رٹاسسٹم کو ترجیح دی جاتی ہے جس میں سوال اٹھانے، دلیل دینے اور تجزیہ کرنے پر کوئی توجہ نہیں۔ منطقی تعلیم طلبہ کو نہ صرف بہتر طالب علم بناتی ہے بلکہ ذمہ دار شہری بھی تیار کرتی ہے۔ ایسے افراد فیصلے کرتے وقت جذبات کے بجائے حقائق کو ترجیح دیتے ہیں اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھتے ہیں۔میڈیا، سیاست اور منطقمیڈیا اور سیاست میں منطقی سوچ کی کمی کے نتائج ہم روز دیکھتے ہیں۔ سنسنی خیزی، نیم سچائیاں اور جذباتی نعروں نے عوامی مکالمے کو نقصان پہنچایا ہے۔ منطقی صحافت وہ ہے جو خبر کو سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرے اور سوال اٹھائے ۔ اسی طرح سیاست میں منطق پر مبنی مباحث جمہوریت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔غلط معلومات کیخلاف ڈھالآج کا سب سے بڑا چیلنج غلط معلومات اور جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ ہے، جبکہ ایک منطقی ذہن ہر خبر کو فوراً قبول نہیں کرتا بلکہ اس کے ماخذ، شواہد اور مقصد کو پرکھتا ہے۔ ورلڈ لاجک ڈے اس شعور کو فروغ دیتا ہے کہ ہر وائرل ہونے والی بات سچ نہیں ہوتی، اور سچ تک پہنچنے کے لیے سوال کرنا ضروری ہے۔معاشرتی ہم آہنگی اور برداشتمنطق صرف سوچنے کا طریقہ نہیں بلکہ برداشت سکھانے کا ذریعہ بھی ہے۔ جب لوگ دلیل سننے اور دینے کے عادی ہوں تو اختلاف دشمنی میں نہیں بدلتا۔ منطقی مکالمہ معاشرے میں رواداری، برداشت اور امن کو فروغ دیتا ہے۔ مختلف نظریات کے باوجود ایک دوسرے کو سننا اور سمجھنا ہی مہذب معاشرے کی علامت ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ورلڈ لاجک ڈے کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ یہاں جذباتی بیانیے، تعصبات اور افواہیں اکثر عقل پر غالب آ جاتی ہیں۔ اگر تعلیمی اداروں، میڈیا اور پالیسی سازی میں منطقی سوچ کو فروغ دیا جائے تو معاشرتی مسائل، انتہاپسندی اور عدم برداشت میں واضح کمی آ سکتی ہے۔ورلڈ لاجک ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ترقی کا راستہ صرف جذبات یا طاقت سے نہیں بلکہ عقل، دلیل اور سچائی سے ہو کر گزرتا ہے۔ منطقی معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں سوال کرنا جرم نہیں بلکہ حق سمجھا جاتا ہے، جہاں اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے اور فیصلے ثبوت کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ آج کے الجھن سے بھرے دور میں منطق ہی وہ روشنی ہے جو ہمیں سچ کی طرف لے جا سکتی ہے۔14 جنوری کو منایا جانے والا ورلڈ لاجک ڈے دراصل ایک دن نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک رویہ اور ایک عالمی ضرورت کی یاد دہانی ہے۔

پریزرویٹو:کینسر اور ذیابیطس کے خدشات

پریزرویٹو:کینسر اور ذیابیطس کے خدشات

بازاروں میں دستیاب زیادہ تر پیک شدہ اور تیار شدہ غذاؤں میں مختلف کیمیائی مادے(پریزرویٹو) شامل ہوتے ہیں جن کا بنیادی مقصد خوراک کو خراب ہونے سے بچانا، شیلف لائف بڑھانا اور ذائقے اور رنگ کو برقرار رکھنا ہوتا ہے مگر حالیہ سائنسی تحقیقات نے پریزرویٹوز کے بارے میں سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔فرانس میں ہونے والی دو بڑی تحقیقات، جو عالمی شہرت یافتہ سائنسی جرائد بی ایم جے (BMJ) اور نیچر کمیونیکیشنز (Nature Communications) میں شائع ہوئیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خوراک میں استعمال ہونے والے بعض عام پریزرویٹو کینسر اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔یہ مطالعات ایک جاری تحقیقی منصوبے کا حصہ ہیں جس میں ایک لاکھ سے زائد فرانسیسی شہریوں نے شرکت کی۔ شرکا سے طویل عرصے تک ان کی روزمرہ خوراک، مشروبات اور طرزِ زندگی سے متعلق تفصیلات حاصل کی جاتی رہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر ماہرین نے مختلف پریزرویٹوز اور بیماریوں کے درمیان ممکنہ تعلقات کا تجزیہ کیا۔پراسیسڈ گوشت میں چھپا خطرہتحقیق کے مطابق سوڈیم نائٹرائٹ اور نائٹریٹس،جو عام طور پر ساسیجز اور دیگر پراسیس شدہ گوشت میں پریزرویٹو کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ، مختلف اقسام کے کینسر سے منسلک پائے گئے ہیں۔ ان میں مجموعی کینسر کے ساتھ ساتھ چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر بھی شامل ہیں۔سب سے مضبوط تعلق سوڈیم نائٹرائٹ اور پروسٹیٹ کینسر کے درمیان دیکھا گیا جس میں خطرے میں تقریباً ایک تہائی اضافہ سامنے آیا۔ تاہم محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ اضافہ اب بھی محدود نوعیت کا ہے۔ خاص طور پر جب اس کا موازنہ تمباکو نوشی جیسے عوامل سے کیا جائے جو کینسر کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔دوسری تحقیق میں خوراک کے پریزرویٹوز اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے درمیان تعلق واضح ہوتا ہے۔ اس میں پوٹاشیم سوربیٹ کا جائزہ لیا گیا ہے جو خوراک اور مشروبات میں پھپھوندی اور بیکٹیریا کی افزائش روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق اس پریزرویٹو کے زیادہ استعمال سے ذیابیطس کے خطرے میں دو گنا تک اضافہ دیکھا گیا۔ان تحقیقات کی نگرانی کرنے والی فرانسیسی ماہر ِ وبائیات کے مطابق ان نتائج کا یہ مطلب نہیں کہ پریزرویٹو والی خوراک کھاتے ہی کوئی شخص بیماری میں مبتلا ہو جائے گا۔اصل مسئلہ فوری نقصان نہیں بلکہ طویل مدت میں ان مادوں کی زیادہ مقدار سے پیدا ہونے والے خطرات ہیں۔انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ کم سے کم پراسیس شدہ خوراک کو ترجیح دی جائے۔کنگز کالج لندن کے غذائی ماہر ٹام سینڈرز نے تجویز دی کہ نائٹریٹس اور نائٹرائٹس والی غذاؤں پر صحت سے متعلق انتباہی لیبل لگانے پر غور کیا جا نا چاہیے ۔ آگاہی اور توازنیہ تحقیقات خوف پیدا کرنے کے بجائے شعور اجاگر کرتی ہیں۔ جدید دور میں پریزرویٹو سے مکمل اجتناب شاید ممکن نہ ہو مگر ان کا بے جا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔تازہ اور قدرتی غذا، سبزیوں اور پھلوں کا زیادہ استعمال اور انتہائی پراسیس شدہ خوراک سے پرہیز وہ اقدامات ہیں جو نہ صرف کینسر اور ذیابیطس بلکہ کئی دیگر بیماریوں کے خطرات کو بھی کم کر سکتے ہیں۔