جب اردو ناولوں کو فلموں میں ڈھالا گیا

جب اردو ناولوں کو فلموں میں ڈھالا گیا

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


ایسی فلموں کی کامیابی کا تناسب 80فیصد رہا، اب یہ رجحان بھی ختم ہوا*****ہندوستان اور پاکستان میں اردو ناولوں پر بڑی شاندار فلمیں بنائی گئیں ۔یہ الگ بات کہ ہندوستان میں کم اور پاکستان میں زیادہ فلمیں بنائی گئیں ۔اردو کے دو ناول ایسے ہیں جن پر ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں فلمیں بنائی گئیں اور دونوں ممالک میں ان فلموں نے عدیم النظیر کامیابی حاصل کی۔رضیہ بٹ اور عصمت چغتائی دو ایسی خواتین ناول نگار تھیں ۔جن کے دو دو ناولوں کو فلم کے قالب میں ڈھالا گیا پہلے ہم رضیہ بٹ کے ناولوں پر بات کرتے ہیں۔ رضیہ بٹ پاکستان کی مشہور ترین خاتون ناول نویس تھیں۔ خواتین کی بہت بڑی تعداد ان کے ناول پڑھتی تھی اور آج بھی ان کے ریڈرز کی بڑی تعداد موجود ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے مداحین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ 1965ء میں ان کے ناول ’’نائلہ‘‘ پر فلم بنائی گئیں ، فلم کا نام بھی ’’نائلہ‘ ‘تھا۔ اس فلم کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ یہ پاکستان کی پہلی رنگین فلم تھیں۔اس فلم کے ہدایت کار شریف نیر تھے جبکہ موسیقی ماسٹر عنایت حسین نے ترتیب دی تھی۔یہ ایک نہایت خوبصورت رومانوی فلم تھی جس نے خاص طور پر خواتین کو بہت متاثر کیا۔ سنتوش کمار، درپن، شمیم آرا اور راگنی کی اداکاری کو بے حد پسند کیا گیا۔ قتیل شفائی اور حمایت علی شاعر کے نغمات زبان زدعام ہوئے ۔خاص طور پر یہ گیت بہت مقبول ہوئے۔’’ اب ٹھنڈی آہیں بھر پگلی، اور تڑپنا بھی ہمیں آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے۔‘‘اس فلم کی ریلیز کے بعد اس ناول کی شہرت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ غالباً چار یا پانچ برس بعد رضیہ بٹ کے ایک اور معروف ناول’’ صاعقہ ‘‘کو فلمی سکرین کی زینت بنایا گیا یہ فلم بھی باکس آفس پر بے حد کامیاب ہوئی۔ ’’نائلہ اور صاعقہ‘‘ دونوں فلموں میں شمیم آرا نے مرکزی کردار ادا کیا تھا اور یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔دونوں ناولوں میں ہیروئن ایک مظلوم لڑکی کے روپ میں قارئین کے سامنے آتی ہے جس طرح قارئین کی ہمدردیاں ناول کے مرکزی کردار کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ اسی طرح شمیم آرا نے فلم بینوں کی ہمدردیاں سمیٹیں۔’’صاعقہ‘‘ کی موسیقی بے مثل موسیقار نثار بزمی نے مرتب کی تھی اور اس فلم کے نغمات بھی بڑے مسحور کن تھے ۔یہ دو نغمات لاجواب تھے،’’ اک ستم اور میری جاں ابھی جاں باقی ہے، اور اے بہارو گواہ رہنا۔‘‘ شمیم آرا کے علاوہ اس فلم میں محمد علی نے بھی متاثر کن اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ رضیہ بٹ کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے مڈل اور اپر مڈل کلاس کی لڑکیوں کے مسائل کو بڑی خوبصورتی سے اپنے ناولوں میں اجاگر کیا۔ انانیت کے خول میں بند رہنے والے لوگ کس طرح پورے خاندان کے لیے عذاب بن جاتے ہیں انہوں نے اس تلخ حقیقت کو بھی اپنے موضوعات کا حصہ بنایا۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں یہی پیغام دیا کہ عورت کو بھی انسان سمجھا جائے اور اپنی بے جا ضد اور انا کی آڑ میں اس کے احساسات اور جذبات کا خون نہ کیا جائے ۔عصمت چغتائی کا شمار برصغیر کی ممتاز افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ افسانہ نگاری کے علاوہ انہوں نے کچھ ناول بھی تخلیق کئے جن میں’’ ضدی،سودائی اور ٹیڑھی لکیر ‘‘خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان میں’’ضدی اور سودائی‘‘ کو سلولائیڈ کے فیتے پر منتقل کیا گیا ۔’ضدی‘‘ کوئی ضخیم ناول نہیں، کچھ لوگ اسے ناولٹ کی حیثیت دیتے ہیں، اس ناول پر 1948ء میں فلم بنائی گئی اور فلم کا نام بھی یہی تھا۔ ناول کی طرح فلم ضدی، بھی عوام کی توجہ کا مرکز بنی، اس فلم میں کامنی کوشل اور دیو آنند نے مرکزی کردار ادا کئے۔کہا جاتا ہے کہ اس فلم کی ریلیز کے بعد اخبارات میں یہ اشتہار شائع ہوتا تھا کہ جن لوگوں نے ’ضدی ‘دیکھی ہے وہ یہ بتائیں کہ اس فلم میں سب سے زیادہ ضدی کون ہے……؟ناول میں یہی دکھایا گیا کہ فلم کے سبھی کردار ضدی ہیں ۔عصمت چغتائی بڑی بے باک ،دبنگ اور راست گو ادیبہ تھیں۔ انہوں نے اس ناول میں عورتوں کی نفسیات کے حوالے سے بھی بڑی جرات مندی سے یہ کہا کہ عورت کی ذات بڑی ڈھکوسلے باز ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کے ناول ’’سودائی‘‘ پر پاکستان میں ’’ضمیر ‘‘نامی فلم بنائی گئی یہ فلم 1978ء میں ریلیز ہوئی۔ اس میں محمد علی، دیبا، روحی بانو اور وحید مراد نے اہم کردار ادا کیے۔ ناول کا مرکزی خیال یہ تھاکہ کسی کو دیوتا نہیں بنانا چاہیے اور اگر کسی کو یہ درجہ دے دیا جائے تو یہ فیصلہ صادر نہ کریں کہ وہ دیوتا اپنی فطری خواہشات اور ضروریات کو بھی کچل ڈالے کیونکہ بہرحال وہ انسان ہے جو فطرت کے دائرے سے باہر نکل ہی نہیں سکتا۔اس فلم میں محمد علی اور روحی بانو کی اداکاری کو بہت سراہا گیا محمد علی نے بڑے بھیا کا کردار انتہائی عمدگی سے ادا کیا شاید انہیں خود بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس کردار کے لیے ان کا انتخاب کس قدر درست فیصلہ تھا ۔اس فلم کا ایک گیت بڑا ہٹ ہوا’’ ہم نہ ہوں گے تو ہمیں یاد کرے گی دنیا‘‘، اس فلم نے باکس آفس پر درمیانے درجے کا بزنس کیا۔1972ء میں حمیدہ جبیں کے مقبول ناول’’تمنا‘‘کو’’ محبت‘‘ کے نام سے فلمی سکرین پر منتقل کیا گیا۔اس فلم کے ہدایت کار ایس سلیمان تھے مرکزی کردار محمد علی ،زیبا، صبیحہ خانم اور سنتوش کمار نے ادا کیے تھے یہ ایک کامیاب فلم تھی ۔جس کی موسیقی نثار بزمی نے ترتیب دی تھی جبکہ نغمات قتیل شفائی نے لکھے تھے ۔اس فلم میں زیبا کی اداکاری کو بہت زیادہ پسند کیا گیا۔اس کے علاوہ نوخیز اداکارہ عندلیب نے بھی فلم بینوں کو متاثر کیا۔ عندلیب نے بعدازاں کچھ فلموں میں کام کیا لیکن پھر وہ نظر نہیں آئیں۔فلم’’محبت‘‘ کی موسیقی اعلیٰ درجے کی تھی۔یہ دو گیت تو بڑے ہی باکمال تھے ’’یہ محفل جو آج سجی ہے، اور بانورا من ایسے دھڑکا نہ تھا‘‘۔ اس کے علاوہ مہدی حسن کی آواز میں احمد فراز کی اس غزل نے تو فلم کو چار چاند لگا دیے’’ رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ۔‘‘حمیدہ جبیں کے دیگر دو ناولوں پر بھی فلمیں بنائی گئیں یہ دو فلمیں تھیں ’’پرائی آگ اور سہاگ‘‘۔ یہ معیاری فلمیں تھیں لیکن باکس آفس پر زیادہ کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ پریم چند کا شمار اردو کے بڑے ادیبوں میں ہوتا ہے وہ نہ صرف بہت عمدہ افسانہ نگار تھے بلکہ اعلیٰ درجے کے ناول نویس بھی تھے ان کے مشہور ترین ناولوں میں نرملا،بیوہ اور گئودان کے نام لئے جا سکتے ہیں۔1963ء میں بھارت میں ان کے ناول’’ گئودان‘‘ پر فلم بنائی گئی۔’’گئودان‘‘ کا شمار ہندوستان کے عظیم ترین ناولوں میں کیا جاتا ہے۔ اس فلم میں راج کمار محمود اورششی کلا نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ ہدایت کار ترلوک جیٹلی کی اس فلم کی موسیقی روی شنکر نے مرتب کی تھی ۔یہ ایک زبردست فلم تھی جو باکس آفس پر بھی کامیاب رہی۔گئودان، کے بارے میں اس امر کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ 2004ء میں اس ناول کو شاعر اور ہدایت کار گلزار نے ٹی وی سکرین کی زینت بنایا اور یہ ٹی وی سیریز 26قسطوں پر محیط تھی۔اب ہم ایک ایسے ناول کا تذکرہ کر رہے ہیں جس پر بھارت میں د و اور پاکستان میں ایک فلم بنائی گئی یہ شاہکار ناول ہے’’امرائو جان ادا‘‘۔ اسے اردو کے کلاسیکی ادیب مرزا رسوا نے تخلیق کیا تھا اس ناول کی اہمیت اور شہرت آج تک برقرار ہے یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ جن اداکارائوں نے’’ امرائو جان ادا‘‘ کا مشکل کردار ادا کیا انہیں بھی بہت شہرت ملی۔ ان اداکارائوں نے بڑی محنت اور جانفشانی سے اس کردار کو ادا کیا۔ ان کی توصیف نہ کرنا صریحاً ناانصافی ہو گی۔ سب سے پہلے 1973ء میں’’ امرائو جان ادا‘‘ بنائی گئی۔ حسن طارق کی ہدایت کاری بے مثال تھی۔ سیف الدین سیف کے انتہائی معیاری نغمات کو نثار بزمی نے اپنی دلکش دھنوں سے ایسا مزین کیا کہ شائقین فلم ہکا بکا رہ گئے۔مرکزی کردار رانی نے ادا کیا اور کیا خوب کیا ۔ فلم بینوں نے رانی پر دادو تحسین کے ڈونگرے برسائے۔ اس کے علاوہ شاہد، رنگیلا اور آغا طالش کی اداکاری کو بھی بے حد سراہا گیا۔اس کے علاوہ رونا لیلیٰ نے اپنی آواز کا وہ جادو جگایا کہ امرائو جان ادا کے نغمات ملک کے گلی کوچوں میں گونجنے لگے خاص طور پر ان کا گایا ہوا یہ گیت ’’کاٹے نہ کٹے رتیا‘‘،آج بھی سحر طاری کر دیتا ہے۔ فلم کا آخری نغمہ شائقین پر گہرا تاثر چھوڑتا ہے۔اسے میڈم نور جہاں نے اپنی لافانی آواز میں گایا تھا۔ اس گیت کی پکچرائزیشن بھی لاجواب تھی جس سے اس گیت کی تاثریت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اس گیت کے بول تھے’’ جو بچا تھا وہ لٹانے کے لیے آ گئے ہیں‘‘۔ اس فلم نے ناول کی طرح بے پناہ مقبولیت حاصل کی اور فلمساز کو دولت کی بارش میں نہلا دیا۔ اسے رانی کی زندگی کی بہترین فلم قرار دیا جا سکتا ہے۔ہندوستان میں 80ء کی دہائی میں ’’امرائو جان ادا‘‘کے نام سے فلم بنائی گئی۔ اس فلم نے بھی بہت کامیابی حاصل کی ۔ہدایت کار مظفر علی نے بلاشبہ اس فلم پر بہت محنت کی ۔ریکھا ،فاروق شیخ، نصیر الدین شاہ اور راج ببر نے بہت عمدہ اداکاری کی۔ خیام کا میوزک بھی لاجواب تھا اور انہوں نے آشا بھوسلے سے بڑی شاندار غزلیں گوائیں جو آج تک فلم بین بہت پسند کرتے ہیں۔ امرائو جان ادا کی کہانی دراصل فطرت اور حالات کی ستم ظریفی سے جنم لینے والا وہ فلسفہ ہے جسے سمجھنا ہم انسانوں کے لیے ضروری ہے اس فلم کا یہ گیت تو فلم بینوں کو اشک بار کر دیتا ہے’’ یہ کیا جگہ ہے دوستو! یہ کون سا دیار ہے۔‘‘ اگرچہ اس فلم میں ریکھا نے اعلیٰ پائے کی اداکاری کی لیکن ان کی رائے میں پاکستانی اداکارہ رانی نے ان سے زیادہ اچھی اداکاری کا مظاہرہ کیا۔اب آخر میں ہم اپنے قارئین کی توجہ اردو کے ایک اور اہم ناول کی طرف مبذول کرائیں گے ۔یہ ناول ہے’’ اک چادر میلی سی‘‘۔ اسے راجندر سنگھ بیدی نے تحریر کیا تھا۔راجندر سنگھ بیدی کی فنی عظمت سے کون انکار کر سکتا ہے وہ ایک باکمال افسانہ نگار اور شاندار ناول نویس تھے۔ جنہوں نے کئی فلموں کے سکرپٹ اورمکالمے لکھے۔سب سے پہلے پاکستان میں 1978ء میں اس ناول پر فلم بنائی گئی۔ جس کا نام تھا ’’مٹھی بھر چاول ‘‘اسے سنگیتا نے ڈائریکٹ کیا تھا اور انہوں نے اداکاری بھی غضب کی تھی۔ان کے علاوہ ندیم، غلام محی الدین ،کویتا، راحت کاظمی، شہلا گل اوررو مانہ نے بھی قابل تحسین اداکاری کا مظاہرہ کیا۔راجندر سنگھ بیدی نے اس بات پر بڑی مسرت کا اظہار کیا تھا کہ ان کے ناول پر پاکستان میں ایک معیاری فلم بنائی گئی ہے۔ باکس آفس پر اس فلم کا بزنس درمیانہ تھا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک شاندار فلم تھی۔غالباً 80ء کی دہائی کے آخر میں بھارت میں بھی اس ناول پر فلم بنائی گئی اور اس کا نام بھی ناول کے نام پر تھا، یعنی’’ اک چادر میلی سی‘‘ اس فلم میں رشی کپور، ہیما مالنی اور کلبشن نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔اس فلم کو بھی بے حد سراہا گیا اور باکس آفس پر بھی اس کا بزنس مناسب تھا۔اس بات پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ اب اردو ناولوں پر فلمیں بنانے کا رجحان ناپید ہو چکا ہے اب فلمسازوں کی ترجیحات مختلف ہیں کمرشل ازم اور جدید ٹیکنالوجی نے اگرچہ فلم بینوں کو بہت اعلیٰ تفریح فراہم کی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے بے رحم تازیانے نے پرانی اقدار کے بدن کو بری طرح گھائل کیا ہے اب اردو ناولوں پر کون فلمیں بنائے گا اور کیوں بنائے گا؟٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
برسا جامع مسجد

برسا جامع مسجد

سلجوقی و عثمانی عظمت کا سنگمترکی کے تاریخی شہر برسا(Bursa) میں واقع برسا جامع مسجد جسے مقامی طور پر ''اولو کامی‘‘ کہا جاتا ہے، اسلامی فن تعمیر کا ایک درخشاں شاہکار ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد 14ویں صدی کے اواخر میں تعمیر کی گئی اور اسے ابتدائی عثمانی دور کی نمایاں ترین یادگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سلجوقی اور عثمانی طرزِ تعمیر کے حسین امتزاج نے اس مسجد کو ایک منفرد شناخت عطا کی ہے، جو آج بھی ہزاروں زائرین اور سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔برسا، جو کبھی سلطنت عثمانیہ کا دارالحکومت رہا، تاریخی ورثے سے مالا مال شہر ہے۔ اسی شہر کے قلب میں قائم یہ جامع مسجد اپنی سادگی اور جلال کے باعث ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ روایت ہے کہ اس کی تعمیر سلطان بایزید اوّل کے دور میں مکمل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عثمانی سلطنت اپنی بنیادیں مضبوط کر رہی تھی اور فن تعمیر میں نئی جہتیں متعارف ہو رہی تھیں۔ اولو کامی اسی ارتقائی مرحلے کی عکاس ہے۔مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے 20 گنبد ہیں جو قطار در قطار ترتیب دیے گئے ہیں۔ یہ گنبد چھت کے وسیع ڈھانچے کو سہارا دیتے ہیں اور اندرونی حصے کو ایک منفرد توازن اور ہم آہنگی عطا کرتے ہیں۔ دو بلند مینار مسجد کی شان بڑھاتے ہیں اور دور سے دیکھنے والوں کو اس کے روحانی وقار کا احساس دلاتے ہیں۔ اس میں بیک وقت تقریباً پانچ ہزارافراد نماز ادا کرسکتے ہیں، جو اس کے وسیع و عریض ہال کی گواہی دیتا ہے۔مسجد کا اندرونی منظر نہایت دلکش ہے۔ دیواروں اور ستونوں پر آویزاں خطاطی کے شاہکار اسے ایک روحانی عجائب گھر کا درجہ دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں موجود قرآنی آیات اور اسمائے حسنیٰ کی خطاطی مختلف ادوار کے نامور خطاطوں کے فن کا نمونہ ہے۔ یہی خطاطی اولو کامی کو دیگر مساجد سے ممتاز کرتی ہے۔ بڑے بڑے ستون، کشادہ فرش اور گنبدوں سے چھنتی روشنی عبادت گزاروں کے دلوں میں سکون اور خشوع پیدا کرتی ہے۔مسجد کے اندر موجود ایک خوبصورت فوارہ بھی اس کی انفرادیت کا حصہ ہے۔ عموماً فوارے صحن میں ہوتے ہیں، مگر اولو کامی میں یہ اندرونی حصے میں واقع ہے، جو ایک منفرد طرزِ تعمیر کی مثال ہے۔ اس سے نہ صرف وضو کی سہولت میسر آتی ہے بلکہ پانی کی مدھم آواز ایک روح پرور فضا قائم رکھتی ہے۔ یہ عنصر سلجوقی طرزِ تعمیر کی جھلک پیش کرتا ہے، جس میں پانی کو جمالیاتی اور روحانی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔برسا جامع مسجد کی تعمیر میں مضبوط پتھر اور سادہ مگر باوقار ڈیزائن اختیار کیا گیا۔ اس کی بیرونی دیواریں سادگی کا تاثر دیتی ہیں، جبکہ اندرونی حصہ نفیس آرائش اور خطاطی سے مزین ہے۔ یہی تضاد اسے ایک متوازن اور پْراثر عمارت بناتا ہے۔ یہ مسجد نہ صرف عبادت کا مرکز رہی بلکہ صدیوں تک علمی و سماجی سرگرمیوں کا محور بھی بنی رہی۔آج بھی اولو کامی برسا کی شناخت کا اہم حصہ ہے۔ مقامی افراد کیلئے یہ روحانی مرکز ہے جہاں جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔ سیاح یہاں آکر نہ صرف نماز ادا کرتے ہیں بلکہ اس کے فن تعمیر اور تاریخی پس منظر سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مسجد کے اطراف قائم بازار اور تاریخی عمارات اس علاقے کو مزید پرکشش بناتے ہیں، جس سے یہ مقام ایک ثقافتی مرکز کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ترکی میں موجود دیگر عظیم مساجد کی طرح برسا جامع مسجد بھی اس بات کی گواہ ہے کہ اسلامی تہذیب نے فن تعمیر میں کس قدر بلندی حاصل کی۔ سلجوقی سادگی اور عثمانی عظمت کا امتزاج اسے ایک منفرد مقام دیتا ہے۔ یہ مسجد ماضی کی یادگار ہونے کے ساتھ ساتھ حال کا زندہ روحانی مرکز بھی ہے۔مختصراً، برسا جامع مسجد یا اولو کامی صرف اینٹ اور پتھر کی عمارت نہیں بلکہ تاریخ، ایمان اور فن کا حسین امتزاج ہے۔ اس کے 20 گنبد، دو مینار، دلکش خطاطی اور وسیع ہال اسے ترکی کی نمایاں ترین مساجد میں شامل کرتے ہیں۔ صدیوں گزر جانے کے باوجود اس کی شان و شوکت برقرار ہے اور یہ آج بھی اسلامی فن تعمیر کی عظمت کا روشن استعارہ ہے۔

رمضان کے مشروب و پکوان:دہی سبزیوں کی سلاد

رمضان کے مشروب و پکوان:دہی سبزیوں کی سلاد

اجزاء:دہی آدھا کلو، آلو ابلے ہوئے تین عدد، پیاز باریک لمبوتری کٹی ہوئی ایک پیالی، کھیرا دو عدد، نمک کالی مرچ( پسی ہوئی) حسب ذائقہ، مرغی( ابلی ہوئی) تقریباً 125گرام۔ ترکیب: مرغی کے باریک ٹکڑے کر لیں، ابلے ہوئے آلو کش کر لیں۔ ایک عدد کھیرا کش کر لیں۔ دوسرے کھیرے کے پتلے ٹکڑے کر لیں۔ ایک کھلے منہ کے پیالے میں دہی ڈال کر پھینٹ لیں۔ دہی میں آلو اور کٹی ہوئی پیاز ڈال کر پھینٹیں۔ ساتھ نمک اور کالی مرچ شامل کر دیں۔ دہی میں مرغی کے ٹکڑے اور کش کیا ہوا کھیرا ڈال کر یکجا کریں۔ ڈش میں دہی کا آمیزہ ڈالیں۔ دہی کے آمیزے پر کٹا ہوا کھیرا رکھ دیں۔ عمدہ ترین اور لذت سے بھرپور سلاد تیار ہے۔ تناول فرمائیں۔چکن قیمہ پکوڑااجزا:باریک کٹی چکن 250 گرام،پھینٹے ہوئے انڈے 2 عدد، بیسن 4کھانے کے چمچے، پسی لال مرچ ایک چائے کا چمچ، کٹی ہری مرچ 2 عدد،ہلدی ایک چوتھائی چائے کا چمچ، بیکنگ پائوڈر آدھا چائے کا چمچ،نمک ایک چائے کا چمچ،کٹا ہرا دھنیا حسب ضرورت، چاٹ مصالحہ آدھا کھانے کا چمچ ،باریک کٹی ہری پیاز آدھا کپ۔ترکیب: بیسن ،بیکنگ پائوڈرپسی لال مرچ اور ہلدی،نمک، کپ پانی،باریک کٹی چکن،کٹی ہری مرچ اور کٹا ہرادھنیا ڈال کر ایک پیالے میں مکس کرکے 30 منٹ کیلئے رکھ دیں، اب پین میں تیل گرم کرکے اس کو پکوڑے کی شکل میں خستہ اور گولڈن ہونے تک فرائی کرلیں، لیجئے مزیدا ر چکن قیمہ پکوڑے تیار ہیں ۔اپنے افطار دسترخوان کی رونق بڑھائیں۔

آج کا دن

آج کا دن

باربی ڈول متعارف کرائی گئی1959ء میں آج کے روز معروف کارٹون اور کھلونا گڑیا باربی ڈول کو دنیا کے سامنے متعارف کروایا گیا۔ اس گڑیا کو امریکی کھلونا ساز کمپنی نے جرمن گڑیا''بائلڈ لی لی‘‘ سے متاثر ہو کر بنایاتھا۔ باربی ڈول کا شمار دنیا کے مشہورترین کرداروں میں ہوتا ہے۔اب یہ گڑیا ایک فیملی کی شکل اختیار کر چکی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس فیملی کے اراکین میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا کی معروف ماڈلز سے مماثلت رکھنے والی باربی ڈولز بھی بنائی جا چکی ہیں۔ہٹلر کا نئی فضائیہ بنانے کا اعلان9مارچ1935ء کوایڈولف ہٹلر نے جرمنی کیلئے نئی فضائیہ بنانے کا اعلا ن کیا۔ہٹلر نے یہ بھی اعلان کیا کہ ورسائیلس معاہدے کی خلاف ورزی پر جرمنی کی فوجی طاقت کو دوبارہ مضبوط کیا جائے گا۔اسی عرصے میں دنیا دوسری عالمی جنگ کی جانب بڑھ رہی تھی اور عالمی حالات دن بدن خراب ہو رہے تھے۔ ہٹلر نے تقریباً5لاکھ فوجی بھرتی کرنے اور جرمنی کیلئے ایک نئی فضائیہ بنانے کا اعلان بھی اسی دوران کیا۔ایستونیا پر بمباریدوسری عالمی جنگ کے دوران ایستونیا پر متعدد مرتبہ بمباری کی گئی۔ پہلی بمباری 1941ء میں کے دوران کی گئی جو آپریشن باربروسہ کا حصہ تھی۔ اس کے بعد ایستونیا کے دارالحکومت تالین پر 9مارچ 1944ء کو سوویت یونین کی جانب سے کی جانے والی بمباری سب سے زیادہ تباہ کن تھی۔یہ بمباری جنگ ناروا کے دوران کی گئی، اسے ''مارچ بمباری‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سوویت یونین نے دو دن کے دوران تالین پر ہزاروں بم برسائے۔

اِستقلال مسجد

اِستقلال مسجد

جنوب مشرقی ایشیا کی عظیم ترین عبادت گاہانڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں واقع ''استقلال مسجد‘‘ نہ صرف ملک کی سب سے بڑی مسجد ہے بلکہ اسے جنوب مشرقی ایشیا کی عظیم ترین عبادت گاہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ''استقلال‘‘ کا مطلب ہے آزادی، اور یہ نام انڈونیشیا کی نوآبادیاتی تسلط سے آزادی کی یاد میں رکھا گیا۔ اس مسجد کی تعمیر 1978ء میں مکمل ہوئی اور یہ قومی تشخص، مذہبی وقار اور جدید فن تعمیر کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔استقلال مسجد تقریباً 5.9 ہیکٹر کے وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کے مرکزی ہال اور ملحقہ حصوں میں بیک وقت تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار نمازی نماز ادا کرسکتے ہیں، جو اسے دنیا کی بڑی مساجد میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔ مسجد کا کشادہ صحن، بلند و بالا ستون، وسیع گنبد اور جدید طرزِ تعمیر اسے ایک منفرد شناخت بخشتے ہیں۔ اس کا مرکزی گنبد تقریباً 45 میٹر قطر پر مشتمل ہے، جو انڈونیشیا کی آزادی کے سال 1945ء کی علامتی یاد دہانی بھی سمجھا جاتا ہے۔استقلال مسجد کا ڈیزائن سادہ مگر باوقار ہے۔ سفید سنگِ مرمر اور اسٹیل کے استعمال نے اسے جدید اور شفاف تاثر دیا ہے۔ مسجد کا مینار تقریباً 96 میٹر بلند ہے جو شہر کے افق پر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ستونوں اور محرابوں کی ترتیب میں اسلامی فن تعمیر کی جھلک موجود ہے، مگر مجموعی ڈیزائن میں انڈونیشیا کے متنوع ثقافتی ورثے اور جدید انجینئرنگ کا حسین امتزاج نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسجد روایتی اور جدید طرزِ تعمیر کے سنگم کی بہترین مثال سمجھی جاتی ہے۔مسجد کا اندرونی حصہ نہایت وسیع اور ہوادار ہے۔ مرکزی ہال میں لگے بلند ستون اور کھلے طرز کی ترتیب نمازیوں کو روحانی سکون فراہم کرتی ہے۔ فرش پر بچھے قالین، سادہ مگر خوبصورت محراب اور قرآنی آیات کی دلکش خطاطی عبادت کے ماحول کو مزید پراثر بناتے ہیں۔ یہاں جدید صوتی نظام نصب ہے تاکہ ہزاروں افراد تک خطبہ اور اذان کی آواز واضح طور پر پہنچ سکے۔ رمضان المبارک، عیدین اور دیگر مذہبی مواقع پر یہاں لاکھوں افراد کا اجتماع ایک ایمان افروز منظر پیش کرتا ہے۔استقلال مسجد کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا جغرافیائی اور سماجی محل وقوع ہے۔ یہ مسجد جکارتہ کے مرکزی حصے میں واقع ہے اور اس کے سامنے ایک تاریخی گرجا گھر موجود ہے، جو مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ انڈونیشیا ایک کثیرالمذاہب معاشرہ ہے، اور استقلال مسجد اس تنوع کے باوجود قومی یکجہتی کی روشن مثال کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہاں مختلف بین الاقوامی وفود اور سیاح بھی آتے ہیں، جنہیں مسجد کے مختلف حصوں کی سیر کروائی جاتی ہے۔مسجد میں نہ صرف نماز اور عبادت کا اہتمام کیا جاتا ہے بلکہ یہ تعلیمی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے۔ یہاں اسلامی تعلیمات کے فروغ کیلئے دروس، سیمینارز اور کانفرنسز منعقد ہوتی ہیں۔ وسیع کانفرنس ہال اور ملحقہ کمروں میں مختلف مذہبی و سماجی موضوعات پر مکالمہ ہوتا ہے۔ اس طرح استقلال مسجد صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک فعال سماجی و فکری مرکز بھی ہے جو قوم کی رہنمائی میں کردار ادا کرتا ہے۔ انڈونیشیا کی آزادی کی یادگار کے طور پر استقلال مسجد قومی وقار کی علامت ہے۔ اس کی تعمیر میں جدید ٹیکنالوجی اور مقامی وسائل کا استعمال کیا گیا، جس سے یہ عمارت ملک کی ترقی اور خود انحصاری کی نشانی بن گئی۔ ہر سال ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح یہاں آکر اس کے فن تعمیر اور روحانی فضا سے متاثر ہوتے ہیں۔ رات کے وقت روشنیاں اس کے سفید گنبد اور مینار کو مزید دلکش بنا دیتی ہیں، جو جکارتہ کی پہچان بن چکا ہے۔مختصراً، استقلال مسجد انڈونیشیا کی آزادی، مذہبی عقیدت اور ثقافتی ہم آہنگی کا ایک عظیم استعارہ ہے۔ اپنی وسعت، جدید ڈیزائن اور روحانی ماحول کے باعث یہ مسجد نہ صرف جنوب مشرقی ایشیا بلکہ پوری اسلامی دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔ یہاں ادا کی جانے والی نمازیں، منعقد ہونے والے اجتماعات اور آنے والے زائرین اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ استقلال مسجد ایمان، اتحاد اور قومی فخر کی روشن علامت ہے۔

رمضان کے پکوان:توری کے پکوڑے

رمضان کے پکوان:توری کے پکوڑے

اجزاء:توری آدھا کلو، نمک حسب ذائقہ، پسی ہوئی لال مرچ ایک چائے کا چمچ،ڈبل روٹی کا چورا ڈیڑھ پیالی، ہلدی آدھا چائے کا چمچ، سفید تل دو کھانے کے چمچ، کالی مرچ پسی ہوئی آدھا چائے کا چمچ، انڈے دو عدد، کوکنگ آئل حسب ضرورت۔ترکیب:توری کو چھیل کر اس کے گول قتلے کاٹ لیں اور اس پر نمک ہلدی اور لال مرچ چھڑ کر اچھی طرح ملا لیں۔ پھیلے ہوئے فرائنگ پین میں ان قتلوں کو پھیلا کر درمیانی آنچ پر رکھیں۔ الٹ پلٹ کرتے ہوئے اتنا پکائیں کہ توری کا اپنا پانی اچھی طرح خشک ہو جائے۔ ڈبل روٹی کے چورے میں تل اور کالی مرچ ملا لیں اور انڈوں کو پھینٹ کر رکھ لیں۔ توری کے قتلوں کو پھیلا کر اچھی طرح ٹھنڈا کر لیں۔ پہلے انہیں پھینٹے ہوئے انڈوں میں ڈبوئیں پھر ڈبل روٹی کے چورے میں لتھیڑ کر گرم کوکنگ آئل میں سنہری فرائی کرلیں۔

آج کا دن

آج کا دن

دُنیا کی پہلی خاتون پائلٹ1910ء میں فرانس کی ریمنڈ کو دنیا کی پہلی خاتون پائلٹ ہونے کا اعزاز ملا ۔ 8 مارچ 1910ء کو انہیں ہوائی جہاز اڑانے کا لائسنس دیا گیا۔ ریمنڈ 22اگست 1882ء کو فرانس کے شہر پیرس میں پیدا ہوئیں۔وہ ایک پلمبر کی بیٹی تھیں۔1909ء میں انہوں نے اپنے ایک دوست سے درخواست کی کہ وہ انہیں ہوائی جہاز اڑانا سکھائے۔صرف ایک سال میں ریمنڈ بہترین پائلٹ بن گئیں۔امریکہ نے فلپائن خریدا8 مارچ 1906ء کوامریکہ نے اسپین سے 20 ملین ڈالرز میں فلپائن کو خریدا۔ تاہم وہاں کی عوام نے اس معاہدے کی شدید مخالفت کی۔ 1902ء میں صدر تھیوڈور روزویلٹ نے فلپائن کی جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا ۔اس جنگ کے دوران وہاں سیکڑوں مسلمانوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔جاپان کا رنگون پر قبضہ1942ء میں دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان نے برطانیہ کے زیر انتظام برما کے علاقے رنگون پر قبضہ کر لیا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کا وہ مرحلہ تھا جب جاپان کو جنگ میں فتوحات مل رہی تھیں اور اس کی افواج مسلسل پیش قدمی کر رہی تھیں۔ رنگون پر قبضے کے بعد جاپانی افواج نے جنگ کا رخ ہی بدل دیا۔ جاپان پرل ہاربر پر حملہ کر کے پہلے ہی امریکہ کے ساتھ براہ راست لڑائی شروع کر چکا تھا۔ملائیشین جہاز غائب ہو گیاملائیشیا ایئر لائنز کی ''پرواز 370 ‘‘ 8 مارچ 2014 ء کوکوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے غائب ہو گئی۔ جہاز کے عملے نے آخری بار ائیر ٹریفک کنٹرول سے ٹیک آف کے تقریباً 38 منٹ بعد اس وقت رابطہ کیا جب پرواز بحیرہ جنوبی چین کے اوپر سے گزر رہی تھی۔ اس کے بعد طیارہ ریڈار اسکرینوں سے غائب ہو گیا۔