جب اردو ناولوں کو فلموں میں ڈھالا گیا

جب اردو ناولوں کو فلموں میں ڈھالا گیا

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


ایسی فلموں کی کامیابی کا تناسب 80فیصد رہا، اب یہ رجحان بھی ختم ہوا*****ہندوستان اور پاکستان میں اردو ناولوں پر بڑی شاندار فلمیں بنائی گئیں ۔یہ الگ بات کہ ہندوستان میں کم اور پاکستان میں زیادہ فلمیں بنائی گئیں ۔اردو کے دو ناول ایسے ہیں جن پر ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں فلمیں بنائی گئیں اور دونوں ممالک میں ان فلموں نے عدیم النظیر کامیابی حاصل کی۔رضیہ بٹ اور عصمت چغتائی دو ایسی خواتین ناول نگار تھیں ۔جن کے دو دو ناولوں کو فلم کے قالب میں ڈھالا گیا پہلے ہم رضیہ بٹ کے ناولوں پر بات کرتے ہیں۔ رضیہ بٹ پاکستان کی مشہور ترین خاتون ناول نویس تھیں۔ خواتین کی بہت بڑی تعداد ان کے ناول پڑھتی تھی اور آج بھی ان کے ریڈرز کی بڑی تعداد موجود ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے مداحین کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ 1965ء میں ان کے ناول ’’نائلہ‘‘ پر فلم بنائی گئیں ، فلم کا نام بھی ’’نائلہ‘ ‘تھا۔ اس فلم کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ یہ پاکستان کی پہلی رنگین فلم تھیں۔اس فلم کے ہدایت کار شریف نیر تھے جبکہ موسیقی ماسٹر عنایت حسین نے ترتیب دی تھی۔یہ ایک نہایت خوبصورت رومانوی فلم تھی جس نے خاص طور پر خواتین کو بہت متاثر کیا۔ سنتوش کمار، درپن، شمیم آرا اور راگنی کی اداکاری کو بے حد پسند کیا گیا۔ قتیل شفائی اور حمایت علی شاعر کے نغمات زبان زدعام ہوئے ۔خاص طور پر یہ گیت بہت مقبول ہوئے۔’’ اب ٹھنڈی آہیں بھر پگلی، اور تڑپنا بھی ہمیں آتا ہے تڑپانا بھی آتا ہے۔‘‘اس فلم کی ریلیز کے بعد اس ناول کی شہرت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ غالباً چار یا پانچ برس بعد رضیہ بٹ کے ایک اور معروف ناول’’ صاعقہ ‘‘کو فلمی سکرین کی زینت بنایا گیا یہ فلم بھی باکس آفس پر بے حد کامیاب ہوئی۔ ’’نائلہ اور صاعقہ‘‘ دونوں فلموں میں شمیم آرا نے مرکزی کردار ادا کیا تھا اور یادگار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ۔دونوں ناولوں میں ہیروئن ایک مظلوم لڑکی کے روپ میں قارئین کے سامنے آتی ہے جس طرح قارئین کی ہمدردیاں ناول کے مرکزی کردار کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ اسی طرح شمیم آرا نے فلم بینوں کی ہمدردیاں سمیٹیں۔’’صاعقہ‘‘ کی موسیقی بے مثل موسیقار نثار بزمی نے مرتب کی تھی اور اس فلم کے نغمات بھی بڑے مسحور کن تھے ۔یہ دو نغمات لاجواب تھے،’’ اک ستم اور میری جاں ابھی جاں باقی ہے، اور اے بہارو گواہ رہنا۔‘‘ شمیم آرا کے علاوہ اس فلم میں محمد علی نے بھی متاثر کن اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ رضیہ بٹ کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے مڈل اور اپر مڈل کلاس کی لڑکیوں کے مسائل کو بڑی خوبصورتی سے اپنے ناولوں میں اجاگر کیا۔ انانیت کے خول میں بند رہنے والے لوگ کس طرح پورے خاندان کے لیے عذاب بن جاتے ہیں انہوں نے اس تلخ حقیقت کو بھی اپنے موضوعات کا حصہ بنایا۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں یہی پیغام دیا کہ عورت کو بھی انسان سمجھا جائے اور اپنی بے جا ضد اور انا کی آڑ میں اس کے احساسات اور جذبات کا خون نہ کیا جائے ۔عصمت چغتائی کا شمار برصغیر کی ممتاز افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ افسانہ نگاری کے علاوہ انہوں نے کچھ ناول بھی تخلیق کئے جن میں’’ ضدی،سودائی اور ٹیڑھی لکیر ‘‘خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان میں’’ضدی اور سودائی‘‘ کو سلولائیڈ کے فیتے پر منتقل کیا گیا ۔’ضدی‘‘ کوئی ضخیم ناول نہیں، کچھ لوگ اسے ناولٹ کی حیثیت دیتے ہیں، اس ناول پر 1948ء میں فلم بنائی گئی اور فلم کا نام بھی یہی تھا۔ ناول کی طرح فلم ضدی، بھی عوام کی توجہ کا مرکز بنی، اس فلم میں کامنی کوشل اور دیو آنند نے مرکزی کردار ادا کئے۔کہا جاتا ہے کہ اس فلم کی ریلیز کے بعد اخبارات میں یہ اشتہار شائع ہوتا تھا کہ جن لوگوں نے ’ضدی ‘دیکھی ہے وہ یہ بتائیں کہ اس فلم میں سب سے زیادہ ضدی کون ہے……؟ناول میں یہی دکھایا گیا کہ فلم کے سبھی کردار ضدی ہیں ۔عصمت چغتائی بڑی بے باک ،دبنگ اور راست گو ادیبہ تھیں۔ انہوں نے اس ناول میں عورتوں کی نفسیات کے حوالے سے بھی بڑی جرات مندی سے یہ کہا کہ عورت کی ذات بڑی ڈھکوسلے باز ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کے ناول ’’سودائی‘‘ پر پاکستان میں ’’ضمیر ‘‘نامی فلم بنائی گئی یہ فلم 1978ء میں ریلیز ہوئی۔ اس میں محمد علی، دیبا، روحی بانو اور وحید مراد نے اہم کردار ادا کیے۔ ناول کا مرکزی خیال یہ تھاکہ کسی کو دیوتا نہیں بنانا چاہیے اور اگر کسی کو یہ درجہ دے دیا جائے تو یہ فیصلہ صادر نہ کریں کہ وہ دیوتا اپنی فطری خواہشات اور ضروریات کو بھی کچل ڈالے کیونکہ بہرحال وہ انسان ہے جو فطرت کے دائرے سے باہر نکل ہی نہیں سکتا۔اس فلم میں محمد علی اور روحی بانو کی اداکاری کو بہت سراہا گیا محمد علی نے بڑے بھیا کا کردار انتہائی عمدگی سے ادا کیا شاید انہیں خود بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس کردار کے لیے ان کا انتخاب کس قدر درست فیصلہ تھا ۔اس فلم کا ایک گیت بڑا ہٹ ہوا’’ ہم نہ ہوں گے تو ہمیں یاد کرے گی دنیا‘‘، اس فلم نے باکس آفس پر درمیانے درجے کا بزنس کیا۔1972ء میں حمیدہ جبیں کے مقبول ناول’’تمنا‘‘کو’’ محبت‘‘ کے نام سے فلمی سکرین پر منتقل کیا گیا۔اس فلم کے ہدایت کار ایس سلیمان تھے مرکزی کردار محمد علی ،زیبا، صبیحہ خانم اور سنتوش کمار نے ادا کیے تھے یہ ایک کامیاب فلم تھی ۔جس کی موسیقی نثار بزمی نے ترتیب دی تھی جبکہ نغمات قتیل شفائی نے لکھے تھے ۔اس فلم میں زیبا کی اداکاری کو بہت زیادہ پسند کیا گیا۔اس کے علاوہ نوخیز اداکارہ عندلیب نے بھی فلم بینوں کو متاثر کیا۔ عندلیب نے بعدازاں کچھ فلموں میں کام کیا لیکن پھر وہ نظر نہیں آئیں۔فلم’’محبت‘‘ کی موسیقی اعلیٰ درجے کی تھی۔یہ دو گیت تو بڑے ہی باکمال تھے ’’یہ محفل جو آج سجی ہے، اور بانورا من ایسے دھڑکا نہ تھا‘‘۔ اس کے علاوہ مہدی حسن کی آواز میں احمد فراز کی اس غزل نے تو فلم کو چار چاند لگا دیے’’ رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ۔‘‘حمیدہ جبیں کے دیگر دو ناولوں پر بھی فلمیں بنائی گئیں یہ دو فلمیں تھیں ’’پرائی آگ اور سہاگ‘‘۔ یہ معیاری فلمیں تھیں لیکن باکس آفس پر زیادہ کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ پریم چند کا شمار اردو کے بڑے ادیبوں میں ہوتا ہے وہ نہ صرف بہت عمدہ افسانہ نگار تھے بلکہ اعلیٰ درجے کے ناول نویس بھی تھے ان کے مشہور ترین ناولوں میں نرملا،بیوہ اور گئودان کے نام لئے جا سکتے ہیں۔1963ء میں بھارت میں ان کے ناول’’ گئودان‘‘ پر فلم بنائی گئی۔’’گئودان‘‘ کا شمار ہندوستان کے عظیم ترین ناولوں میں کیا جاتا ہے۔ اس فلم میں راج کمار محمود اورششی کلا نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ ہدایت کار ترلوک جیٹلی کی اس فلم کی موسیقی روی شنکر نے مرتب کی تھی ۔یہ ایک زبردست فلم تھی جو باکس آفس پر بھی کامیاب رہی۔گئودان، کے بارے میں اس امر کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ 2004ء میں اس ناول کو شاعر اور ہدایت کار گلزار نے ٹی وی سکرین کی زینت بنایا اور یہ ٹی وی سیریز 26قسطوں پر محیط تھی۔اب ہم ایک ایسے ناول کا تذکرہ کر رہے ہیں جس پر بھارت میں د و اور پاکستان میں ایک فلم بنائی گئی یہ شاہکار ناول ہے’’امرائو جان ادا‘‘۔ اسے اردو کے کلاسیکی ادیب مرزا رسوا نے تخلیق کیا تھا اس ناول کی اہمیت اور شہرت آج تک برقرار ہے یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ جن اداکارائوں نے’’ امرائو جان ادا‘‘ کا مشکل کردار ادا کیا انہیں بھی بہت شہرت ملی۔ ان اداکارائوں نے بڑی محنت اور جانفشانی سے اس کردار کو ادا کیا۔ ان کی توصیف نہ کرنا صریحاً ناانصافی ہو گی۔ سب سے پہلے 1973ء میں’’ امرائو جان ادا‘‘ بنائی گئی۔ حسن طارق کی ہدایت کاری بے مثال تھی۔ سیف الدین سیف کے انتہائی معیاری نغمات کو نثار بزمی نے اپنی دلکش دھنوں سے ایسا مزین کیا کہ شائقین فلم ہکا بکا رہ گئے۔مرکزی کردار رانی نے ادا کیا اور کیا خوب کیا ۔ فلم بینوں نے رانی پر دادو تحسین کے ڈونگرے برسائے۔ اس کے علاوہ شاہد، رنگیلا اور آغا طالش کی اداکاری کو بھی بے حد سراہا گیا۔اس کے علاوہ رونا لیلیٰ نے اپنی آواز کا وہ جادو جگایا کہ امرائو جان ادا کے نغمات ملک کے گلی کوچوں میں گونجنے لگے خاص طور پر ان کا گایا ہوا یہ گیت ’’کاٹے نہ کٹے رتیا‘‘،آج بھی سحر طاری کر دیتا ہے۔ فلم کا آخری نغمہ شائقین پر گہرا تاثر چھوڑتا ہے۔اسے میڈم نور جہاں نے اپنی لافانی آواز میں گایا تھا۔ اس گیت کی پکچرائزیشن بھی لاجواب تھی جس سے اس گیت کی تاثریت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اس گیت کے بول تھے’’ جو بچا تھا وہ لٹانے کے لیے آ گئے ہیں‘‘۔ اس فلم نے ناول کی طرح بے پناہ مقبولیت حاصل کی اور فلمساز کو دولت کی بارش میں نہلا دیا۔ اسے رانی کی زندگی کی بہترین فلم قرار دیا جا سکتا ہے۔ہندوستان میں 80ء کی دہائی میں ’’امرائو جان ادا‘‘کے نام سے فلم بنائی گئی۔ اس فلم نے بھی بہت کامیابی حاصل کی ۔ہدایت کار مظفر علی نے بلاشبہ اس فلم پر بہت محنت کی ۔ریکھا ،فاروق شیخ، نصیر الدین شاہ اور راج ببر نے بہت عمدہ اداکاری کی۔ خیام کا میوزک بھی لاجواب تھا اور انہوں نے آشا بھوسلے سے بڑی شاندار غزلیں گوائیں جو آج تک فلم بین بہت پسند کرتے ہیں۔ امرائو جان ادا کی کہانی دراصل فطرت اور حالات کی ستم ظریفی سے جنم لینے والا وہ فلسفہ ہے جسے سمجھنا ہم انسانوں کے لیے ضروری ہے اس فلم کا یہ گیت تو فلم بینوں کو اشک بار کر دیتا ہے’’ یہ کیا جگہ ہے دوستو! یہ کون سا دیار ہے۔‘‘ اگرچہ اس فلم میں ریکھا نے اعلیٰ پائے کی اداکاری کی لیکن ان کی رائے میں پاکستانی اداکارہ رانی نے ان سے زیادہ اچھی اداکاری کا مظاہرہ کیا۔اب آخر میں ہم اپنے قارئین کی توجہ اردو کے ایک اور اہم ناول کی طرف مبذول کرائیں گے ۔یہ ناول ہے’’ اک چادر میلی سی‘‘۔ اسے راجندر سنگھ بیدی نے تحریر کیا تھا۔راجندر سنگھ بیدی کی فنی عظمت سے کون انکار کر سکتا ہے وہ ایک باکمال افسانہ نگار اور شاندار ناول نویس تھے۔ جنہوں نے کئی فلموں کے سکرپٹ اورمکالمے لکھے۔سب سے پہلے پاکستان میں 1978ء میں اس ناول پر فلم بنائی گئی۔ جس کا نام تھا ’’مٹھی بھر چاول ‘‘اسے سنگیتا نے ڈائریکٹ کیا تھا اور انہوں نے اداکاری بھی غضب کی تھی۔ان کے علاوہ ندیم، غلام محی الدین ،کویتا، راحت کاظمی، شہلا گل اوررو مانہ نے بھی قابل تحسین اداکاری کا مظاہرہ کیا۔راجندر سنگھ بیدی نے اس بات پر بڑی مسرت کا اظہار کیا تھا کہ ان کے ناول پر پاکستان میں ایک معیاری فلم بنائی گئی ہے۔ باکس آفس پر اس فلم کا بزنس درمیانہ تھا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک شاندار فلم تھی۔غالباً 80ء کی دہائی کے آخر میں بھارت میں بھی اس ناول پر فلم بنائی گئی اور اس کا نام بھی ناول کے نام پر تھا، یعنی’’ اک چادر میلی سی‘‘ اس فلم میں رشی کپور، ہیما مالنی اور کلبشن نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔اس فلم کو بھی بے حد سراہا گیا اور باکس آفس پر بھی اس کا بزنس مناسب تھا۔اس بات پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے کہ اب اردو ناولوں پر فلمیں بنانے کا رجحان ناپید ہو چکا ہے اب فلمسازوں کی ترجیحات مختلف ہیں کمرشل ازم اور جدید ٹیکنالوجی نے اگرچہ فلم بینوں کو بہت اعلیٰ تفریح فراہم کی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے بے رحم تازیانے نے پرانی اقدار کے بدن کو بری طرح گھائل کیا ہے اب اردو ناولوں پر کون فلمیں بنائے گا اور کیوں بنائے گا؟٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
روشنی بکھیرنے والے پودے:چینی سائنسدانوں کا انوکھا کارنامہ

روشنی بکھیرنے والے پودے:چینی سائنسدانوں کا انوکھا کارنامہ

انقلابی پیش رفت ماحول دوست،توانائی بحران پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہےسائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے ہونے والی ترقی نے انسانی زندگی کے انداز کو یکسر بدل دیا ہے، اور اب روشنی کے حصول کے روایتی ذرائع بھی ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ حالیہ تحقیق میں چینی سائنسدانوں نے ایسے پودے تیار کرنے کی کوشش شروع کی ہے جو جگنوؤں کی طرح خود روشنی پیدا کر سکیں۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو مستقبل میں گلیوں، پارکوں اور شہروں کو روشن کرنے کیلئے بجلی پر انحصار نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔ یہ انقلابی پیش رفت نہ صرف ماحول دوست ہوگی بلکہ توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جو آج کے دور کا ایک بڑا عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔چینی سائنسدانوں نے ایسے جینیاتی طور پر تیار شدہ پودے متعارف کرائے ہیں جو اندھیرے میں خود روشنی خارج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پودے نہ صرف سیاحت کیلئے کشش کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ شہری زندگی میں بھی ایک نئی جہت متعارف کرا سکتے ہیں۔ رات کے وقت پارکوں، باغات اور عوامی مقامات پر ان پودوں کی مدھم روشنی ایک پرسکون اور دلکش ماحول پیدا کر سکتی ہے، جو مصنوعی روشنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ قدرتی اور خوشگوار ہوگا۔ان حیاتیاتی روشنی خارج کرنے والے پودوں کو تیار کرنے کیلئے سائنسدانوں نے جگنوؤں اور چمکتی ہوئی فنگس کے جینز کو پودوں کے خلیات میں منتقل کیا ہے۔ اس عمل کو جینیاتی انجینئرنگ کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے مختلف جانداروں کی خصوصیات کو ایک دوسرے میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس جدید تکنیک کی مدد سے اب تک بیس سے زائد پودوں کی اقسام کو اندھیرے میں چمکنے کے قابل بنایا جا چکا ہے، جن میں آرکڈ، سورج مکھی اور گلابی چمبیلی جیسی خوبصورت اور مقبول نباتات شامل ہیں۔ بائیو ٹیکنالوجی کمپنی ‘‘میجک پین بائیو'' کے بانی لی رین ہان نے اس منصوبے کو ایک تخیلاتی دنیا سے تعبیر کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ان پودوں کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جائے تو رات کے وقت چمکتے ہوئے باغات اور وادیاں کسی دوسرے سیارے کا منظر پیش کریں گی۔ انہوں نے اس تصور کو مقبول سائنس فکشن فلمAvatar سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہوگا جیسے فلمی دنیا کو حقیقت میں بدل دیا گیا ہو۔ اس طرح کے مناظر نہ صرف سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کریں گے بلکہ مقامی معیشت کو بھی فروغ دیں گے۔2024ء میں فائر فلائی پیٹونیا نامی پودے کے اجرا نے اس میدان میں ایک نئی دلچسپی پیدا کی تھی۔ یہ پودا ایک امریکی کمپنی لائٹ بائیونے متعارف کرایا تھا، جسے بھی بائیولومینیسینٹ مشروم کے جینز شامل کر کے تیار کیا گیا تھا۔ تاہم چینی سائنسدانوں کی حالیہ کامیابیاں اس سے ایک قدم آگے ہیں، کیونکہ انہوں نے نہ صرف ایک بلکہ متعدد پودوں کی اقسام کو چمکدار بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں پورے باغات اور پارکس کو قدرتی روشنی سے منور کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ یہ پودے ابھی مکمل طور پر سٹریٹ لائٹس کا متبادل نہیں بن سکتے، لیکن شہر کے ان حصوں میں جہاں روشنی کی کمی ہو یا جہاں ماحول کو قدرتی انداز میں برقرار رکھنا مقصود ہو، وہاں یہ ایک بہترین حل فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ پودے توانائی کی بچت، کاربن کے اخراج میں کمی اور ماحول کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور توانائی کے بحران کے پیش نظر اس طرح کی ٹیکنالوجی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔چین کے محققین نے اس میدان میں ایک اور منفرد طریقہ بھی آزمایا ہے، جس میں پودوں کے پتوں میں دھاتی نینو ذرات داخل کیے گئے ہیں۔ یہ ذرات دن کے وقت سورج کی روشنی کو جذب کر کے چارج ہوتے ہیں اور رات کے وقت ہلکی روشنی خارج کرتے ہیں۔ اس طریقے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جینیاتی تبدیلی کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ یہ ایک نسبتاً سادہ اور محفوظ طریقہ ہو سکتا ہے۔ مزید برآں، مختلف دھاتوں کے امتزاج سے روشنی کے رنگ کو بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے، جس سے خوبصورتی اور تنوع میں اضافہ ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ان ٹیکنالوجیز کو مزید بہتر بنایا جائے تو یہ شہری منصوبہ بندی میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتی ہیں۔ مستقبل کے شہر ایسے ہو سکتے ہیں جہاں بجلی سے چلنے والی روشنیوں کی جگہ قدرتی طور پر چمکنے والے پودے لے لیں۔ اس سے نہ صرف توانائی کی بچت ہوگی بلکہ شہری ماحول بھی زیادہ صحت مند اور دلکش بن جائے گا۔تاہم، اس جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ پودوں کے ماحولیاتی اثرات، ان کی حفاظت اور عوامی قبولیت جیسے مسائل پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ان پودوں کی روشنی کی شدت کو بڑھانا بھی ایک اہم مرحلہ ہے تاکہ یہ عملی طور پر زیادہ مؤثر ثابت ہو سکیں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بائیولومینیسینٹ پودوں کی یہ ترقی ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔ یہ نہ صرف سائنسی جدت کا مظہر ہے بلکہ انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا بھی عکاس ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہماری دنیا واقعی ایک چمکتی ہوئی دنیا میں تبدیل ہو جائے گی۔

مسولیس کا مقبرہ

مسولیس کا مقبرہ

قدیم دنیا کے عجائبات میں سے ایک مسولیس کا مقبرہ، تعمیراتی حسن، محبت اور لافانیت کی ایسی داستان ہے جو صدیاں گزرنے کے بعد بھی تاریخ کے اوراق میں زندہ ہے۔ یہ سنگ مرمر سے تراشا گیا ایسا خواب تھا جس نے مقبرہ کی اصطلاح کو جنم دیا، جو آج بھی دنیا بھر میں عظیم الشان مزارات کیلئے استعمال ہوتی ہے۔چوتھی صدی قبل مسیح میں جب فارس کی ہخامنشی سلطنت کا عروج تھا، مسولیس کاریا کے علاقے کا گورنر تھا۔ اگرچہ وہ باضابطہ طور پر فارسی سلطنت کے ماتحت تھا لیکن عملاً وہ آزاد بادشاہ کی طرح حکومت کرتا تھا۔ اس نے اپنی سلطنت کا دارالحکومت ہالی کارناسس موجودہ ترکی کا شہر بودرم منتقل کیا اور اسے دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں بدلنے کا عزم کیا۔مسولیس نے اپنی زندگی ہی میں اپنے لیے ایسے مقبرے کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی جو رہتی دنیا تک اس کے نام اور مرتبے کی گواہی دے۔ تاہم، 353 قبل مسیح میں اس کے انتقال کے وقت یہ مقبرہ نامکمل تھا۔ اس کی بیوہ ملکہ آرٹیمیسیا دوم، نے اپنے شوہر کی یاد میں اس عظیم منصوبے کو جاری رکھا۔ کہا جاتا ہے کہ آرٹیمیسیا اپنے شوہر کی موت سے اس قدر غمگین تھی کہ اس نے مسولیس کی راکھ کو شراب میں ملا کر پی لیا تھا تاکہ وہ ہمیشہ اس کے وجود کا حصہ رہے۔مسولیس کا مقبرہ اپنی بلندی، وسعت اور فنکارانہ باریکیوں کی وجہ سے منفرد تھا۔ اس کی تعمیر کیلئے اس وقت کے مشہور ترین یونانی معماروں پیتھیوس اور ستایرس کو مدعو کیا گیا تھا۔مقبرے کی اونچائی تقریباً 45 میٹر تھی اور اسے تین اہم حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ نچلا حصہ بہت بڑا مستطیل چبوترہ تھا جس کی دیواریں یونانی دیومالائی کہانیوں کے نقوش اور جنگی مناظر سے مزین تھیں۔ چبوترے کے اوپر 36 بلند و بالا ستون نصب تھے، جو مندر نما ڈھانچے کو سہارا دیتے تھے۔ سب سے اوپر 24 سیڑھیوں پر مشتمل اہرام نما چھت تھی، جس کی چوٹی پر عظیم الشان سنگ مرمر کا رتھ موجود تھا جسے چار گھوڑے کھینچ رہے تھے۔ اس رتھ پر مسولیس اور آرٹیمیسیا کے مجسمے نصب تھے۔اس مقبرے کو شہرت اس کے مجسموں اور سنگ تراشی کی وجہ سے ملی۔ اس زمانے کے چار عظیم ترین سنگ تراشوں سکاپاس، لیوچاریس، برایکسس اور تیموتھیئس میں سے ہر ایک کو مقبرے کی ایک ایک سمت کی تزئین و آرائش کی ذمہ داری دی گئی تھی۔دیواروں پر کندہ کی گئی تصویروں میں ایمیزونز جنگجو خواتین اور لیپتھس کے درمیان لڑائی کے مناظر اتنے جاندار تھے کہ وہ زندہ مناظر محسوس ہوتے تھے۔ یہ فن پارے اس وقت کے یونانی اور اناطولیہ کے کلچر کو ظاہر کرتے تھے۔مسولیس کا مقبرہ تقریباً 1600 سال تک اپنی اصل حالت میں موجود رہا۔ سکندر اعظم کی فتوحات، رومی سلطنت کا عروج و زوال اور کئی جنگیں اسے نقصان نہ پہنچا سکیں لیکن 12ویں سے 15ویں صدی کے درمیان آنے والے پے درپے زلزلوں نے اس عظیم عمارت کی کمر توڑ دی۔1402ء میں جب نائٹس آف سینٹ جان نے اس علاقے پر قبضہ کیا، تو انہوں نے مقبرے کے ملبے کو بودرم قلعہ بنانے کیلئے استعمال کیا۔ انہوں نے مقبرے کے قیمتی سنگ مرمر کو جلا کر چونا بنایا اور خوبصورت تراشے ہوئے پتھروں کو دیواروں میں چن دیا۔ اس طرح، دنیا کا یہ ساتواں عجوبہ انسانی ضرورتوں اور قدرتی آفات کی نذر ہو گیا۔19ویں صدی میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ چارلس نیوٹن نے مقبرے کی باقیات دریافت کیں۔ اس نے کھدائی کے دوران مسولیس اور آرٹیمیسیا کے مجسمے اور رتھ کے پہیے تلاش کیے، جو آج برٹش میوزیم، لندن میں محفوظ ہیں۔مسولیس کے مقبرے نے فنِ تعمیر کی دنیا کو نیا لفظ مقبرہ دیا۔ آج واشنگٹن ڈی سی میں لنکن میموریل ہو یا پیرس کا پینتھین، ان سب کے ڈیزائن میں کہیں نہ کہیں مسولیس کے مقبرے کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہاں تک کہ ہندوستان کا تاج محل بھی اسی روایت کا ایک حصہ مانا جا سکتا ہے جہاں عظیم محبت کو پتھروں میں قید کر کے لافانی بنا دیا گیا۔مسولیس کا مقبرہ انسانی عزم، بے پناہ محبت اور فنی کمال کا سنگ میل تھا۔ اگرچہ آج اس کی جگہ چند ٹوٹے ہوئے ستون اور بنیادیں باقی ہیں لیکن اس کا تصور آج بھی معماروں اور تاریخ دانوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ یہ مقبرہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بادشاہ اور سلطنتیں فنا ہو جاتی ہیں لیکن فن اور محبت کی یادگاریں صدیوں تک زندہ رہتی ہیں۔

کالج کے طلبہ

کالج کے طلبہ

کالج کے جن طلبہ کے متعلق میرا ایمان تھا کہ وہ زبردست شخصیتو ں کے مالک ہیں، ان کی زندگی کچھ ایسی نہ تھی کہ والدین کے سامنے بطور نمونے کے پیش کی جا سکے۔ ہر وہ شخص جسے کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے جانتا ہے کہ ''والدینی اغراض‘‘ کیلئے واقعات کو ایک نئے اور اچھوتے پیرائے میں بیان کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے، لیکن اس نئے پیرائے کا سوجھ جانا الہام اور اتفائی پر منحصر ہے۔ بعض روشن خیال بیٹے والدین کو اپنے حیرت انگیز اوصاف کا قائل نہیں کر سکتے اور بعض نالائق طالب علم والدین کو اس طرح مطمئن کر دیتے ہیں کہ ہر ہفتے ان کے نام منی آرڈر پہ منی آرڈر چلا آتا ہے۔جب ہم ڈیڑھ مہینے تک شخصیت اور ہاسٹل کی زندگی پر اس کا انحصا ر، ان دومضمونوں پر وقتاً فوقتاً اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے، تو ایک دن والد نے پوچھا: ''تمہارا شخصیت سے آخر مطلب کیا ہے؟‘‘میں تو خدا سے یہی چاہتا تھا کہ وہ مجھے عرض و معروض کا موقع دیں۔ میں نے کہا ''دیکھئے نہ! مثلاً ایک طالب علم ہے۔ وہ کالج میں پڑھتا ہے۔ اب ایک تو اس کا دماغ ہے۔ ایک اس کا جسم ہے۔ جسم کی صحت بھی ضروری ہے اور دماغ کی صحت تو ضروری ہے ہی، لیکن ان کے علاوہ وہ ایک اور بات بھی ہوتی ہے جس سے آدمی گویا پہچانا جاتا ہے۔ میں اس کو شخصیت کہتا ہوں۔ اس کا تعلق نہ جسم سے ہوتا ہے نہ دماغ سے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی کی جسمانی صحت بالکل خراب ہوااور اس کا دماغ بھی بالکل بیکار ہو لیکن پھر بھی اس کی شخصیت۔ نہ خیر دماغ تو بے کار نہیں ہونا چاہئے، ورنہ انسان خبطی ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی اگر ہو بھی، تو بھی، گویا شخصیت ایک ایسی چیز ہے۔۔۔ ٹھہریئے، میں ابھی ایک منٹ میں آپ کو بتاتا ہوں‘‘۔ایک منٹ کے بجائے والد نے مجھے آدھے گھنٹے کی مہلت دی جس کے دوران میں وہ خاموشی کے ساتھ میرے جواب کا انتظار کرتے رہے۔ اس کے بعد وہاں سے اٹھ کر چلا آیا۔ تین چار دن بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ مجھے شخصیت نہیں سیرت کہنا چاہئے۔ شخصیت ایک بے رنگ سا لفظ ہے۔ سیرت کے لفظ سے نیکی ٹپکتی ہے۔ چنانچہ میں سیرت کو اپنا تکیہ کلام بنا لیا لیکن یہ بھی مفید ثابت نہ ہوا۔ والد کہنے لگے ''کیا سیرت سے تمہارا مطلب چال چلن ہے یا کچھ اور؟‘‘۔میں نے کہا، ''کہ چال چلن ہی کہہ لیجیے‘‘۔ ''تو گویا دماغی اور جسمانی صحت کے علاوہ چال چلن بھی اچھا ہونا چاہئے؟‘‘۔میں نے کہا، ''بس یہی تو میرا مطلب ہے‘‘۔ ''اور یہ چال چلن ہاسٹل میں رہنے سے بہت اچھا ہو جاتا ہے؟‘‘۔میں نے نسبتاً نحیف آواز سے کہا،''جی ہاں‘‘۔''یعنی ہاسٹل میں رہنے والے طالب علم نماز روزے کے زیادہ پابند ہوتے ہیں۔ ملک کی زیادہ خدمت کرتے ہیں۔ سچ زیادہ بولتے ہیں۔ نیک زیادہ ہوتے ہیں‘‘۔میں نے کہا،''جی ہاں‘‘کہنے لگے، ''وہ کیوں؟‘‘اس سوال کا جواب ایک بار پرنسپل صاحب نے تقسیم انعامات کے جلسے میں نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا تھا۔ اے کاش میں نے اس وقت توجہ سے سنا ہوتا۔اس کے بعد پھر سال بھر میں ماموں کے گھر میں ''زندگی ہے تو خزاں کے بھی گزر جائیں گے دن‘‘ گاتا رہا۔ہر سال میری درخواست کا یہی حشر ہوتا رہا۔ لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ ہر سال ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا لیکن اگلے سال گرمیوں کی چھٹی میں پہلے سے بھی زیادہ شد ومد کے ساتھ تبلیغ کا کام جاری رکھتا۔ ہر دفعہ نئی نئی دلیلیں پیش کرتا، نئی نئی مثالیں کام میں لاتا۔ جب شخصیت اور سیرت والے مضمون سے کام نہ چلا تو اگلے سال یہ دلیل پیش کی کہ ہاسٹل میں رہنے سے پروفیسروں کے ساتھ ملنے جلنے کے موقعے زیادہ ملتے رہتے ہیں اور ان ''بیرون ازکالج''ملاقاتوں سے انسان پارس ہو جاتا ہے۔اس سے اگلے سال یہ مطلب یوں ادا کیا کہ ہاسٹل کی آب وہوا بڑی اچھی ہوتی ہے، صفائی کا خاص طور سے خیال رکھا جاتا ہے۔ مکھیاں اور مچھر مارنے کیلئے کئی کئی افسر مقرر ہیں۔ اس سے اگلے سال یوں سخن پیرا ہوا کہ جب بڑے بڑے حکام کالج کا معائنہ کرنے آتے ہیں تو ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ سے فرداً فرداً ہاتھ ملاتے ہیں۔ اس سے رسوخ بڑھتا ہے، لیکن جوں جوں زمانہ گزرتا گیا میری تقریروں میں جوش بڑھتا گیا۔ معقولیت کم ہوتی گئی۔شروع شروع میں ہاسٹل کے مسئلے پر والد مجھ سے باقائدہ بحث کیا کرتے تھے۔ کچھ عرصے بعد انھوں نے یک لفظی انکار کا رویہ اختیار کیا۔ پھر ایک آدھ سال مجھے ہنس کے ٹالتے رہے اور آخر میں یہ نوبت آن پہنچی کہ وہ ہاسٹل کا نام سنتے ہی ایک طنز آمیز قہقہے کے ساتھ مجھے تشریف لے جانے کا حکم دے دیا کرتے تھے۔ان کے اس سلوک سے آپ یہ اندازہ نہ لگائیے کہ ان کی شفقت کچھ کم ہو گئی تھی۔ ہر گز نہیں۔ حقیقت صرف اتنی ہے کہ بعض ناگوار حادثات کی وجہ سے گھر میں میرا اقتدار کچھ کم ہو گیا تھا۔اتفاق یہ ہوا کہ میں نے جب پہلی مرتبہ بی،اے کا امتحان دیا تو فیل ہو گیا۔ اگلے سال ایک مرتبہ پھر یہی واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد بھی جب تین چار دفعہ یہی قصہ ہوا تو گھر والوں نے میری امنگوں میں دلچسپی لینی چھوڑ دی۔ بی،اے میں پے در پے فیل ہونے کی وجہ سے میری گفتگو میں ایک سوز تو ضرور آ گیا تھا لیکن کلام میں وہ پہلے جیسی شوکت اور میری رائے کی وہ پہلے جیسی وقعت اب نہ رہی تھی۔میں زمانہ طالب علمی کے اس دور کا حال ذرا تفصیل سے بیان کرنا چاہتا ہوں، کیوں کہ اس سے ایک تو آپ میری زندگی کے نشیب وفراز سے اچھی طرح واقف ہو جائیں گے اور اس کے علاوہ اس سے یونیورسٹی کی بعض بے قاعدگیوں کا راز بھی آپ پر آشکار ہو جائے گا۔

حکایات سعدیؒ:بھید

حکایات سعدیؒ:بھید

ایک بادشاہ نے اپنے غلاموں سے ایک راز کی بات کہی اور انہیں منع کیا کہ اس بات کو کسی دوسرے پرظاہر نہ کرنا۔ایک سال تک تو خیریت رہی پھر غلاموں میں سے ایک نے کسی دوست کے سامنے بھید ظاہر کر دیا اور اسے تاکید کی کہ یہ کسی دوسرے کو نہ بتانا۔ اس کے دوست نے بھی اسی طرح کسی دوسرے کو یہ بات بتا دی۔ آہستہ آہستہ بات ہر طرف پھیل گئی۔ بادشاہ کو علم ہوا تو اس نے غضب ناک ہو کر حکم دیا کہ ان غلاموں کے سرقلم کردو۔ ان میں سے ایک نے امان چاہی اور عرض کی کہ اے بادشاہ اپنے غلاموں کو قتل نہ کر کہ اس خطا کی ابتدا تجھی نے کی ہے۔ تو نے شروع میں چشمے کا منہ کیوں بند نہ کیا۔ جب وہ سیلاب بن گیا تو اس کے آگے بند باندھنے کا کیا فائدہ۔ تو نے جب تک بات منہ سے نہیں نکالی تیرا اس پر قابو ہے۔ جب منہ سے نکال دی تو وہ تیرے اوپر قابو پا لے گی۔

آج تم یاد بے حساب آئے!جاوید کوڈو پستہ قد کے بڑے اداکار (2025-1960ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!جاوید کوڈو پستہ قد کے بڑے اداکار (2025-1960ء)

٭...7جنوری 1960ء کو پیدا ہوئے، اصل نام محمد جاوید تھااور وہ جاوید کوڈو کے نام سے مشہور ہوئے۔٭...وہ پیدائشی طور پر بونا پن کے عارضہ میں مبتلا تھے۔٭...فنکارانہ کریئر کا آغاز 1981ء میں ڈرامہ ''سودے باز‘‘ سے کیا۔٭...پی ٹی وی کی ڈرامہ سیریل ''خواہش‘‘ میں اپنے کردار کی وجہ سے شہرت پائی۔٭...سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والی بچوں کیلئے بنائی گئی ڈرامہ سیریز ''عینک والاجن‘ ‘میں بھی ان کے کردار کو بہت پسند کیا گیا۔٭...جاوید کوڈو 45 سال میڈیا انڈسٹری کے ساتھ وابستہ رہے۔٭... انھوں نے 150 سٹیج ڈراموں، فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں کام کیا۔٭...جن فلموں میں انہوں نے اداکاری کے جوہر دکھائے ان میں ''ہیرو، باکسر، جادو نگری، دیساں دا راجہ، پگڑی سنبھال جٹا‘‘ نمایاں ہیں۔٭...زندگی کے آخری کئی برس صحت کے مختلف مسائل کا شکار رہے۔ 2016 میں دماغ کی شریان میں خرابی کے باعث ہسپتال میں داخل رہے، بعد ازاں ٹریفک حادثے میں کولہے کی ہڈی ٹوٹنے سے بستر سے لگ گئے۔اہل خانہ کے مطابق وہ شوگر، بلڈ پریشر اور دیگر پیچیدہ امراض میں مبتلا تھے۔٭...ان کا انتقال بیماری کے ساتھ ایک طویل جنگ کے بعد 13 اپریل 2025ء کو لاہور میں ہوا۔٭...ان کا بیٹاشیرا بھی اداکاری سے وابستہ ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

سانحہ جلیانوالہ باغ13 اپریل 1919ء کو امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں برطانوی فوج نے ایک نہایت سفاکانہ کارروائی کرتے ہوئے نہتے اور پُرامن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ یہ لوگ رولٹ ایکٹ کے خلاف احتجاج کیلئے جمع ہوئے تھے۔ جنرل ڈائر کے حکم پر فوجیوں نے بغیر کسی وارننگ کے گولیاں برسائیں، جس کے نتیجے میں 379 افراد شہید جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس المناک واقعے نے برصغیر میں آزادی کی تحریک کو مزید تقویت دی اور برطانوی ظلم و بربریت کا چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔''اپالو 13‘‘حادثہ 1970ء میں آج کے روز ناسا کو اس وقت ایک خلائی حادثے کا سامنا کرنا پڑا، جب ''اپالو 13‘‘ مشن کے دوران آکسیجن ٹینک پھٹ گیا۔ جس نے کمانڈ ماڈیول کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے نتیجے میں خلابازوں کو آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوئی،بجلی اور پانی کی کمی ہو گئی جبکہ چاند پر اترنے کا منصوبہ بھی ترک کرنا پڑا۔ ناسا کے خلانوردوں کو ''ہوسٹن، ہمیں مسئلہ ہے‘‘ (Houston we have a problem) کہنا پڑا۔ یہ مشن بعد میں ایک کامیاب ریسکیو مشن کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ویانا پر سوویت قبضہ1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے آخری مراحل میں سوویت یونین اور بلغاریہ کی افواج نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا پر قبضہ کر لیا۔ یہ کارروائی نازی جرمنی کے خلاف اتحادی طاقتوں کی بڑی کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔ شدید لڑائی کے بعد شہر جرمن افواج کے کنٹرول سے نکل گیا، جس سے یورپ میں جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ ویانا کی فتح نے نہ صرف جرمنی کی دفاعی پوزیشن کو کمزور کیا بلکہ مشرقی یورپ میں سوویت اثر و رسوخ کو بھی مضبوط بنایا، جو بعد ازاں سرد جنگ کے تناظر میں اہم ثابت ہوا۔سوویت جاپان معاہدہ1941ء میں آج کے دن سوویت اور جاپان کے درمیان امن معاہدہ طے پایا، جسے ''جاپان سوویت عدم جارحیت کا معاہدہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ جاپان اور سوویت سلطنت نے سرحدی جنگ کے اختتام کے دو سال بعد 13 اپریل 1941ء کو اس معاہدے پر دستخط کئے۔ 1945ء میں عالمی جنگ کے آخر میں سوویت یونین نے معاہدہ ختم کر دیا اور جاپان کے خلاف اتحادیوں سے مل گیا۔ٹرانزٹ سسٹم1960ء میں آج کے دن ٹرانزٹ سسٹم کو آپریشنل کیا گیا۔ جسے بحری نیوی گیشن سیٹلائٹ سسٹم بھی کہا جاتا ہے۔ ریڈیو نیوی گیشن سسٹم کو بنیادی طور پر امریکی بحریہ نے اپنی پولارس بیلسٹک میزائل آبدوزوں کو مقام کی درست معلومات فراہم کرنے کیلئے استعمال کیا تھا۔ یہ بحریہ کے سطحی جہازوں کے ساتھ ساتھ ہائیڈروگرافک سروے اور جیوڈیٹک سروے کیلئے نیوی گیشن سسٹم کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا۔ لاپوا فیکٹری دھماکہ13 اپریل 1976ء کو گولہ بارود بنانے والی فیکٹری لاپوا، فن لینڈ میں دھماکہ ہوا۔اسے فن لینڈ کی تاریخ میں بدترین صنعتی تباہی سمجھا جاتا ہے۔ اس ناخوشگوار واقعہ میں 40 مزدور ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے۔ دھماکہ کے نتیجے میں فیکٹری کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ دھماکے کی آواز 20 کلومیٹر دور تک سنی گئی۔ زخمی ہونے والے زیادہ افراد فیکٹری کے اندر موجود تھے ۔