ذوالفقار علی بھٹو ایک عظیم سیاستدان
اسپیشل فیچر
ذوالفقار علی بھٹو ایک اعلیٰ درجہ کے سیاستدان تھے اور وہ اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فوراً راست اقدامات کرتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کے ٹوٹنے کے بعد یہ تجزیہ کیا کہ اب پاکستان کو نیوکلیئر پاور بنانے سے ہی دوبارہ طاقت کا توازن اس خطے میں قائم ہو سکتا ہے چنانچہ انہوں نے 1972ء میں ملتان میں پاکستان کے سائنسدانوں کی ایک خفیہ کانفرنس بلائی اور انکو پاکستان کو نیو کلیئر پاور بنانے کی قومی ذمہ داری سونپی۔ایک نیوکلیئر پاکستان پر جارحانہ عزائم رکھنے والی طاقت بری نظر سے دیکھنے تک کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ شہید بینظیر بھٹو نے پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی فراہم کی۔ نیوکلیئر ہتھیار ڈلیوری سسٹم کے بغیر وہ دفاعی مقاصد حاصل نہیں کر سکتے جسکے لیے وہ بنائے گئے تھے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو نے شکست خورہ قوم کو مایوسی اور نا امیدی کے اندھیروں سے نکال کر روشن مستقبل کی نوید سنائی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک نیا پاکستان بنائیں گے جو کہ جمہوری، خوشحال، مستحکم، مضبوط اور امن پسند ملک ہو گا۔اسلامی سربراہی کانفرنس کا لاہور میں انعقاد پاکستانیوں کے اعتماد کو آسمان کی بلندیوں تک لے گیا۔ تمام مسلم دنیا کے سربراہان کا لاہور میں اسلامی کانفرنس میں شریک ہونا ایک سحر انگیز منظرتھا جو امت مسلمہ کے اتحاد اور مشترکہ مقاصد کے حصول کا مظہر تھا۔ لاہور کی اسلامی سربراہی کانفرنس نے دنیا کے بڑے بڑے ممالک میں ایک انجانے خوف کی لہر دوڑ گئی۔ مسلم دنیا کے سستے اور بلا تعطل تیل کی سپلائی سے دنیا کی معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔ اگر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ آجائے تودنیا کی معیشت ہفتوں میں تباہ ہو سکتی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے مسلمان ملکوں کو مشورہ دیا کہ وہ تیل کو بطور ہتھیار استعمال کریں جس سے انکی آمدنی میں بے پناہ اضافہ ہونے کے علاوہ دنیا انکی عزت کرنے پر مجبور ہو جائیگی۔ اس مشورے پر عمل کرنے سے ان ممالک کو وہی سیاسی اور معاشی فوائد اسی تناسب سے حاصل ہوئے جسکی ذوالفقار علی بھٹو نے نشاندہی کی تھی۔ انکا یہ کردار نئی نو آبادیاتی طاقتوں کو پسند نہیں آیا اور اس لیے انہوں نے انہیں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا اور صحیح وقت کا انتظار کرنے لگے۔چنانچہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو دونوں کی وژن نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔ اب اگر ہندوستان اور پاکستان میں امن برقرار ہے تو صرف اور صرف پاکستان کے نیوکلیئر طاقت ہونے کی وجہ سے ہے۔ اگر پاکستان نیوکلیئر طاقت نہ ہوتا تو ہندوستان پاکستان کو ایک طفیلی ریاست بنانے میں شاید کامیاب ہو جاتا۔ نیو کلیئر بلیک میل غلامی سے بھی بد تر ہے خاص طور پر جب یہ ہندوستان کی طرف سے ہو۔مغربی طاقتیں ذوالفقار علی بھٹو کے خون کی پیاسی تھیں کیونکہ وہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو ختم کرنے پر بضد تھیں۔ ہینری کسنجر نے کہا تھا کہ بھٹو صاحب اگر آپ نے نیوکلیئر پروگرام ختم نہ کیا تو عبرت ناک انجام کے لیے تیار ہو جائیں۔ انہوں نے جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں ان کا قتل کروا دیا لیکن ان کا پیغام اور نیو کلیئر پروگرام کا کارنامہ رہتی دنیا تک یاد رہے گا۔انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر پاکستان کے عوام کو غلامی کے طوق سے بچایا۔ ایسا صرف عظیم لیڈر ہی کرتے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی فورم پر کشمیریوں کے حقوق کی زبردست وکالت کی ۔انہوں نے ہندوستان کی دھمکی آمیز مخالفت کے باوجود کشمیریوں کی حریت کانفرنس کو کانسا بلانکا میں اسلامی ممالک کی تنظیم میں ممبر شپ دلوائی۔ پھر انہوں نے جرات مندانہ اقدام کیا اور 5 فروری کو ہر سال کشمیر ڈے کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اس دن تمام دنیا میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے اور ہندوستان کی حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری کروائے تا کہ کشمیری اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے دنیا میں ہندوستان کی سیکیورٹی فورسز کے جبرو استبداد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ضمن میں اس ملک کی سیکولرز م اور جمہوریت کو خوب ایکسپوز کیا۔ محترمہ نے آزاد کشمیر کے دورے کے دوران فرمایا تھا کہ آزادی کا نعرہ مقبوضہ کشمیر میں بم دھماکوں سے زیادہ دور تک سنائی دیتا ہے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ہندوستان سے پاکستانی علاقہ واپس لینے کے علاوہ 90 ہزار پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے بعد ملک کے اندرونی محاذ پر بھی توجہ مرکوز رکھی۔ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج آئین پاکستان کے بنانے کا تھا جو کہ عوامی امنگوں کی عکاسی کرتا ہو۔ یہ چیلنج 1971ء کے واقعات کے بعد اور بھی زیادہ مشکل تھا لیکن ذوالفقار علی بھٹو چیلنجوں اور خطرات سے گھبرانے والے لیڈر نہیں تھے۔ انہوں نے سیاسی قیادت اور ہر شعبہ زندگی کے طبقات سے مشاورت کا سلسلہ شروع کیا۔ اسکے بعد انہوں نے پاکستانی قوم کو متفقہ آئین 1973ء کا ایک انمول تحفہ پیش کیا۔ یہ آئین پاکستان کے عوام کے درمیان ایک مضبوط رشتے کے طور پر قائم ہے جسکی وجہ سے وفاق پاکستان قائم و دائم ہے۔ اسکے باوجود کہ ماضی کے ڈکٹیٹروں نے اس کا بری طرح حلیہ بگاڑ دیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو آئین پاکستان کو بنانے اور اسکی بحالی کا کریڈٹ جاتا ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے تو کمال دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو رضاکارانہ طور پر منتقل کر دئیے تا کہ پارلیمنٹ مضبوط ہو نہ کہ ایوان صدر۔ یادرہے کہ ماضی کے صدور نے 58(2) b کا استعمال کرتے ہوئے منتخب حکومتوں کو اپنی مرضی سے گھر بھیج دیا اسکے باوجود کہ انکے پاس نیشنل اسمبلی میں اکثریت تھی۔ آصف علی زرداری کے اس تاریخی فیصلے سے اب کوئی صدر منتخب حکومتوں کو نہ تو بلیک میل کر سکے گا اور نہ ہی انکی بساط لپیٹ سکے گا۔ پچھلی پیپلزپارٹی کی حکومت کی دوررس اصلاحات اور تاریخی فیصلوں کا ذکر نہ کرنا مناسب نہیں ہو گا جو کہ درج ذیل ہیں:۱۔ صوبوں کو اٹھارویں ترمیم کے تحت خود مختاری دی گئی اور اٹھارہ وزارتیں صوبوں کو منتقل ہوئیں۔۲۔ ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے محاصل میں بے پنا اضافہ ہوا۔۳۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کا اختیار پارلیمنٹ کو دے دیا گیا۔۴۔ سروسز چیف کی تعیناتی کا اختیار بھی پارلیمنٹ کو دے دیا گیا۔۵۔ نگران حکومت اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا اختیار پارلیمنٹ کو دیا گیا تا کہ ملک میں آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے غریبوں، کسانوں، ہاریوں، ریڑھی والوں ، کسانوں اور مزدوروں کے ساتھ رشتہ جوڑا۔ انہوں نے انکو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے حقوق لینے کا حوصلہ دیا۔ انہوں نے پاکستان کے لوگوں کو حقوق رائے دہی دے کر سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر سڑکوں پر لے آئے۔ اس وقت سے ممبران اسمبلی براہ راست انکے ووٹوںسے منتخب ہوتے ہیں جبکہ اس سے پہلے بی ڈی ممبرز کے ذریعے اسمبلیوں کے ممبر منتخب ہوتے تھے جو کہ عوامی سیاسی حقوق کے خلاف کھلم کھلا سازش تھی۔ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستانی شہریوں کو پاسپورٹ کے اجراء کے ضابطے کو آسان بنایا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں آئل بوم کی وجہ سے وہاں لیبر کے بے شمار کھپت کے مواقع تھے۔ پاسپورٹ کے اجراء آسان ہونے سے لاکھوں افراد مشرق وسطیٰ میں گئے اور اربوں ڈالر ملک میں آنا شروع ہوئے جس سے پاکستان کی معیشت ڈوبنے سے بچی رہی۔ یہی ترسیلات اب بھی ملکی معیشت کو ڈوبنے سے بچا رہی ہیں۔اس سال امید ہے کہ ترسیلات کا حجم 15 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ یہ سب ذوالفقار علی بھٹو کے اس فیصلے کی مرہون منت ہے جو کہ انہوں نے پاسپورٹ کی اجراء کی مد میں کیا تھا۔پاکستان پیپلز پارٹی نے مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے جتنے کام کئے وہ کسی دوسری حکومت کو کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ پیپلز پارٹی مزدوروں اور غریبوں کی نمائندہ جماعت ہونے کی شہرت رکھتی ہے اور اس نے انکے لیے تاریخی کام کئے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ٹریڈ یونین کو بحال کرنے کے علاوہ (Collective Bargaining) کا میکنزم بھی بنایا تا کہ آجر اور اجیر کے مفادات کے تحفظ کو بیک وقت یقینی بنایا جاسکے۔ اسکے علاوہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے مزدوروں کو 85پبلک کارپوریشنوں میں بینظیر ایمپلائیز سٹاک آپشن سکیم (Benazir Employees Stock Option Scheme)کے تحت 12.5فیصد تک حصص کا حصہ دار بھی بنایا۔پیپلز پارٹی نے مزدوروں اور سر کاری ملازمین کی 135فیصد تک تنخواہیں بڑھائیں جو کہ تمام دوسری حکومتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے مزدور وں کی دوان ڈیوٹی ہلاکت کا معاوضہ ڈیڑھ لاکھ سے بڑھا کر پانچ لاکھ کیا اور انکی بیٹیوں کی شادی کے لیے مالی معاونت پچاس ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے تک کر دی لیکن اسمیں دو بیٹیوں کی حد کو بھی ختم کردیا گیا۔ رہائشی سہولتوں کی فراہمی کے لیے پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران جتنے مزدوروں کے لیے رہائشی فلیٹس اور کالونیاں بنائی گئیں وہ بھی ایک ریکارڈ ہے۔پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے ہزاروں برطرف کئے گئے سرکاری ملازمین کو نہ صرف بحال کیا بلکہ لاکھوں عارضی ملازمین کو مستقل کیا جس سے ان کو غیر یقینی کے عذاب سے نجات ملی۔یادر ہے کہ پچھلی حکومت نے ہزاروں سرکاری ملازمین کو سیاسی وابستگیوں کا الزام لگا کر نوکریوں سے نکال دیا تھا۔ پیپلز پارٹی بطور اپوزیشن کے حکومت کی نجکاری کی پالیسی کو عملی جامہ اسوقت تک نہیں پہنانے دیگی جب تک مزدوروں کے روزگار کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔پیپلز پارٹی کسانوں اور ہاریوں کی جماعت ہونے کی حیثیت سے اس نے بے زمین کاشتکاروں، مزارعوں اور ہاریوں کے درمیان زرعی اصلاحات کے ذریعے لاکھوں ایکڑ زمین تقسیم کی ۔ صرف بھٹو خاندان کی دو لاکھ زرعی زمین زرعی اصلاحات کے تحت تقسیم ہوئی۔ دوسری حکومتیں بھی زرعی اصلاحات کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن وہ سیراب کے مترادف تھیں۔کیونکہ بڑے زمینداروں نے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے زمینیں اپنے رشتہ داروں اور ورثاء کے درمیان پہلے ہی تقسیم کر دیں جس سے زرعی اصلاحات کی حیثیت ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں تھی۔پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے پہلے ہی سال گندم کی سپورٹ پرائس 625 روپے فی 40کلو گرام سے بڑھا کر 950روپے بڑھا دی جسکے نتیجے میں پاکستان پہلے ہی سال گندم درآمد کرنے والے ملک کی بجائے گندم بر آمد کرنیوالا ملک بن گیا۔ علاوہ ازیں کپاس کی سپورٹ پرائس تقریباً 4500روپے تھی جبکہ باسپتی چاول کی قیمت 2000روپے کے لگ بھگ تھی جسکی وجہ سے دیہی معیشت میں قابل قدر خوشحالی آئی۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق صرف 2010-11کے مالی سال میں دیہی معیشت کو 300ارب روپے سپورٹ پرائس کی مد میں گئے۔ اسکی وجہ سے دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف منتقلی خاصی کم ہو گئی۔پیپلز پارٹی کی حکومت کسانوں اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کا قیام عمل میںلائی ۔ اسکی بنیادی ذمہ داری یہ تھی کہ مارکیٹ میں گندم، کپاس ، چاول اور چینی کی قیمتوں میں استحکام پیدا کرے تا کہ کسانوں اور صارفین مارکیٹ کے اتار چڑھائو سے متاثرنہ ہوں لیکن اس حکومت نے ٹریڈنگ کارپوریشن کو وقت پر اس کا بنیادی کام کرنے کی ہدایات جاری نہیں کیں۔ اب گندم ، کپاس، چاول اور گنے کی قیمتیں مارکیٹ میں اتنی گر گئی ہیں کہ جس سے کسانوں کا معاشی قتل عام ہوا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی خواتین اور اقلیتوں کو اپنا حلقہ سمجھتی ہے۔ اسکی حکومتوں نے انکی فلاح وبہبود کے لیے سنگ میل اقدامات اٹھا کر اس دعوے کو ثابت کیا ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اقلیتوں کے تحفظ اور فلاح کے لیے ایک نئی وزارت بنائی۔ بلاول بھٹو کا اعلان کہ وہ ایک غیر مسلم کو پاکستان کا وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں، اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت انکے حقوق کے لیے کس حد تک جانے کو تیار ہے۔ پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے اقلیتوں کے لیے سینیٹ میں 4 نشستیں مخصوص کر کے ایک ایسا سرپرائز دیا تھا جسکی اقلیتیں سوچ بھی نہیں سکتی تھیں۔ اسکے علاوہ 11 اگست کو اقلیتوں کے دن کے طور پر منانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ یاد رہے کہ 11 اگست کی اقلیتوں کے حقوق کے ضمن میں خاص اہمیت ہے۔ اس دن قائداعظم محمد علی جناح نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہونگے۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دور حکومت میں اہل اور قابل خواتین کو بڑے بڑے عہدوں پر فائز کیا۔ ان میں اعلیٰ سفارتی، عدالتی اور سرکاری محکموں کے اعلیٰ عہدے شامل تھے۔انہوںنے فرسٹ ویمن بینک کا بھی اجراء کیا تا کہ خواتین معاشی میدان میں بھی اپنا قومی کردار ادا کریں۔ پچھلی حکومت کے زمانے میںڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو قومی اسمبلی کا سپیکر منتخب کیا تھا۔ شیری رحمن امریکہ میں پاکستان کی سفیر تھیں۔ اسکے علاوہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا جسکے تحت صرف خاندان کی خاتون سربرا مالی امداد حاصل کرنے کی مجاز تھیں۔ ذرا غور کیجئے کہ 70 لاکھ خاندانوں کو اس پروگرام کے تحت مالی امداد مل رہی تھی اور 70 لاکھ خواتین کو اس پروگرام کے تحت بااختیار بنایا گیا۔ یہ خواتین کے سوشل سٹیٹس کو بڑھانے کے لیے ایک اور اہم اور بڑا قدم تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے خواتین کے خلاف معاشرے میں ظالم روایات کے استعمال کی روک تھام کے لیے زبردست قانون سازی کی جسمیںاینٹی ویمن پریکٹسز ایکٹ(2010)، خواتین کو کام کرنے والی جگہوں پر ہراسمنٹ اور گھروں میں تشدد کے خلاف قانون (2010) شامل ہیں۔ ان قوانین کے تحت کارو کاری ، قرآن کے ساتھ شادی، عورتوں کی وراثت سے محرومی اور تیزاب پھینکنا قانوناً جرم قرار دیا گیا۔ یہ سب اقدامات پیپلز پارٹی نے خواتین کے تحفظ کی خاطر کئے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو قائد اعظم کے بعد پاکستان کے عظیم لیڈر تھے جنہوں نے عوام کی خاطر سیاست کی اور اپنی جان تک کی پرواہ نہ کی۔ ایسے لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے مظلوموں، محکوموں اور غریبوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور استحصالی نظام اور انکے سرپرستوں کے خلاف کامیاب جدوجہد کی۔ انکو جتنا بھی خراج عقیدت پیش کیا جائے کم ہے۔ انکو خراج عقیدت پیش کرنے کا حسین طریقہ یہ ہے کہ پاکستان کو امن اور سلامتی کا گہوارہ بنایا جائے جہاں پر ہر مذہب، نسل اور رنگ کے لوگ پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر کاربند ر ہتے ہوئے اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگیاں گزاریں۔پیپلز پارٹی اس منزل کے حصول کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔٭…٭…٭