آج کا دن

آج کا دن

اسپیشل فیچر

تحریر :


ایران: ہولناک زلزلہ
20جون 1990ء کو ایران کے شمالی علاقے میں آنے والے زلزلے نے شدید تباہی مچائی۔ ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 7.4 ریکارڈ کی گئی۔ اس ہولناک زلزلے کے نتیجے میں تقریباً 35 ہزار سے 50 ہزار افراد جاں بحق اور 60 ہزار سے ایک لاکھ تک زخمی ہوئے۔ ہزاروں عمارتیں منہدم ہو گئیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے۔
خلائی مشن ایس ٹی ایس 78
1996ء میں آج کے روز اسپیس شٹل کولمبیا نے اپنے مشن ایس ٹی ایس 78 کے تحت خلاء کیلئے پرواز کی۔ اس مشن کا مقصد اسپیس لیب میں حیاتیاتی علوم اور مائیکرو گریویٹی کے ماحول پر مختلف سائنسی تجربات انجام دینا تھا۔ سائنسدانوں نے انسانی جسم، پودوں اور دیگر جانداروں پر خلائی ماحول کے اثرات کا مطالعہ کیا۔
پہلی تجارتی ٹیلی فون سروس
20جون 1877ء کو الیگزینڈر گراہم بیل نے کینیڈا میں دنیا کی پہلی تجارتی ٹیلی فون سروس انسٹال کی۔یہ پہلا موقع تھا جب ٹیلی فون کی سہولت کو عام عوام کیلئے کمرشل سطح پر شروع کیا گیاتھا۔ٹیلی فون سروس کا آغاز کرنے کیلئے اس کو کئی تجرباتی مراحل سے گزارکر اس میں موجود خامیوں کودور کیا۔
ٹروجن کی دریافت
20جون1990ء کو پہلا یوریکا مریخ ٹروجن 5261 دریافت ہوا۔اسے ڈیوڈ لیوی اور ہنری ہولٹ نے پالومر آبزرویٹری میں دریافت کیا۔ اس کے مشاہدے سے معلوم ہوا کہ اس کا مدار مستحکم ہے۔یہ ٹائپ اے کا ایسٹراؤڈ ہے جس کا رنگ تھوڑا زرد ہے اوریہ مریخ کے مدار میں مستحکم حالت میں موجود ہے اس میں ہی چکر لگاتا رہتا ہے۔
ڈیٹرائٹ ہنگامہ آرائی
مشی گن میں 20 جون 1943ء کو اس وقت ہنگامہ آرائی شروع ہوئی جب شہر میں افواہ پھیلی کہ گوروں کے ہجوم نے ایک سیاہ فام ماں اور بچے کو دریائے ڈیٹرائٹ میں پھینک دیا ہے۔جب یہ خبر شہر میں پھیلی تو سیاہ فام افراد نے انتقامی کارروائی کرتے ہوئے سفید فام لوگوں کی املاک کو لوٹنا اور تباہ کرنا شروع کر دیا ۔ یہ سلسلہ دو دن جاری رہا ۔
احمد پاشا کی تقرری
20جون 1652ء میں طرہونجو احمد پاشا کو سلطنت عثمانیہ کا گرینڈ وزیر مقرر کیا گیا۔ وہ عثمانی سلطنت کے ان ممتاز سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مالی اصلاحات اور حکومتی نظم و نسق کو بہتر بنانے کیلئے اہم اقدامات کئے۔ اپنے دورِ وزارت میں انہوں نے ریاستی اخراجات میں کمی اور خزانے کی بحالی کی کوشش کی۔ تاہم درباری مخالفت کے باعث ان کا دورِ اقتدار مختصر ثابت ہوا۔
تاریخی مذہبی اجتماع
1926ء میں 28ویں بین الاقوامی یوکرسٹک کانگریس کا آغاز امریکی شہر شکاگو میں ہوا۔ یہ رومن کیتھولک چرچ کا ایک اہم عالمی مذہبی اجتماع تھا، جس میں دنیا بھر سے مذہبی رہنما، علماء اور عقیدت مند شریک ہوئے۔ افتتاحی جلوس میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی، جس سے اس تقریب کی مقبولیت اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چاند پر قدم رکھنے والا پہلا برطانوی کون ہوگا؟

چاند پر قدم رکھنے والا پہلا برطانوی کون ہوگا؟

ٹم پیک نے خاتون خلاء باز روزمیری کوگن کو مضبوط امیدوار قرار دے دیاانسانی تاریخ میں چاند ہمیشہ سے تجسس، حیرت اور جستجو کی علامت رہا ہے۔ 1969ء میں جب انسان نے پہلی مرتبہ چاند کی سطح پر قدم رکھا تو یہ کارنامہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی عظیم ترین کامیابیوں میں شمار ہوا۔ نصف صدی گزرنے کے باوجود چاند آج بھی خلائی تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے اور مختلف ممالک اپنے خلا بازوں کو وہاں بھیجنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اسی تناظر میں یہ سوال دلچسپی کا باعث بن گیا ہے کہ چاند پر قدم رکھنے والا پہلا برطانوی کون ہو گا؟ برطانیہ کے معروف خلا باز ٹم پیک (Tim Peake) نے اس حوالے سے اپنی رائے دیتے ہوئے پیشگوئی کی ہے کہ برطانوی خلا باز روزمیری کوگن (Rosemary Coogan) آئندہ دس برس کے دوران یہ تاریخی اعزاز حاصل کر سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ نہ صرف برطانیہ بلکہ عالمی خلائی تحقیق کی تاریخ میں بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ناسا نے اپنے متنازعہ ''آرٹیمس III‘‘ مشن کے مکمل مردانہ عملے کا اعلان کر دیا ہے، اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ چاند پر قدم رکھنے والا اگلا انسان کون ہو گا؟ اگرچہ 2029ء میں متوقع ''آرٹیمس IV‘‘ مشن کے ذریعے چاند پر اترنے والا عملہ غالباً مکمل طور پر امریکی خلا بازوں پر مشتمل ہو گا، تاہم برطانوی خلا باز بھی اس دوڑ میں زیادہ پیچھے نہیں ہوں گے۔ اب تجربہ کار برطانوی خلا باز ٹم پیک نے اس شخصیت کا نام بتایا ہے جس کے بارے میں ان کے خیال میں وہ چاند پر قدم رکھنے والی پہلی برطانوی بن سکتی ہیں۔ ان کے مطابق شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی خلا باز روزمیری کوگن اس اعزاز کے حصول کیلئے برطانیہ کی سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔میجر ٹم پیک کا کہنا ہے کہ اگر 2030ء تک کوئی یورپی خلا باز پہلی مرتبہ چاند پر پہنچا تو ہم خود کو خوش قسمت سمجھیں گے، اور اگر مجھے شرط لگانی پڑے تو میں کہوں گا کہ اس کا تعلق غالباً جرمنی یا فرانس سے ہو گا۔ لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ 2030ء کی دہائی کے وسط تک کسی برطانوی خلا باز کو چاند پر دیکھنے کے ہمارے امکانات کافی روشن ہیں۔ یہ کوئی نیا خلا باز بھی ہو سکتا ہے، یا پھر روز (روزمیری کوگن) جیسی کوئی شخصیت، جو شاید اس سے پہلے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر چھ ماہ کا مشن مکمل کر چکی ہو۔ اگر انہیں 2030ء کے آس پاس یہ مشن مل جاتا ہے تو پھر وہ 2035ء کے قمری مشن کیلئے پوری طرح تیار ہوں گی۔روزمیری کوگن نے 2019ء میں سوسکس یونیورسٹی سے فلکیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد وہ فرانسیسی خلائی ادارے CNES میں شامل ہو گئیں۔ 2022ء میں انہیں ''یورپیئن سپیس ایجنسی ‘‘(European Space Agency) کی جانب سے خلا باز امیدوار منتخب کیا گیا، جبکہ 2024ء میں وہ باقاعدہ طور پر سند یافتہ خلا باز بن گئیں۔اس طرح وہ یورپی خلائی ایجنسی کے اہل خلا بازوں کے اس گروپ کا حصہ ہیں جسے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مشنز کیلئے منتخب کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ ڈاکٹر کوگن کو ابھی تک خلا میں سفر کا عملی تجربہ حاصل نہیں ہوا، تاہم جب تک برطانیہ کو کسی قمری مشن میں شمولیت کا موقع ملے گا، تب تک وہ اس ذمہ داری کیلئے کہیں زیادہ تیار ہو سکتی ہیں۔برطانوی خلا باز ٹم پیک کا کہنا ہے کہ یورپی خلائی ایجنسی کی ہماری پیشہ ور خلا باز روزمیری کوگن جلد ہی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے طویل المدتی عملے کے رکن کے طور پر اپنی باری کی منتظر ہیں۔مجھے یقین ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی ریٹائرمنٹ سے پہلے انہیں ایک طویل المدتی خلائی مشن ضرور مل جائے گا۔اگر ڈاکٹر کوگن ناسا کی جانب سے کسی برطانوی شراکت دار کی تلاش شروع ہونے تک خلائی سفر کا عملی تجربہ حاصل کر لیتی ہیں تو ممکن ہے کہ وہ واحد تجربہ کار برطانوی خلا باز ہوں جو قمری مشن کیلئے اہل قرار پائیں۔چاند پر کون کون جا چکا ہے؟21 جولائی 1969ء کو انسان نے پہلی مرتبہ چاند کی سرزمین پر قدم رکھا اور یوں خلائی تحقیق کا ایک نیا باب رقم ہوا۔ آج تک صرف بارہ خوش نصیب انسان چاند کی سطح پر چلنے کا اعزاز حاصل کر سکے ہیں۔ ان بہادر خلا بازوں نے نہ صرف انسانی جستجو اور حوصلے کی نئی مثال قائم کی بلکہ کائنات کے اسرار و رموز کو سمجھنے کی راہ بھی ہموار کی۔1 اور 2: ''اپالو 11‘‘( 21 جولائی 1969ء)نیل آرمسٹرانگ نے تاریخ رقم کرتے ہوئے چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے انسان ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے بعد ان کے ساتھی بز آلڈرن(Buzz Aldrin)نے بھی چاند پر قدم رکھا۔3 اور 4: ''اپالو 12‘‘( 19 اور 20 نومبر 1969ء)پیٹ کونراڈ(Pete Conrad) اور ایلن بین (Alan Bean)اپالو 12 مشن کے دوران چاند پر چلنے والے خلا باز تھے۔اپالو 12 کے عملے کو اس وقت غیرمعمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ان کا سیٹرن فائیو راکٹ پرواز کے فوراً بعد دو مرتبہ آسمانی بجلی کی زد میں آ یا۔5 اور 6: ''اپالو 14‘‘( 5 فروری 1971ء)ایلن شیپرڈ (Alan Shepard)اورایجر میچل(Edger Mitchell) ''اپالو 14 مشن‘‘ کا حصہ تھے۔ وہ 31 جنوری 1971ء کو روانہ ہوئے اور چاند کے فرا مورو (Fra Mauro) علاقے میں اترے، جو دراصل اپالو 13 کا اصل ہدف تھا۔7 اور 8: ''اپالو 15‘‘( 31 جولائی 1971ء)ڈیوڈ سکاٹ (David Scott)اور جیمز آئرون(James Irwin) چاند پر اترے اور 2 اگست تک وہاں تقریباً تین دن قیام کیا۔9 اور 10: '' اپالو 16‘‘( 21 اپریل 1972ء)جان ینگ (John Young)اور چارلس ڈیوک(Charles Duke) چاند پر چلنے والے اگلے دو افراد تھے۔جب عملہ چاند کے مدار میں پہنچا تو کمانڈ اور سروس ماڈیول کے مرکزی انجن میں خرابی کے باعث مشن تقریباً منسوخ ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔11 اور 12: ''اپالو 17‘‘ ( 11 دسمبر 1972ء)چاند پر قدم رکھنے والے آخری افراد جین سرنن (Eugene Cernan)اور ہیریسن شمٹ (Harrison Schmitt) تھے۔چاند سے روانگی سے قبل جین سرنن نے اپنی بیٹی ٹریسی کے نام کے ابتدائی حروف چاند کی مٹی پر کندہ کیے۔ چونکہ چاند پر ہوا، بارش یا دیگر موسمی عوامل موجود نہیں جو ان نشانات کو مٹا سکیں، اس لیے توقع کی جاتی ہے کہ یہ حروف بہت طویل عرصے تک وہاں محفوظ رہیں گے۔

پناہ گزینوں کا عالمی دن

پناہ گزینوں کا عالمی دن

انسانی بحران، عالمی ذمہ داری اور امید کی کرنہر سال 20 جون کو دنیا بھر میں پناہ گزینوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان لاکھوں افراد کی مشکلات، قربانیوں اور جدوجہد کو اجاگر کرنا ہے جو جنگ، ظلم، سیاسی عدم استحکام، مذہبی و نسلی تعصب یا قدرتی آفات کے باعث اپنا گھر، شہر اور وطن چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پناہ گزین صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ایسے انسان ہیں جن کی زندگیاں بکھر چکی ہوتی ہیں اور جو ایک محفوظ مستقبل کی تلاش میں دربدر ہوتے ہیں۔آج کی دنیا میں پناہ گزینوں کا بحران ایک سنگین عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں افراد ایسے ہیں جو اپنے وطن سے بے دخل ہو کر دوسرے ممالک یا عارضی کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جو طویل عرصے سے غیر یقینی حالات میں رہنے پر مجبور ہیں۔ شام، افغانستان، یوکرین، سوڈان اور افریقہ کے کئی خطوں میں جاری تنازعات نے اس بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔پناہ گزین کیمپوں کی صورتحال اکثر نہایت کٹھن ہوتی ہے۔ وہاں بنیادی سہولیات کی کمی، صاف پانی کی عدم دستیابی، صحت کے ناکافی انتظامات اور تعلیم کے محدود مواقع پناہ گزینوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ خاص طور پر بچے اور خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ بچے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتے جبکہ خواتین کو تحفظ اور صحت کے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔پناہ گزینوں کیلئے سب سے بڑا چیلنج اپنی شناخت اور وقار کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ جب کوئی فرد اپنا گھر بار چھوڑتا ہے تو وہ صرف جغرافیائی طور پر نہیں بلکہ نفسیاتی اور جذباتی طور پر بھی متاثر ہوتا ہے۔ اپنے وطن، ثقافت اور خاندان سے دوری ایک ایسا درد ہے جو وقت کے ساتھ بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے ادارے، خصوصاً یو این ایچ سی آر (UNHCR)، پناہ گزینوں کی مدد کیلئے مختلف پروگرام چلا رہے ہیں۔ ان کا مقصد نہ صرف فوری امداد فراہم کرنا ہے بلکہ پناہ گزینوں کو دوبارہ باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنانا بھی ہے۔ تاہم وسائل کی کمی اور بڑھتے ہوئے بحران کی وجہ سے یہ کوششیں اکثر ناکافی ثابت ہوتی ہیں۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پناہ گزینوں کا مسئلہ صرف امداد سے حل نہیں ہو سکتا۔ اس کیلئے بنیادی طور پر عالمی سطح پر امن، انصاف اور سیاسی استحکام ضروری ہے۔ جب تک جنگیں اور تنازعات جاری رہیں گے، پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ اس لیے عالمی طاقتوں اور حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور انسانی جانوں کے تحفظ کو اوّلین ترجیح دیں۔میزبان ممالک کا کردار بھی اس بحران میں انتہائی اہم ہے۔ کئی ممالک پناہ گزینوں کو پناہ اور سہولیات فراہم کر کے انسانیت کی بہترین مثال قائم کرتے ہیں، لیکن بعض جگہوں پر امتیازی سلوک اور سخت قوانین پناہ گزینوں کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ممالک انسانی بنیادوں پر یکساں رویہ اختیار کریں اور پناہ گزینوں کو عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع دیں۔تعلیم اور روزگار کے مواقع پناہ گزینوں کی بحالی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ان افراد کو ہنر سیکھنے، تعلیم حاصل کرنے اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ میزبان ملک کی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پناہ گزین بوجھ نہیں بلکہ مواقع بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔پناہ گزینوں کا عالمی دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم بطور عالمی شہری اس بحران کے حل میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہمدردی، رواداری اور تعاون کے جذبات کو فروغ دیں اور متاثرہ افراد کی مدد کیلئے آگے آئیں۔ پناہ گزینوں کا مسئلہ صرف ایک انسانی المیہ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے۔ اس کا حل صرف حکومتوں یا اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر دنیا امن، انصاف اور مساوات کے اصولوں پر عمل کرے تو نہ صرف پناہ گزینوں کا بحران کم ہو سکتا ہے بلکہ ایک بہتر اور محفوظ دنیا بھی تشکیل دی جا سکتی ہے۔پناہ گزینوں کی مدد دراصل انسانیت کی خدمت ہے، اور یہی خدمت ہمیں ایک بہتر اور مہذب معاشرے کی طرف لے جاتی ہے۔

16جون:خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن

16جون:خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن

سمندر پارکارکن،معیشت کے خاموش ہیروہر سال 16 جون کو دنیا بھر میں خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن (International Day of Family Remittances) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان تارکینِ وطن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو اپنے وطن سے دور رہ کر نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں بلکہ اپنے ملکوں کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (IFAD) کے مطابق ترسیلاتِ زر دنیا بھر میں غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ملک عزیزپاکستان کے لیے بھی اس دن کی خاص اہمیت ہے کیونکہ سمندر پار پاکستانی کارکنوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار رکھتی ہیں۔قومی معیشت کا مضبوط سہارااس وقت ایک کروڑ سے زائد پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں۔ ان میں بڑی تعداد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، برطانیہ اور امریکہ میں کام کر رہی ہے۔ ان پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر لاکھوں خاندانوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کے استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔پاکستان کی معیشت کو گزشتہ چند برسوں سے بلند درآمدی بل، بیرونی قرضوں کی ادائیگی، تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ایسے میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر ملک کے لیے ایک مضبوط معاشی ڈھال ثابت ہوئی ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق ترسیلاتِ زر نہ صرف جاری کھاتوں کے خسارے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ روپے کے استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 ء کے پہلے گیارہ ماہ، یعنی جولائی 2025ء سے مئی 2026ء تک، بیرونِ ملک پاکستانی 38.1 ارب ڈالر وطن بھیج چکے ہیں۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ رواں مالی سال ترسیلاتِ زر ایک نیا تاریخی ریکارڈ قائم کر سکتی ہیں۔صرف مئی 2026ء میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے 4.3 ارب ڈالر وطن بھیجے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی مہینے کے دوران موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کی بلند ترین سطح ہے۔ اس سے قبل مارچ 2025 میں 41 کروڑ ڈالر کی ترسیلات ریکارڈ کی گئی تھیں، تاہم مئی 2026ء میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔گزشتہ مالی سال میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے مجموعی طور پر38.3 ارب ڈالر وطن بھیجے تھے جو اُس وقت تک ملکی تاریخ کی بلند ترین سالانہ ترسیلات تھیں۔ تاہم موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا رہی ہے کہ مالی سال 2025-26 ء کے اختتام تک یہ ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔ترسیلاتِ زر کے معاشی اور سماجی فوائدترسیلاتِ زر کے فوائد صرف زرمبادلہ کے ذخائر تک محدود نہیں، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم لاکھوں خاندانوں کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ان رقوم سے بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، رہائش، کاروبار اور دیگر ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں چھوٹے کاروباروں کے فروغ، گھروں کی تعمیر اور غربت میں کمی میں ترسیلاتِ زر کا بنیادی کردار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان ہنرمند افرادی قوت کی بیرونِ ملک برآمد میں اضافہ کرے اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے مزید سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے تو ملک کو سالانہ کئی ارب ڈالر اضافی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ نے بھی قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کی حوصلہ افزائی کی ہے۔سمندر پار پاکستانی قومی ہیروخاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی صرف اپنے خاندانوں کے کفیل نہیں بلکہ ملکی معیشت کے بڑے معاون بھی ہیں۔ ان کی محنت، قربانی اور وطن سے محبت کی بدولت پاکستان کو ہر سال اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کو قومی سرمایہ سمجھتے ہوئے ان کے لیے بہتر سہولتیں، سرمایہ کاری کے مواقع اور مؤثر قونصلر خدمات فراہم کرے۔آج جب پاکستان معاشی استحکام کی جانب سفر کر رہا ہے تو اس میں سمندر پار پاکستانیوں کا کردار کسی بھی شعبے سے کم نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پاکستانی اپنے وطن سے دور رہ کر بھی پاکستان کی معیشت کے خاموش مگر مضبوط ہیرو ہیں۔

کائنات کے پراسرار ذرات کی نئی کہانی

کائنات کے پراسرار ذرات کی نئی کہانی

چین کے تجربے نے سائنس کو کیا بتایا؟کائنات بے شمار راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ انسان صدیوں سے ستاروں، کہکشاؤں اور مادے کی بنیادی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن بعض ایسے ذرات بھی ہیں جو آج تک سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے پراسرار ذرات نیوٹرینو (Neutrinos) ہیں جنہیں اکثر گھوسٹ پارٹیکلز بھی کہا جاتا ہے۔ حال ہی میں چین میں قائم ایک دیوقامت زیرِ زمین تجربہ گاہ نے ان ذرات کے بارے میں اپنے پہلے اہم تحقیقاتی نتائج جاری کیے ہیں جنہیں فزکس کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔وہ ذرات جو ہمارے جسم سے گزر جاتے ہیںنیوٹرینو کائنات کے سب سے زیادہ پائے جانے والے ذرات میں شمار ہوتے ہیں۔یہ ذرات تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ہونے والے عظیم دھماکے یعنی بگ بینگ کے فوراً بعد وجود میں آئے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہر لمحے کھربوں نیوٹرینو ہمارے جسموں سے گزر رہے ہوتے ہیں مگر ہمیں ان کا احساس تک نہیں ہوتا کیونکہ یہ مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتے ہیں۔ان ذرات کا وزن انتہائی کم ہے یہاں تک کہ کئی دہائیوں تک سائنسدان سمجھتے رہے کہ شاید ان کا کوئی وزن ہے ہی نہیں۔ تاہم بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان کا وزن ضرور ہے مگر یہ اتنا کم ہے کہ اسے ناپنا انتہائی مشکل ہے۔نیوٹرینو تین اقسام یا فلیورز میں پائے جاتے ہیں: الیکٹران نیوٹرینو، میون نیوٹرینو اور ٹاؤ نیوٹرینو۔ ان کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ سفر کے دوران یہ ایک قسم سے دوسری قسم میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں، جسے نیوٹرینو آسلیشن کہا جاتا ہے۔چین کا زیرِ زمین تجربہ کیا تھا؟چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر کائی پنگ میں قائم جیانگ مین انڈر گراؤنڈ نیوٹرینو آبزرویٹری (JUNO) دنیا کے جدید ترین سائنسی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ تجربہ گاہ زمین کی سطح سے تقریباً 700 میٹر نیچے تعمیر کی گئی ہے تاکہ کائناتی شعاعوں اور دیگر بیرونی اثرات سے اسے محفوظ رکھا جا سکے۔اس عظیم تجربہ گاہ کے مرکز میں 20 ہزار ٹن مائع پر مشتمل ایک دیوقامت کروی ڈٹیکٹر نصب ہے۔ یہ ڈیٹیکٹر قریبی جوہری بجلی گھروں سے خارج ہونے والے اینٹی نیوٹرینو کو ریکارڈ کرتا ہے۔ جب یہ اینٹی نیوٹرینو ڈیٹیکٹر کے اندر موجود ذرات سے ٹکراتے ہیں تو روشنی کی معمولی سی چمک پیدا ہوتی ہے جسے حساس آلات ریکارڈ کر لیتے ہیں۔یہ روشنی کی معمولی چمک سائنسدانوں کے لیے انتہائی قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے کیونکہ اسی کے ذریعے وہ نیوٹرینو کی خصوصیات اور رویوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔پہلی تحقیق سے کیا انکشاف ہوا؟جونو آبزرویٹری نے گزشتہ سال اگست میں اپنے مشاہداتی کام کا آغاز کیا تھا اور صرف دو ماہ کے ڈیٹا کے بعد اس کے ابتدائی نتائج سامنے آگئے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن اس نے نیوٹرینو کے رویوں کی اب تک کی سب سے درست پیمائشوں میں سے بعض فراہم کی ہیں۔سائنسدان کئی دہائیوں سے ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ تینوں نیوٹرینو اقسام میں سے سب سے زیادہ وزنی کون سی ہے اور سب سے ہلکی کون سی؟ موجودہ معلومات کے مطابق دو نیوٹرینو تقریباً ایک جیسا وزن رکھتے ہیں جبکہ تیسرا ان سے مختلف ہے، مگر ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا دو بھاری ہیں اور ایک ہلکا ہے یا معاملہ اس کے برعکس ہے۔JUNO کے ابتدائی نتائج نے اس سوال کا جواب تو نہیں دیا لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ تجربہ گاہ مستقبل میں اس معمہ کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔کائنات کے رازوں تک رسائی کی امیدنیوٹرینو کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا محض ایک سائنسی تجسس نہیں بلکہ یہ کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے کی کنجی بھی ہو سکتا ہے۔اگر نیوٹرینو کی درست کمیت اور ان کے رویوں کو سمجھ لیا جائے تو اس سے یہ سوال حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کائنات میں مادہ،اینٹی میٹر (Antimatter) کے مقابلے میں زیادہ کیوں موجود ہے۔اسی طرح یہ تحقیق کائنات کی ابتدائی ساخت، ستاروں کے ارتقا اور بنیادی طبیعیاتی قوانین کے بارے میں ہمارے موجودہ نظریات میں بھی بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔JUNO کے نتائج کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ آئندہ برسوں میں جاپان کا ہائپر کامی اوکانڈے اور امریکہ کا ڈیپ انڈر گراؤنڈ نیوٹرینو ایکسپیریمنٹ بھی اپنے تجربات شروع کریں گے۔ مختلف ممالک میں ہونے والی یہ تحقیقات ایک دوسرے کے نتائج کی تصدیق کریں گی اور ممکن ہے کہ آنے والے دس برسوں میں نیوٹرینو کے کئی بڑے راز بے نقاب ہو جائیں۔سائنس کی تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات بظاہر معمولی ذرات پوری کائنات کے بارے میں ہمارے نظریات بدل دیتے ہیں۔ نیوٹرینو بھی شاید ایسا ہی ایک ذرہ ہے۔ چین کی یہ زیرِ زمین تجربہ گاہ اس بات کی امید دلا رہی ہے کہ انسان جلد ہی کائنات کے ان ذرات کی پراسرار دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو جائے گا اور ممکن ہے کہ انہی ذرات کی بدولت ہمیں کائنات کی تخلیق اور اس کے ارتقا کے کئی پوشیدہ رازوں تک رسائی حاصل ہو جائے۔

آج کا دن

آج کا دن

سپین کی برطانیہ کے خلاف جنگ 16 جون 1779ء کو سپین نے برطانیہ کے خلاف جنگ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی اور یوں اس جنگ کا آغاز ہوا جو1783ء تک جاری رہی۔ اس جنگ کا تعلق امریکی جنگِ آزادی کے وسیع تر عالمی تناظر سے بھی تھا، جہاں یورپی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف محاذوں پر سرگرم تھیں۔ سپین نے فرانس کے ساتھ اتحاد کیا تاکہ برطانیہ کی بحری اور نوآبادیاتی طاقت کو کمزور کیا جا سکے۔سپین کی شمولیت نے جنگ کا دائرہ مزید وسیع کر دیا اور برطانیہ کو ایک سے زیادہ محاذوں پر لڑنے پر مجبور کر دیا۔ ہسپانوی بحریہ نے بحرِ اوقیانوس اور بحیرہ روم میں برطانوی مفادات کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ سپین جبرالٹر واپس حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا تاہم اس نے فلوریڈا جیسے اہم علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ پہلی خاتون کا خلا میں سفر16 جون 1963ء کو سوویت یونین نے خلائی مشن وستوک 6 کامیابی سے خلا میں روانہ کیا۔ اس مشن کی پائلٹ ویلنٹینا ٹیرشکووا تھیں جو خلا میں جانے والی دنیا کی پہلی خاتون بنیں۔انہوں نے تقریباً تین دن خلا میں گزارے اور زمین کے گرد 48 چکر لگائے۔ اس دوران انہوں نے سائنسی تجربات کیے اور انسانی جسم پر خلائی ماحول کے اثرات کے بارے میں اہم ڈیٹا جمع کیا۔ یہ مشن سوویت یونین کے لیے ایک بڑی سائنسی اور سیاسی کامیابی تھا۔یہ واقعہ خواتین کے لیے سائنس اور خلائی تحقیق کے دروازے کھولنے کا ذریعہ بنا اور آج بھی عالمی خلائی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سوویٹو بغاوت 16 جون 1976ء کو جنوبی افریقہ کے علاقے سوویٹو میں ہزاروں سیاہ فام طلبہ نے نسل پرستانہ تعلیمی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ حکومت نے طلبہ کو افریقی زبان میں تعلیم دینے کا فیصلہ کیا تھا جسے انہوں نے اپنی ثقافتی شناخت پر حملہ قرار دیا۔پرامن احتجاج کے دوران پولیس نے فائرنگ کر دی جس سے متعدد طلبہ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس واقعے کی تصاویر پوری دنیا میں پھیل گئیں اور جنوبی افریقہ کی حکومت کو شدید عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔یہ احتجاج بعد میں نسل پرستی کے خلاف عالمی تحریک کی علامت بن گیا اور جنوبی افریقہ میں آزادی کی جدوجہد کو مزید تقویت ملی۔ بلومز ڈے 16 جون کو دنیا بھر میں Bloomsday منایا جاتا ہے۔ یہ دن آئرش ادیب جیمز جوائس کے مشہور ناول Ulysses کے مرکزی کردار لیوپولڈ بلوم کے ایک دن (16 جون 1904) کی یاد میں منایا جاتا ہے۔یہ ادبی دن پہلی بار 1954ء میں منایا گیا اور بعد میں دنیا کے مختلف ممالک تک پھیل گیا۔ اس دن ادبی تقریبات، ریڈنگ سیشنز اور جیمز جوائس کے ناول کے اقتباسات پڑھے جاتے ہیں۔یہ واقعہ ادب کی دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد تہوار سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ کسی افسانوی دن کو عالمی سطح پر یادگار بنانے کی مثال ہے۔ شین ذو 9 مشن 16 جون 2012 ء کو چین نے خلائی مشنShenzhou 9 لانچ کیا۔ اس مشن میں لیو یانگ شامل تھیں جو خلا میں جانے والی چین کی پہلی خاتون بنیں۔اس مشن کے دوران خلائی سٹیشن کے ماڈیول کے ساتھ ڈاکنگ اور مختلف سائنسی تجربات کیے گئے۔ یہ چین کے خلائی پروگرام کی بڑی کامیابی تھی اور اس نے ملک کی تکنیکی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔۔لیو یانگ کی کامیابی نے چین میں خواتین کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئے امکانات پیدا کیے۔

خلا کے عظیم گھر کا آخری سفر!

خلا کے عظیم گھر کا آخری سفر!

2030ء تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو محفوظ طریقے سے تباہ کرنے کا منصوبہدو دہائیوں سے زائد عرصے تک انسان کی خلائی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کی علامت رہنے والا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اب اپنی عمر کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ دنوں میں خلائی اسٹیشن میں ہونے والی ایک نئی لیک کے بعد اس کی سلامتی اور مستقبل کے حوالے سے خدشات نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے۔ انہی خدشات کے درمیان امریکی خلائی ادارے ناسا نے 2030ء تک آئی ایس ایس کو باقاعدہ طور پر مدار سے نکال کر زمین کے ماحول میں تباہ کرنے کے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے، جس پر تقریباً ایک ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور غیر معمولی آپریشن ہو گا، جس کا مقصد خلائی اسٹیشن کے ملبے کو محفوظ انداز میں زمین کے ایک دور افتادہ سمندری علاقے میں گرانا ہے تاکہ انسانی آبادی اور ماحول کو کسی قسم کے خطرے سے بچایا جا سکے۔بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہلے خلابازوں کی آمد کو 25 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اور اب زمین کے گرد مدار میں گردش کرنے والی اس خلائی چوکی کیلئے وقت تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ناسا کے خلابازوں کو ہنگامی انخلا کی تیاری کا حکم دیا گیا، جبکہ روسی خلانورد نے لیک کو درست کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ بالآخر کسی ہنگامی فرار کی ضرورت پیش نہیں آئی، تاہم اس خطرناک صورتحال نے یہ خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ خلائی سٹیشن اب اپنی عمر کے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔خلائی ماہرین نے اس ایک ارب ڈالر مالیت کے منصوبے کی تفصیلات بیان کی ہیں جس کے تحت خلائی اسٹیشن کو زمین پر واپس لا کر تباہ کیا جائے گا۔ فضائی و خلائی شعبے کی کانفرنس ''ایسنڈ 2026ء‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ناسا کے آپریشنز ڈائریکٹر ریان لینڈن نے کہا کہ آئی ایس ایس کو 2028ء کے دوران بتدریج زمین کی جانب دھکیلا جائے گا۔4لاکھ 50ہزار کلوگرام وزن رکھنے والے اس خلائی اسٹیشن کو اگر وقتاً فوقتاً اوپر کی جانب دھکیلا نہ جائے تو یہ آہستہ آہستہ اپنے مدار سے نیچے آنے لگتا ہے۔ خلائی اسٹیشن کو قدرتی طور پر مدار سے خارج ہونے دینا ایک بے قابو واپسی کا سبب بن سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کا ملبہ زمین کے مختلف حصوں میں بکھرنے سے جانی و مالی نقصان کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔اسی لیے ناسا منصوبہ بندی کے تحت خلائی اسٹیشن کو مدار سے باہر دھکیلے گا، تاکہ اس کا ملبہ بحرالکاہل کے دور افتادہ اور غیر آباد سمندری علاقے میں گرایا جا سکے۔بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اور اس میں موجود سات خلاباز زمین سے تقریباً 250 میل (400 کلومیٹر) کی بلندی پر مدار میں گردش کر رہے ہیں۔اس نسبتاً کم بلندی والے مدار کو برقرار رکھنے کیلئے خلائی اسٹیشن کو انتہائی تیز رفتاری سے حرکت کرنا پڑتی ہے۔ یہ تقریباً 28ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے اور روزانہ 16 مرتبہ زمین کا چکر لگاتا ہے۔ اس دوران اسے مدار میں رکھنے کیلئے کئی بار اوپر کی جانب دھکیلا جاتا ہے تاکہ وہ نیچے نہ گرنے لگے۔ تاہم ناسا کا منصوبہ ہے کہ 2028ء سے اس عمل کو قدرتی انداز میں جاری رہنے دیا جائے۔ اگر اس عمل کو بغیر مداخلت کے جاری رہنے دیا جائے تو بالآخر خلائی اسٹیشن زمین کی فضا میں داخل ہو جائے گا، جہاں رگڑ کے باعث پیدا ہونے والی شدید حرارت اس کے بیشتر حصوں کو جلا کر ختم کر دے گی۔لیکن آئی ایس ایس جیسے بڑے حجم کے حامل خلائی ڈھانچے کیلئے اس قسم کی بے قابو واپسی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔برطانیہ میں قائم خلائی مشاورتی ادارے بیلسٹیڈ ریسرچ (Belstead Research) کے ڈائریکٹر اور خلائی ملبے کے ماہر ڈاکٹر جیمز بیک کے مطابق یہ یقینی ہے کہ اس کے کچھ حصے زمین کی سطح تک پہنچ جائیں گے، اور غالب امکان ہے کہ ایسے حصوں کی تعداد خاصی زیادہ ہو گی۔اب بھی سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ خلائی اسٹیشن کے کتنے حصے زمین تک پہنچیں گے اور آیا ان پر کنٹرول برقرار رکھا جا سکے گا یا نہیں۔ ڈاکٹر جیمز بیک کے مطابق خلائی جہازوں کی زمین پر واپسی کیلئے بین الاقوامی سطح پر حادثاتی جانی نقصان کے خطرے کی ایک حد مقرر ہے، جو دس ہزار میں ایک سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ عام طور پر یہ حد اس وقت اہم ہو جاتی ہے جب کسی خلائی جہاز یا مصنوعی سیارے کا وزن تقریباً 500 سے ایک ہزارکلوگرام کے درمیان ہو، جبکہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا وزن تقریباً 450 ٹن ہے۔ڈاکٹر بیک کا کہنا ہے کہ یہ توقع کی جانی چاہیے کہ اس عمل کے نتیجے میں چند سو ایسے ٹکڑے پیدا ہوں گے جو زمین پر گرنے کی صورت میں جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ چونکہ خلائی ادارے اس بات کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کر سکتے کہ کتنا ملبہ زمین تک پہنچے گا، اس لیے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ملبہ کس مقام پر گرے، اس پر مکمل اور درست کنٹرول رکھا جائے تاکہ کسی انسان کو نقصان نہ پہنچے۔اسی مقصد کیلئے خلائی اسٹیشن کو اس کے مدار میں ایک مخصوص مقام پر پیچھے کی جانب دھکا دیا جائے گا، جس سے اس کی رفتار کم ہو جائے گی اور وہ بتدریج زمین کی طرف اترتے ہوئے بحرالکاہل کے ایک غیر آباد اور دور افتادہ علاقے میں جا گرے گا۔آئی ایس ایس کو زمین پر واپس کیسے لایا جائے گا؟٭...2028ء سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کو بتدریج اپنے مدار سے نیچے آنے دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں اس کی بلندی زمین سے 250 میل سے کم ہو کر تقریباً 200 میل رہ جائے گی۔٭...2029ء میں خلائی اسٹیشن پر موجود آخری انسانی عملہ اسے چھوڑ دے گا اور اپنے ساتھ وہ تمام اشیا لے جائے گا جو تاریخی اہمیت کی حامل ہوں اور جنہیں لے جانا ممکن ہو۔٭...اس کے بعد جب آئی ایس ایس کی بلندی 200 میل سے کم ہو کر 175 میل تک پہنچ جائے گی تو اسپیس ایکس کے ترمیم شدہ ڈریگن (Dragon) خلائی کیپسول کو اسٹیشن کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔٭...جب خلائی اسٹیشن 175 میل کی اس بلندی پر پہنچ جائے گا، جسے واپسی کے ''ناقابلِ واپسی مرحلے‘‘(Point Of No Return) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تو ڈریگن کیپسول آئی ایس ایس کو ایک بیضوی (Elliptical) مدار میں لے جانے کا عمل شروع کرے گا۔٭...مناسب وقت آنے پر یہ خلائی گاڑی خلائی اسٹیشن کو آخری طاقتور دھکا دے گی، جس کے نتیجے میں یہ نصف مدار سے بھی کم وقت میں زمین کی فضا کی جانب بڑھنے لگے گا۔٭...آخرکار آئی ایس ایس اور اسے نیچے لانے والی خلائی گاڑی تقریباً 17ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی فضا میں داخل ہوں گے، جہاں شدید حرارت اور رگڑ کے باعث دونوں بڑی حد تک تباہ ہو جائیں گے۔