ٹم پیک نے خاتون خلاء باز روزمیری کوگن کو مضبوط امیدوار قرار دے دیاانسانی تاریخ میں چاند ہمیشہ سے تجسس، حیرت اور جستجو کی علامت رہا ہے۔ 1969ء میں جب انسان نے پہلی مرتبہ چاند کی سطح پر قدم رکھا تو یہ کارنامہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی عظیم ترین کامیابیوں میں شمار ہوا۔ نصف صدی گزرنے کے باوجود چاند آج بھی خلائی تحقیق کا مرکز بنا ہوا ہے اور مختلف ممالک اپنے خلا بازوں کو وہاں بھیجنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اسی تناظر میں یہ سوال دلچسپی کا باعث بن گیا ہے کہ چاند پر قدم رکھنے والا پہلا برطانوی کون ہو گا؟ برطانیہ کے معروف خلا باز ٹم پیک (Tim Peake) نے اس حوالے سے اپنی رائے دیتے ہوئے پیشگوئی کی ہے کہ برطانوی خلا باز روزمیری کوگن (Rosemary Coogan) آئندہ دس برس کے دوران یہ تاریخی اعزاز حاصل کر سکتی ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ نہ صرف برطانیہ بلکہ عالمی خلائی تحقیق کی تاریخ میں بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ناسا نے اپنے متنازعہ ''آرٹیمس III‘‘ مشن کے مکمل مردانہ عملے کا اعلان کر دیا ہے، اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ چاند پر قدم رکھنے والا اگلا انسان کون ہو گا؟ اگرچہ 2029ء میں متوقع ''آرٹیمس IV‘‘ مشن کے ذریعے چاند پر اترنے والا عملہ غالباً مکمل طور پر امریکی خلا بازوں پر مشتمل ہو گا، تاہم برطانوی خلا باز بھی اس دوڑ میں زیادہ پیچھے نہیں ہوں گے۔ اب تجربہ کار برطانوی خلا باز ٹم پیک نے اس شخصیت کا نام بتایا ہے جس کے بارے میں ان کے خیال میں وہ چاند پر قدم رکھنے والی پہلی برطانوی بن سکتی ہیں۔ ان کے مطابق شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی خلا باز روزمیری کوگن اس اعزاز کے حصول کیلئے برطانیہ کی سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔میجر ٹم پیک کا کہنا ہے کہ اگر 2030ء تک کوئی یورپی خلا باز پہلی مرتبہ چاند پر پہنچا تو ہم خود کو خوش قسمت سمجھیں گے، اور اگر مجھے شرط لگانی پڑے تو میں کہوں گا کہ اس کا تعلق غالباً جرمنی یا فرانس سے ہو گا۔ لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ 2030ء کی دہائی کے وسط تک کسی برطانوی خلا باز کو چاند پر دیکھنے کے ہمارے امکانات کافی روشن ہیں۔ یہ کوئی نیا خلا باز بھی ہو سکتا ہے، یا پھر روز (روزمیری کوگن) جیسی کوئی شخصیت، جو شاید اس سے پہلے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر چھ ماہ کا مشن مکمل کر چکی ہو۔ اگر انہیں 2030ء کے آس پاس یہ مشن مل جاتا ہے تو پھر وہ 2035ء کے قمری مشن کیلئے پوری طرح تیار ہوں گی۔روزمیری کوگن نے 2019ء میں سوسکس یونیورسٹی سے فلکیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد وہ فرانسیسی خلائی ادارے CNES میں شامل ہو گئیں۔ 2022ء میں انہیں ''یورپیئن سپیس ایجنسی ‘‘(European Space Agency) کی جانب سے خلا باز امیدوار منتخب کیا گیا، جبکہ 2024ء میں وہ باقاعدہ طور پر سند یافتہ خلا باز بن گئیں۔اس طرح وہ یورپی خلائی ایجنسی کے اہل خلا بازوں کے اس گروپ کا حصہ ہیں جسے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے مشنز کیلئے منتخب کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ ڈاکٹر کوگن کو ابھی تک خلا میں سفر کا عملی تجربہ حاصل نہیں ہوا، تاہم جب تک برطانیہ کو کسی قمری مشن میں شمولیت کا موقع ملے گا، تب تک وہ اس ذمہ داری کیلئے کہیں زیادہ تیار ہو سکتی ہیں۔برطانوی خلا باز ٹم پیک کا کہنا ہے کہ یورپی خلائی ایجنسی کی ہماری پیشہ ور خلا باز روزمیری کوگن جلد ہی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے طویل المدتی عملے کے رکن کے طور پر اپنی باری کی منتظر ہیں۔مجھے یقین ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی ریٹائرمنٹ سے پہلے انہیں ایک طویل المدتی خلائی مشن ضرور مل جائے گا۔اگر ڈاکٹر کوگن ناسا کی جانب سے کسی برطانوی شراکت دار کی تلاش شروع ہونے تک خلائی سفر کا عملی تجربہ حاصل کر لیتی ہیں تو ممکن ہے کہ وہ واحد تجربہ کار برطانوی خلا باز ہوں جو قمری مشن کیلئے اہل قرار پائیں۔چاند پر کون کون جا چکا ہے؟21 جولائی 1969ء کو انسان نے پہلی مرتبہ چاند کی سرزمین پر قدم رکھا اور یوں خلائی تحقیق کا ایک نیا باب رقم ہوا۔ آج تک صرف بارہ خوش نصیب انسان چاند کی سطح پر چلنے کا اعزاز حاصل کر سکے ہیں۔ ان بہادر خلا بازوں نے نہ صرف انسانی جستجو اور حوصلے کی نئی مثال قائم کی بلکہ کائنات کے اسرار و رموز کو سمجھنے کی راہ بھی ہموار کی۔1 اور 2: ''اپالو 11‘‘( 21 جولائی 1969ء)نیل آرمسٹرانگ نے تاریخ رقم کرتے ہوئے چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے انسان ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کے بعد ان کے ساتھی بز آلڈرن(Buzz Aldrin)نے بھی چاند پر قدم رکھا۔3 اور 4: ''اپالو 12‘‘( 19 اور 20 نومبر 1969ء)پیٹ کونراڈ(Pete Conrad) اور ایلن بین (Alan Bean)اپالو 12 مشن کے دوران چاند پر چلنے والے خلا باز تھے۔اپالو 12 کے عملے کو اس وقت غیرمعمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ان کا سیٹرن فائیو راکٹ پرواز کے فوراً بعد دو مرتبہ آسمانی بجلی کی زد میں آ یا۔5 اور 6: ''اپالو 14‘‘( 5 فروری 1971ء)ایلن شیپرڈ (Alan Shepard)اورایجر میچل(Edger Mitchell) ''اپالو 14 مشن‘‘ کا حصہ تھے۔ وہ 31 جنوری 1971ء کو روانہ ہوئے اور چاند کے فرا مورو (Fra Mauro) علاقے میں اترے، جو دراصل اپالو 13 کا اصل ہدف تھا۔7 اور 8: ''اپالو 15‘‘( 31 جولائی 1971ء)ڈیوڈ سکاٹ (David Scott)اور جیمز آئرون(James Irwin) چاند پر اترے اور 2 اگست تک وہاں تقریباً تین دن قیام کیا۔9 اور 10: '' اپالو 16‘‘( 21 اپریل 1972ء)جان ینگ (John Young)اور چارلس ڈیوک(Charles Duke) چاند پر چلنے والے اگلے دو افراد تھے۔جب عملہ چاند کے مدار میں پہنچا تو کمانڈ اور سروس ماڈیول کے مرکزی انجن میں خرابی کے باعث مشن تقریباً منسوخ ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔11 اور 12: ''اپالو 17‘‘ ( 11 دسمبر 1972ء)چاند پر قدم رکھنے والے آخری افراد جین سرنن (Eugene Cernan)اور ہیریسن شمٹ (Harrison Schmitt) تھے۔چاند سے روانگی سے قبل جین سرنن نے اپنی بیٹی ٹریسی کے نام کے ابتدائی حروف چاند کی مٹی پر کندہ کیے۔ چونکہ چاند پر ہوا، بارش یا دیگر موسمی عوامل موجود نہیں جو ان نشانات کو مٹا سکیں، اس لیے توقع کی جاتی ہے کہ یہ حروف بہت طویل عرصے تک وہاں محفوظ رہیں گے۔