گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ اور بدلتے ہوئے موسمی حالات انسانی صحت کیلئے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر موسمِ گرما میں جسم میں پانی کی کمی، جسے طبی اصطلاح میں ''ڈی ہائیڈریشن‘‘ کہا جاتا ہے، ایک عام مگر خطرناک مسئلہ بن چکا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق بہت سے لوگ پانی کی کمی کی ابتدائی علامات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور انہیں محض گرمی کے اثرات سمجھ کر اہمیت نہیں دیتے۔ حالیہ طبی مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ تھکن، چکر آنا، سر درد، بے چینی اور غیر معمولی کمزوری جیسی علامات دراصل جسم میں پانی کی کمی کی علامات ہو سکتی ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ان علامات پر بروقت توجہ نہ دی جائے تو یہ کیفیت سنگین طبی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں پانی کے مناسب استعمال اور جسمانی کیفیت پر نظر رکھنا بے حد ضروری ہے۔جون سخت گرمی کا مہینہ مانا جاتا ہے، اس لیے جسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کی علامات جاننے کا اس سے بہتر وقت اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بالغ فرد روزانہ تجویز کردہ مقدار کے مقابلے میں آدھے سے بھی کم پانی پیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ پانی کی کمی اور اس سے جڑے متعدد صحت کے مسائل کے خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔ ڈی ہائیڈریشن اس کیفیت کو کہتے ہیں جب جسم سے خارج ہونے والے سیال کی مقدار، جسم میں داخل ہونے والے سیال سے زیادہ ہو جائے۔ یہ حالت اسہال، زیادہ پسینہ آنے، تیز بخار یا طویل وقت تک دھوپ میں رہنے کے باعث پیدا ہو سکتی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ پانی کی کمی کئی خطرناک طبی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اس کی علامات کو پہچانا جائے اور بروقت احتیاط کی جائے۔ آئیے جسم میں پانی کی کمی کی ان اہم علامات پر نظر ڈالتے ہیں جن میں سے بعض آپ کو حیران بھی کر سکتی ہیں۔پیاس لگناڈی ہائیڈریشن کی سب سے واضح اور عام علامت سادہ سی ہے، پیاس۔ہم سب نے کبھی نہ کبھی طویل وقت تک پانی نہ پینے کے بعد شدید پیاس کا احساس ضرور کیا ہوگا اور یہی کیفیت جسم میں پانی کی کمی کی پہلی علامت ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق جسم کے پانی میں صرف دو فیصد کمی دماغ کو پیاس کا سگنل دینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ گرم موسم میں پسینہ زیادہ آنے کے باعث گرمیوں کے دنوں میں پیاس کا احساس زیادہ عام ہو جاتا ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنا نسبتاً آسان ہے۔ پانی اس مقصد کیلئے سب سے بہتر اور سادہ انتخاب ہے۔تناؤ محسوس ہوناڈی ہائیڈریشن کے اثرات ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق وہ افراد جو مناسب مقدار میں پانی نہیں پیتے، ان میں تناؤ (stress) کے امکانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ محققین نے دریافت کیا کہ جو افراد روزانہ تجویز کردہ تقریباً 1.5 لیٹر پانی پیتے ہیں، ان کے جسم میں کورٹیسول (cortisol) یعنی تناؤ کے ہارمون کی سطح ان افراد کے مقابلے میں کم ہوتی ہے جو اس مقدار تک نہیں پہنچ پاتے۔اس سے قبل ایک تحقیق نے بھی یہ اشارہ دیا تھا کہ پانی کی مقدار اور خوشی کے احساس کے درمیان تعلق موجود ہے۔اس تحقیق کے مطابق کم پانی پینے والے افراد نے خود کو زیادہ بے چین، کم اطمینان اور زیادہ تناؤ کا شکار محسوس کیا۔ اس کے برعکس جن افراد نے پانی کی مقدار میں اضافہ کیا، انہوں نے خود کو نسبتاً زیادہ خوش اور بہتر مزاج کا حامل بتایا۔سر میں درد ہوناجب کسی شخص کو سر درد ہو تو سب سے عام مشورہ یہی دیا جاتا ہے کہ پانی پی لیا جائے اور اس کی ایک واضح طبی وجہ بھی موجود ہے۔ انسانی جسم روزانہ تقریباً 2 سے 2.5 لیٹر پانی مختلف طریقوں سے ضائع کرتا ہے، اور اگر یہ سیال مناسب مقدار میں پورا نہ کیا جائے تو شدید سر درد پیدا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جسم میں پانی کی کمی دماغ پر دباؤ ڈال سکتی ہے، جس سے درد کے احساس سے متعلق اعصاب اور ریسیپٹرز متاثر ہوتے ہیں، جبکہ پانی پینے سے یہ دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق پانی کا استعمال مائیگرین (شدید سر درد) کی شدت کو بھی کم کر سکتا ہے۔پیشاب کا گہرا یا بدبودار ہوناجسم میں پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) کو جانچنے کا ایک آسان طریقہ پیشاب کا رنگ اور بو ہے۔ ہلکا پیلا یا تقریباً شفاف پیشاب عام طور پر مناسب مقدار میں پانی پینے کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ گہرا پیلا یا بھورا رنگ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جسم کو مزید پانی کی ضرورت ہے۔ توجہ مرکوز نہ کر پاناانسانی جسم کا تقریباً 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ دماغ میں پانی کی مقدار اس سے بھی زیادہ یعنی اندازاً 75 فیصد تک ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ جسم میں پانی کی کمی ذہنی کارکردگی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی کی معمولی کمی بھی ذہنی صلاحیتوں جیسے یادداشت، توجہ اور ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہے۔یہ کیفیت بعض اوقات روزمرہ فیصلوں تک کو متاثر کر سکتی ہے، حتیٰ کہ اس حد تک کہ انسان یہ فیصلہ کرنے میں بھی مشکل محسوس کرے کہ سڑک کب پار کرنا محفوظ ہے۔