نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 4سال بعدجنوبی پنجاب صوبےکاواویلانیالالی پاپ ہے،عظمیٰ بخاری
  • بریکنگ :- 4سال پہلےجنوبی پنجاب صوبہ بنانےکاخیال کیوں نہیں آیا؟عظمیٰ بخاری
  • بریکنگ :- عمران نیازی نے 4سال لالی پاپ کی سیل لگائی جواب ختم ہوچکے،عظمیٰ بخاری
  • بریکنگ :- جنوبی پنجاب کومحرومیوں کےسواکچھ نہیں دیاگیا،عظمیٰ بخاری
  • بریکنگ :- ن لیگ نےاپنےدورمیں پنجاب اسمبلی سےقراردادمنظورکرائی،عظمیٰ بخاری
  • بریکنگ :- شہبازشریف حکومت نے 35فیصدبجٹ جنوبی پنجاب پرلگایا،عظمیٰ بخاری
Coronavirus Updates

شوکت حسین رضوی… ایک بے مثال ہدایتکار بھارت اور پاکستان میں ان کا یکساں طور پر احترام کیا جاتا تھا

شوکت حسین رضوی… ایک بے مثال ہدایتکار بھارت اور پاکستان میں ان کا یکساں طور پر احترام کیا جاتا تھا

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


دلیپ کمار نے ایک مرتبہ کہا تھا ’’میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے شوکت حسین رضوی جیسے ہدایتکار نے اپنی فلم ’’جگنو‘‘ میں نور جہاں کے مقابل ہیرو کاسٹ کیا۔ اس فلم کی شاندار کامیابی کے بعد پھر میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا‘‘۔دلیپ کمار بالکل درست کہتے ہیں۔ ان کی پہلی تین فلمیں کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی تھیں لیکن پھر 1947ء میں ’’جگنو‘‘ ریلیز ہوئی جس نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ اس فلم سے نہ صرف دلیپ کمار کے کیریئر کو ایک نئی سمت مل گئی بلکہ اس فلم سے محمد رفیع کو بھی شہرت نصیب ہوئی۔ انہوں نے اس فلم میں اداکاری بھی کی اورپھر گلوکاری کے میدان میںبھی قدم جمالئے۔جی ہاں! یہ وہی شوکت حسین رضوی ہیں جنہوں نے پہلے بھارت اور پھر پاکستان میں بطور ایڈیٹر، پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور معاون اداکار کے طور پر اپنے آپ کو منوایا۔ انہوں نے پاکستان کی فلمی صنعت کی آبیاری کیلئے بھی جو کاوشیں کیں ان کی تحسین نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔ شوکت حسین رضوی 1914ء میں اعظم گڑھ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کلکتہ میں اسسٹنٹ پراجیکشنسٹ کی حیثیت سے اپنے کیریئرکا آغاز کیا۔ پھر انہوں نے فلم میکنگ سیکھی۔ ہندوستانی فلمی صنعت کی معروف شخصیات نے شوکت حسین رضوی کی قابلیت کو فوری طور پر تسلیم کرلیا۔ اس وقت کے نامور پروڈیوسر سیٹھ دل سکھ پنچولی انہیں کلکتہ سے لاہور لے آئے۔ یہاں انہوں نے کئی فلموں کی ایڈیٹنگ کی۔ جن میںگُل بکائولی (1939ء)، خزانچی (1941ء) وغیرہ شامل ہیں۔ ایڈیٹر کی حیثیت سے ان کی فلموں ’’یملا جٹ‘‘ اور ’’دوست‘‘ کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے بعد دل سکھ پنچولی نے انہیں اپنی اگلی فلم خاندان (1942ء) کی ہدایات کے فرائض سونپے۔ ’’خاندان‘‘ نے پورے ہندوستان میں تہلکہ مچا دیا۔ اس میں نور جہاں اور پران کی اداکارانہ صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں۔ نورجہاں نے نہ صرف شائقین فلم کے دلوں کو فتح کرلیا بلکہ شوکت حسین رضوی کا دل بھی جیت لیا۔ ’’خاندان‘‘ کی عدیم النظیر کامیابی کے بعد شوکت حسین رضوی اور نور جہاں ممبئی چلے گئے جہاں رضوی صاحب نے اپنی اگلی فلم نوکر (1943ء) کی ہدایات دیں۔ یہ فلم سعادت حسن منٹو کے ایک افسانے سے ماخوذ تھی۔ رضوی صاحب نے سکرپٹ میں بہت سی تبدیلیاں کردیں جس کی وجہ سے یہ فلم باکس آفس پر ناکام ہوگئی۔ اسی سال نورجہاں اور شوکت حسین رضوی رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ ان کے ہاں تین بچے ہوئے۔ اکبر حسین رضوی، اصغر حسین رضوی اور ظل ہما۔ اس کے بعد اس جوڑے نے کئی فلمیں بنائیں۔ شوکت رضوی ان فلموں کے یا تو پروڈیوسر تھے اور یا ڈائریکٹر۔ جب نور جہاں نے ان کی فلموں میں اداکاری بھی کی اور گلوکاری بھی۔ ان فلموں میں ’’زینت‘‘ اور ’’جگنو‘‘ شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1944ء میں بننے والی فلم ’’دوست‘‘ میں شوکت حسین رضوی نے معاون اداکار کے طور پر کام کیا اور اس فلم میں وہ نور جہاں کے بھائی بنے تھے۔ اس فلم کی ہدایات بھی شوکت حسین رضوی نے دی تھیں۔ اس فلم کے گیت شمس لکھنوی نے تحریر کیے تھے جو بہت مشہور ہوئے۔1947ء میں تقسیم ہند کے بعد شوکت حسین رضوی اور نورجہاں اپنے تینوں بچوں سمیت پاکستان چلے آئے۔ آتے وقت شوکت حسین رضوی وہ کیمرہ بھی ساتھ لے آئے جس سے انہوں نے اپنی فلم ’’جگنو‘‘ کی شوٹنگ کی تھی۔ پاکستان آنے کے بعد نور جہاں اور شوکت رضوی نے تین سال تک کوئی کام نہ کیا۔ اس عرصے کے دوران شوکت حسین رضوی نے ملتان روڈ پر شاہ نور سٹوڈیو قائم کیا جہاں انہوں نے اپنی پہلی پنجابی فلم ’’چن وے‘‘ کی شوٹنگ شروع کی جو 1951ء میں ریلیز ہوئی۔ شوکت حسین رضوی اس فلم کے پروڈیوسر اور معاون ہدایتکار تھے۔ اس فلم نے بے مثال کامیابی حاصل کی۔ لیکن اس کا کریڈٹ بہرحال شوکت رضوی کو نہیں جاتا تھا کیونکہ وہ اس فلم کے معاون ہدایتکار تھے۔ اس کے بعد معروف دانشور اور ڈرامہ نویس امتیاز علی تاج نے شوکت رضوی کی فلم ’’گلنار‘‘ کی ہدایات دیں۔ اس دوران ان کے اپنی اہلیہ نورجہاں سے شدید اختلافات پیدا ہوگئے اور دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ نورجہاں کو اپنی بیٹی ظل ہما اپنے پاس رکھنے کیلئے شاہ نور سٹوڈیو کے حصے سے دستبردار ہونا پڑا جس سے شوکت رضوی کے کیریئر کو شدید دھچکا لگا کیونکہ وہ نور جہاں کے شوہر کی حیثیت سے بھی اہم مقام حاصل کرچکے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے اس وقت کی معروف اداکارہ یاسمین سے شادی کرلی جن سے ان کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ شہنشاہ حسین رضوی اور علی مجتبیٰ رضوی۔ یہ شادی کامیاب ثابت ہوئی جس سے شوکت رضوی اور یاسمین دونوں کو فائدہ ہوا۔ نور جہاں سے طلاق کے بعد انہوں نے صرف تین اردو فلمیں بنائیں جن کے نام تھے ’’جان بہار‘‘، ’’عاشق‘‘ اور ’’دلہن رانی‘‘۔ انہوں نے ’’ جان بہار‘‘ کا ایک گیت گوانے کے لئے اپنی سابقہ اہلیہ نو جہاں سے کہا اور انہوں نے حامی بھرلی۔ یہ گیت مسرت نذیر پر پکچرائز ہوا جس نے شائقین فلم کو مسحور کر دیا۔’’دلہن رانی‘‘ کے فلاپ ہونے کے بعد شوکت حسین رضوی کو مایوسیوں نے آن گھیرا۔ انہوں نے فلموں سے ریٹائرمنٹ لے لی جس کے بعد ان کے چاروں بیٹوں نے شاہ نور سٹوڈیو کا انتظام سنبھال لیا۔ افسوس آج وہی شاہ نور سٹوڈیو خستہ حال ہے اور اس تاریخی سٹوڈیو کی یہ حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔شوکت حسین رضوی بڑے وجیہہ اور دلکش نوجوان تھے۔ سعادت حسن منٹو نے ان کے بارے میںکہا تھا کہ وہ ایک دراز قد اور دلکش نوجوان ہے جو انتہائی خوش لباس ہے۔ جوانی میں انہیں کھیلوں سے بھی دلچسپی تھی اور وہ 1930ء کے اوائل میں کلکتہ میں فٹ بال کھیلتے تھے۔ شوکت حسین رضوی کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے کہ انہوں نے پاکستانی فلمی صنعت کی نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کیا۔شوکت حسین رضوی اپنی خودداری اور وضع داری کیلئے بھی بہت مشہور تھے۔ ان کی انسان دوستی پر بھی کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ بھارت کی معروف اداکارہ ششی کلا نے ایک مرتبہ اپنے فنی سفر کے حوالے سے بتایا تھا کہ انہیں سب سے پہلے شوکت حسین رضوی کی فلم ’’زینت‘‘ میں میڈم نور جہاں کی سفارش پر کام ملا تھا۔ اس وقت ان کے گھریلو حالات خراب تھے اور ان کا خاندان غربت و افلاس کی دلدل میں پھنسا ہوا تھا۔ شوکت رضوی نے کمال مہربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں اپنی اس فلم میں عورتوں کی ایک قوالی کے شرکاء میں بٹھا دیا۔ یہ 1940ء کے اوائل کی بات ہے۔ اس زمانے میں ششی کلا کو 25 روپے معاوضہ دیا گیا۔ اسی طرح ’’جگنو‘‘ میں دلیپ کمار کا ہیرو کے طور پر انتخاب بھی ان کی فراست کابین ثبوت تھا۔ انہوںنے ایک ناکام اداکار کو میڈم نورجہاں کے مقابل کاسٹ کیا کیونکہ دلیپ کمار سے پہلے انہوں نے جتنے اداکاروں کو کاسٹ کیا وہ شوکت رضوی کی توقعات پر پورا نہیں اترے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ سب میڈم نورجہاں کے سامنے اداکاری کرتے ہوئے شدید گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے تھے۔ لیکن دلیپ کمار نے پہلے ہی شاٹ میں زبردست اعتماد کا مظاہرہ کیا اور مکالموں کی ادائیگی کے خوبصورت انداز سے شوکت رضوی اور سیٹ پر موجود تمام لوگوں کو ششدر کر دیا۔ اس پہلے شاٹ کے موقع پر پرتھوی راج کپور بھی موجود تھے۔ انہوں نے وہیں شوکت رضوی سے کہا تھا کہ یاد رکھنا یہ لڑکاایشیا کا سب سے بڑا اداکار ثابت ہوگا۔1988ء میں جب دلیپ کمار پہلی بار پاکستان کے دورے پر آئے تھے تو انہوں نے خصوصی طور پر شوکت حسین رضوی سے ملاقات کی تھی۔ دونوں نے اس ملاقات کے دوران اس سنہری دور کی یادوں کو تازہ کیا۔1999ء میں 85 سال کی عمر میں شوکت حسین رضوی کا انتقال ہوگیا۔ ہندوستان اور پاکستان کی فلمی صنعت کی تمام قابل ذکر شخصیات نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور ان کی خدمات کو سراہا۔ شوکت حسین رضوی کا نام برصغیر کی فلمی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہو چکا ہے۔ ان کا نام اور کام دونوں زندہ رہیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
آج کا دن

آج کا دن

برسی عبداللہ بن عبدالعزیز (سعودی فرمانروا)سعودی عرب کے چھٹے بادشاہ شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز آل سعود کا 23 جنوری 2015ء کو انتقال ہوا۔ خادم الحرمین الشریفین یکم اگست 1924ء کو پیدا ہوئے اور شاہ فہد کے انتقال کے بعد 2005ء میں انہوں نے شاہی تخت سنبھالا۔ فوربز میگزین کے مطابق آپ دنیا کے آٹھویں طاقتور ترین انسان تھے، ان کی دولت کا تخمینہ 21ارب امریکی ڈالر لگایا جاتا ہے۔ بیماری کے باعث ایک لمبے عرصے تک وہ منظر عام سے غائب رہے۔ ان کی کمر کے دو آپریشن ہوئے، جن میں 13 گھنٹے کا ایک طویل آپریشن بھی شامل تھا۔ 2010ء میں وہ تین ماہ تک امریکہ میں بھی زیر علاج رہے۔ہدایتکار لقمان احمدپاکستان فلم اندسٹری کے پہلے ہدایتکار لقمان، سید شوکت حسین رضوی کے ہونہار شاگرد تھے، ان ہی سے تدوین و ہدایتکاری کے اسرار ورموز بھی سیکھے۔ فنی کریئر کا آغاز تقسیم ہند سے قبل فلم ''ہمجولی‘‘ سے کیا۔قیام پاکستان کے بعد لقمان بھی پاکستان چلے آئے۔ پاکستان میں انہوں نے 16 فلمیں بنائیں جن میں 13 اردو اور 3 پنجابی شامل ہیں۔ 1958ء میں ان کی فلم ''آدمی‘‘ نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ ''ایاز‘‘ اور ''فرشتہ‘‘ بھی ان کی انتہائی عمدہ فلمیں تھیں۔ دیگر کامیاب فلموں میں ''محل اور افسانہ‘‘، ''اک پردیسی اک مٹیار‘‘ ، '' پاکیزہ‘‘، '' ہمجولی‘‘، ''دنیا نہ مانے‘‘ ،'' پرچھائیں‘‘ اور''وفا‘‘ شامل ہیں۔ 23جنوری 1994ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔لیری کنگ(امریکی ٹی وی میزبان)امریکی ٹیلی ویژن کے شہرہ آفاق ٹاک شو میزبان لیری کنگ گزشتہ برس آج کے دن انتقال کر گئے تھے۔ سوالات پوچھنے کا ان کا ایک منفرد انداز تھا جس کی وجہ سے انہیں عالمی سطح پر شہرت اور پہچان ملی۔ لیری کنگ نے 6 دہائیوں پر مشتمل کریئر میں عالمی شہرت کے حامل سیاستدانوں، فن کاروں، کھلاڑیوں اور تجارتی شخصیات کے تقریباً 50 ہزار انٹرویوز کئے۔ اس فہرست میں سابق امریکی صدر جیرالڈ فورڈ سے لے کراب تک کے تمام امریکی صدور، مائیک ٹائی سن، روسی وزیراعظم ولادی میرپوٹین،نیلس منڈیلا اور فلسطینی رہنما یاسرعرفات جیسی شخصیات شامل ہیں۔25 برس وہ امریکی ٹی وی چینل سی این این کے ٹاک شو لیری کنگ لائیو کی میزبانی کرتے رہے۔ 87 برس کی عمرمیں انتقال ہوا۔اہم واقعات تباہ کن قدرتی آفت1556 ء میں چینی صوبے شان ژی میں ہولناک زلزلہ آیا، جس میں 8 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ یہ کسی قدرتی آفت میں تاریخ کی سب سے زیادہ ہلاکتیں تھیں۔''ایکس رے مشین‘‘ کی ایجاد1896ء میں ماہر فزکس ویل ہیلم کونریڈ رونٹگن نے ایک اہم ایجاد کو اپنا نام دیا۔ ''ایکس رے مشین‘‘ کی اس ایجاد کو 1912ء تک کسی قسم کی توجہ حاصل نہیں ہوئی مگر اس کے بعد عالم طب میں اسے ایک منفرد اور جدید ایجاد قرار دیا گیا۔ 

امریکہ کس نے دریافت کیا؟ کولمبس نے امریکیوں کا تعارف یورپ سے کرایا‘ مورخین متفق نہیں

امریکہ کس نے دریافت کیا؟ کولمبس نے امریکیوں کا تعارف یورپ سے کرایا‘ مورخین متفق نہیں

کرسٹوفر کولمبس کا تعلق اٹلی سے تھا اور اسے مہم جو بھی کہا جاتا ہے اور کھوجی بھی۔ عام طور پر یہی خیال کیا جاتا ہے کہ کولمبس وہ پہلا شخص تھا جس نے امریکہ کی سرزمین پر قدم رکھا، لیکن بہت سے مورخین اور محققین اس بات سے اختلاف کرتے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ کولمبس نے شمالی امریکہ دریافت کیا۔ کچھ کا اصرار ہے کہ کولمبس نے امریکہ نہیں،جزائر غرب الہندمیں پہلا قدم رکھا۔ بہت سے امریکیوں کا موقف ہے کہ کولمبس کے آنے سے پہلے ہی یہاں بے شمار لوگ موجود تھے اور اس سرزمین پر 15ہزار برس پہلے لوگ آئے تھے۔بے شمار مورخین اس موقف کے حامی ہیں کہ کولمبس نے شمالی امریکہ میں کبھی قدم نہیں رکھا۔ چارسفروں کے دوران کولمبس نے مختلف کیربین جرائز پر قدم رکھا۔ اس کا پہلا سفر 1492ء میں ہوا۔ ان جرائز کو پہلے بہاس اور بعد میں سپانیولا کہا جانے لگا۔بعد میں اس نے جو بحری سفر کئے ان کے ذریعے وہ جنوبی اور شمالی امریکہ گیا۔ محققین اس بات سے بھی اتفاق نہیں کرتے جیسا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ کولمبس نے سب سے پہلے یہ بتایا کہ زمین چپٹی نہیں بلکہ گول ہے۔ یہ بھی بڑے وثوق سے کہا جاتا ہے کہ مہم جولیف اریکسن کولمبس کی پیدائش سے تقریباً500 برس پہلے کینیڈا پہنچا تھا۔ کرسٹوفر کولمبس نے بحراوقیانوس سے چار سفر کیے یہ سفر 1492ء، 1493ء، 1498ء اور 1502ء میں کئے گئے۔ اس نے عزم کیا ہوا تھا کہ وہ یورپ سے ایشیا تک براہ راست کوئی آبی راستہ ڈھونڈے لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے امریکہ دریافت نہیں کیا کیونکہ اس کے پہنچنے سے پہلے ہی لاکھوں لوگ وہاں آباد تھے۔ اس نے جتنے سفر کیے اس سے یہ ہوا کہ مہم جوئی کا ایسا عمل شروع ہوا جو صدیوں تک جاری رہا۔ اس کے علاوہ شمالی اور جنوبی امریکہ کو نو آبادی بنانے کا عمل بھی یہیں سے شروع ہوا۔کرسٹوفر کولمبس 1451ء میں جنیویا(اٹلی) میں پیدا ہوا۔ اس کا والد اُون کی تجارت کرتا تھا۔ ابھی وہ کمسن تھا جب اسے تجارت کرنے والے ایک بحری جہاز میں نوکری مل گئی۔وہ 1476ء تک سمندر پر موجود رہا۔ پھرقزاقوں نے حملہ کر دیا۔ اس وقت اس کا جہاز پرتگیزی ساحل کی جانب بڑھ رہا تھا۔ یہ چھوٹا سا بحری جہاز ڈوب گیا لیکن کولمبس بچ نکلا اور لزبن چلا گیا جہاں اس نے ریاضی اور فلکیات کی تعلیم حاصل کی۔15ویں صدی کے آخر تک یورپ سے ایشیا زمینی راستے کے ذریعے پہنچنا تقریباً ناممکن تھا۔ پہلے سفر کے بعد کولمبس نے دوسرا سفر ستمبر 1493ء میں کیا۔ اس نے دیکھا کہ ہسپانیولا کی آبادی نابود ہو چکی ہے اس نے اپنے بھائیوں بارٹو لومیو اور ڈیگو کولمبس کو اس پورے خطے کو دوبارہ آباد کرنے کیلئے وہیں چھوڑ دیا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے جہازوں کے عملے کا کچھ حصہ اور سیکڑوں لوگوں کو جنہیں غلام بنا لیا گیا تھا، ان کو بھی اس عملے کے ساتھ وہیں چھوڑ دیا گیا۔ اس کے بعد وہ مغرب کی طرف روانہ ہوا۔ اس کا مقصد سونے کی تلاش تھا لیکن اس کی یہ تمام کوششیں بیکار ثابت ہوئیں ۔ اس کے گروپ میں بہت زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی تھی جنہیں یورپی لوگوں نے ان کی منشا سے غلام بنا لیا تھا۔ مادی اشیاء کے بدلے کولمبس نے سپین کے حکمرانوں سے وعدہ کیا کہ وہ ملکہ ازابیلا کو 500غلام بھیجے گا۔ اس پر ملکہ خوفزدہ ہو گئی اور اس نے کولمبس کا یہ تحفہ واپس کردیا۔ اسے یہ یقین ہو گیا کہ جن لوگوں کو کولمبس نے ''دریافت‘‘ کیا ہے وہ سپین کے باشندے ہیں جنہیں غلام نہیں بنایا جا سکتا۔مئی 1498ء میں کولمبس تیسری بار یورپ روانہ ہوا۔ وہ ٹرینیڈڈ اور جنوبی امریکہ گیا اور واپسی پر ہسپانیولا کے خطے کی طرف بھی گیا۔ لیکن یہاں وہ یہ دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گیا کہ نو آباد کاروں نے کولمبس کے بھائیوں کے خلاف بغاوت کر دی تھی اور اس بغاوت میں بہت خون بہایا گیا تھا۔ اس بغاوت کی وجہ کولمبس کے بھائیوں کی بد انتظامی اور سفاکانہ کارروائیاں تھیں۔ صورت حال اتنی خراب تھی کہ سپین کے حکام کو ہسپانیولا کے معاملات سنبھالنے کیلئے نیا گورنر بھیجنا پڑا۔ بعد میں حالات کا دھارا کچھ ایسا بدلا کہ کرسٹوفر کولمبس کو گرفتار کر لیا گیا اور اسے زنجیروں میں سپین واپس بھیجا گیا۔ 1502ء میں کرسٹوفر کولمبس نے سپین کے بادشاہ سے درخواست کی کہ اسے بحراوقیانوس کا ایک اور دورہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس بار کولمبس پانامہ گیا۔ پانامہ میں اسے اپنے دو بحری جہاز چھوڑنے پڑے کیونکہ طوفانوں اور مقامی لوگوں نے ان جہازوں کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔ یہ مہم جو خالی ہاتھ سپین پہنچا جہاں 1506ء میں اس کا انتقال ہو گیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کولمبس کے بارے میں متنازع باتیں کی جاتی ہیں لیکن اس کے بارے میں اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ ایک جرات مند، مہم جو تھا جو راستے تلاش کرنے کا ماہر تھا اور جس نے ''نئی دنیا‘‘ کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ لیکن اس کے کچھ کام ایسے تھے جن سے تبدیلیاں آئیں اور انجام کار ان سے مقامی آبادیاں تباہ ہو گئیں۔1792ء میں امریکیوں نے سب سے پہلے اس کی آمد کی خوشی منائی تھی ،امریکہ میں10اکتوبر کو ''کولمبس ڈے‘‘ منایا جاتا ہے لیکن کچھ ریاستوں میں یہ دن نہیں منایا جاتا۔ اس کے اسباب اوپر بیان کیے جا چکے ہیں۔ بہر طور کولمبس کا نام تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اس نے امریکہ دریافت کیا یا نہیں اس پر بحثیں جاری ہیں اور لگتا یہی ہے کہ یہ بحثیں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اورروزنامہ ''دنیا‘‘سے طویل عرصہ سے وابستہ ہیں

’’ڈیجیٹل ایمنشیا‘‘ ہمارے دماغ کو یادداشت بنانے کی عادت نہیں رہی!

’’ڈیجیٹل ایمنشیا‘‘ ہمارے دماغ کو یادداشت بنانے کی عادت نہیں رہی!

آپ نے ایمنشیا کا نام تو سنا ہو گا، جس میں انسان بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہم جس ڈیجیٹل دور میں رہ رہے ہیں، وہاں ڈیجیٹل ایمنشیا بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ قدرتی طور پر کچھ بھول جانا مثلاً چابیاں رکھ کر بھول جانا، موبائل فون بھول جانا، وقت پر دوائی لینا بھول جانا تو کوئی ایسی پریشانی والی بات نہیں یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے لیکن بہت بھولنا اور بار بار بھولنا پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے۔ڈیجیٹل ایمنشیا میں ہوتا یہ ہے کہ ہماری چیزوں کو یاد کرنے کی قابلیت دن بدن کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ موبائل فون آنے سے پہلے لوگ فون نمبرز یاد رکھا کرتے تھے ، دو سے تین مرتبہ ایک ہی نمبر ڈائل کرنے کے بعد وہ ان کو یاد ہو جایا کر تا تھا۔ میں نے اپنے بچپن میں خو د ایسے افراد کو دیکھا ہے جو چلتی پھرتی فون ڈائریکٹری ہوا کرتے تھے۔ تمام رشتہ داروں اوردوستوں کے نمبر انہیں زبانی یاد ہوا کرتے تھے۔پھر موبائل فون آیا اور لوگ نمبر یاد کرنے کے بجائے فون میں محفوظ کرنے لگے جس کی وجہ سے یاد کرنے کی عادت چھوٹ گئی۔ اب حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ نمبر تو دور کی بات ہے ہم اپنے روز مرہ کے کام بھی بھولنے لگے ہیں، انہیں یاد رکھنے کیلئے بھی موبائل میں نوٹ پیڈ یا ریمائنڈر کا استعمال کرتے ہیں۔یہ ڈیجیٹل ایمنیشیا کی ہی ایک کیفیت ہے۔ماہرین کے مطابق یادداشت کی کمی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جیسا کہ کچھ عرصے سے کویڈ کی وجہ سے لوگ پریشانی اور ڈپریشن میں ہیں، تنہائی کا شکار ہیں،گھر سے کام کرنے کی وجہ سے سکرین ٹائم میں بھی اضافہ ہوا ہے، نیند کی کمی کا سامناہے۔ ماہرین کے مطابق جب ہم سٹریس یا کسی پریشانی میں مبتلا ہو تے ہیں تو اس کا براہ راست اثر ہماری یادداشت پر پڑتا ہے۔ سٹریس ہمارے جسم کے نارمل فنکشن کو بری طرح متاثر کرتا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت یادداشت کا کمزور ہونا ہے۔آج کل ایمنشیا ہونے کی وجہ صرف سٹریس نہیں بلکہ موبائل فون کا بے جا استعمال ہے۔ایک ماہر نفسیات کے مطابق 40 سے 50 سال کے افراد جن کا موبائل اور کمپیوٹر کا استعمال عام لوگوں سے کچھ زیادہ ہے میں یادداشت کی کمزوری کا مسئلہ دن بدن زیادہ بڑھ رہا ہے۔ اس میں سب سے اہم اور قابل ذکر چیز ڈسٹریکشن ہے۔ہمارا دماغ یادیں بناتا ہے اور اس ڈسٹریکشن کی وجہ سے ہمارے دماغ میں یادداشت بننا بند ہو جاتی ہے کیونکہ ہماری توجہ کسی ایک جانب مرکوز نہیں ہے۔ جب ہم موبائل فون استعمال کرتے ہیں تو ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ کام کررہے ہوتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں مختلف ایپلی کیشن میں مصروف ہوتے ہیں۔جس کی وجہ سے ہمارا دماغ کسی ایک انفارمیشن کو یاد نہیں رکھ پاتا۔ طلباء زیادہ تر پڑھائی موبائل پر ہی کرتے ہیں لیکن دیگر ایپلی کیشنز کی جانب سے آنے والے نوٹیفیکیشن ان کی توجہ بانٹ دیتے ہیں۔یہی وجہ بنتی ہے ان کی یادداشت کمزور ہونے کی۔اس صورتحال میں اگرآپ کچھ یاد کر بھی لیں گے تو وہ زیادہ عرصے یاد نہیں رہے گا ۔سمارٹ فون ہو یا کسی بھی قسم کی ٹیکنالوجی ،وہ آپ کی نیند پر بھی اثر انداز ہو گی۔دماغ کا بوجھ کم کرنے اور اس کو آرام فراہم کرنے کیلئے مناسب نیند بہت ضروری ہے۔ہماری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو ایک بین الاقوامی کمپنی کے شعبہ آئی ٹی میں کام کرتا ہے ، اس کا موبائل اور کمپیوٹر کا استعمال بہت زیادہ ہے ،اس نے بتایا کہ وہ رات کو ٹھیک سے سو نہیں پاتا جس کی وجہ سے نیند پوری نہیں ہوتی اور دفتر میں کام کرنے کے دوران وہ معمولی باتیں بھی بھول جاتا ہے۔گہری نیند آپ کے دماغ کیلئے بہت ضروری ہے۔یہ ہمارے دماغ کو اگلے دن کیلئے تیاراور تازہ دم کرتی ہے۔ اسی وجہ سے ہماری فگرل میموری بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ فگرل میموری ہمارے دماغ میں تصویریں یاد رکھنے میں مدد کرتی ہے۔یہ ہمارے دماغ کے دائیں ہیم سفیئر میں ہوتی ہے اور جو لوگ اپنا موبائل فون دائیں کان کے ساتھ زیادہ استعمال کرتے ہیں ان میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔اگر آپ بھی ڈیجیٹل ایمنشیا جیسے مسئلے سے دوچار ہیں تو اس سے محفوظ رہنا نہایت آسان ہے۔ آپ کو بس کرنا یہ ہے کہ رات کو سوتے وقت موبائل فون استعمال نہیں کرنااور نوٹیفیکیشن بند کر دیں۔ جی پی ایس کا کم سے کم استعمال کریں ، ایک مرتبہ میپ پر راستہ دیکھیں اور اسے یاد رکھنے کی کوشش کریں۔ہفتے میں ایک دن ایسا ضرور رکھیں جب آپ'' سکرین فری‘‘ ہوں ۔کوشش کریں کے اچھی خوراک لیں اور مناسب وقت پر ہی کھانا کھائیں۔ ان چند عادتوں کو اپنا کر آپ ایک ایسی بیماری سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں جو شاید آج آپ کے لئے انتی اہمیت نہ رکھتی ہو لیکن بڑھاپے میں یہ آپ کے لئے شدید پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔تنزیل الرحمن نوجوان صحافی ہیں اورتحقیق کے شعبہ سے وابستہ ہیں

یادرفتگان، شمس العلماء مولانا محمد حسین آزاد، اردو ادب کی کثیر الجہات شخصیت

یادرفتگان، شمس العلماء مولانا محمد حسین آزاد، اردو ادب کی کثیر الجہات شخصیت

بہت سی صفات جو انسان کو اس کی پیدائش کے ساتھ ہی عطا کر دی گئیں، ان میں ایک نمایاں صفت زبان ہے۔ ان گنت مخلوقات کو الگ الگ زبانیں عطا کرنے والے نے انسان سے خصوصی محبت فرمائی اور اسے ایک سے زیادہ زبانیں بولنے اور سمجھنے کی طاقت سے نوازا۔ زبانوں کو ارتقا کے مراحل سے انتہا تک پہنچانے کے لیے شاعر اور ادیب پیدا کئے جاتے رہے۔ یہی سلسلہ چلتے چلتے جب اردو زبان تک پہنچا تو اس کے لئے عظیم مرقع نگار، فلالوجی کے ماہر، معروف اخبار نویس، جدید فارسی کے استاد کامل، ماہر تعلیم، نامور انشاء پرداز، جدید نظم کے بانی و مجدد شمس العلماء مولانا محمد حسین آزاد کا انتخاب کیا گیا۔مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوںتب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیںمولانا محمد حسین آزاد، اردو کے پہلے شہید صحافی محمد باقر کے گھر 10جون 1830ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کے آباء و اجداد ایران سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تھے۔ والد کی شہرت اور وقار ''دہلی اردو اخبار‘‘ تھا۔ جس کا سفر 1836ء سے شروع ہو کر 1857ء میں اختتام پذیر ہوا۔ مولانا آزاد کو بچپن سے ہی ادبی ماحول میسر رہا اور ابراہیم ذوق کی شاگردی نصیب ہوئی۔ اس لیے آپ لفظ کی طاقت اور خوبصورتی سے مکمل طور پر واقف تھے جبکہ طبیعت میں نازک مزاجی اور حساس پن زیادہ تھا۔ ان دونوں خوبیوں کی بدولت آپ کا تخیلی دنیا آباد کر لینا فطری عمل تھا۔ اس تخیل کو نثر کی صورت عطا کرتے ہوئے پورے کا پورا منظر ہی کاغذ پر اتار لیتے تھے کہ آج بھی پڑھنے والے کو اپنے سامنے، وہ سب کچھ حقیقت نظر آتا ہے۔ان کی نثر میں روانی سلاست اور فصاحت و بلاغت پائی جاتی ہے۔ مرقع نگاری کرتے ہوئے وہ تصوراتی تصویروں میں رنگ بھرنے کیلئے موقع محل کی مناسبت سے الفاظ و تراکیب کا خوبصورت استعمال کرتے ہیں۔مولانا نے ایسا طرز ادا تخلیق کیا جس کی تقلید نہیں کی جا سکتی۔ آپ ''جدید شاعرانہ نثر‘‘ کی پہلی اور اہم مثال ہیں۔ آپ الفاظ کے صوتی اثرات کو کام میں لاکر عبارت میں موسیقی اور ترنم پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا آزاد کی'' نیرنگ خیال‘‘ ہو یا پھر ''آب حیات ‘‘کسی کو بھی، کہیں سے بھی کھول کر پڑھنا شروع کردیں۔ آپ لفظوں کے حسن سے محظوظ ہوں گے۔ آپ کی نظریں لفظوں کو چومتی ہوئی آگے بڑھتی چلی جائیں گی۔ دل کی دھڑکنیں تک مولانا کے اسلوب میں ڈھل جائیں گی۔ لفظوں کا طلسم آپ پر ایسی کیفیت طاری کر دے گا کہ آپ کو ہر لفظ میں اس کا منظر نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ الفاظ اجسام کی صورت آپ کے روبرو مسکرا رہے ہوں گے اور پھر ایسی حالت سے باہر نکلنا، کتاب کو بند کرنا، دل و دماغ کے لیے محشر برپا کر دینے کے مترادف بن جائے گا۔مولانا آزاد کی جملہ بندی، الفاظ کی نشست و برخاست قاری کو اپنے سحر میں قید کر لیتی ہے اور پھر آزاد کا قیدی کبھی آزاد نہیں ہوتا۔ بطورنمونہ ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔''سودا کے منہ سے رنگ رنگ کے پھول جھڑتے تھے۔ میر بد دماغی اور بے پروائی سے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے تھے، شعر پڑھتے اور منہ پھیر لیتے۔ درد کی آواز درد ناک دنیا کی بے بقائی سے جی بیزار کیے دیتی تھی۔ میر حسن سحر بیانی سے پرستان کی تصویر کھینچتے تھے۔ انشاء اللہ خان انشاء قدم قدم پر نیا بہروپ دکھاتے تھے۔ ناسخ کی گلکاری چشم آشنا معلوم ہوتی اور اکثر جگہ گلکاری اس کی عینک کی محتاج تھی۔ مگر آتش کی زبان اسے جلائے بغیر نہ چھوڑتی۔ مومن کم سخن تھے مگر جب کچھ کہتے تھے تو جرات کی طرف دیکھتے تھے‘‘جس طرح موبائل اور دیگر ڈیوائسز ہوا میں موجود سگنل اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ بالکل اسی طرح مولانا آزاد کا قلم بھی جیسے ہی کاغذ کو چھوتا تو گویا سرکٹ مکمل ہوگیا ہے۔ اور آسمانِ تخیل میں معلق الفاظ کرنٹ فلو کی طرح کاغذ پر بہہ نکلتے۔ یہی وجہ تھی کہ آزاد کی آزادانہ طبیعت نے قلم کو پوری آزادی سے برتا۔ وہ صرف ایک صنف تک محدود نہیں رہے بلکہ انشائیہ، تاریخ، جدید نظم، شاعرانہ نثر ، تمثیل نگاری، مکالمہ نگاری اور تذکرہ نگاری بھی کرتے چلے گئے۔ اردو ادب کو گراں قدر تصانیف سے نوازا جن میں آب حیات، درباراکبری، سخندان فارس، ڈرامہ اکبر، سیر ایران، نگارستان فارس، نیرنگ خیال، دیوان ذوق، مکاتیب آزاد، مقالات آزاد، نظم آزاد اور حمکدہ آزاد شامل ہیں۔آپ کا شمار اردو کے عناصرخمسہ میں ہوتا ہے۔ سرسید، نذیر احمد، شبلی اور حالی جیسے ہم عصر ہونے کے باوجود، اپنا الگ اور نمایاں مقام بنانا، ایک ایسی کرامت ہے جو مولانا آزاد کے علاوہ کسی دوسرے کے حصے میں نہیں آئی۔ادب کی انھی خدمات کے عوض حکومت ہند نے 1887ء میں آپ کو شمس العلماء کا خطاب دیا۔مولانا آزاد پہلے شخص ہیں جنہوں نے لسانی موضوع کو اٹھایا۔ ماہر تعلیم ہونے کے حوالے سے کئی ایک درسی اور تعلیمی کتب لکھیں۔ جن میں اردو کی پہلی کتاب، اردو کی دوسری کتاب، فارسی کی پہلی کتاب، فارسی کی دوسری کتاب، جامع القواعد، قصص ہند، نصیحت کا کرن پھول۔ حکایاتِ آزاد، شہزادہ ابراہیم کی کتاب، جانورستان اور لغت آزاد شامل ہیں۔ علمی اور ادبی حوالے سے آپ نے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔مولانا آزاد شاعر، ادیب اورعظیم مفکر تھے۔ آپ نے اردو ادب کو تکلف، تصنع اور پرشکوہ الفاظ کی بھیڑ سے آزاد کرانے کے لیے بڑا کام کیا۔ آپ نے موضوع کی اہمیت اور متن کی سادگی و مانوسیت پر زور دیا۔ آپ ادب میں حقیقت نگاری، بے تکلفی اور سادگی کے قائل تھے۔مولانا آزاد کا تخیل اس قدرحسین اور بلند تھا کہ الفاظ آپ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔آزاد کی تصانیف کا مطالعہ کیا جائے تو طبیعت ہشاش بشاش ہوجاتی ہے۔ لیکن جب ان کی زندگی پر نگاہ ڈالی جائے تو احساس غم سے گزرنا پڑتا ہے۔ والد گرامی کو پھانسی دیے جانے کے صدمے کے علاوہ بھی آپ کو کئی دکھ جھیلنے پڑے۔ 14 بچوں میں سے یکے بعد دیگرے 13 بچے فوت ہوگئے۔ بیٹی جس سے سب سے زیادہ پیار تھا اس کی وفات سے آپ کو ناقابل برداشت غم پہنچا اور ذہنی طور پر شدید جھٹکا لگا۔ سفر ایران سے واپس آتے ہوئے آپ اونٹ سے سر کے بل نیچے گرے تو ایک پسلی ٹوٹ گئی اور ساتھ ذہنی عارضے کا بھی شکار ہوگئے۔ 1890ء سے 1910ء تک 20 سال اسی حالت جنون میں رہ کر 22 جنوری بمطابق 9 محرم الحرام کو اردو ادب کا یہ بے مثال ستارہ غروب ہوگیا۔آپ کی وفات پر حالی نے اپنے پرملال دل سے آپ کو یوں خراج پیش کیا:آزاد وہ دریائے سخن کا دْر یکتاجس کی سخن آرائی پر اجماع تھا سب کاہر لفظ کو مانیں گے فصاحت کا نمونہجو اس کے قلم سے دمِ تحریر ہے ٹپکاملکوں میں پھرا مدتوں تحقیق کی خاطرچھوڑا نہ دقیقہ بھی کوئی رنج و تعب کادیکھا نہ سنا ایسا کہیں اہل قلم میںتصنیف کا، تدوین کا، تحقیق کالپکاصحت میں علالت میں اقامت میں سفر میںہمت تھی بلا کی تو ارادہ تھا غصب کاقرض اپنا ادا کرکے کئی سال سے مشتاقبیٹھا تھا کہ آئے کہیں پیغام طلب کاآخر شب عاشورا کو تھی جس کی تمناآ پہنچا نصیبوں سے بلاوا اس رب کاتاریخ وفات اس کی جو پوچھے کوئی حالیکہہ دو کہ "ہوا خاتمہ اردو کے ادب کا"انجمن پنجاب کی بنیاد ڈالنے کی غرض سے منعقدہ اجلاس 19 اپریل 1874 ء میں آپ نے لیکچر میں کہا:ـ''فصاحت اسے نہیں کہتے کہ مبالغے اور بلند پردازیوں کے بازوں سے اڑے۔ قافیوں کے پروں سے فر فر کرتے گئے۔ لفاظی اور شوکتِ الفاظ کے زور سے آسمان پر چڑھ گئے اور استعاروں کی تہ میں ڈوب کر غائب ہو گئے۔ فصاحت کے معنی یہ ہیں کہ خوشی یا غم، کسی شے پر رغبت یا اس سے نفرت، کسی شے سے خوف یا خطر، کسی پر قہر یا غضب، غرض جو خیال ہمارے دل میں ہو اس کے بیان سے وہی اثر، وہی جذبہ، وہی جوش سننے والوں کے دل پر چھا جائے جو اصل کے مشاہدہ سے ہوتا ہے۔‘‘آپ نے انجمن پنجاب کے پہلے موضوعاتی مشاعرے میں اپنی مثنوی ''شب قدر‘‘ پڑھی۔ جو رات کی حالت پر لکھی گئی تھی۔ آپ نے انجمن پنجاب کے حوالے سے 4 نظمیں لکھیں اور 15 لیکچر دیئے ۔ انجمن پنجاب کے لیے کی جانے والی محنت کے تحت آپ کو ''جدید نظم‘‘ کا بانی کہا جاتا ہے۔ جبکہ مہدی افادی کے نزدیک آپ '' آقائے اردو ‘‘ ہیں۔ساجد ندیم انصاری شعبہ تدریس سے وابستہہیں، مختلف موضوعات پر ان کے مضامینمختلف جرائد میں شائع ہو چکے ہیں

کیا آپ جانتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں؟

دنیا میں سب سے بڑا بارشوں اور تیز ہواؤں پر مشتمل طوفان امریکہ میں 4 نومبر 1998ء میں آیا، جب 9745 افراد ہلاک اور 93 ہزار سے زائد لوگ لا پتہ ہو گئے تھے۔ٔٔٔٔ دنیا میں سب سے زیادہ چیخنے والے بندر امریکی ہیں جنکی خوفناک آوازیں 16 کلومیٹر دور سے بھی سنی جا سکتی ہیں۔ٔٔٔٔ دنیا میں سب سے اونچا ہوائی جمپ لگانے کا اعزاز بھی دو امریکی کتوں کے پاس ہے جنہوں نے 3 اکتوبر 2003 ء کو 66 انچ اونچائی سے چھلانگ لگا کر ریکارڈ قائم کیا۔ٔٔٔٔ دنیا میں سب سے لمبا اونٹ امریکہ میں ہے۔ٔٔٔٔ دنیا میں سب سے بڑی مچھلی شارک وہیل ہے جو بحر اوقیانوس میںپائی جاتی ہے ۔اس کی لمبائی 23 فٹ اور وزن 20 ٹن سے زائد ہے۔ٔٔٔٔ دنیا کا سب سے چھوٹا پرندہ کیوبا کا ہے ۔جس کا جسم صرف 2.2 انچ اور وزن صرف 0.56 اونس ہے۔ٔٔٔٔ دنیا کا سب سے وزنی مادہ بندر جنوبی افریقہ میں ہے جس کا وزن 45 کلو سے بھی زائد ہے۔ جبکہ نر بندر 54کلو کا ہے۔ٔٔٔٔ دنیا کی سب سے لمبی گالف کارٹ امریکی پیٹر نی نے بنائی جس کی لمبائی 5.81 میٹر ہے۔سب سے پہلے ملنے والے پیمائش کے اوزان کا تعلق 3800 قبل مسیح کی مصری تہذیب سے ہے۔ جس کا نام ''بیقا ‘‘ ہے جو مصر میںنقادہ کے مقام سے ملے۔

اقتباسات

اقتباسات

مجھے وہ بات یاد آرہی ہے جو شاید میں نے ٹی وی پر ہی سنی ہے کہ ایک اخبار کے مالک نے اپنے اخبار کی اس کاپی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جس میں دنیا کا نقشہ تھا اور اس نقشے کو 32 ٹکڑوں میں تقسیم کردیا اور اپنے پانچ سال کے کمسن بیٹے کو آواز دے کر بلایا اور اس سے کہا کہ لو بھئی یہ دنیا کا نقشہ ہے جو ٹکڑوں میں ہے، اس کو جوڑ کر دکھاؤ۔ اب وہ بیچارہ تمام ٹکڑے لے کر پریشان ہوکے بیٹھ گیا کیونکہ اب سارے ملکوں کے بارے میں کہ کون کہاں پر ہے، میرے جیسا بڑی عمر کا آدمی بھی نہیں جانتا ہے۔ وہ کافی دیر تک پریشان بیٹھا رہا لیکن کچھ دیر بعد اس نے تمام کا تمام نقشہ درست انداز میں جوڑ کر اپنے باپ کو دے دیا۔ اس کا باپ بڑ ا حیران ہوا اور کہا کہ بیٹا مجھے اس کا راز بتا کیونکہ اگر مجھے اس نقشے کو جوڑنا پڑتا تو میں نہیں جوڑ سکتا تھا۔اس پر اس لڑکے نے کہا کہ بابا جان میں نے دنیا کا نقشہ نہیں جوڑا بلکہ نقشے کے دوسری طرف ایک اشتہار تھا اور اس میں ایک شخص کا بڑا سا چہرہ تھا جو شیو کرتا دکھایا گیا تھا۔ میں نے سارے ٹکڑوں کو الٹا کیا اور اس آدمی کو جوڑنا شروع کیا اور چار منٹ کی مدت میں میں نے پورا آدمی جوڑ دیا۔ اس لڑکے نے کہا کہ بابا اگر آدمی جڑ جائے تو ساری دنیا جڑ جائے گی۔(''زاویہ ۲‘‘ از اشفاق احمد سے اقتباس)ناامیدی اور مایوسیرونے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ نم آنکھیں، نرم دل ہونے کی نشانی ہیں اور دلوں کو نرم ہی رہنا چاہئے۔ اگر دل سخت ہوجائیں تو پھر ان میں پیار و محبت کا بیج نہیں بویا جاسکتا اور اگر دلوں میں محبت ناپید ہوجائے تو پھر انسان کی سمت بدلنے لگتی ہے۔ محبت وہ واحد طاقت ہے جو انسان کے قدم مضبوطی سے جمادیتی ہے اور وہ گمراہ نہیں ہوتا۔بس ان آنسوؤں کے پیچھے ناامیدی اور مایوسی نہیں ہونی چاہئے۔ کیونکہ ناامیدی ایمان کی کمزوری کی علامت ہوتی ہے۔ اللہ سے ہمیشہ بھلائی اور اچھے وقت کی آس رکھنی چاہئے۔ وہ اپنے بندوں کو اسی چیز سے نوازتا ہے جو وہ اللہ سے توقع کرتے ہیں۔(فاطمہ عنبریں کے ناول ''رستہ بھول نہ جانا‘‘ سے اقتباس