سناو گے ہماری داستاں جب ہم نہیں ہوں گے
اسپیشل فیچر
امام صاحب نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو ایک بچہ ہاتھ میں کھانا لیے مسجد کے حجرے میں داخل ہوا ۔مولوی صاحب نے بچے کو دعا دی اور اپنی جگہ سے اُٹھ کر کھانا کھانے کے لیے حجرے کی طرف چل پڑے ۔ قریب ہی ایک بزرگ بیٹھے تھے ۔ مولوی صاحب نے انہیں بھی کھانے کی دعوت دی، لیکن اس ستر سالہ بزرگ نے دعوت قبول کرنے سے معذرت کرلی ، پھر انھوں نے مولوی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:’’ مولوی صاحب ! جس گھر سے یہ کھانا آپ کے لیے آیاہے ، اس گھر کا سربراہ سود کا بہت بڑا کاروبار چلاتا ہے ۔ غریبوں ،یتیموں اور بیوائوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں بھاری مارک اپ پرقرضہ دیتا ہے۔ اس لئے میں اس گھر کا کھانا نہیں کھا سکتا ۔آپ کو بھی چاہیے کہ اس شخص کو پیار سے سمجھائیں ۔‘‘ بزرگ نے اصل حقیقت سے پردہ اُٹھایا تو مولوی صاحب سر ہلا کر رہ گئے ۔پھر انہوں نے ہنس کر بزرگ کی بات کو نظر انداز کر دیا : ’’ارے چھوڑیے بزرگو! ایسی باتوں کی طرف دھیان نہیں دیتے ۔جو جیسا ہے اسے ویسا ہی رہنے دیں۔‘‘ مولوی کی بات سن کر وہ درویش صفت بزرگ حیران رہ گئے ۔ پھر قدرے سخت لہجے میں بولے ’’مولوی صاحب!یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟آپ صاحب ِ علم ہیں ماشاء اللہ ۔لیکن آپ کے اس جملے سے توایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی آمد کا مقصد بھی ختم ہوجاتا ہے ۔ جو جہاں لگاہواتھا ،اسے وہیں لگا رہنے دیتے۔ اللہ سے کھلی جنگ کرنے والوں اوریتیموں اور غریبوں کو سود کی چکی میں پیسنے والوں کی ’’کمائی ‘‘ کا کھانا میں تو نہیں کھاسکتا ۔اگر آپ کو پہلے علم نہیں تھاتوکوئی بات نہیں،لیکن اب توہوچکا ہے ناں ۔ اس کے باوجود اگر آپ نہیں رکیں گے تویہ اچھی بات نہیںہوگی ۔اور شاید پھرمیں آپ کے پیچھے نماز بھی نہ پڑھ سکوں۔‘‘ بزرگ نے فیصلہ کن انداز میں کہا اور سر جھکا کر مسجد سے باہر چل دیے۔ دوسال قبل لاہور کے سفاری پارک میں پندرہ سے بیس نوجوان ادیبوں کے درمیان وہی بوڑھا مرد ِ قلندر زمین پرآلتی پالتی مارے بیٹھا تھا، جس نے سود خوروں کا مرغن کھانا کھانے سے بھی انکار کر دیا ۔ کسی قسم کی نمود ونمائش یا پروٹوکول کبھی اس کی ذات کا حصہ نہیں رہا تھا ۔ ادبی گفتگو کے ساتھ ساتھ روایتی گپ شپ بھی جاری تھی ۔ مٹھائیوں اور گرما گرم کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو حاضرین ِمحفل کی بھوک میں اضافہ کر رہی تھی۔ میں اس محفل میں شریک نوجوان دوستوں اورقد آور ادبی شخصیات کی گفت وشنید سے انمول موتی چُن رہا تھا ۔ دوران گفتگو حاضرین ِ محفل ہمہ تن گوش تھے ۔ایسے میں اسی بزرگ شخصیت نے اپنے اور مولوی صاحب کے درمیان ہونے والا مذکورہ مکالمہ سنایا تو حاضرین محفل محظوظ ہوئے بغیر نہ رہے ۔کچھ ہی دیر بعد ہم لوگ اس صوفی منش انسان کے ہمراہ سفاری پارک میں شیروں کے روبرو کھڑے تھے ۔ حسب ِمعمول اب کی بار بھی اس پکنک پارٹی کا انتظام و انصرام بچوں کے ادب کی ایک انجمن ’’بزم اسلام‘‘ نے کیا تھا ۔ نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ہر سال یہ مرد ِ قلندر جھنگ سے لاہور کا سفر کیا کرتاتھا۔ آج بچوں کے دلوں پہ حکمرانی کرنے والا یہ بے لوث انسان، آسمان ِ ادب کا روشن ماہتاب، اپنے لاکھوںچاہنے والوں کو اندھیروں کے سپرد کرکے ہمیشہ کے لئے اس فانی جہان سے کُو چ کرگیا ۔ واقعی، آج بابائے ادبِ اطفال ،معروف ناول نگار جناب اشتیاق احمد کی رحلت سے بچوں کا ادب یتیم ہوچکاہے۔ اُردو کی تاریخ میں سب سے زیادہ ناول لکھنے والے یہ باباجی اپنی ذات میں سادگی کا ایک عمدہ نمونہ تھے۔اشتیاق احمدکی قابل ِرشک اور محنت سے بھر پور زندگی ایک مخلص قلم کار کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ مرحوم 5جون 1944ء کو ہندوستان کو علاقے پانی پت کے ضلع کرنال میں پیدا ہوئے ۔ بچپن میں اپنے گھر کے دروبام پہ اشتیاق صاحب نے غربت کا راج ہی دیکھا ۔قیام ِ پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ وہ پنجاب کے ضلع جھنگ میں چلے آئے ۔ ابتدائی تعلیم جھنگ کے شیخ لاہوری پرائمری اسکول میں حاصل کی ۔ پھر اسلامیہ ہائی اسکول جھنگ سے میٹرک کرنے کے بعد غربت کے باعث اس نوجوان کو تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا ۔اشتیاق احمد کی عمر اُس وقت تقریبا سولہ سال ہوگی ،جب انہوں نے پہلی بار قلم اُٹھایا۔اولین کہانی ماہنامہ قندیل میں بھیجی تو خلاف ِ توقع انہیںکامیابی نصیب ہوئی ۔ بعد ازاںانہوں مزید دو عدد کہا نیاں رسالے کو ارسال کر دیں۔ جنہیں شرف ِ قبولیت بخشا گیا۔اب پے درپے کہانیوں کی اشاعت نے اشتیاق احمد کے اندر ایک نئی امید جگا دی ۔ انہوں نے دو تین مختلف رسائل میںبچوں کی کوئی بیس ،پچیس کہانیاں کامیابی کے سا تھ چھپوائیںتو اسی راستے سے ہوتے ہوئے اپنی منزل کا تعین بھی کرلیا ۔قلمکاری کے ساتھ ساتھ وہ میونسپل کا رپوریشن میں سو روپے ماہوار پہ ملازمت بھی کر رہے تھے ۔ ڈیوٹی سے آنے کے بعد فارغ وقت میں وہ کہانیاں لکھا کرتے۔جب کہانیوں کی تعداد دو درجن سے بڑھ گئی تو طبیعت نے انہیں بڑوں کے لئے افسانوی کہانیاں لکھنے پر اُکسایا ۔ چناں چہ اشتیاق صاحب نے ’’منزل انہیں ملی‘‘ کے نام سے ایک رومانوی ناول لکھا ۔انہیں دنوں کراچی سے شائع ہونے والے ماہنامہ شعاع میں بھی وہ کہانیاںاور افسانے لکھنے لگے۔بعد ازاں سیارہ ڈائجسٹ کا اجرا ہو ا تو اشتیاق احمد نے وہاں بھی قلم کے خوب جوہر دکھائے۔ سیارہ ڈائجسٹ کے نائب مدیر نے انہیں اپنے ہاں ملازمت کی پیش کش کی جو انہوں نے بخوشی قبول کر لی ۔اب کارپوریشن کی ملازمت کے ساتھ ساتھ شام کے وقت وہ سو روپے ماہوار پہ سیارہ ڈائجسٹ میں بھی کام کرنے لگے ۔ ایک روز اسی ڈائجسٹ کے نائب مدیر کے توسط سے وہ اپنا پہلا رومانوی ناول لے کر مکتبہ عالیہ پہ جاپہنچے۔ اس ادارے کی جانب سے وہ رومانوی ناول پسند توکر لیا گیا ۔ مگر انھوں نے ناول کی اشاعت کے لیے ایک شرط یہ رکھی گئی کہ آپ پہلے بچوں کے لیے ایک عدد جاسوسی ناول لکھ کر دکھائیں۔چنانچہ اشتیا ق احمد صاحب نے اپنے اندر مستور ادبی صلاحیتوں کوبڑے خوبصورت انداز میں استعمال کیااور صرف تین دن میںبچوں کے لیے ’’پیکٹ کا راز ‘ ‘ کے نام سے ایک عدد جاسوسی ناول لکھ کر وہ دوبارہ مکتبہ عالیہ پہ جا پہنچے۔ مزے کی بات یہ کہ اسی ناول سے ان کے مشہور ِ زمانہ کرداروں انسپکٹر جمشید ، فرزانہ ، محمود اور فاروق کا پہلی بار قارئین سے تعارف ہوا ۔یہ 1972ء کا سال تھا۔ یہ سارے کردار اشتیاق صاحب کے جاسوسی ناولوں کی سیریز میں تادم ِ مرگ قارئین کے ذوق کی تسکین کرتے رہے۔ اشتیاق صاحب کو پہلے ناول کا معاوضہ 50روپے ملا ۔ اس کے بعد فیروز سنز اور شیخ غلام علی اینڈ سنز جیسے اداروں سے فی ناول 300 روپے کے عوض ان کے یکے بعد دیگرے کئی جاسوسی ناولز شائع ہوتے رہے۔اپنے جاسوسی ناولوں اور ادبی و تاریخی تحریروںکے ذریعے اشتیاق احمد صاحب نے تین نسلوں کی ذہنی آبیاری کی ۔ کئی ادبی اصناف میں انہوں نے کامیابی کے ساتھ مسلسل لکھا ۔اپنے انتقال سے پہلے وہ ایک روزنامہ اخبار میں ’’مکالمہ ‘‘ اور ایک مذہبی ہفت روزے میں ’’امید ‘‘ کے نام سے کالم لکھا کرتے تھے ۔کالموں ، افسانوں اور ناولوں کے علاوہ انہوں نے بچوں کے لیے بے شمارکہانیاں اور تاریخی واقعات بھی تحریر کیے ۔ اس مقصد کے لیے انھیں اپنے حقیقی نا م کے علاوہ سرورمجذوب ، عبداللہ فارانی اور ارشاد الٰہی جیسے قلمی نام بھی استعمال کرنے پڑے۔ بے شمار تصانیف اشتیاق احمد صاحب نے اپنے اصل اور قلمی نام سے تحریر فرمائیں۔ پاکستان میں بچوں کے ادب کی تاریخ اشتیاق احمد کے بغیر ہمیشہ ادھوری ہی رہے گی ۔نومبر شروع ہوتے ہی کراچی ایکسپو سینٹر میں جاری کتب میلے کی رونقیں بڑھ گئیں ۔ بچوں اور بڑوں کے بہت سے ادیبوں کو اس کتب میلے میں مختلف اداروں کی جانب سے مدعو کیا جاتا ہے ۔اسی کتب میلے میں جھنگ سے اشتیاق احمدصاحب بھی ایکسپو سینٹر پہنچے ۔ مگر انھیں کیا معلوم تھا کہ یہ سفران کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگا ۔ 17نومبر 2015ء کی دوپہر کو ، بچوں کے دلوں پہ حکمرانی کرنے والایہ عظیم ناول نگار اپنے دوست قاری عبدالرحمن کے ہمراہ قائدا عظم ائیر پورٹ پہ پہنچا تو ائیر پورٹ پہ جہاز کا انتظار کرتے ہوئے اسے دل میں شدید تکلیف کا احساس ہوا ۔اسی تکلیف کے دوران اشتیاق احمدصاحب کی حرکت ِ قلم بند ہوگئی اور وہ دنیا ئے فانی کو الوداع کہتے ہوئے حقیقی منزل کی جانب کو چ کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون تاحشر تیری دید کو ترسیں گی نگاہیںیوں تجھ سے بچھڑنے کا نہ تھا وہم و گماں بھی