نمکیات
اسپیشل فیچر
معدنی نمکیات (Minerals) ایسے عناصر کو کہتے ہیں جو جسم کی نشو ونما کے لیے ضروری ہیں۔ ایسے کچھ اہم عناصر کیلشیئم، فاسفورس، سوڈیم، پوٹاشیم، آئرن، میگنیشم اور سلفر ہیں۔ معدنی عناصر جسم کی ساخت اور کام کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔اگر جسم میں ان عناصر کی کمی ہوجائے تو اس کے اثرات عنصر کی کمی کی بیماری کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کمی کو اس معدنی عنصر کی ڈاکٹر کی تجویز کردہ خوراک لے کر یا پھر متوازن غذا کھا کر پورا کیا جاسکتا ہے۔ نمکیات کے مرکبات اکیلے یا دوسرے معدنی عناصر یا وٹامنز کے ساتھ ملا کر تیار کیے جاتے ہیں۔ مثلاًفیرس سلفیٹ(Ferrous Sulphate)کیلشیم (Calcium)فیفول وٹ (ٖFefol-vit))سینگو بیان (Sangobion)مضر اثرات (کیلشیم):-1معدے میں معمولی گڑبڑ۔-2طویل استعمال سے گردوں میں پتھری ہوسکتی ہے۔آئرن کی گولیاں-1خوراک کی نالی میں جلن، قے آنا، ڈائریا، قبضاحتیاط (کیلشیم)-1گردوں کی خرابی یا بیماری کی صورت میں استعمال نہیں کرنی چاہیے۔-2 کیلشیم کے قدرتی ذرائع مثلاً دودھ، مٹر، پھلیاں اور دیگر سبزیاں استعمال کی جائیں۔-3مختلف معدنی عناصر اگر غیر ضروری طور پر طویل عرصے کے لیے استعمال کیے جائیں تو اس سے ان عناصر کی وجہ سے ذہر خورانی کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے معدنیات کے غیر ضروری استعمال سے بچنا چاہیے۔٭درج ذیل حالتوں میں آئرن کی گولیوں کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔-1معدے کا السر-2 گردے اور جگر کی بیماریدوا کی نوعیت اور ضرورت کی اہمیت:معدنی نمکیات (Mineral Salts)جسم کے لیے ضروری ہیں۔ ایسے تقریباً15نمکیات ہیں جو جسم کو تندرست و توانا اور اس کے مختلف عملوں کے لیے ضروری ہیں لیکن ان میں سے اہم چار نمکیات ہیں جن میں کیلشیم، آئرن، فاسفورس اور پوٹاشیم شامل ہیں۔وٹامن کی مقررہ مقدار تو جسم کے لیے روزانہ چاہیے لیکن معدنی نمکیات صرف حاص حالات میں ہی درکار ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر دورانِ حمل عورتوں کو آئرن اور کیلشیم کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ بچوں کو کیلشیم کی کمی کی صورت میں کیلشیم دیا جاتا ہے۔ اس طرح فاسفورس ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔معدنی نمکیات کی چوں کہ ضرورت خاص صورتوں میں ہوتی ہے، اس لیے ان کا استعمال کرنا اگر ضروری ہو تو ڈاکٹر کے مشورہ سے کیا جائے اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ خوراک کے مطابق دوا لی جائے۔