چند خطرناک ترین زہر
اسپیشل فیچر
زہر، جس کا نام سنتے ہی پہلا خیال موت کا آتا ہے۔ اگر کسی سے پوچھا جائے کہ خطرناک ترین زہر کون سا ہے، تو عام طور پر لوگ سائنائیڈ اور آرسینک کا نام لیتے ہیں، لیکن یہ بالکل بھی دنیا کے زہریلے ترین مادّے نہیں۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں، دنیا کے سب سے خطرناک زہروں کے بارے میں، یہ سائنائیڈ اور آرسینک سے کم از کم ایک سو گنا زیادہ زہریلے ہیں:ریسن:یہ زہر ارنڈی کے بیج سے نکلتا ہے اور اسی نے بلغاریہ کے مصنف جیورجی مارکوف کی جان لی تھی جو لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ 7 ستمبر 1978ء کو وہ اپنی ملازمت پر جا رہے تھے کہ انہیں اچانک دائیں ران کے پچھلے حصے میں کوئی چیز محسوس ہوئی جیسے کسی کیڑے نے کاٹا۔ انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک شخص اپنی چھتری اٹھا رہا تھا اور پھر وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ وہ دفتر پہنچے اور جب تکلیف بڑھنے لگی تو انہیں تیز بخار کی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ چار دن بعد چل بسے۔ یہ بلغاریہ کی خفیہ ایجنسی کی ’’چھتری بندوق‘‘ کا کارنامہ تھا، جس کے ذریعے انہیں ایک چھوٹی سی گولی ماری گئی تھی، جس میں ریسن زہر تھا۔ یہ اتنا خطرناک زہر ہے کہ اس کی محض ایک ملی گرام مقدار بھی انسان کو مار سکتی ہے۔وی ایکس:دنیا کے پانچ خطرناک ترین زہروں میں سے واحد جو مصنوعی مادہ ہے۔ وی ایکس ایک ایسا زہر ہے، جو 1950ء کی دہائی میں کیڑے مار ادویات بنانے کے دوران آئی سی آئی کی تحقیق میں سامنے آیا تھا۔ اسے زراعت میں استعمال کے لیے حد سے زیادہ زہریلا قرار دیا گیا تھا۔ یہ زہر انسان کے خلیوں کے درمیان اعصابی پیغامات کی ترسیل میں مداخلت کرکے انہیں مار دیتا ہے۔ 1968ء میں امریکاکی اسکل ویلی میں ایک حادثے میں 4 ہزار بھیڑیں اس زہر سے ماری گئی تھیں۔بیٹراکوٹوکسن: آپ نے یہ تو ضرور سنا ہوگا کہ جنوبی امریکا کے قدیم باشندوں کا ایک ہتھیار ہوتا تھا ،جس میں ایک نلکی کے اندر زہریلی سوئی رکھ کر پھونک ماری جاتی ہے۔ یہ سوئی جس نشانے پر لگتی، اس کا کام تمام ہو جاتا تھا۔ یہ قدیم قبائل یہ زہر عام طور پر پودوں سے حاصل کرتے تھے، لیکن ان میں سب سے خطرناک زہر ننھے مینڈکوں کی جلد سے ملتا تھا۔ انہی مینڈکوں کا سب سے خطرناک اور مہلک زہر بیٹراٹوکسن کہلاتا ہے۔ مغربی کولمبیا کے مقامی باشندے سنہرے اور دیگر رنگوں کے ان ننھے مینڈکوں سے یہ خطرناک زہر حاصل کرتے تھے۔ سائنسی طور پر یہ بات ثابت شدہ ہے کہ نمک کے صرف دو دانوں کے برابر یہ زہر کسی بھی انسان کو مارنے کے لیے کافی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نسل کے جو مینڈک انسانوں کی قید میں پیدا ہوئے، وہ زہریلے نہیں تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ زہر وہ جنگل میں موجود اپنی خوراک سے حاصل کرتے ہیں۔میٹوٹوکسن:یہ چند خطرناک سمندری اجسام میں پایا جاتا ہے۔ سمندری حیوانات و نباتات کی ایک قسم ہوتی ہے، جو بہت خطرناک قسم کا زہر پیدا کرتی ہے۔ یہ زہر حرکت قلب کو فوری طور پر بند کردیتا ہے اور جان لے لیتا ہے۔بوٹولینم ٹاکسن:یہ کتنا خطرناک زہر ہے؟ اس سے اندازہ لگا لیں کہ کسی بھی زندہ جسم کے لیے فی کلو اس کی محض ایک نینوگرام مقدار ہی کافی ہے۔ واضح رہے کہ ایک نینوگرام ایک مائیکروگرام کا سواں حصہ ہوتا ہے، جو خود ایک ملی گرام کا سواں حصہ ہوتا ہے۔ ایک گرام کے اندر 100 ملی گرام ہوتے ہیں، یعنی اس زہر کی اتنی معمولی مقدار بھی قاتل ہے۔ یہ زہر پہلی بار 18 ویں صدی میں دریافت ہوا تھا جب جرمنی میں ایک خوراک کی تیاری میں گڑبڑ ہونے کے بعد اسے زہریلی بن جانے والی چیز میں پایا گیا تھا۔ یہ طبی، آرائش و زیبائش اور تحقیق کے مقاصد کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔٭…٭…٭