تھرپارکر کی مختصر تاریخ
اسپیشل فیچر
تھرپارکر ، سندھ کے جنوب مشرق میں واقع صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے جس کا ہیڈ کوارٹر مٹھی میں ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریبا 21ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی13لاکھ ہے معروف سندھی مؤرخ و محقق دوست ڈیپلائی کے مطابق تھر کے لفظی معنی صحرا ہیں۔ کسی زمانے میں یہاں راجہ کی ریل چلا کرتی تھی لہٰذا تھر کی سماجی زندگی باقی سندھ سے کٹی ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے تھر کی زبان ثقافت اور رسم و رواج باقی ماندہ سندھ سے الگ ہیں۔ قدیم دور میں یہ علاقہ سرسوتی دریا کے ذریعے سیراب ہوتا تھا۔ بعدازاں’’مہرانوں نہر‘‘ کے ذریعے اسے سیراب کیا جاتا رہا۔ اس کے علاوہ تھرپارکر کی سیرابی کے لیے دریائے سندھ سے ایک بڑی نہر’’باکڑو‘‘ نکلا کرتی تھی‘ جسے 17ویں صدی میں کلہوڑا حکم رانوں نے سیاسی مخالفت کی بنیاد پر بند کروا دیا جس کے سبب تھر مزید خشک سالی کا شکار ہوا ان جزوی انتظامات کے باوجودپانی کی دستیابی تھر کا صدیوں سے اہم مسئلہ رہا ہے۔ اس حوالے سے کئی مقامی محاورے مشہور ہیں۔ ’دوسے تہ تھ نہ تہ بر‘‘ یعنی اگر بارش ہو تو تھر گلستان بن جاتا ہے ورنہ بیابان کی مانند ہے۔ دوسری کہاوت ہے کہ تھر آھے کن تے یادھن تے‘‘ یعنی تھر کا انحصار بارشوں کی بوند پر ہے یا بھیڑ بکریوں کے ریوڑ پر ہے۔ تھر کے مقامی لوگ کرنل تھروٹ کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے 1882ء میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کئی مقامات پر تالاب بنوائے تھے جہاں سے عام لوگوں کو پانی دستیاب ہوتا۔ اس کے علاوہ سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے بھی تھر کے باشندوں کے کرب کو بھانپتے ہوئے ’’شاہ جو رسالو‘‘ میں بھی تھر کی برسات سے قبل اور بعد کی کیفیات کو قلم بند کیا ہے تھر کے لوگوں کا شہارا ہی میگھ(بارش) ہے میگھا برسا تو لوگ خوش ورنہ دربہ در خاک بہ سر۔ نہ تو کوئی زرخیز زمین ہے نہ جاگیر ان کازیادہ تر انحصار بھیڑ بکریوں پر ہوتا ہے۔ دس بارہ بھیڑ بکریاں نہ بجلی نہ گیس نہ موٹر نہ کار کہیں دور جانا ہو تو اونٹ پر چلے جاتے ہیں ورنہ ساری زندگی اپنے ’’دیس‘‘ تھر میں ہی بسر کریں گے۔‘‘٭…٭…٭