پسندیدہ افراد کی اہم خصوصیات
اسپیشل فیچر
بنیادی طورپر انسان بھی ایک ایسا معاشرتی جانور ہے جس کی اپنی پسند ناپسند، عادات و اطوار، امیدیں اور خواہشات ہوتی ہیں، لیکن عموماً دوسروں سے قدرے مختلف۔ تاہم یہ خصوصیت سب میں مشترک ہے کہ انہیں چاہا جائے۔ معاشرے میں اعلیٰ مقام دیا جائے۔ روزمرہ کا یہی مشاہدہ ہے کہ کچھ لوگ زیادہ پسند کیے جاتے ہیں اور کچھ کم۔ان میں سے بعض کو ان کے اقتدار، دولت اور خوبصورتی کے باعث پسند کیا جاتا ہے۔ جبکہ بعض دوسروں کو ان کی اپنی ذاتی خصوصیات اور کردار کے باعث فوقیت دی جاتی ہے۔ دوسری قسم کے لوگ بعض اعلیٰ خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ اگر ہم ان کی اعلیٰ خصوصیات کو سمجھ لیں اور انہیں اپنے اندر پید اکرنے کی سنجیدہ کوشش کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان خصوصیات کے باعث ہم بھی ان کی طرح خوبصورت اور چاہے جانے کے قابل نہ بن سکیں۔ذوق ظرافت پیدا کریں:ذوق ظرافت کا حامل شخص زندگی کے کٹھن مسائل کا خندہ پیشانی سے سامنا کرتے ہوئے اپنے آپ کو پر سکون رکھ سکتا ہے۔ اس طرح اپنے اطراف کے انسانوں کا اعتماد بھی حاصل کر سکتا ہے۔ وہ گھبرا کر چہاروں جانب ایسی نظروں سے نہیں دیکھتا جیسے دنیا بھر کے مسائل اس کے ناتواں کندھوں پر ڈال دیے گئے ہوں، اس کے برعکس وہ کٹھن گھڑیوں میں بھی زندگی کے روشن پہلوئوں کو مدنظر رکھتا ہے ایسا شخص عمر بھر کے لیے دوست بنا لیتا ہے اور دوسروں کی نظروں میں چاہے جانے کے قابل بن جاتا ہے۔شیخی ہرگز نہ ماریں:کوئی شخص بھی شیخی خوروں کی صحبت میں رہنا پسند نہیں کرتا۔ ہم سب ایسی خواتین سے ملتے ہیں جو کچھ اس قسم کے جملے بھی دہراتی رہتی ہیں۔آپ تو جانتی ہیں کہ میرے پاس ساڑھیوں کا بہت نفیس ذخیرہ ہے یا یہ کہ میری والدہ شاہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس قسم کے الفاظ سننے والوں کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ عام طور پر بڑے انسان منکسرالمزاج ہوتے ہیں جو بس اسٹینڈ سے مسافروں کو اپنی گاڑیوں میں بٹھا کر ان کے گھروں تک چھوڑ آتے ہیں اور اپنی اصل شخصیت کا اظہار بھی نہیں کرتے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ لوگ انہیں ڈرائیور سمجھ بیٹھے لیکن ان کے ماتھے پر بل تک نہیںآیا ۔ایک پرانی کہاوت آپ نے ضرور سنی ہو گی کہ پھلوں سے بھری ڈالی زمین کی طرف جھک جاتی ہے۔دوسروں کے ساتھ ہمیشہ مخلص رہیں:پرخلوص انسان دوسروں کی خود اعتمادی میں اضافہ کرتے ہیں۔ پر خلوص انسانوں پر ہمیشہ بھروسہ کریں کیونکہ جہاں تک ممکن ہو گا وہ آپ کو بھی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ آپ خود بھی مخلص بننے کی کوشش کریں تاکہ دوسرے لوگ آ پ سے دوستی کرنے میں فخر محسوس کریں۔ میں نے اکثر کسی کے بارے میں اس قسم کے جملے بار بار سنے ہیں کہ وہ کتنی مخلص دوست ہے۔ ہر باس یہ چاہتا ہے کہ اس کے ماتحت ایماندار محنتی اورمخلص ہوں۔دوسروں کو سراہنا سیکھیں:کیا آپ کے پاس دوسروں کی خوبیوں کو پرکھنے کی صلاحیت اور انہیںسراہنے کے لیے وسیع القلبی موجود ہے۔ مثبت جواب کی صورت میں آپ بلا شبہ چاہی جانے والی شخصیت ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو احساس نہیں کہ وہ اپنے میں کس قدر منہمک رہتے ہیں۔ اگر ہم صرف تھوڑی سی دیر کے لیے اپنی ذات کی سوچ کے دھارے میں سے نکل کر دوسروں کے اندر پائی جانے والی خوبیوں کو سراہنا شروع کریں تو اس طرح ہم اپنی دوستی کو زیادہ پائیدار بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ کسی عزیز دوست سے کافی عرصہ کے بعد ملیں تو اس سے یہ ضرور کہیں کہ وہ پہلے سے زیادہ پرکشش لگ رہی ہے یا اس کے اعزاز حاصل کرنے پر آپ کو کس قدر مسرت ہے۔اگر آپ اپنی سہیلی کے کسی کمزور پہلو سے آگاہ ہیں تو اپنی ملاقات میں اس کا تذکرہ نہ کریں بعض لوگوں کی یہ عادت بڑی تکلیف دہ معلوم ہوتی ہے کہ پہلی ہی ملاقات میں گفتگو کا آغاز منفی انداز میں کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ ہائے اتنے دنوں میں آپ اتنی دبلی اور کمزور ہو گئی ہیں کیا آپ بیمار رہتی ہیں۔ یقین رکھیں کہ اگر آپ اس کی دوست ہیں تو وہ خود ہی اپنی بیماری کے بارے میں آپ کو بتا دے گی۔ اس لیے پہلے جملے سے ہی اسے تکلیف پہنچانے کی کوشش نہ کریں۔ اس کے کسی جسمانی نقص کا مذاق ہرگز نہ اڑائیں بلکہ اپنے خاندان کے اندر بھی دوسروں کو سراہنے کی عادت ڈالیں۔ سراہنے سے دوسرے شخص کی ہمت افزائی ہوتی ہے اور وہ پہلے سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتی ہے اس طرح کچھ فائدہ آپ کو بھی ہوتا ہے۔سکون اور اطمینان کی خوبی:غصہ کی کیفیت میں ا س کا اظہار کر دینا ہی اچھا ہے۔ دل میں گھٹ کر رہنے اور باورچی خانہ اور آفس میں سامان کو توڑنے سے بہتر ہے کہ اپنی غصہ متعلقہ شخص پر اتار لیں۔ تاہم ایک مکمل انسان بننے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے اندر اطمینان و سکون پیدا کریں اور دوسروں کی پر خلوص معذرت قبول کرکے اسے برداشت کرنا سیکھیں۔ غصہ کی حالت میں ہم اکثر ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں کہ جس کے کہنے کی نیت نہیں ہوتی۔ اس لیے معافی مانگ لینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں آپ دوسروں پر ایک برا تاثر چھوڑیں گے بار بار غلطی کر کے معافی مانگنا بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ اس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے ایسے عمل سے آپ کے الفاظ اپنی قدر کھو بیٹھتے ہیں۔ دوسروں کے کہے ہوئے طنزیہ الفاظ کا شکار نہ ہو جائیں بلکہ انہیں نظر انداز کرنے کی عادت ڈالیں۔ اکثر لوگ زندگی میں سنسنی خیزی کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اس سے بڑی سنسنی خیزی اور کیا ہو سکتی ہے کہ دوسرو ں پر چبھتے ہوئے جملے سے وار کریں۔ اور پھر ان کے تڑپنے کا تماشہ دیکھیں۔ کسی شخص کی تعریف کر دینے سے وہ کوئی زیادہ بڑی شے نہیں بن جاتی۔ اسی طرح دوسرے کی بے عزتی کر دینے سے کسی کی شخصیت چھوٹی نہیں بن جاتی۔ بے جا نکتہ چینی کو سن کر اسے نظر انداز کرنے کی عادت ڈالیں اور پھر پر سکون اور پر اطمینا ن ہی رہیں۔ اگر آپ واضح کر دیں کہ اس کے الفاظ کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہوتا تو وہ آپ کا پیچھا چھوڑا کر کسی دوسرے شکار کی تلاش میں نکل جائے گا۔ مذہبی خیالات پر ہر ممکن حد تک بحث نہ کریںاور تمام مذاہب کا احترام کریں۔ زبان پر عبور حاصل کرنا معاشرتی، پیشہ ورانہ اور تجارتی زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس طرح نہ صرف آپ اعتماد پیدا کریں گی بلکہ خیالات کو عمدگی سے پیش کریں گی۔٭…٭…٭