شمسی توانائی کی اقسام
اسپیشل فیچر
شمسی توانائی خدا کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے، دھوپ سے حاصل ہونے والی توانائی سولر انرجی یا شمسی توانائی کہلاتی ہے۔ دھوپ کی گرمی کو پانی سے بھاپ تیار کرکے جنریٹر چلانے اور بجلی بنانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سورج کی کرنیں قدرت کا وہ عطیہ ہیں جو توانائی کے حصول کے لئے مفید ہیں۔ دیگر ذرائع سے حاصل توانائی کے مقابلے میں سورج کی کرنوں سے کئی گنا زیادہ توانائی حاصل ہوسکتی ہے۔ سورج کے بغیر زمین پر زندگی ممکن نہیں۔ دنیا میں شمسی توانائی کو عام طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، یہ دو سولر تھرمل اور سولر فوٹو وولٹائی (سولر پی وی) ہیں۔سولر تھرمل بجلی پیدا کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس طریقے میں پانی کو بھاپ کی شکل دی جاتی ہے اور بھاپ کی مدد سے ٹربائنز کو چلایا جاتا ہے جس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ گیس یا کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں میں حرارت آگ سے لی جاتی ہے جبکہ سولر تھرمل میں حرارت آگ کے بجائے براہ راست سورج سے حاصل کی جاتی ہے۔ اِس طریقے میں دھوپ کی شعاعوں کو ایک ہی نقطے پر مرکوز کرتے ہوئے کسی پائپ میں موجود مائع کو گرم کیا جاتا ہے۔ آج کل جو کھانا پکانے کے لئے شمسی چولہوں کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ سولر تھرمل طریقہ ہی ہے۔شمسی بیٹریوں کو سائنسی اصطلاح میں فوٹو وولٹک (پی وی) کہا جاتا ہے۔ فوٹو کا مطلب روشنی اور وولٹک سے مراد بجلی ہے۔ فوٹو وولٹائی سیل سورج کی روشنی کو میکانکی جنریٹروں اور تھرمو ڈائنامیک سائیکلز سے گزار کر بجلی میں تبدیل کرتے ہیں۔ فوٹو وولٹائی کا مطلب ہے، ایسی روشنی جو بجلی میں تبدیل ہو جائے ۔کسی بھی عام آدمی کے لئے یہ بات قابل غور ہے کہ سورج کی روشنی سے توانائی کا حصول کیسے کیا جاتا ہے۔ شمسی توانائی سے توانائی کے حصول کے لئے بنیادی عنصر سولر سیل کہلاتا ہے۔ جب سورج کی شعاعیں پینل پر پڑتی ہیں تو سولر سیل کے ذریعے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک سولر پینل بیس سے پچیس برس کے لئے کارآمد ہو سکتا ہے۔ سولر پی وی کی مزید اقسام میں تھن فلم، کنسنٹریٹڈ اور ایکٹو سولر انرجی شامل ہیں۔تھن فلم سولر سیل کو تھن فلم فوٹو وولٹک بھی کہا جاتا ہے۔ تھن فلم سولر سیل کو ایک یا ایک سے زیادہ فوٹو وولٹک مواد کی پتلی تہوں کو جمع کر کے بنایا جاتا ہے اور یہ شمسی توانائی کو بجلی بنا کر اپنے اندر محفو ظ کر لیتے ہیں۔ تھن فلم بیٹری کا وزن کم ہوتا ہے اس لئے اس بیٹری کو بآسانی بڑی بڑی عمارتوں کی چھت پر لگایا جاتا ہے۔ کنسنٹریٹڈ سولر سسٹم میں لینز اور شیشوں کی مدد سے سورج کی توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ جب سورج کی کرنیں توانائی میں تبدیل ہوتی ہیں تو یہ برقی توانائی کے جنریٹر کو چلاتی ہیں اور برقی توانائی پیدا ہوتی ہے۔آج کے دور میں کھانا پکانے، پانی گرم کرنے، مکانوں کو ٹھنڈا یا گرم رکھنے یا پھر پھلوں کو سکھانا ہو؛ ان تمام کاموں کے لئے شمسی توانائی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب سورج کی یہ کرنیں سٹیم ٹربائن کا استعمال کئے بغیر شمسی توانائی میںتبدیل ہو جاتی ہیں تو اسے کنسنٹریٹڈ فوٹو وولٹک (سی پی وی) کہا جاتا ہے۔ کنسنٹریٹڈ ٹیکنالوجی چار شکلوں میں پیدا ہوتی ہے۔ ان میں ڈش، ریفلیکٹر، شمسی ٹاور اور پائپوں سے شمسی توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ اس طرح کے سسٹم گرم علاقوں میں لگائے جاتے ہیں جہاں تیز دھوپ ہو۔پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال کی سخت ضرورت ہے۔ ہمارے ملک کے عوام بجلی کے بحران میں الجھے ہوئے ہیں اور پر قابو پانے کے لئے ہمیں ایسی توانائی استعمال کرنی ہو گی جو ملکی توانائی کی بچت بھی کرے اور عوام کو بلا تعطل توانائی کی فراہمی بھی ممکن ہو شمسی توانائی اس اعتبار سے بہترین ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق سورج سے ایک گھنٹے میں حاصل ہونے والی توانائی پوری دنیا کی کل سالانہ پیدا کردہ مجموعی توانائی سے زیادہ ہے۔ ایک جائزے کے مطابق دنیا کے صحرائوں کا اگر صرف آدھا فیصد بھی شمسی توانائی حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جائے تو اس سے دنیا میں توانائی کی طلب پوری کی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں شمسی توانائی پیدا کرنے کے کافی مواقع موجود ہیں کیونکہ پاکستان کا ماحول اور موسم شمسی توانائی کے حصول کے لیے شاندار ہے۔ شمسی توانائی سے بجلی فراہم کرکے توانائی کے بحران سے نمٹا جا سکتا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک شمسی توانائی کا استعمال اپنی روز مرہ زندگی میں کر رہے ہیں۔امریکہ میں بھی ہزاروں کی تعداد میں شمسی گھر تعمیر کئے گئے ہیں۔ امریکہ میں انجینئر اور فن تعمیر کے ماہرین نے شمسی گھروں سے متعلق طرح طرح کے ڈیزائن تیار کیے ہیں۔ ان شمسی گھروں میں کسی نہ کسی طرح سورج کی گرمی کو ذخیرہ کیا جاتا ہے اور ضرورت کے حساب سے استعمال کیا جاتا ہے۔فرانس کے ماہرین تحقیقی ایک مقام پر شمسی توانائی کی مدد سے بھٹیوں کو چلا رہے ہیں۔ یہ ساری بھٹیاں بہت بڑی ہیں ان میں سے ایک کا رقبہ 43 مربع فٹ ہے اور اس میں پانچ سو سولہ عکسی شیشے لگے ہوئے ہیں۔ اس کے اسّی فٹ کے فاصلے پرایک شیشہ کا پیرا بولا ہے جو 31 فٹ چوڑا اور 33 فٹ لمبا ہے۔ اس نظام سے جو گرمی پیدا ہوتی ہے وہ فی گھنٹہ ایک سو تیس پاؤنڈ لوہے کو پگھلا سکتی ہے۔٭…٭…٭