جامِ جمشید
اسپیشل فیچر
دنیاکی تمام زبانوں ، تہذیبوں اور ادب میں جام جمشید کا تذکرہ ملتا ہے۔ اس کو جام ِ جہاں نما اور جام ِ جہاں آراء بھی کہتے ہیں۔یہ ایک قدیم ایرانی دیو مالائی اصطلاح ہے۔ ایرانی مؤرخین کے مطابق تقریباً ایک ہزار قبل مسیح ایران کے پہلے عظیم بادشاہ جمشید کے پاس یہ جادوئی اور حیرت انگیز پیالہ تھا جس میں اسے دنیا بھرکے حالات و واقعات دکھائی دیتے تھے۔آسمانوں ، زمینوں اور ستاروںکی گردش بھی اس پیالے کے ذریعے جانا کرتا تھا ۔کہتے ہیں کہ یہ پیالہ تاریخی شہر ’’تختِ جمشید‘‘ کی تعمیر کے دوران جمشید کے ہاتھ لگا۔ تاریخ میں جمشیدرحم دل ، رعایا پرور بادشاہ کے طور پر جانا جاتا ہے جس کے دور حکومت میں خوشحالی کا دور دورہ تھا۔رعایا کو بڑھاپے اور غربت کی فکر نہ تھی۔اسی دور میں شمسی کیلنڈر بنا۔ طبقاتی نظام اور پیشے متعارف ہوئے۔پارسی تہوار نوروز بھی شاہ جمشید سے منسوب کیا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ مذکورہ پیالہ آب حیات سے بھرا رہتا جسے ہندی میں امرت بھی کہتے ہیں ۔اس پیالے کا ذکر پارسیوں کی مقدس کتاب ’’اوستا‘‘ اور ہندوئوں کی ویدا میں ملتا ہے نیز ہر تہذیب کے شعراء کے ہاں بھی اس پیالے کے قصے پائے جاتے ہیں۔ جمشید اس پیالے میں الہامی معاملات کے ساتھ ساتھ مستقبل کی خبریںبھی حاصل کر سکتا تھا۔مشہور ہے کہ اس پیالے کے موجب شاہ جمشید میں غرور اور تکبر آگیا اور وہ اپنے آپ کو خدا کا درجہ دینے لگا۔اسی اثناء میں ایک ظالم عرب حکمران نے جمشید کی سلطنت پر قبضہ کر لیا۔مگر جمشید کے بعد اس پیالے کا کیا ہوا،کسی کو معلوم نہیں۔ اگرچہ اس پیالے کے متعلق قصے،واقعات اور معلومات انسانی سمجھ سے بعید ہیں لیکن اس کے دیو مالائی تصور نے جدید دنیا کو انفارمیشن ٹیکنالوجی میں گائیڈ لائن ضرور دی ہے۔برصغیر میں انیسویں صدی میں جام جمشید کے نام سے ایک مشہور اخبار بھی جاری ہوا جو ممبئی سے ہفتہ وار آج بھی شائع ہورہا ہے۔ ان دیو مالائی کہانیوں کی حقیقت جو بھی ہو پر جام جمشید،کھل جاسم سم اور اُڑن کھٹولے کے مسحور کن قصے ہمیں دل لبھانے والی دنیا میںضرور لے جاتے ہیں۔٭…٭…٭