32منزلہ قبرستان

32منزلہ قبرستان

اسپیشل فیچر

تحریر : امجد محمود چشتی


دنیا کی آبادی خوفناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ یہاں نہ صرف زندہ لوگوں کے لئے رہائش کم پڑتی نظر آرہی ہے بلکہ مرنے کے بعد مناسب ابدی آرام گاہ کا حصول بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور تمام بنی نوع انسانیت نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ لہٰذا بعد از مرگ جسدِ خاکی کے ساتھ دفنا کر یا جلا کر معاملات کئے جاتے ہیں۔ کچھ معاشروںمیں جلا کر لاش کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے جبکہ الہامی مذاہب میں میت کو دفن کرتے ہیں۔ آبادی بڑھنے کے باعث قبریں اور زمین کم پڑتی جا رہی ہیں اور شہری علاقوں میں قبر کا حصول جوئے شیر لانے سے کم نہیں اور کہیں کہیں دو منزلہ قبور بھی بنائی جاتی ہیں۔ اس گمبھیر صورت حال میں بعض ممالک میں زمینی گورستان کی بجائے عمارت کی شکل میں عمودی قبرستانوں کا رواج بڑھ رہا ہے۔ قبروں کیلئے زمین کی دستیابی اور آبادی کے تناسب کے پیش نظر برازیل کے شہر سینٹوس میں 1983ء میں ایک بلند و بالا عمارت کی تعمیر شروع ہوئی، جو اب دنیا کی سب سے اونچی قبرستانی عمارت بن چکی ہے اور اس کا اندراج اس حوالے سے گنیز بک آف ریکارڈ میں بھی ہو چکا ہے۔ یہ ایک پہاڑ کے دامن میں 32 منزلہ خوبصورت بلڈنگ 108 میٹر بلند ہے۔ اس کا نام میموریل نیکرو پول ایکو مینیکا ہے۔ اسے کرائے کا قبرستان بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے احاطہ میں لان، پارکنگ، چرچ، باغ ایک آبشار اور ریسٹورنٹ بھی ہیں۔ 32 منزلوں میں متعدد بلاکس ہیں اور ہر بلاک میں 150 مقبرے اور ہر مقبرے میں چھ قبریں بنی ہیں۔ اس بلند قبرستان میں ایک وقت میں 25000 میتوں کی گنجائش ہے۔ یہاں تین سال تک لاشیں کرائے پہ رکھی جاتی ہیں اور تین سال بعد ان کی باقیات ورثا کے حوالے کرتے ہیں تاکہ حسب منشا کسی اور جگہ دفن کر سکیں یا پھر ضائع کرسکیں ۔ قبروں کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے ہوا کے گزرنے کے مناسب انتظامات ہیں ۔ کچھ قبریں مستقل بھی خریدی جاتی ہیں جن کی قیمت تقریباً پچاس لاکھ پاکستانی روپے ہے جبکہ تین سال کیلئے کرایہ درجہ بندی کے لحاظ سے پانچ لاکھ سے بیس لاکھ تک ہے۔ قبر جتنی اونچائی پہ ہوگی قیمت اسی قدر زیادہ ہوگی۔ امیر لوگ اپنی زندگی میں بھی بکنگ کروا سکتے ہیں۔ یہاں غریب لوگ قبریں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ اس قبرستان سے کسی بھی اور کاروبار کی نسبت کہیں زیادہ آمدن ہو رہی ہے۔ یہ عمارت برازیل کا بہت بڑا سیاحتی مقام بن چکی ہے اور لاکھوں سیاح اسے دیکھنے جاتے ہیں ۔انڈیا، اسرائیل اور دیگر ممالک میں بھی ایسی عمارات بن رہی ہیں۔ تاہم دنیا میں بسنے والے زندہ لوگوں کیلئے لاشوں کی تدفین ایک بہت بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے کیونکہ دنیا تو بس مسافر خانہ ہے اور ہمیں اپنی آخری آرام گاہوں میں ہر حال میں جانا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
چاند پر بسے گا انسانوں کا پہلا شہر!

چاند پر بسے گا انسانوں کا پہلا شہر!

20ارب ڈالر کا قمری شہر،ناسا کا انقلابی منصوبہامریکی خلائی ادارہ ناسا آئندہ چند برسوں میں چاند کی سطح پر ایک مستقل انسانی بستی یا ''قمری شہر‘‘ (Lunar City)بسائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد چاند پر طویل المدت انسانی موجودگی کو ممکن بنانا، سائنسی تحقیق کو فروغ دینا اور مستقبل میں مریخ سمیت مزید دور دراز خلائی مشنوں کیلئے بنیاد فراہم کرنا ہے۔ 2032ء تک 20 ارب ڈالر لاگت سے تعمیر ہونے والا ناسا کا چاند پر اڈہ کیسا نظر آئے گا؟ اس منصوبے کے تحت چاند کی سطح پر رہائش، سائنسی تحقیق اور وسائل کے استعمال کیلئے جدید سہولیات پر مشتمل مستقل ڈھانچہ قائم کیا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قمری بستی رہائشی ماڈیولز، تحقیقی لیبارٹریوں، توانائی کے مراکز اور زیر زمین محفوظ پناہ گاہوں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ سائنس فکشن کی کسی کہانی کا حصہ محسوس ہوتا ہے، لیکن ناسا نے صرف چھ سال کے اندر چاند پر ایک شہر نما اڈہ تعمیر کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین(Jarred Isaacman) نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ 20 ارب ڈالر مالیت کے اس قمری اڈے کے ابتدائی مشن رواں سال ہی شروع کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس منصوبے کو ''انسانی تاریخ کی سب سے جرات مندانہ انجینئرنگ اور تحقیقی کوششوں میں سے ایک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دوبارہ چاند کی طرف لوٹ رہا ہے، لیکن اس بار وہاں مستقل قیام کیلئے۔آئزک مین نے قمری کالونی کے قیام کیلئے ایک تفصیلی لائحہ عمل بھی پیش کیا، جس میں تین مراحل پر مشتمل ٹائم لائن دی گئی ہے۔ اس منصوبے کا ہدف 2032ء تک چاند پر ایک مستقل انسانی بستی قائم کرنا ہے۔ بالآخر اس اڈے میں متعدد عمارتیں شامل ہوں گی جو سیکڑوں مربع میل کے رقبے پر پھیلی ہوں گی۔ یہ سب کچھ ایسے ماحول میں تعمیر کیا جائے گا جسے دنیا کے انتہائی دشوار اور خطرناک ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔چاند جیسے غیر موافق حالات میں انسانی بستی تعمیر کرنے کے چیلنج پر بات کرتے ہوئے آئزک مین نے کہا کہ یہ قمری اڈہ جتنا خوبصورت ہو گا، اتنا ہی خطرناک بھی ہوگا۔ہم ایک ایسے سفر کا آغاز کر رہے ہیں جو غیر معمولی حد تک مشکل ہے۔ نصف صدی قبل اپالو مشنز کے دوران خلا بازوں نے چاند کی سطح پر مجموعی طور پر صرف 80 گھنٹے گزارے تھے، اس لیے ہم اب بھی چاند کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔پہلا مرحلہقمری اڈے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ، جسے ''سیکھو، آزماؤ اور تعمیر کرو‘‘کا نام دیا گیا ہے، رواں سال کے آخر میں شروع ہوگا اور 2029 ء تک جاری رہے گا۔آئندہ تین برسوں کے دوران ناسا کا ہدف تجارتی نوعیت کے قمری مشنز کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ممکنہ لینڈنگ مقامات کا جائزہ لیا جا سکے اور نئی ٹیکنالوجی کو آزمایا جا سکے۔قمری تحقیق کا یہ نیا دور اس سال خزاں کے موسم سے پہلے شروع نہیں ہوگا، جب جیف بیزوس کی کمپنی ''بلیو اوریجن‘‘ اپنا ''بلیو مون مارک1‘‘ لینڈر ''اینڈیورنس‘‘ (Endurance) چاند کی جانب روانہ کرے گی۔یہ لینڈر چاند کے جنوبی قطب کے قریب واقع شیکلٹن کریٹر کے کنارے پر اترے گا، جہاں یہ سائنسی آلات پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنی لینڈنگ صلاحیتوں کا بھی عملی امتحان دے گا۔اس کے بعد 2026ء کے آخری مہینوں میں ناساایک روور کو چاند پر بھیجے گا۔اس ابتدائی مرحلے کے اختتام تک ناسا کا منصوبہ ہے کہ مون فال ہیلی کاپٹر ڈرونز اور بغیر انسان کے چلنے والے روورز کے ایک بیڑے کو استعمال کرتے ہوئے چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں پانی، برف اور دیگر قدرتی وسائل کی تلاش کی جائے۔دوسرا مرحلہ2029ء سے 2032ء کے دوران ناسا منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گا، جسے ''ابتدائی رہائش‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں پہلی مرتبہ انسانی عملے کو چاند کی سطح پر رہنے کیلئے بھیجا جائے گا۔اس دوران 24 چکروں میں تقریباً 60 ٹن سامان اور آلات چاند تک پہنچائے جائیں گے، جن کی مدد سے مجوزہ قمری اڈے کے بنیادی ڈھانچے اور ابتدائی سہولیات کی تعمیر مکمل کی جائے گی، جو مستقبل میں انسانی بستی کی بنیاد بنیں گی۔ناسا کے مطابق قمری اڈے کو مستقل اور قابلِ اعتماد توانائی فراہم کرنے کیلئے وہاں ایٹمی پلانٹ بھی نصب کیے جائیں گے۔ یہ نظام چاند پر قائم ہونے والی بستی کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ خلا بازوں کو ایسی روورز بھی فراہم کی جائیں گی جن کی مدد سے وہ اپنے خلائی لباس اتار کر 30 دن تک آرام دہ ماحول میں رہتے ہوئے چاند کے جنوبی قطبی علاقے کی کھوج کر سکیں گے۔تیسرا مرحلہ2032ء میں ناسا منصوبے کے آخری مرحلے ''مستقل انسانی موجودگی‘‘ میں داخل ہوگا، جس کے تحت چاند پر ایک مستقل اڈہ قائم کیا جائے گا۔ جہاں باقاعدگی سے عملے کی تبدیلی، مستقل رہائش اور مکمل بنیادی ڈھانچہ موجود ہو گا۔ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ ہم مہارت، عزم اور واضح مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ وہ مشن مکمل کر سکیں جو صرف ناسا ہی انجام دے سکتا ہے۔ناسا کے مطابق چاند پر قائم کیا جانے والا یہ اڈہ آرٹیمس پروگرام کے خلا بازوں کیلئے مرکزی مرکز کی حیثیت رکھے گا، جہاں طویل مدت تک قیام، جدید روبوٹک اور انسانی سرگرمیوں کا فروغ اور چاند کی سطح پر مستقل موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا۔مون بیس کے قیام کے بعد آرٹیمس مشن کے خلا باز زیادہ عرصے تک چاند پر رہ سکیں گے، مزید دور دراز علاقوں کی کھوج کر سکیں گے اور ایسی سائنسی تحقیق انجام دے سکیں گے جو خود خلائی تحقیق کو نئی جہتیں فراہم کرے گی۔

عالمی یوم بحر:سمندربچائیں، مستقبل سنواریں

عالمی یوم بحر:سمندربچائیں، مستقبل سنواریں

ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں سمندروں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں سمندروں کی اہمیت، ان کے تحفظ اور آبی ماحول کو درپیش خطرات کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ زمین کا تقریباً 71 فیصد حصہ سمندروں پر مشتمل ہے، جبکہ کرہ ارض پر موجود آکسیجن کا نصف سے زیادہ حصہ سمندری نباتات کی بدولت پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمندر انسانی زندگی، موسمی نظام اور عالمی معیشت کیلئے نہایت اہم حیثیت رکھتے ہیں۔سمندر صرف پانی کے وسیع ذخائر ہی نہیں بلکہ لاکھوں اقسام کے جانداروں کا مسکن بھی ہیں۔ مچھلیاں، وہیل، ڈولفن، کچھوے، مرجان اور بے شمار دیگر آبی مخلوقات سمندروں میں زندگی گزارتی ہیں۔ دنیا کے کروڑوں افراد اپنی خوراک، روزگار اور تجارت کیلئے سمندروں پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہی گیری، بحری نقل و حمل، سیاحت اور معدنی وسائل کی فراہمی میں سمندروں کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔بدقسمتی سے آج سمندر متعدد خطرات سے دوچار ہیں۔ پلاسٹک کا بڑھتا ہوا استعمال سمندری حیات کیلئے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک کا فضلہ سمندروں میں جا پہنچتا ہے، جس سے آبی جانور متاثر ہوتے ہیں اور ان کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ بہت سے سمندری پرندے اور مچھلیاں پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر نگل لیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکت واقع ہو جاتی ہے۔عالمی حدت یا گلوبل وارمنگ بھی سمندروں کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ زمین کے درجہ حرارت میں اضافے سے سمندری پانی گرم ہو رہا ہے، جس کے باعث مرجانی چٹانیں تباہ ہو رہی ہیں اور کئی آبی انواع کے قدرتی مسکن متاثر ہو رہے ہیں۔ سمندروں کی سطح بلند ہونے سے ساحلی علاقوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سمندروں کے تحفظ کیلئے عالمی سطح پر مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں سرگرم ہیں۔ تاہم اس مقصد کے حصول کیلئے حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ پلاسٹک کے استعمال میں کمی، ساحلوں کی صفائی، ماحول دوست طرزِ زندگی اختیار کرنا اور سمندری وسائل کا دانشمندانہ استعمال انفرادی سطح پر کیے جانے والے مؤثر اقدامات ہیں۔سمندروں کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ سمندر صرف آج کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی امانت ہیں۔ اگر ہم نے ان کے تحفظ کیلئے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہ کیے تو ماحولیاتی توازن، انسانی صحت اور عالمی معیشت سب متاثر ہوں گے۔

برین ٹیومر کا عالمی دن

برین ٹیومر کا عالمی دن

دماغی رسولی: خاموش مگر سنگین بیماریجدید طبی سائنس کی بے شمار ترقیوں کے باوجود برین ٹیومر آج بھی ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ بیماری تصور کی جاتی ہے، جس کے علاج اور تشخیص کیلئے مسلسل تحقیق جاری ہے۔برین ٹیومر کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے، اس بیماری کی بروقت تشخیص کی اہمیت اجاگر کرنے اور اس مرض میں مبتلا افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے کیلئے ہر سال 8 جون کو دنیا بھر میں برین ٹیومر کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔برین ٹیومر دراصل دماغ یا اس کے ارد گرد موجود بافتوں میں غیر معمولی خلیات کی نشؤونما کو کہا جاتا ہے۔ یہ رسولی سومی (Benign) بھی ہو سکتی ہے اور سرطانی (Malignant) بھی۔ اگرچہ ہر برین ٹیومر کینسر نہیں ہوتا، تاہم دماغ کے حساس حصوں پر دباؤ ڈالنے کی وجہ سے یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس بیماری کا اثر نہ صرف مریض کی جسمانی صحت پر پڑتا ہے بلکہ اس کی ذہنی، جذباتی اور سماجی زندگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔برین ٹیومر کی علامات رسولی کے سائز، نوعیت اور مقام کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ مسلسل یا شدید سر درد، بینائی میں دھندلا پن، چکر آنا، متلی، یادداشت کی کمزوری، بولنے میں دشواری، جسم کے کسی حصے میں کمزوری یا سن ہونا اور دورے پڑنا اس بیماری کی نمایاں علامات میں شامل ہیں۔ بدقسمتی سے بعض اوقات لوگ ان علامات کو عام بیماریوں سے منسوب کر کے نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق برین ٹیومر کی بروقت تشخیص مریض کے علاج اور صحت یابی کے امکانات کو بہتر بنا سکتی ہے۔ جدید دور میں ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور دیگر تشخیصی طریقوں کی مدد سے دماغی رسولیوں کا نسبتاً جلد پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ علاج کیلئے سرجری، ریڈی ایشن تھراپی، کیمو تھراپی اور بعض جدید ادویات استعمال کی جاتی ہیں۔ اگرچہ برین ٹیومر کی وجوہات مکمل طور پر معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم ماہرین بعض جینیاتی عوامل، تابکاری کے زیادہ اثرات اور خاندانی طبی تاریخ کو ممکنہ خطرات میں شمار کرتے ہیں۔ اس کے باوجود زیادہ تر مریضوں میں بیماری کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آتی، جس کی وجہ سے اس شعبے میں مزید تحقیق کی ضرورت برقرار ہے۔برین ٹیومر کا عالمی دن اس امر کی یاد دہانی بھی کراتا ہے کہ مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو صرف طبی نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی تعاون کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بیماری کی تشخیص کے بعد مریض اکثر خوف، بے یقینی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں خاندان، دوستوں اور معاشرے کی جانب سے حوصلہ افزائی اور تعاون ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔

ٹوکیو ٹاور:جاپان کا فلک بوس شاہکار

ٹوکیو ٹاور:جاپان کا فلک بوس شاہکار

ٹوکیو ٹاور مواصلاتی ذرائع کا ایک بلند ٹاور ہے جو ٹوکیو کے علاقے شیبا پارک میں بنایا گیا ہے۔ اس ٹاور کی تعمیر جون 1957ء میں شروع ہوئی اور 23 دسمبر 1958ء کو یہ ٹاور مکمل ہوا۔ اس کی بلندی 1091 فٹ ہے۔ یہ ٹاور جب مکمل ہوا تو جاپان کا بلند ترین ٹاور تھا اور دُنیا میں ماسکو ٹی وی ٹاور بننے کے بعد یہ دوسرے نمبر پر آگیا پھر جب ٹورنٹو کاٹی وی ٹاور مکمل ہوا تو یہ بلندی کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر آ گیا۔ اب بھی ٹوکیوٹاور جاپان میں دوسرے نمبر پر ہے کیونکہ ٹوکیو ہی میں سکائی ٹری ٹاور بھی ہے۔ جس کی بلندی 2080 فٹ ہے۔اس ٹاور کا ڈیزائن پیرس کے ایفل ٹاور کے ڈیزائن سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا اور یہ ٹاور ایفل ٹاور سے بھی سو فٹ بلند ہے۔ بین الاقوامی شہری ہوا بازی کے اُصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس ٹاور کو سفید اور نارنجی سرخی مائل رنگوں سے روغن کیا گیا ہے۔ اس ٹاور کے دو پلیٹ فارم بنائے گئے ہیں۔ پہلا پلیٹ فارم 490 فٹ کی بلندی پر بنایا گیا ہے۔ اس پر ریستوران، سٹور موجود ہیںجبکہ گرائونڈ پر میوزیم بھی بنایا گیا ہے۔ اسی فلور پر بار کا ماڈل بھی موجود ہے جسے راقم نے اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔ اس ٹاور کا دوسرا پلیٹ فارم 820 فٹ کی بلندی پر بنایا گیا ہے۔ جہاں پر شہر اور آسمان کا نظارہ کرنے کیلئے فلکیاتی رصد گاہ بنائی گئی ہے۔ راقم الحروف کو پہلی مرتبہ 1985ء میں اس ٹاور پر جانے کا موقع ملا۔ سارا شہر، پرانا ہوائی اڈا اور بندرگاہ نظروں کے سامنے تھے۔ یہاں سے مائونٹ فیوجی بھی نظر آتا ہے۔ اتنا مزہ آتا ہے کہ لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس ٹاور کو دیکھنے کیلئے آنے والے سیاحوں کا شوق دیدنی ہوتا ہے۔ صبح آٹھ بجے ہی ٹکٹ کے حصول کیلئے لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ اس ٹاور کے بننے سے لے کر تاحال کوئی 20 کروڑ سے زائد سیاح اس ٹاور کو دیکھنے کیلئے آ چکے ہیں۔ اس ٹاور کا سب سے بڑا ذریعہ آمدنی سیاحوں ہی سے حاصل ہوتا ہے۔اس ٹاور کے اُوپر اور اطراف میں کئی درجن ریڈیو، ٹی وی، ٹیلی مواصلات، ٹریفک کنٹرول اور موسم کی دیکھ بھال کے آلات اور انٹینا نصب ہیں۔جو دور سے پرندوں کے گھونسلوں اور بھڑوں کے چھتوں کی مانند لگتے ہیں۔ یہاں پر لگے ہوئے آلات کی مدد سے شہر میں ٹریفک کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ شہر میں چلتی ہوئی سب وے ٹرینوں پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔ ان انٹینوں اور آلات کی تنصیب سے بھی ٹاور کی انتظامیہ کو خاطر خواہ آمدنی ہوتی ہے۔ 1945ء میں جنگ عظیم دوم کی ہزیمت کے بعد جاپان کو یہ محسوس ہوا کہ جنگ سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ سرا سر نقصان ہی نقصان ہے۔ تو حکومت نے بعد میں سارے ٹینک اور توپوں کو فیکٹریوں میں ڈھال کر یہ یاد گاری ٹاور کھڑا کر دیا۔ لہٰذا اس ٹاور کو جنگ عظیم دوم کی ایک یاد گار بھی کہا جاسکتا ہے۔ 1958 ء میں جب ٹوکیوٹاور مکمل ہوا تو یقینا یہ شہر کی خوبصورتی میں ایک گرا نقدر اضافہ ثابت ہوا۔ اس ٹاور کی بناوٹ اس قدر مضبوط ہے کہ یہ بڑے سے بڑے زلزلے کو جس کی طاقت 10 ریکٹر سکیل سے اوپر ہو برداشت کر سکتا ہے اور 220 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائوں کا بھی مقابلہ کر سکتا ہے۔ مختلف تہواروں پر مختلف رنگوں کی روشنیوں سے ٹاور کو منور کیا جاتاہے۔ جس سے اس کی خوبصورتی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس ٹاور کی خوبصورت تصویریں بنانے کے لیے راقم کو ٹاور سے ایک ڈیڑھ کلو میٹر پیچھے ہٹنا پڑاتب جا کر کیمرے کے فوکس میں مکمل تصویر آسکی۔ اس کے اوپررنگ و روغن کیلئے 28ہزار لیٹر روغن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہالی وڈکی کئی فلموں کے علاوہ مشہور زمانہ فلم ''کنگ کانگ کی واپسی ‘‘ جیسی فلموں کی بھی اس ٹاور پر عکاسی کی جاچکی ہے۔

 چارپائی اور کلچر

چارپائی اور کلچر

چارپائی ایک ایسی خودکفیل تہذیب کی آخری نشانی ہے جو نئے تقاضوں اور ضرورتوں سے عہدہ برا ہونے کیلئے نت نئی چیزیں ایجاد کرنے کی قائل نہ تھی۔ بلکہ ایسے نازک مواقع پر پرانی میں نئی خوبیاں دریافت کرکے مسکرا دیتی تھی۔ اس عہدکی رنگارنگ مجلسی زندگی کا تصور چارپائی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس کا خیال آتے ہی ذہن کے اُفق پر بہت سے سہانے منظر ابھر آتے ہیں۔ اجلی اجلی ٹھنڈی چادریں، خس کے پنکھی، کچی مٹی کی سن سن کرتی کوری صراحیاں، چھڑکاؤ سے بھیگی زمین کی سوندھی سوندھی لپٹ اور آم کے لدے پھندے درخت جن میں آموں کے بجائے لڑکے لٹکے رہتے ہیں اور ان کی چھاؤں میں جوان جسم کی طرح کسی کسائی ایک چارپائی جس پر دن بھر شطرنج کی بساط یارمی کی پھڑجمی اور جو شام کو دسترخوان بچھاکر کھانے کی میز بنا لی گئی۔ذرا غور سے دیکھئے تو یہ وہی چارپائی ہے جس کی سیڑھی بناکر سگھڑ بیویاں مکڑی کے جالے اور چلبلے لڑکے چڑیوں کے گھونسلے اتارتے ہیں۔ اسی چارپائی کو وقت ضرورت پٹیوں سے بانس باندھ کر اسٹیریچر بنا لیتے ہیں اور بجوگ پڑ جائے تو انھیں بانسوں سے ایک دوسرے کو اسٹیریچر کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح مریض جب کھاٹ سے لگ جائے تو تیماردار مؤخرالذِکر کے وسط میں بڑا سا سوراخ کرکے اول الذِکر کی مشکل آسان کر دیتے ہیں۔اسی پر بیٹھ کر مولوی صاحب قمچی کے ذریعہ اخلاقیات کے بنیادی اصول ذہن نشین کراتے ہیں۔ اسی پر نومولود بچے غاؤں غاؤں کرتی، چندھیائی ہوئی آنکھیں کھول کر اپنے والدین کو دیکھتے ہیں اور روتے ہیں اور اسی پر دیکھتے ہی دیکھتے اپنے پیاروں کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ بعض حضرات اس مضمون کو چارپائی کا پرچہ ترکیب استعمال سمجھ لیں گے تو اس ضمن میں کچھ اور تفصیلات پیش کرتا۔ لیکن جیسا کہ پہلے اشارہ کر چکا ہوں، یہ مضمون اس تہذیبی علامت کا قصیدہ نہیں، مرثیہ ہے۔ تاہم بہ نظراحتیاط اتنی وضاحت ضروری ہے کہ:ہم اس نعمت کے منکر ہیں نہ عادینام کی مناسبت سے پائے اگر چار ہوں تو مناسب ہے ورنہ اس سے کم ہوں، تب بھی خلق خدا کے کام بند نہیں ہوتے۔ اسی طرح پایوں کے حجم اور شکل کی بھی تخصیص نہیں۔ انھیں سامنے رکھ کر آپ غبی سے غبی لڑکے کو اقلیدس کی تمام شکلیں سمجھا سکتے ہیں اوراس مہم کو سر کرنے کے بعد آپ کو احساس ہوگا کہ ابھی کچھ شکلیں ایسی رہ گئی ہیں جن کا صرف اقلیدس بلکہ تجریدی مصوری میں بھی کوئی ذکر نہیں۔ دیہات میں ایسے پائے بہت عام ہیں جو آدھے پٹیوں سے نیچے اور آدھے اوپر نکلے ہوتے ہیں۔ ایسی چارپائی کا الٹا سیدھا دریافت کرنے کی آسان ترکیب یہ ہے کہ جس طرف بان صاف ہووہ ہمیشہ ''اُلٹا‘‘ ہو گا۔ راقم الحروف نے ایسے انگھڑپائے دیکھے ہین جن کی ساخت میں بڑھئی نے محض یہ اصول مدنظر رکھا ہوگا کہ بسولہ چلائے بغیر پیڑ کو اپنی قدرتی حالت میں جوں کاتوں پٹیوں سے وصل کر دیا جائے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہماری نظر سے خراد کے بنے ایسے سڈول پائے بھی گزرے ہیں جنھیں چوڑی دار پاجامہ پہنانے کو جی چاہتا ہی۔ اس قسم کے پایوں سے نٹو مرحوم کو جو والہانہ عشق رہا ہوگا اس کا اظہار انھوں نے اپنے ایک دوست سے ایک میم کی حسین ٹانگیں دیکھ کر اپنے مخصوص انداز میں کیا۔ کہنے لگے ''اگر مجھے ایسی چار ٹانگیں مل جائیں تو انھیں کٹواکر اپنے پلنگ کے پائے بنوا لوں۔‘‘غور کیجئے تو مباحثے اور مناظرے کیلئے چارپائی سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ اس کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ فریقین آمنے سامنے نہیں بلکہ عموماً اپنے حریف کی پیٹھ کا سہارا لے کر آرام سے بیٹھتے ہیں اور بحث وتکرار کیلئے اس سے بہتر طرزنشست ممکن نہیں، کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ فریقین کو ایک دوسرے کی صورت نظر نہ آئے تو کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے۔ اسی بنا پر میرا عرصے سے یہ خیال ہے کہ اگر بین الاقوامی مذکرات گول میز پرنہ ہوئے ہوتے تو لاکھوں جانیں تلف ہونے سے بچ جاتیں۔ آپ نے خود دیکھا ہوگا کہ لدی پھندی چارپائیوں پر لوگ پیٹ بھرکے اپنوں کی غیبت کرتے ہیں مگر دل برے نہیں ہوتے۔ اس لیے کہ سبھی جانتے ہیں کہ غیبت اسی کی ہوتی ہے جسے اپنا سمجھتے ہیں اور کچھ یوں بھی ہے کہ ہمارے ہاں غیبت سے مقصود قطع محبت ہے نہ گزارش احوال واقعہ بلکہ محفل میں ''لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ‘‘۔لوگ گھنٹوں چارپائی پر کسمساتے رہتے ہیں مگر کوئی اٹھنے کا نام نہیں لیتا۔ اس لیے کہ ہر شخص اپنی جگہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر وہ چلا گیا تو فوراً اس کی غیبت شروع ہو جائے گی۔ چنانچہ پچھلے پہر تک مرد ایک دوسرے کی گردن میں ہاتھ ڈالے بحث کرتے ہیں اور عورتیں گال سے گال بھڑائے کچر کچر لڑتی رہتی ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ مرد پہلے بحث کرتے ہیں، پھر لڑتے ہیں۔ عورتیں پہلے لڑتی ہیں اور بعدمیں بحث کرتی ہیں۔ مجھے ثانی الذکر طریقہ زیادہ معقول نظر آتا ہے، اس لیے کہ اس میں آئندہ سمجھوتے اور میل ملاپ کی گنجائش باقی رہتی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

خلائی شٹل اٹلانٹس کی روانگی2007ء میں آج کے روز امریکی خلائی شٹل اٹلانٹس کو مشن '' ایس ٹی ایس 117‘‘ کے تحت خلا میں روانہ کیا گیا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک اہم سازوسامان پہنچانا اور اس کی تعمیر و توسیع کے کام میں حصہ لینا تھا۔ اٹلانٹس اپنے ساتھ دو ٹرس (Truss) حصے اور شمسی توانائی پیدا کرنے والے بڑے سولر پینل لے کر گیا، جنہیں خلائی اسٹیشن کے ڈھانچے میں نصب کیا گیا۔ ان اضافوں سے خلائی اسٹیشن کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اور مجموعی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوا۔کوئلے کی کان میں حادثہ8جون 2008ء کو مشرقی یوکرین کے شہر یناکائیو میں کوئلے کی کان گرنے کا خوفناک حادثہ پیش آیا ۔گیس پائپ میں دھماکے کی وجہ سے کان گری جس کے نتیجے میں37کان کن زمین سے533میٹر نیچے گہرائی میں پھنس گئے۔ اس حادثے نے کان میں موجود کان کنوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ کان کی سطح پر آگ بھڑکنے سے وہاں موجود افراد کو بھی نقصان پہنچا۔ اس واقعے کو یوکرین کے بدترین صنعتی حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔کراچی ائیر پورٹ پر حملہ8 جون 2014ء کو کراچی ائیر پورٹ پر دہشت گردوحملہ ہوا۔سکیورٹی فورسز نے 10 دہشت گردوں کو کارروائی کر کے ہلاک کر دیا جبکہ اس دوران26افراد شہید،18زخمی ہوئے۔ یہ پاکستان میںہونے والے بدترین دہشت گرو حملوں میں سے ایک تھا۔ اس کے بعد ملک بھر کے ائیر پورٹس کی سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیااور ائیر پورٹ پر آنے والوں کیلئے نئے قوانین کا اطلاق کیا گیا۔امیکسیل جنگ کے اثرات8جون1663ء کو امیکسیل کی جنگ پرتگالیوں اورہسپانیوں کے درمیان لڑی گئی۔ سپین میں اس جنگ کو ایسٹریموز کی لڑائی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سپین کا پرتگال پر یہ سب سے کامیاب حملہ تھاجس کے نتیجے میں سپین کی افواج نے پرتگال کا جنوب مغرب کا ایک بڑا حصہ حاصل کر لیا لیکن یہ قبضہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکا اور پرتگالیوں نے مزاحمت کرکے اسی جنگ کے نتیجے میں سپین سے آزادی حاصل کی۔برازیل :فضائی حادثہ فلائٹ 168، بوئنگ 727، ساؤپالو سے فورٹالیزا( برازیل) کیلئے ایک طے شدہ مسافر پرواز تھی جو 8 جون 1982ء کو فورٹالیزا میں اترتے ہوئے دھند کے باعث ایک پہاڑی کے کنارے سے ٹکرا گئی۔ جس کے نتیجے میں جہازمیں سوار تمام 137 افراد ہلاک ہو گئے۔ فلائٹ 168 کا حادثہ ہلاکتوں کے حساب سے 20 ویں صدی کے برازیل کے فضائی حادثات میں تیسرا بڑا حادثہ تھا۔''وینس ٹرانزٹ‘‘2004ء میں سیارہ زہرہ (وینس) کا سورج کے سامنے سے گزرنے کا نادر فلکیاتی منظر، جسے ''وینس ٹرانزٹ‘‘کہا جاتا ہے، دنیا بھر میں دیکھا گیا۔ یہ واقعہ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے بعد رونما ہوا، کیونکہ اس سے قبل آخری مرتبہ 1882ء میں وینس ٹرانزٹ دیکھا گیا تھا۔ اس دوران زہرہ ایک چھوٹے سیاہ نقطے کی صورت میں سورج کی قرص کے سامنے سے گزرتا ہوا دکھائی دیا۔