ملکی وے
اسپیشل فیچر
کہکشاں کا براعظموں کی تشکیل میں کردار؟
جرمنی اور جاپان کے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں حیران کن امکان پیش کیا ہے کہ ہماری کہکشاں 'ملکی وے‘ نے اربوں سال پہلے زمین پر براعظموں کی تشکیل میں بالواسطہ کردار ادا کیا ہو گا ۔ اگرچہ یہ نظریہ ابھی ابتدائی تحقیقی مرحلے میں ہے تاہم اس نے ماہرینِ فلکیات اور ارضیات کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اگر مستقبل کی تحقیقات اس مفروضے کی تائید کرتی ہیں تو زمین کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں ہماری موجودہ سمجھ میں ایک اہم تبدیلی آ سکتی ہے۔
زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے جبکہ سورج اپنے تمام سیاروں سمیت ملکی وے کے مرکز کے گرد مسلسل سفر کر رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ہمارا نظامِ شمسی تقریباً ہر 15 سے 20 کروڑ سال بعد ملکی وے کے ان حصوں سے گزرتا ہے جہاں ستاروں کی تعداد زیادہ اور کششِ ثقل نسبتاً طاقتور ہوتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ ایسے علاقوں سے گزرتے ہوئے ملکی وے کی اضافی کششِ ثقل نظامِ شمسی کے انتہائی بیرونی حصے میں موجود اوورٹ کلاؤڈ کو متاثر کر سکتی ہے۔ اوورٹ کلاؤڈ برفیلے اجسام اور دمدار ستاروں کا ایک وسیع ذخیرہ ہے جو سورج سے انتہائی فاصلے پر موجود ہے۔جب اس خطے میں کششِ ثقل کا توازن بگڑتا ہے تو بعض دمدار ستارے اپنے اصل مدار سے ہٹ کر اندرونی نظامِ شمسی کی جانب سفر شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کا رخ زمین کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔
دمدار ستاروں کا تصادم اور براعظموں کی تشکیل
زمین کی ابتدائی تاریخ میں بڑے شہابی پتھروں اور دمدار ستاروں کا ٹکراؤ عام تھا اورجرمنی کی جولیس میکسیملین یونیورسٹی کے محقق تھامس سیگرٹ اور جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کے ہیروکی یونیڈا کی تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ انہی میں سے کچھ بڑے تصادم ملکی وے کی کششِ ثقل کے نتیجے میں رونما ہوئے ہوں۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جب ایسے اجرام زمین سے ٹکراتے تھے تو ان سے پیدا ہونے والی بے پناہ حرارت اور دباؤ زمین کی بیرونی پرت میں بڑی تبدیلیاں لاتے تھے۔ اس عمل سے ایسی چٹانیں وجود میں آئیں جو بعد میں براعظمی پرت کی بنیاد بنیں۔ یہی پرت لاکھوں ، کروڑوں برسوں کے ارتقائی عمل سے گزر کر آج کے براعظموں کی شکل اختیار کرتی گئی۔اس تحقیق کا مقصد یہ نہیں کہ زمین کے اندرونی ارضیاتی عوامل جیسے ٹیکٹونکس پلیٹ یا آتش فشانی سرگرمی کی اہمیت کو کم کیا جائے بلکہ یہ تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ ان عوامل کے ساتھ ساتھ ملکی وے کا بالواسطہ اثر بھی براعظموں کی تشکیل میں شامل رہا ہو سکتا ہے۔
قدیم زرکون کرسٹل نے کیا راز کھولا؟
اس نظریے کو جانچنے کے لیے محققین نے زمین کی قدیم ترین چٹانوں میں موجود زرکون نامی معدنی کرسٹل کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ زرکون کو ارضیات میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ اربوں سال پرانی معلومات کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سائنسدانوں نے ان کرسٹلز کی عمر اور کیمیائی خصوصیات کا موازنہ ایسے فلکیاتی ماڈلز سے کیا ہے جن میں نظامِ شمسی کے ملکی وے میں سفر کو ظاہر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بعض ادوار میں بڑے دمدار ستاروں کے ممکنہ تصادم اور ابتدائی براعظمی چٹانوں کی تشکیل کے درمیان ایک دلچسپ مماثلت پائی گئی۔اگرچہ یہ شواہد اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اربوں سال پرانے فلکیاتی اور ارضیاتی واقعات کو مکمل یقین کے ساتھ ثابت کرنا آسان نہیں اس لیے مزید تحقیق کی ضرورت باقی ہے۔
دلچسپ مفروضہ
یہ تحقیق کرنے والے جرمن سائنسدان تھامس سیگرٹ اور جاپان کے ہیروکی یونیڈا خود اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ ابھی ایک سائنسی مفروضہ ہے، ممکن ہے مستقبل میں مزید شواہد اس نظریے کی تائید کریں، اس میں ترمیم کریں یا اسے مسترد کر دیں۔ یہی سائنسی تحقیق کا بنیادی اصول ہے کہ ہر نئی تجویز کو بار بار جانچا جاتا ہے۔تاہم اگر آنے والے برسوں میں یہ نظریہ درست ثابت ہو جاتا ہے تو یہ دریافت ہماری زمین کی تاریخ کو سمجھنے کے انداز کو بدل سکتی ہے۔ اس سے یہ تصور مزید مضبوط ہوگا کہ زمین کی تشکیل صرف اس کے اندرونی عوامل کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اربوں کلومیٹر دور موجود ملکی وے میں ہونے والے فلکیاتی عمل بھی بالواسطہ طور پر ہماری دنیا کی تشکیل پر اثر انداز ہوئے۔ملکی وے اور زمین کے براعظموں کے درمیان ممکنہ تعلق پر ہونے والی یہ تحقیق سائنس کی ان دلچسپ کوششوں میں سے ایک ہے جو کائنات اور ہماری زمین کے درمیان پوشیدہ روابط کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ اس مفروضے کو ابھی مزید شواہد درکار ہیں، لیکن اس نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ شاید ہماری زمین کی تاریخ کا تعلق صرف زمین تک محدود نہیں، بلکہ پوری کائنات سے جڑا ہوا ہے۔ آنے والے برسوں کی تحقیق ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا واقعی ملکی وے نے زمین کے براعظموں کی تشکیل میں کوئی کردار ادا کیا تھا یا نہیں۔