سمندر پارکارکن،معیشت کے خاموش ہیروہر سال 16 جون کو دنیا بھر میں خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن (International Day of Family Remittances) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان تارکینِ وطن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو اپنے وطن سے دور رہ کر نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں بلکہ اپنے ملکوں کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (IFAD) کے مطابق ترسیلاتِ زر دنیا بھر میں غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ملک عزیزپاکستان کے لیے بھی اس دن کی خاص اہمیت ہے کیونکہ سمندر پار پاکستانی کارکنوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار رکھتی ہیں۔قومی معیشت کا مضبوط سہارااس وقت ایک کروڑ سے زائد پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں۔ ان میں بڑی تعداد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، برطانیہ اور امریکہ میں کام کر رہی ہے۔ ان پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر لاکھوں خاندانوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کے استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔پاکستان کی معیشت کو گزشتہ چند برسوں سے بلند درآمدی بل، بیرونی قرضوں کی ادائیگی، تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ایسے میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر ملک کے لیے ایک مضبوط معاشی ڈھال ثابت ہوئی ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق ترسیلاتِ زر نہ صرف جاری کھاتوں کے خسارے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ روپے کے استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 ء کے پہلے گیارہ ماہ، یعنی جولائی 2025ء سے مئی 2026ء تک، بیرونِ ملک پاکستانی 38.1 ارب ڈالر وطن بھیج چکے ہیں۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ رواں مالی سال ترسیلاتِ زر ایک نیا تاریخی ریکارڈ قائم کر سکتی ہیں۔صرف مئی 2026ء میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے 4.3 ارب ڈالر وطن بھیجے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی مہینے کے دوران موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کی بلند ترین سطح ہے۔ اس سے قبل مارچ 2025 میں 41 کروڑ ڈالر کی ترسیلات ریکارڈ کی گئی تھیں، تاہم مئی 2026ء میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔گزشتہ مالی سال میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے مجموعی طور پر38.3 ارب ڈالر وطن بھیجے تھے جو اُس وقت تک ملکی تاریخ کی بلند ترین سالانہ ترسیلات تھیں۔ تاہم موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا رہی ہے کہ مالی سال 2025-26 ء کے اختتام تک یہ ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔ترسیلاتِ زر کے معاشی اور سماجی فوائدترسیلاتِ زر کے فوائد صرف زرمبادلہ کے ذخائر تک محدود نہیں، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم لاکھوں خاندانوں کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ان رقوم سے بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، رہائش، کاروبار اور دیگر ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں چھوٹے کاروباروں کے فروغ، گھروں کی تعمیر اور غربت میں کمی میں ترسیلاتِ زر کا بنیادی کردار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان ہنرمند افرادی قوت کی بیرونِ ملک برآمد میں اضافہ کرے اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے مزید سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے تو ملک کو سالانہ کئی ارب ڈالر اضافی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ نے بھی قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کی حوصلہ افزائی کی ہے۔سمندر پار پاکستانی قومی ہیروخاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی صرف اپنے خاندانوں کے کفیل نہیں بلکہ ملکی معیشت کے بڑے معاون بھی ہیں۔ ان کی محنت، قربانی اور وطن سے محبت کی بدولت پاکستان کو ہر سال اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کو قومی سرمایہ سمجھتے ہوئے ان کے لیے بہتر سہولتیں، سرمایہ کاری کے مواقع اور مؤثر قونصلر خدمات فراہم کرے۔آج جب پاکستان معاشی استحکام کی جانب سفر کر رہا ہے تو اس میں سمندر پار پاکستانیوں کا کردار کسی بھی شعبے سے کم نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پاکستانی اپنے وطن سے دور رہ کر بھی پاکستان کی معیشت کے خاموش مگر مضبوط ہیرو ہیں۔