پالتو جانور سے کورونا ہو سکتا ہے؟

پالتو جانور سے کورونا ہو سکتا ہے؟

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد ریاض


٭: کووڈ19- کے مریض سے عام جانور یا پالتو جانور کو بیماری منتقل ہونے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ 
٭:بعض جانور اگر انسانوں کے زیادہ قریب ہوں تو ان میں کورونا وائرس کی منتقلی کا امکان ہوتا ہے۔ تاہم جانوروں سے انسانوں میں کورونا وائرس کی منتقلی کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ 
٭:حالیہ شواہد کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ بیماری بنیادی طور پر انسان سے انسان میں منتقل ہو رہی ہے۔ 
٭:یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کووڈ19- کا مرض بلیوں سے انسانوں میں داخل ہو سکتا ہے۔ 
٭:کورونا وائرس، وائرسز کا ایک خاندان ہے جو جانوروں میں عام ہے۔ کبھی کبھار یہ وائرس انسانوں کو انفیکٹ کرتے ہیں اور پھر انسانوں میں پھیلنے لگتے ہیں۔ مثلاً ''سارس کوو‘‘ سیوٹ بلی سے پھیلا اور ''ایم ای آر ایس کوو‘‘ خطہ عرب کے اونٹوں کی ایک قسم سے منتقل ہوا۔ 
٭:جہاں تک کووڈ19- کا تعلق ہے تو یہ بات یقینی طور پر نہیں کہی جا سکتی کہ یہ جانوروں سے پھیل سکتا ہے لیکن احتیاط لازمی ہے۔ مثال کے طور پر آپ کو جانوروں کی منڈی جانا پڑتا ہے تو اپنی حفاظت کے لیے جانوروں کو مت چھوئیں اور اس سطح کو بھی نہ چھوئیں جس پر جانور رہتے ہیں۔
٭:کھانا کھاتے اور پکاتے وقت احتیاطی تدابیر اپنائیں۔ کچے گوشت کو اس طرح ہینڈل کریں کہ اس سے جراثیم آپ تک نہ پہنچیں۔ گوشت کو اچھی طرح پکا کر کھائیں۔ نیم گلا ہوا گوشت مت کھائیں۔ 
(ماخذ: عالمی ادارۂ صحت)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
جدید گاڑیوں کو انوکھا خطرہ درپیش!

جدید گاڑیوں کو انوکھا خطرہ درپیش!

 شمسی سرگرمیاں گاڑیوں کے حساس الیکٹرانک نظام کو متاثر کرسکتی ہیں  جدید ٹیکنالوجی نے گاڑیوں کو پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ، تیز رفتار اور خودکار بنا دیا ہے، لیکن اب ایک ایسا غیر متوقع خطرہ سامنے آیا ہے جس کا تعلق زمین سے نہیں بلکہ خلائی موسم سے ہے۔ سورج سے خارج ہونے والی شدید شمسی سرگرمیاں اور مقناطیسی طوفان جدید گاڑیوں میں موجود حساس الیکٹرانک نظام اور نیوی گیشن ٹیکنالوجی کو متاثر کرسکتے ہیں۔  ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ خلائی طوفان شدید نوعیت کے ہوں تو گاڑیوں کے نظام میں خلل پڑنے سے سڑکوں پر ہزاروں حادثات کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اچانک آنے والا ایک شدید شمسی طوفان امریکا بھر کی سڑکوں پر افراتفری پیدا کرسکتا ہے، کیونکہ خودکار ڈرائیونگ کرنے والی گاڑیوں کے جی پی ایس نظام میں ایک ایسا خطرناک نقص سامنے آیا ہے جو جان لیوا حادثات کا سبب بن سکتا ہے۔ بوسٹن میں محققین کی ایک ٹیم نے پہلی مرتبہ تصدیق کی ہے کہ طاقتور شمسی شعلوں سے خارج ہونے والی توانائی زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں جی پی ایس کے ریڈیو سگنلز میں خلل پڑ سکتا ہے۔ خودکار گاڑیوں میں اس خلل کے باعث رہنمائی کرنے والے کمپیوٹرز کی نشاندہی میں 30 فٹ سے زیادہ کی غلطی پیدا ہو گئی۔ اس معمولی نظر آنے والے فرق کا مطلب ٹریفک کے دوران گاڑی کا غلط لین میں چلے جانا، سرخ بتی عبور کرنا یا کسی جان لیوا حادثے کا شکار ہونا ہوسکتا ہے۔تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ خودکار زرعی مشینری بھی حالیہ شمسی طوفانوں سے متاثر ہوئی۔ یہ مشینیں فصلوں کی بوائی اور کٹائی کے دوران بالکل سیدھی لائنوں میں کام کرنے کیلئے جی پی ایس پر انحصار کرتی ہیں۔ شمسی طوفانوں کے باعث اس نظام میں خلل پڑنے سے تقریباً 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔سائنسدانوں کو عموماً ایک سے تین دن پہلے ممکنہ شمسی طوفان کی اطلاع مل جاتی ہے، تاہم وہ اب بھی قابلِ اعتماد طور پر یہ پیش گوئی نہیں کرسکتے کہ طوفان کتنا شدید ہوگا۔محققین کی ٹیم نے نومبر 2025ء میں آنے والے ایک طاقتور شمسی طوفان کے دوران جی پی ایس اور اسی نوعیت کے دیگر سیٹلائٹ نیوی گیشن سگنلز میں پیدا ہونے والی خرابیوں کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے مطابق 12 نومبر کو طوفان کے شدید ترین مرحلے کے دوران جی پی ایس کی غلطیاں کئی گھنٹوں تک برقرار رہیں۔ یہ وہی وقت تھا جب امریکا کے مختلف علاقوں میں آسمان پر شفقِ قطبی (Aurora) کے مناظر بھی اپنے عروج پر دیکھے گئے۔شمسی سرگرمی کی اسی لہر نے مسافر طیاروں کو بھی متاثر کیا۔ تابکاری کے اچانک جھٹکوں سے بعض طیاروں کے آن بورڈ کمپیوٹرز میں خلل پڑا۔ اس واقعے کے بعد فضائی کمپنیوں کو ہزاروں طیاروں کے نظام کو اپ ڈیٹ کرنا پڑا۔اس تحقیق کی قیادت ایرو اسپیس کارپوریشن سے وابستہ خلائی طبیعیات دان اینڈاووک ییزینگاو (Endawoke Yizengaw) نے کی۔ محققین نے اپنے نتائج کو ''اہم پوزیشننگ غلطیاں‘‘ قرار دیا، جو امریکا کے براعظمی علاقوں میں درست زرعی نظام اور خودکار نقل و حمل کی صنعتوں میں خلل ڈالنے کیلئے کافی بڑی ہو سکتی ہیں۔دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 10ہزار مکمل طور پر بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں تجارتی بنیادوں پر استعمال ہورہی ہیں۔ ان میں امریکا کے مختلف شہروں میں چلنے والی ویمو روبو ٹیکسیاں بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ زوکس اور ٹیسلا کی روبوٹیکسی سروس کے چھوٹے بیڑے بھی موجود ہیں۔ اگرچہ یہ خودکار گاڑیاں راستہ تلاش کرنے کیلئے کیمروں، ریڈار اور تفصیلی نقشوں سے بھی مدد لیتی ہیں، تاہم سڑک پر اپنی درست پوزیشن معلوم کرنے کیلئے جی پی ایس پر انحصار کرتی ہیں۔ایک بڑا شمسی طوفان سورج سے توانائی کا ایک زبردست اخراج کرسکتا ہے، جو آئنوسفیئر میں خلل ڈالتا ہے۔ آئنوسفیئر زمین کی سطح سے تقریباً 50 سے 600 میل کی بلندی پر موجود برقی طور پر چارج شدہ فضا کی ایک تہہ ہے۔ جی پی ایس سگنلز کو اسی متاثرہ تہہ سے گزر کر زمین تک پہنچنا ہوتا ہے۔ شمسی طوفان کے باعث اس تہہ میں پیدا ہونے والی بے ترتیبی سے سگنلز میں ارتعاش پیدا ہوسکتا ہے، وہ قدرے تاخیر سے پہنچ سکتے ہیں یا ان کی طاقت کم ہوسکتی ہے۔ نتیجتاً گاڑی کا کمپیوٹر اس کی غلط جغرافیائی پوزیشن کا تعین کرسکتا ہے۔ سڑک پر 30 سے 33 فٹ کی پوزیشننگ غلطی امریکا کی بیشتر ڈرائیونگ لینز کی چوڑائی سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس صورت حال سے گاڑی میں سوار مسافروں کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے یا ڈرائیور کو خودکار نظام سے دوبارہ گاڑی کا کنٹرول سنبھالنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔شمسی سرگرمی کے 11 سالہ چکر کے دوران معمولی شمسی طوفان نسبتاً عام ہوتے ہیں۔ تاہم امریکا بھر میں جی پی ایس سگنلز کو متاثر کرنے کی حد تک طاقتور شمسی طوفان کم ہی آتے ہیں۔ تحقیقی جریدے''جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز‘‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ اسی نوعیت کا ایک جغرافیائی مقناطیسی طوفان مئی 2024ء میں بھی آیا تھا، جس کے نتیجے میں امریکا کے کسانوں کو شدید مشکلات اور بڑے پیمانے پر خلل کا سامنا کرنا پڑا۔شمسی تابکاری صرف جی پی ایس کمپیوٹرز کے نظام کو متاثر کرنے تک محدود نہیں۔ زمین سے ٹکرانے والے برقی چارج شدہ ذرات کے طاقتور اخراج سے ریڈیو مواصلاتی نظام بھی متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ شدید شمسی طوفان بجلی کے ٹرانسفارمرز اور پاور لائنز پر اضافی دباؤ ڈال کر انہیں اوورلوڈ کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ماضی میں آنے والے شمسی طوفانوں نے دنیا بھر میں سیٹلائٹ مواصلاتی نظام میں بھی خلل ڈالا ہے، جن میں ایلون مسک کی اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس میں پیدا ہونے والی بندشیں بھی شامل ہیں۔

خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان

خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان

خودکشی صرف ایک فرد کی موت کا واقعہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے موجود معاشرتی، نفسیاتی، خاندانی اور معاشی مسائل کی ایک پیچیدہ تصویر ہوتی ہے۔ جب کوئی انسان اپنی زندگی کے بارے میں انتہائی مایوس ہو جاتا ہے تو اس کیفیت کو صرف ایک لمحے کا فیصلہ قرار دینا مسئلے کی اصل نوعیت کو سمجھنے کیلئے کافی نہیں۔ عموماً اس کے پیچھے طویل عرصے سے جمع ہونے والا ذہنی دباؤ، تنہائی، گھریلو تنازعات، معاشی مشکلات، تعلیمی یا پیشہ ورانہ پریشانی اور مدد حاصل نہ کر پانے کی صورت حال شامل ہو سکتی ہے۔ اسی لیے پاکستان میں خودکشی کے مسئلے کو محض اعداد و شمار کے بجائے ایک اہم عوامی اور ذہنی صحت کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔آج کے دور میں نوجوان نسل کے اندر خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے پوری سوسائٹی، والدین اور ماہرین نفسیات کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جو عمر جینے، خواب دیکھنے اور اپنے مستقبل کی بنیاد رکھنے کی ہوتی ہے، اسی عمر میں مایوسی اور ذہنی دباؤ کے بادل اس قدر گہرے ہو جاتے ہیں کہ کچھ نوجوان موت کو ہی اس کا واحد حل سمجھ بیٹھتے ہیں۔جدید دور کی تیز رفتار زندگی، سوشل میڈیا کے بے جا استعمال اور مجازی دنیا کی چمک دمک نے نوجوانوں کو حقیقی رشتوں اور خاندانی محفلوں سے دور کر دیا ہے۔ ہجوم میں گھیرے رہنے کے باوجود نوجوان اندر سے شدید تنہائی کا شکار ہیں۔ ہر وقت دوسروں کی فرضی اور مثالی زندگیوں سے اپنا مقابلہ کرنا، تعلیمی اداروں کا شدید مقابلہ بازی کا ماحول اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ان کے ذہنوں پر ایک مستقل بوجھ بن جاتی ہے، جسے وہ تنہا برداشت کرنے کے قابل نہیں رہتے۔والدین اور اولاد کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اس بحران کا ایک اور اہم سبب ہے۔ روزمرہ کی دوڑ دھوپ میں والدین کے پاس اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بچوں کے دل کا حال جان سکیں۔ جب نوجوان اپنے جذبات، ناکامیوں یا اندرونی کشمکش کا اظہار گھر میں نہیں کر پاتے، تو وہ شدید فرسٹریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ گھر کا ماحول جہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ یا تنقید کا سامنا رہتا ہے، بچوں کو باہر کی دنیا کے سرد رووں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔موجودہ معاشرتی اور معاشی حالات نے نوجوانوں کے سامنے ایک اور بڑا پہاڑ کھڑا کر رکھا ہے۔ ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی مناسب روزگار کا نہ ملنا، مہنگائی کا طوفان اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی مجبوری نوجوانوں میں احساسِ کمتری کو جنم دیتی ہے۔ وہ خود کو اپنے خاندان اور معاشرے پر بوجھ سمجھنے لگتے ہیں، جو آہستہ آہستہ ڈپریشن اور پھر اس انتہائی قدم کی طرف لے جاتا ہے۔اس ناسور پر قابو پانے کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تعلیمی اداروں اور میڈیا پر اس حوالے سے کھل کر بات ہونی چاہیے تاکہ ذہنی صحت سے جڑے مسائل کو تبصرہ یا عیب سمجھنے کے بجائے ایک قابلِ علاج بیماری سمجھا جائے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے دوست بنیں، ان کی بات کو بغیر کسی فیصلے یا طعنے کے سنیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ ان کی زندگی کسی بھی کامیابی یا ناکامی سے بڑھ کر قیمتی ہے۔ پاکستان میں اس مسئلے کی شدت کا درست اندازہ لگانا خود ایک بڑا چیلنج ہے۔ ملک میں خودکشی کے واقعات کا ایسا مکمل قومی نظام موجود نہیں جس میں ہر واقعہ یکساں طریقے سے درج، تصدیق اور مرکزی سطح پر جمع کیا جاتا ہو۔ ایک تحقیقی جائزے کے مطابق پاکستان میں خودکشی کے سرکاری قومی اعداد و شمار موجود نہیں اور مختلف علاقوں میں پولیس، میڈیکو لیگل مراکز اور طبی اداروں کے ریکارڈ رکھنے کے طریقے ایک جیسے نہیں ہیں۔ بعض واقعات پولیس اسٹیشن میں درج ہونے کے باوجود مرکزی سطح تک نہیں پہنچتے۔یہی وجہ ہے کہ یہ سوال کہ ''پاکستان میں ہر سال پولیس اسٹیشنوں میں کتنے خودکشی کے کیس درج ہوتے ہیں؟‘‘ اس کا ایک مستند قومی عدد دینا ممکن نہیں۔کیونکہ خودکشی کے واقعات زیادہ تر پولیس میں رپورٹ نہیں ہوتے۔صنفی اعتبار سے بھی صورتحال یکساں نہیں ہے۔ پاکستان کے مجموعی دستیاب شواہد میں مردوں کے درمیان خودکشی سے ہونے والی اموات کی شرح عموماً خواتین سے زیادہ نظر آتی ہے۔خودکشی کے خطرے سے دوچار افراد میں صرف ایک خاص طبقہ شامل نہیں ہوتا۔ طالب علم، بے روزگار نوجوان، مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد، خاندانی تنازعات سے متاثرہ لوگ، گھریلو دباؤ برداشت کرنے والے افراد اور مختلف ذہنی صحت کے مسائل سے گزرنے والے افراد سب مدد کے محتاج ہو سکتے ہیں۔ کسی شخص کے مالی طور پر مضبوط یا کمزور ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ذہنی پریشانی سے محفوظ ہے۔ اسی طرح تعلیمی کامیابی بھی کسی فرد کو جذباتی مشکلات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں کرتی۔خاندانی ماحول اس معاملے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ گھر وہ جگہ ہونی چاہیے جہاں انسان اپنی پریشانی بیان کرتے ہوئے خود کو محفوظ محسوس کرے۔ اگر والدین ہر مسئلے کا جواب صرف ڈانٹ، سزا، طنز یا دوسروں سے موازنہ کی صورت میں دیں تو نوجوان اپنی اصل کیفیت چھپانا شروع کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس نرم گفتگو، توجہ سے سننا، جذبات کو سنجیدگی سے لینا اور ضرورت پڑنے پر کسی ماہرِ نفسیات یا دوسرے قابلِ اعتماد بالغ فرد سے مدد لینا نوجوان کو تنہائی سے باہر آنے میں مدد دے سکتا ہے۔سوشل میڈیا نے بھی نوجوانوں کی ذہنی دنیا کو تبدیل کیا ہے۔ آن لائن دنیا میں لوگ عموماً اپنی زندگی کا بہترین حصہ دکھاتے ہیں، جس کے باعث دیکھنے والا اپنی حقیقی زندگی کا موازنہ دوسروں کی منتخب اور خوبصورت دکھائی دینے والی زندگی سے کرنے لگتا ہے۔ اس مسلسل موازنے سے بعض افراد میں ناکامی، محرومی اور کم اعتمادی کا احساس بڑھ سکتا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا کو خودکشی کی واحد وجہ قرار دینا بھی درست نہیں، یہ مسئلہ کئی عوامل کے باہمی اثر سے پیدا ہوتا ہے۔پاکستان میں ایک اور اہم مسئلہ ذہنی صحت سے متعلق سماجی بدنامی ہے۔ بہت سے لوگ ذہنی پریشانی کو بیماری کے بجائے کمزوری سمجھتے ہیں۔ نتیجتاً وہ مدد لینے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ اس سوچ کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔ جس طرح جسمانی بیماری کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا معمول کی بات ہے، اسی طرح مسلسل ذہنی دباؤ، شدید مایوسی یا جذباتی بحران کی صورت میں کسی قابلِ اعتماد ماہرِ نفسیات سے بات کرنا بھی معمول ہونا چاہیے۔

بوسنیا، عثمانی فتوحات کی یادگار سرزمین

بوسنیا، عثمانی فتوحات کی یادگار سرزمین

مشرقی یورپ کے نقشے پر واقع بوسنیا اپنی تاریخ، اسلامی تہذیب، قدرتی حسن اور جغرافیائی اہمیت کے باعث ایک منفرد ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خطے نے صدیوں کے دوران مختلف تہذیبوں اور سلطنتوں کے عروج و زوال کا مشاہدہ کیا، تاہم عثمانی ترکوں کی آمد نے بوسنیا کی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا۔ 1398ء میں بوسنیا میں عثمانی ترکوں کی فتوحات کا آغاز ہوا۔ اس وقت خطے کی مختلف عیسائی ریاستیں متحد ہو کر بھی عثمانی لشکر کے مقابلے میں زیادہ دیر تک مزاحمت نہ کرسکیں۔ یوں بوسنیا کی عیسائی مملکت کے زوال کا آغاز ہوگیا اور بالآخر سلطان محمد فاتح کے عہد حکومت میں 1463ء میں بوسنیا کی فتوحات مکمل ہوئیں۔عثمانی فتوحات کے دوران بوسنیا کے مقامی باشندوں، خصوصاً لوگومل قبائل نے اہم کردار ادا کیا۔ عثمانی اقتدار کے قیام کے ساتھ ہی اسلام کی دعوت اور اسلامی تہذیب کے اثرات بھی اس خطے میں پھیلنے لگے۔ مقامی آبادی بڑی تعداد میں حلقہ بگوش اسلام ہونے لگی اور رفتہ رفتہ بوسنیا یورپ میں مسلم تہذیب کا ایک اہم مرکز بن گیا۔پاکستان میں تعینات رہنے والی بوسنیا کی پہلی سفیر محترمہ ساجدہ سلاجک کے مطابق، معروف صوفی بزرگ حضرت شہاب الدین سہروردیؒ بھی بوسنیا تشریف لے گئے تھے۔ ان کے بقول جب بوسنیا عثمانی سلطنت کا حصہ بنا تو بڑی تعداد میں لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے۔ یہاں تک کہ ایک روایت کے مطابق ایک ہی روز 26 ہزار بوسنی باشندوں نے اسلام قبول کیا۔ یہ واقعات اس خطے میں اسلام کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی ایک اہم تاریخی جھلک پیش کرتے ہیں۔راقم کو بوسنیا کے سفر کے دوران حضرت محمد بہاؤالدین شاہ نقشبندؒ کے مزار پر حاضری کا موقع بھی ملا۔ یہ مزار بوسنیا کے دوسرے بڑے شہر موستار سے تقریباً دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مزار ایک مسجد سے ملحق اور پہاڑ کے دامن میں قائم ہے۔ مسجد کے بالکل نیچے سے دریائے بونا اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے۔ یہ مقام بوسنیا کے قدرتی حسن، روحانی وابستگی اور اسلامی تاریخ کا خوبصورت امتزاج محسوس ہوتا ہے۔جغرافیائی اعتبار سے بوسنیا مشرقی یورپ میں واقع ہے۔ اس کے مشرق میں سربیا، شمال اور مغرب میں کروشیا جبکہ جنوب میں مونٹی نیگرو واقع ہے۔ بوسنیا کو بحیرہ ایڈریاٹک تک بھی رسائی حاصل ہے، اگرچہ اس کا ساحلی علاقہ نہایت مختصر ہے۔ ملک کا بیشتر حصہ سرسبز پہاڑوں، گھنے درختوں، دریاؤں اور قدرتی چشموں پر مشتمل ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے مناظر انتہائی دلکش دکھائی دیتے ہیں۔بوسنیا قدرتی معدنی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ یہاں کوئلہ، لوہا، تانبا، جست، کرومائیٹ اور نمک کے ذخائر وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ دریاؤں کی فراوانی کے باعث پن بجلی بھی بڑی مقدار میں پیدا کی جاتی ہے۔ ملک کی معیشت میں ملازمت اور تجارت کے ساتھ ساتھ زراعت، ماہی گیری اور مویشی پالنے کا بھی اہم کردار ہے۔2008ء میں راقم کے قیام کے دوران حکومت پاکستان نے اپنے سفارت خانے کے ذریعے بوسنیا کے کاشتکاروں کو 225 چھوٹے زرعی ٹریکٹر تحفتاً فراہم کیے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں تعاون کو بھی فروغ ملا۔ بوسنیا کی زمین کا ایک بڑا حصہ چراگاہوں اور سرسبز مرغزاروں پر مشتمل ہے، جو مویشی پالنے کیلئے موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں۔بوسنیا کی تاریخ میں عثمانی دور اور اسلام کا پھیلاؤ آج بھی اس ملک کی تہذیب، ثقافت، مساجد، مزارات اور طرزِ زندگی میں نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ سرسبز پہاڑوں، بہتے دریاؤں، تاریخی شہروں اور اسلامی آثار سے مزین یہ خطہ یورپ میں مسلمانوں کی تاریخ اور تہذیبی ورثے کی ایک خوبصورت علامت ہے۔

انکم ٹیکس والے

انکم ٹیکس والے

منکر نکیر اور محکمہ انکم ٹیکس کے انسپکٹروں میں یہی فرق ہے کہ منکر نکیر مرنے کے بعد حساب مانگتے ہیں اور موخر الذکر مرنے سے پہلے۔ بلکہ یہ کہ منکر نکیر صرف ایک بار مانگتے ہیں اور انکم ٹیکس کے انسپکٹر بار بار نیز یہ کہ منکر نکیر گناہوں کا حساب لیتے وقت ثواب کو نظر انداز نہیں کرتے مگر انکم ٹیکس تجویز کرنے والے صرف گناہوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، ثواب سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔ آمدنی کو گناہ میں اشتراکیوں کی اصطلاح میں کہہ رہا ہوں۔ ملاحظہ ہو ایک اشتراکی فلاسفر کا نظریہ کہ ''تمام صاحب جائیداد چور ہیں‘‘۔ادھر مارچ کا مہینہ آیا ادھر ان کے پیام آنے شروع ہو ئے کہ صاحب ایک ہفتے کے اندر اندر آمدنی کا نقشہ پر کر کے دفتر میں بھیج دیجئے۔ ورنہ آپ پر زیر دفعہ ''فلاں‘‘ مقدمہ چلایا جائے گا۔ اسے کہتے ہیں مفت خوری اور سینہ زوری۔ بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ صاحب جب ہم سارا دن دفتر میں پنسل گھساتے تھے، افسروں کی جھڑکیاں سہتے تھے، سپرنٹنڈنٹوں کے ناز اٹھاتے تھے اس وقت آپ کہاں تھے۔ کبھی پھوٹے منہ سے یہ نہ کہا، ''لاؤ ان رقموں کی میزان میں کردوں، یا اس فائل سے میں نپٹ لوں گا۔‘‘ اور جب پیسوں کامنہ دیکھنا نصیب ہوا تو آپ آ دھمکے اور لگے رعب جمانے کہ ہمارا حصہ لاؤ۔ اگر عاجزی سے مانگیں تو کوئی عیب نہیں کہ راہ خدا ہم غریبوں کو بھی دو ''ہے ملی گر تم کو ثروت چند روز‘‘۔مگر صرف مطالبے پر ہی معاملہ ختم نہیں ہو جاتا، آمدنی کا نقشہ پر کرنے کے بعد ایک دن دفتر میں بھی تشریف لائیے تاکہ اندراج کی تصدیق کی جا سکے۔ اور جب آپ اپنا قیمتی وقت ضائع کر کے وہاں جاتے ہیں تو آپ کی کیا گت بنائی جاتی ہے؟ برآمدے میں جہاں آپ کو گھنٹوں انتظار کرنا ہے، کوئی بینچ یا کرسی نہیں۔ دوسرے جتنا عرصہ آپ برآمدے میں کھڑے رہتے ہیں دفتر میں کام کرنے والے بابو اور چپڑاسی آپ کو اس طرح گھور گھور کر دیکھتے ہیں گویا آپ جیل سے بھاگے ہوئے مجرم ہیں۔ مگر سب سے بڑی کوفت یہ کہ محکمہ انکم ٹیکس کے انسپکٹر اپنے آپ کو فرعون یا کم از کم ہٹلر سے کم نہیں سمجھتے، اس لئے جب آپ جھک کر سلام بجالاتے ہیں تو وہ یا تو منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں یا پھر سگار کا دھواں آپ کے منہ کی طرف چھوڑتے ہوئے آپ پر یوں نگاہ غلط انداز ڈالتے ہیں جیسے آپ انسان نہیں بلکہ رینگنے والے کیڑے اور اس کے بعد گستاخانہ استفسارات کا سلسلہ۔''یہ نقشہ آپ نے پر کیا ہے‘‘''جی ہاں‘‘''آپ ہی کا نام ہے دین دیال‘‘''جی ہاں‘‘''آپ کہاں پروفیسر ہیں‘‘''کلچرل کالج میں‘‘''آپ کی تنخواہ‘‘''ایک سو بیس روپیہ ماہانہ‘‘اور آپ دل ہی دل میں جھنجلا کر کہتے ہیں، کم بخت اندھا ہے، پڑھ نہیں سکتا؟ نقشے میں ان تمام سوالوں کے جواب لکھ تو دیئے تھے۔ اس قسم کے تین چار بے ضرر سوالات کرنے کے بعد آمدم بر سر مطلب والا معاملہ شروع ہوتا ہے۔''ہاں تو آپ نے تنخواہ کے علاوہ اپنی بالائی آمدنی کیوں نہیں دکھائی‘‘۔''جناب‘‘ آپ منکسرانہ لہجے میں کہتے ہیں، ''تنخواہ کے علاوہ میری کوئی اور آمدنی نہیں‘‘۔''ہوں‘‘ وہ منہ سے پائپ یا سگار نکال کر طنزیہ انداز میں فرماتے ہیں، ''اور وہ جو جناب نے کبوتر نامہ لکھا تھا، اس کی رائلٹی کیا ہوئی‘‘۔''جی کیا عرض کروں، بندہ پرور، سال بھر میں کل تین کاپیاں فروخت ہوئیں جن پر ساڑھے تیرہ آنے رائلٹی ملی‘‘۔''ساڑھے تیرہ آنے سے مطلب نہیں‘‘۔ وہ گرج کر فرماتے ہیں، ''آمدنی کے نقشے میں اسے بھی دکھانا چاہئے‘‘۔آپ دبی زبان سے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں۔ وہ غرا کر پھر پوچھتے ہیں۔''اور وہ جو آپ کو ریڈیو سے معاوضہ ملا، وہ کیوں نہیں دکھایا‘‘۔''اجی حضرت وہ کیا معاوضہ تھا۔ ڈھائی منٹ کیلئے بچوں کے ایک فیچر پروگرام میں گیدڑ کا پارٹ ادا کیا تھا۔ جس کے ڈھائی روپے ملے۔ ا ب میں وہ کیا آمدنی کے نقشہ میں دکھاتا‘‘۔وہ اسی فرعونیت کے ساتھ جواب دیتے ہیں، ''کچھ بھی ہو اندراج مکمل ہونا چاہئے‘‘۔چند ثانیوں کی اذیت بخش خاموشی کے بعد وہ پھر آپ سے مخاطب ہوتے ہیں، ''ہاں اور وہ جو آپ رائے بہادر مستیا مل کی لڑکی کو بطور معلم پڑھاتے رہے، وہ ٹیوشن فیس آپ نے درج نہیں کی‘‘۔''جناب، رائے بہادر بیس روپے ماہوار ہی تو دیتے تھے اور ان کی کوٹھی تھی غریب خانے سے چھ میل دور، پندرہ روپے ماہوار تانگے والا لے لیتا۔ باقی رہے پانچ۔ ان سے بمشکل سگریٹ پان کا خرچ چلتا‘‘۔مگر وہ دہاڑ کر کہتے ہیں،''آمدنی آمدنی ہے، پانچ ہو یا پچاس‘‘۔اور آپ بے حد مرعوب ہوکر سوچنے لگتے ہیں، یہ کم بخت انکم ٹیکس والے حساب دان ہونے کے علاوہ غضب کے سراغ رساں بھی ہیں۔ آپ کی آمدنی کے متعلق آپ سے بھی زیادہ جانتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

''لونا 2‘‘ چاند پر اترا14 ستمبر 1959ء کو سوویت یونین کا خلائی مشن ''لونا 2‘‘ کامیابی کے ساتھ چاند پر اترا اور یوں یہ چاند تک پہنچنے والا پہلا خلائی جہاز قرار پایا۔اس مشن کا مقصد چاند کی فضا و مقناطیسی میدان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا۔ ''لونا 2‘‘ روانگی کے 36 گھنٹے بعد چاند کے علاقے ''ماری ایمبریئم‘‘ کے قریب اتراتھا۔پاکستان کی پہلی خاتون سفیر1954ء میں آج کے روز بیگم رعنا لیاقت علی خان کو نیدرلینڈز (ہالینڈ) میں پاکستان کی سفیر مقرر کیا گیا۔ وہ کسی بھی ملک میں تعینات ہونے والی پاکستان کی پہلی خاتون سفیر تھیں۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کی اہلیہ تھیں اور قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں بھی انہوں نے سرگرم کردار ادا کیا۔ انہیں 1973ء میں سندھ کی گورنر مقرر کیا گیا اوروہ پاکستان کی پہلی خاتون گورنر بھی تھیں۔ ملکہ کی تدفین کا سفر14ستمبر 2022ء کو ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد ان کے تابوت کو بکنگھم پیلس سے شاہی جلوس کی صورت میں ویسٹ منسٹر ہال لایا گیا۔ وہاں ملکہ کی میت کو چار روز تک عوامی دیدار کیلئے رکھا گیا۔ اس موقع پر ہزاروں سوگواروں نے آخری دیدار کیلئے طویل قطاریں بنائیں، جو دریائے ٹیمز کے کنارے میلوں تک پھیل گئیں۔المناک فضائی حادثہ2008ء میں آج کے روز ایروفلوٹ کی پرواز 821، جو بوئنگ 737-500 طیارے پر مشتمل تھی، روس کے پرم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگئی۔ طیارہ ٹرانس سائبیرین ریلوے کے ایک حصے سے جا ٹکرایا اور تباہ ہوگیا۔ حادثے کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 88 افراد جاں بحق ہوگئے۔ ونڈو ملینیم کا آغازونڈو ملینیم جسے ''ونڈو می‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ایک آپریٹنگ سسٹم ہے جو مائیکرو سافٹ کی جانب سے ونڈو فیملی کے طور پر تیار کیا گیا تھا۔اسے ونڈو 98کا جانشین بھی کہا جاتا ہے۔ اس پروجیکٹ پر 19جون2000ء کو آغاز کیا گیا اور 14ستمبر 2000ء کو اسے فروخت کیلئے مارکیٹ میں پیش کیا گیا۔اکتوبر2001ء میں ونڈو ایکس پی کے لانچ ہونے تک یہ مائیکرو سافٹ کا مرکزی آپریٹنگ سسٹم رہا۔3ممالک یورپی یونین میں شامل 14 ستمبر 2003ء کو ایسٹونیا، لٹوِیا اور لیتھوانیا نے عوامی ریفرنڈم کے ذریعے یورپی یونین میں شمولیت کی توثیق کی۔یہ تینوں ممالک سوویت یونین کے انہدام (1991ء) کے بعد آزاد ہوئے تھے ۔ عوامی ریفرنڈم میں واضح اکثریت نے یورپی یونین میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا تھا۔نیپال میں قتل عام 14 ستمبر 1846 ء کونیپال میں قتل عام کا واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ میں بہادر کنور اور اس کے بھائیوں نے نیپال کے وزیر اعظم اور ایک رشتہ دار سمیت نیپالی محل کے تقریباً 30 سے 40 سول و فوجی افسران اور محل کے محافظوں کو قتل کیا۔ان افراد میں بادشاہ اور دیگر سینئر ترین وزراء اور فوجی جرنیل شامل تھے۔اس قتل عام کی وجہ سے نیپال میں آمریت قائم ہوئی۔

انسان کی بنائی ذہانت انسان کی دشمن؟

انسان کی بنائی ذہانت انسان کی دشمن؟

مصنوعی ذہانت نے انسانی زندگی کو آسان بنانے سے لے کر پیچیدہ ترین مسائل حل کرنے تک اپنی حیرت انگیز صلاحیت ثابت کردی ہے، مگر یہی ٹیکنالوجی اب ایک ایسے سوال کو جنم دے رہی ہے جس نے سائنسدانوں اور ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت انسان سے کہیں زیادہ ذہین ہوگئی تو کیا وہ خود اپنے خالق کیلئے خطرہ بن سکتی ہے؟ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ انتہائی ذہین اے آئی نظام اگر انسانی مفادات اور قابو سے باہر ہوگئے تو وہ ایسے فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتے ہیں جن کے نتائج پوری نسل انسانی کیلئے تباہ کن ثابت ہوں۔ یوں انسان کی اپنی تخلیق کردہ ذہانت مستقبل میں اس کے وجود کیلئے سب سے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔سان فرانسسکو میں قائم اے آئی کمپنی Anthropic میں جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت میں معاونت کرنے والے جیکب کوکسن نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اے آئی کی طاقت کو ''کم نہ سمجھیں‘‘، خصوصاً اس صورت میں جب یہ ٹیکنالوجی ''انتہائی ذہین‘‘ بن جائے۔ کوکسن کا دعویٰ ہے کہ Anthropic، جو اے آئی نظام Claude تیار کرنے والی کمپنی ہے، اور ChatGPT کی خالق کمپنی OpenAI، دونوں ہی اے آئی کی حفاظت کے معاملے میں ''ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار نہیں کر رہیں‘‘۔لیکن آخر یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے خاتمے کا باعث کیسے بن سکتی ہے؟ماہرین کے مطابق انسانیت کی تباہی کے کئی ممکنہ راستے موجود ہیں جو درج ذیل ہیں۔اہم نظاموں کی ہیکنگانتہائی ذہین مصنوعی ذہانت سے لاحق زیادہ تر خطرات کی بنیاد اس مسئلے میں ہے جسے ماہرین ''الائنمنٹ پرابلم‘‘ کہتے ہیں۔ بنیادی تصور یہ ہے کہ جب ہم انسانوں سے زیادہ ذہین اے آئی تیار کرلیں گے تو شاید اس بات کو یقینی بنانا مشکل ہوجائے کہ اس کے مقاصد اور ترجیحات انسانی مفادات کے مطابق رہیں۔ دنیا کو حال ہی میں ان خطرات کی ایک واضح جھلک اس وقت دیکھنے کو ملی جب OpenAI کے تیار کردہ ایک ہزار سے زائد بے قابو اے آئی بوٹس اپنے محفوظ ماحول سے باہر نکل گئے اور اوپن سورس ماڈلز کی میزبانی کرنے والی عوامی ویب سائٹ ''Hugging Face‘‘ کو ہیک کر لیا۔ ان بوٹس کو اس پر حملہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بلکہ انہیں غلطی سے ایک ایسا کام سونپ دیا گیا تھا جسے پورا کرنا ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کا بہترین طریقہ جوابات چوری کرنا ہے۔ بعض محققین کو خدشہ ہے کہ زیادہ طاقتور اے آئی ماڈلز میں بھی یہی الائنمنٹ کی خرابی کہیں زیادہ تباہ کن پیمانے پر پیدا ہوسکتی ہے۔برمنگھم یونیورسٹی کے مصنوعی ذہانت کے ماہر پروفیسر مارک لی کے مطابق یہ خطرہ ''مسلح روبوٹس‘‘ سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بڑی اے آئی کمپنیاں ایسی مصنوعی ذہانت تیار کرنے کی دوڑ میں ہیں جو انسانوں جتنی یا ان سے بھی زیادہ ذہین ہو، ہمارے پاس انہیں قابو میں رکھنے کے ذرائع موجود نہیں ہیں‘‘۔معاشرتی انتشار اور افراتفری پیدا کرنابے قابو مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے خاتمے کا سبب بننے کیلئے براہِ راست انسانوں کو نقصان پہنچانا بھی ضروری نہیں۔ یہ ٹیکنالوجی معاشرے میں ایسی افراتفری پیدا کر سکتی ہے جو ہماری موجودہ زندگی کے نظام کو ہی بدل کر رکھ دے۔ سرے انسٹی ٹیوٹ فار پیپل سینٹرڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ڈاکٹر اینڈریو روگوئسکی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک ''واقعی ذہین اے آئی یہ سمجھ لے گی کہ وہ انسانیت پر منحصر ہے اور انسان بھی اس پر انحصار کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے مطلوبہ کام انجام دینے کیلئے اے آئی کی ضرورت ہوگی، جبکہ اے آئی کو خام مال، بجلی، ٹھنڈک، نیٹ ورکس اور ڈیٹا کیلئے ہماری ضرورت ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ممکنہ طور پر کسی انتہائی ذہین اے آئی کیلئے انسانیت کو ایک تباہ کن جنگ یا کسی ہولناک حادثے کے ذریعے ختم کرنا اس کے اپنے بہترین مفاد میں نہیں ہو گا۔ جوہری جنگ بھڑکانے کا خطرہجب یہ بات سامنے آتی ہے کہ مصنوعی ذہانت موجودہ دنیا میں انسانی زندگی کے خاتمے کا سبب عملی طور پر کیسے بن سکتی ہے تو سب سے واضح خطرات ان ہتھیاروں سے وابستہ ہیں جو پہلے ہی ہمارے پاس موجود ہیں۔ اس وقت دنیا کے نو ممالک جوہری ہتھیار رکھتے ہیں اور ان کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 12,187 جوہری وار ہیڈز موجود ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک ملک میں انتہائی غیر ہم آہنگ یا بے قابو مصنوعی ذہانت نظام کا کنٹرول حاصل کر لے تو یہ ہتھیار انسانیت کے خلاف استعمال کیے جا سکتے ہیں۔تشویش کی بات یہ ہے کہ اے آئی کے مقاصد اور انسانی مفادات کے درمیان عدم مطابقت کے باعث کسی انتہائی ذہین اے آئی کا بدنیت ہونا بھی ضروری نہیں کہ وہ ایسی تباہی کا سبب بنے۔ مثلاً کوئی اے آئی اپنے مالک کے منافع میں اضافے کیلئے اسٹاک مارکیٹ میں ایسی ہلچل پیدا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں حالات قابو سے باہر ہو جائیں، یا عالمی درجہ حرارت کم کرنے کیلئے یہ غیر متوقع نتیجہ اخذ کر سکتا ہے ۔ تاہم، یہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب طاقتور ممالک جنگی نظاموں میں مصنوعی ذہانت شامل کرنے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ جان لیوا حیاتیاتی ہتھیاروں کا خطرہآخرکار مصنوعی ذہانت انسانیت کو اپنی خواہشات کے تحت تباہ کرنے کے بجائے خطرناک آلات ایسے لوگوں کے ہاتھ میں پہنچا کر بھی تباہی کا سبب بن سکتی ہے جو انہیں استعمال کرنے پر آمادہ ہوں۔ ماضی میں خطرناک بیکٹیریا یا وائرس کو بطور ہتھیار تیار کرنے کیلئے عموماً پوری پوری ریاستوں کی اجتماعی علمی صلاحیت، مہارت اور مالی وسائل درکار ہوتے تھے۔ تاہم ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے جدید آلات نے مہلک حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنا کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ پروفیسر لی کا کہنا ہے کہ زیادہ حقیقی خطرہ دہشت گردوں یا بے قابو ریاستوں جیسے عناصر سے ہے، جو اے آئی کی مدد سے ایسا نیا وائرس تیار کرسکتے ہیں جو ایک اور، پہلے سے زیادہ مہلک عالمی وبا کا باعث بن جائے۔Anthropic نے انکشاف کیا ہے کہ اسے اپنے Claude ماڈل کو حیاتیاتی ہتھیار تیار کرنے کیلئے استعمال کرنے کی ''بدنیتی پر مبنی‘‘ کوششوں کو ناکام بنانا پڑا۔ کمپنی کے مطابق اسے ایسے پانچ واقعات کا پتا چلا جن میں صارفین نے ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری میں معاون ثابت ہوسکتی تھیں۔ یہ انکشاف ایک ایسی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ مارکیٹ میں عام دستیاب ''آف دی شیلف‘‘ اے آئی ماڈلز میں معمولی تبدیلیاں کرکے ان کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرنا ممکن ہے۔