کون کیا ہے؟

کون کیا ہے؟

اسپیشل فیچر

تحریر : شفیق الرحمان


''کون کیا ہے‘‘ (who is who) کے عنوان سے مشہور ہستیوں کے حالاتِ زندگی اکثر چھپتے ہیں، جنہیں بیشتر لوگ زیادہ شوق سے نہیں پڑھتے اور اکثر شکایت کرتے ہیں کہ کچھ تشنگی سی رہ جاتی ہے۔ شاید اس لئے کہ فقط اُن ہستیوں کا ذکر کیا جاتا ہے جنہیں پبلک پہلے سے جانتی ہے، یا اس لئے کہ ان ہستیوں کی فقط تعریفیں ہی تعریفیں کی جاتی ہیں۔
زمانہ بدل چکا ہے۔ قدریں بھی بدل چکی ہیں۔ غالباً ان دنوں پڑھنے والے سوانح عمری کی سرخیاں ہی نہیں جاننا چاہتے۔ وہ کچھ اور باتیں بھی معلوم کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ ان کی رائے میں غیر معروف ہستیاں بھی توجہ کی مستحق ہیں۔
چنانچہ نئے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ''کون کیا ہے‘‘کچھ یوں بھی مرتب کیا جا سکتا ہے:۔
ذکی الحِس۔ نئی دہلوی: اوائلِ جوانی میں (لگاتار سگریٹ اور چائے نوشی سے) کافی بیزار رہے پھر آہستہ آہستہ عادت پڑ گئی۔
1960ء میں ایک دن اچھے بھلے بیٹھے تھے۔ پتہ نہیں کیا ہوا کہ یکایک نقاد بن گئے۔ تب سے نقاد ہیں اور کافی ہاؤس یا چائے خانوں میں رہتے ہیں۔ کبھی کبھار حجامت کے سلسلے میں اپنے گھر چلے جاتے ہیں۔
ادبی رسائل کے شروع شروع کے پچیس تیس صفحات آپ کی تنقیدوں کے لئے مخصوص ہو چکے ہیں۔ (جنہیں ایم۔ اے اردو کے طلبا کو مجبوراً پڑھنا پڑتا ہے)۔
1967ء میں کسی نے کہا کہ اردو ادب پر ان کی تنقیدوں کے صفحات تلوائے جائیں اور پھر سارے ادب کا وزن کیا جائے تو تنقیدیں کہیں بھاری نکلیں گی۔ آپ اسے شاباش سمجھ کر بہت خوش ہوئے اور رفتار دُگنی کر دی۔
یہ اردو نثر کی خوش قسمتی ہے کہ آپ اسے زیادہ نہیں چھیڑتے۔ آپ کا بیشتر وقت اردو شاعری کی خبر لینے میں گزرتا ہے۔
ان دنوں پی ایچ ڈی کے لئے مقالہ لکھ رہے ہیں جس کا لُبِ لباب یہ ہے کہ غالب کی شاعری پر رنگین کا اثر غالب ہے۔ رنگین نے بیشتر موضوع مصحفی سے اخذ کئے۔ مصحفی کی شاعری کا ماخذ میر کا تخیل ہے جنہوں نے بہت کچھ سراج دکنی سے لیا۔ سراج دکنی نے ولی دکنی سے اور ولی دکنی نے سب کچھ دکن سے چُرایا۔ (چونکہ مقالہ رسائل کے لئے نہیں، یونیورسٹی کے لئے ہے، اس لئے آپ نے شعرا کو اتنا بُرا بھلا نہیں کہا جتنا کہ اکثر کہا کرتے ہیں)۔
اگر چائے اور سگریٹوں میں غذائیت ہوتی تو آپ کبھی کے پہلوان بن چکے ہوتے مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ کی صحت کو دیکھ کر بڑی آسانی سے عبرت حاصل کی جا سکتی ہے۔
دراصل آپ کے رویے (اور تنقید) کا دارومدار سگریٹوں اور چائے کی پیالیوں کی تعداد پر ہے۔ روزانہ 50 سگریٹوں اور 25 پیالیوں تک تو آپ شاعری کے گناہ معاف کر سکتے ہیں، لیکن اس کے بعد آزاد شاعری تک کو نہیں بخشتے۔
1968ء میں آپ کو یونہی وہم سا ہو گیا تھا کہ آپ عوام میں مقبول نہیں ہیں۔۔۔ لیکن چھان بین کرنے کے بعد 69ء میں معلوم ہوا کہ وہم بے بنیاد تھا۔ فقط وہ جو انہیں اچھی طرح نہیں جانتے انہیں نظر انداز کرتے ہیں۔ لیکن جو جانتے ہیں وہ باقاعدہ ناپسند کرتے ہیں۔
اپنے آپ کو (پتہ نہیں کیوں) مظلوم اور ستایا ہوا سمجھتے ہیں اور اکثر زندگی کی محرومیوں کی داستان(کافی ہاؤس میں) سنایا کرتے ہیں۔۔۔ جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے :۔ پہلے ان کے خواب تمام ہوئے۔ پھر دانت تمام ہوئے۔ پھر دوست تمام ہوئے (کم از کم آپ کا یہی خیال تھا کہ وہ دوست تھے)۔ اکثر کہا کرتے ہیں کہ آپ کو بنی نوعِ انسان سے قطعاً نفرت نہیں۔۔ فقط انسان اچھے نہیں لگتے۔
کھیل کود کو انٹلکچوئل پنے کا دشمن سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ لمبے لمبے سانس لینے سے بھی نفرت ہے۔
1969ء میں وزن کرتے وقت مشین سے کارڈ نکلا جس پر وزن پونے انتالیس سیر کے علاوہ یہ لکھا تھا۔۔ '' ابھی کچھ امید باقی ہے۔ غیر صحت مند حرکتیں چھوڑ کر ورزش کیجئے۔ صحیح غذا اور اچھی صحبت کی عادت ڈالئے اور قدرت کو موقع دیجئے کہ آپ کی مدد کر سکے۔‘‘
آپ نے کارڈ پھاڑ کر پھینک دیا۔ حالانکہ اگر کسی مشین نے کبھی سچ بولا ہے تو اس وزن کی مشین نے 1969ء میں بولا تھا۔
صحیح رقم خوش نویس: پہلے کچھ اور کیا کرتے تھے۔ ایک دن جھنجھلا کر کاتب بن گئے۔
آپ کی لکھی ہوئی تحریر پر پروئے ہوئے موتیوں کا گماں گزرتا ہے۔
زبان کے پکے ہیں۔ جب وعدہ کرتے ہیں تو اسی سال کام مکمل کر کے رہتے ہیں۔
لکھتے وقت موقعے (اور اپنے موڈ کے مطابق) عبارت میں ترمیم کرتے جاتے ہیں۔ عالمِ دلسوزی کو عالمِ ڈلہوزی، بِچھڑا عاشق کو بَچھڑا عاشق، سہروردی کو سردردی، سماجی بہبودی کو سماجی بیہودگی، وادیٔ نیل کو وادیٔ بیل بنا دینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔
کسی غلام حسن کے نواسے نے اپنے آپ کو نبیرۂ غلام حسن لکھا جو آپ کو نامانوس سا معلوم ہوا۔ چنانچہ آپ نے کچھ دیر سوچ کر اسے بٹیرۂ غلام حسن تحریر فرمایا۔
ایک رومانی افسانے میں حور شمائل نازنین کو چور شمائل نازنین لکھ کر کہانی کو چار چاند لگا دیئے۔ اسی طرح قہقہے کو قمقمے، موٹے موٹے انجیروں کو موٹے موٹے انجینئروں، اپنا حصّہ کو اپنا حقّہ، پھُلواری کو پٹواری بنا دیتے ہیں۔
پروازِ تخیل کی انتہا ہے کہ جہاں شبلی عفی عنہ لکھنا چاہیے تھا وہاں لکھا۔ ستلی کئی عدد۔
اس وقت ملک میں آپ سے بہتر کاتب ملنا محال ہے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
16جون:خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن

16جون:خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن

سمندر پارکارکن،معیشت کے خاموش ہیروہر سال 16 جون کو دنیا بھر میں خاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن (International Day of Family Remittances) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان تارکینِ وطن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو اپنے وطن سے دور رہ کر نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں بلکہ اپنے ملکوں کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (IFAD) کے مطابق ترسیلاتِ زر دنیا بھر میں غربت کے خاتمے، تعلیم، صحت اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ملک عزیزپاکستان کے لیے بھی اس دن کی خاص اہمیت ہے کیونکہ سمندر پار پاکستانی کارکنوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار رکھتی ہیں۔قومی معیشت کا مضبوط سہارااس وقت ایک کروڑ سے زائد پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم ہیں۔ ان میں بڑی تعداد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، برطانیہ اور امریکہ میں کام کر رہی ہے۔ ان پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر لاکھوں خاندانوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کے استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔پاکستان کی معیشت کو گزشتہ چند برسوں سے بلند درآمدی بل، بیرونی قرضوں کی ادائیگی، تجارتی خسارے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ایسے میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر ملک کے لیے ایک مضبوط معاشی ڈھال ثابت ہوئی ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق ترسیلاتِ زر نہ صرف جاری کھاتوں کے خسارے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ روپے کے استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 ء کے پہلے گیارہ ماہ، یعنی جولائی 2025ء سے مئی 2026ء تک، بیرونِ ملک پاکستانی 38.1 ارب ڈالر وطن بھیج چکے ہیں۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ رواں مالی سال ترسیلاتِ زر ایک نیا تاریخی ریکارڈ قائم کر سکتی ہیں۔صرف مئی 2026ء میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے 4.3 ارب ڈالر وطن بھیجے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ہی مہینے کے دوران موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کی بلند ترین سطح ہے۔ اس سے قبل مارچ 2025 میں 41 کروڑ ڈالر کی ترسیلات ریکارڈ کی گئی تھیں، تاہم مئی 2026ء میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔گزشتہ مالی سال میں بیرونِ ملک پاکستانیوں نے مجموعی طور پر38.3 ارب ڈالر وطن بھیجے تھے جو اُس وقت تک ملکی تاریخ کی بلند ترین سالانہ ترسیلات تھیں۔ تاہم موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا رہی ہے کہ مالی سال 2025-26 ء کے اختتام تک یہ ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔ترسیلاتِ زر کے معاشی اور سماجی فوائدترسیلاتِ زر کے فوائد صرف زرمبادلہ کے ذخائر تک محدود نہیں، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم لاکھوں خاندانوں کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ان رقوم سے بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، رہائش، کاروبار اور دیگر ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں چھوٹے کاروباروں کے فروغ، گھروں کی تعمیر اور غربت میں کمی میں ترسیلاتِ زر کا بنیادی کردار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان ہنرمند افرادی قوت کی بیرونِ ملک برآمد میں اضافہ کرے اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے مزید سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے تو ملک کو سالانہ کئی ارب ڈالر اضافی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ نے بھی قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کی حوصلہ افزائی کی ہے۔سمندر پار پاکستانی قومی ہیروخاندانی ترسیلاتِ زر کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی صرف اپنے خاندانوں کے کفیل نہیں بلکہ ملکی معیشت کے بڑے معاون بھی ہیں۔ ان کی محنت، قربانی اور وطن سے محبت کی بدولت پاکستان کو ہر سال اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کو قومی سرمایہ سمجھتے ہوئے ان کے لیے بہتر سہولتیں، سرمایہ کاری کے مواقع اور مؤثر قونصلر خدمات فراہم کرے۔آج جب پاکستان معاشی استحکام کی جانب سفر کر رہا ہے تو اس میں سمندر پار پاکستانیوں کا کردار کسی بھی شعبے سے کم نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پاکستانی اپنے وطن سے دور رہ کر بھی پاکستان کی معیشت کے خاموش مگر مضبوط ہیرو ہیں۔

کائنات کے پراسرار ذرات کی نئی کہانی

کائنات کے پراسرار ذرات کی نئی کہانی

چین کے تجربے نے سائنس کو کیا بتایا؟کائنات بے شمار راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ انسان صدیوں سے ستاروں، کہکشاؤں اور مادے کی بنیادی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن بعض ایسے ذرات بھی ہیں جو آج تک سائنسدانوں کے لیے ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے پراسرار ذرات نیوٹرینو (Neutrinos) ہیں جنہیں اکثر گھوسٹ پارٹیکلز بھی کہا جاتا ہے۔ حال ہی میں چین میں قائم ایک دیوقامت زیرِ زمین تجربہ گاہ نے ان ذرات کے بارے میں اپنے پہلے اہم تحقیقاتی نتائج جاری کیے ہیں جنہیں فزکس کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔وہ ذرات جو ہمارے جسم سے گزر جاتے ہیںنیوٹرینو کائنات کے سب سے زیادہ پائے جانے والے ذرات میں شمار ہوتے ہیں۔یہ ذرات تقریباً 13.8 ارب سال پہلے ہونے والے عظیم دھماکے یعنی بگ بینگ کے فوراً بعد وجود میں آئے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہر لمحے کھربوں نیوٹرینو ہمارے جسموں سے گزر رہے ہوتے ہیں مگر ہمیں ان کا احساس تک نہیں ہوتا کیونکہ یہ مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتے ہیں۔ان ذرات کا وزن انتہائی کم ہے یہاں تک کہ کئی دہائیوں تک سائنسدان سمجھتے رہے کہ شاید ان کا کوئی وزن ہے ہی نہیں۔ تاہم بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان کا وزن ضرور ہے مگر یہ اتنا کم ہے کہ اسے ناپنا انتہائی مشکل ہے۔نیوٹرینو تین اقسام یا فلیورز میں پائے جاتے ہیں: الیکٹران نیوٹرینو، میون نیوٹرینو اور ٹاؤ نیوٹرینو۔ ان کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ سفر کے دوران یہ ایک قسم سے دوسری قسم میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں، جسے نیوٹرینو آسلیشن کہا جاتا ہے۔چین کا زیرِ زمین تجربہ کیا تھا؟چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر کائی پنگ میں قائم جیانگ مین انڈر گراؤنڈ نیوٹرینو آبزرویٹری (JUNO) دنیا کے جدید ترین سائنسی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یہ تجربہ گاہ زمین کی سطح سے تقریباً 700 میٹر نیچے تعمیر کی گئی ہے تاکہ کائناتی شعاعوں اور دیگر بیرونی اثرات سے اسے محفوظ رکھا جا سکے۔اس عظیم تجربہ گاہ کے مرکز میں 20 ہزار ٹن مائع پر مشتمل ایک دیوقامت کروی ڈٹیکٹر نصب ہے۔ یہ ڈیٹیکٹر قریبی جوہری بجلی گھروں سے خارج ہونے والے اینٹی نیوٹرینو کو ریکارڈ کرتا ہے۔ جب یہ اینٹی نیوٹرینو ڈیٹیکٹر کے اندر موجود ذرات سے ٹکراتے ہیں تو روشنی کی معمولی سی چمک پیدا ہوتی ہے جسے حساس آلات ریکارڈ کر لیتے ہیں۔یہ روشنی کی معمولی چمک سائنسدانوں کے لیے انتہائی قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے کیونکہ اسی کے ذریعے وہ نیوٹرینو کی خصوصیات اور رویوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔پہلی تحقیق سے کیا انکشاف ہوا؟جونو آبزرویٹری نے گزشتہ سال اگست میں اپنے مشاہداتی کام کا آغاز کیا تھا اور صرف دو ماہ کے ڈیٹا کے بعد اس کے ابتدائی نتائج سامنے آگئے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن اس نے نیوٹرینو کے رویوں کی اب تک کی سب سے درست پیمائشوں میں سے بعض فراہم کی ہیں۔سائنسدان کئی دہائیوں سے ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ تینوں نیوٹرینو اقسام میں سے سب سے زیادہ وزنی کون سی ہے اور سب سے ہلکی کون سی؟ موجودہ معلومات کے مطابق دو نیوٹرینو تقریباً ایک جیسا وزن رکھتے ہیں جبکہ تیسرا ان سے مختلف ہے، مگر ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا دو بھاری ہیں اور ایک ہلکا ہے یا معاملہ اس کے برعکس ہے۔JUNO کے ابتدائی نتائج نے اس سوال کا جواب تو نہیں دیا لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ تجربہ گاہ مستقبل میں اس معمہ کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔کائنات کے رازوں تک رسائی کی امیدنیوٹرینو کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا محض ایک سائنسی تجسس نہیں بلکہ یہ کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے کی کنجی بھی ہو سکتا ہے۔اگر نیوٹرینو کی درست کمیت اور ان کے رویوں کو سمجھ لیا جائے تو اس سے یہ سوال حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کائنات میں مادہ،اینٹی میٹر (Antimatter) کے مقابلے میں زیادہ کیوں موجود ہے۔اسی طرح یہ تحقیق کائنات کی ابتدائی ساخت، ستاروں کے ارتقا اور بنیادی طبیعیاتی قوانین کے بارے میں ہمارے موجودہ نظریات میں بھی بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔JUNO کے نتائج کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ آئندہ برسوں میں جاپان کا ہائپر کامی اوکانڈے اور امریکہ کا ڈیپ انڈر گراؤنڈ نیوٹرینو ایکسپیریمنٹ بھی اپنے تجربات شروع کریں گے۔ مختلف ممالک میں ہونے والی یہ تحقیقات ایک دوسرے کے نتائج کی تصدیق کریں گی اور ممکن ہے کہ آنے والے دس برسوں میں نیوٹرینو کے کئی بڑے راز بے نقاب ہو جائیں۔سائنس کی تاریخ گواہ ہے کہ بعض اوقات بظاہر معمولی ذرات پوری کائنات کے بارے میں ہمارے نظریات بدل دیتے ہیں۔ نیوٹرینو بھی شاید ایسا ہی ایک ذرہ ہے۔ چین کی یہ زیرِ زمین تجربہ گاہ اس بات کی امید دلا رہی ہے کہ انسان جلد ہی کائنات کے ان ذرات کی پراسرار دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو جائے گا اور ممکن ہے کہ انہی ذرات کی بدولت ہمیں کائنات کی تخلیق اور اس کے ارتقا کے کئی پوشیدہ رازوں تک رسائی حاصل ہو جائے۔

آج کا دن

آج کا دن

سپین کی برطانیہ کے خلاف جنگ 16 جون 1779ء کو سپین نے برطانیہ کے خلاف جنگ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی اور یوں اس جنگ کا آغاز ہوا جو1783ء تک جاری رہی۔ اس جنگ کا تعلق امریکی جنگِ آزادی کے وسیع تر عالمی تناظر سے بھی تھا، جہاں یورپی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف محاذوں پر سرگرم تھیں۔ سپین نے فرانس کے ساتھ اتحاد کیا تاکہ برطانیہ کی بحری اور نوآبادیاتی طاقت کو کمزور کیا جا سکے۔سپین کی شمولیت نے جنگ کا دائرہ مزید وسیع کر دیا اور برطانیہ کو ایک سے زیادہ محاذوں پر لڑنے پر مجبور کر دیا۔ ہسپانوی بحریہ نے بحرِ اوقیانوس اور بحیرہ روم میں برطانوی مفادات کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ سپین جبرالٹر واپس حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا تاہم اس نے فلوریڈا جیسے اہم علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ پہلی خاتون کا خلا میں سفر16 جون 1963ء کو سوویت یونین نے خلائی مشن وستوک 6 کامیابی سے خلا میں روانہ کیا۔ اس مشن کی پائلٹ ویلنٹینا ٹیرشکووا تھیں جو خلا میں جانے والی دنیا کی پہلی خاتون بنیں۔انہوں نے تقریباً تین دن خلا میں گزارے اور زمین کے گرد 48 چکر لگائے۔ اس دوران انہوں نے سائنسی تجربات کیے اور انسانی جسم پر خلائی ماحول کے اثرات کے بارے میں اہم ڈیٹا جمع کیا۔ یہ مشن سوویت یونین کے لیے ایک بڑی سائنسی اور سیاسی کامیابی تھا۔یہ واقعہ خواتین کے لیے سائنس اور خلائی تحقیق کے دروازے کھولنے کا ذریعہ بنا اور آج بھی عالمی خلائی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سوویٹو بغاوت 16 جون 1976ء کو جنوبی افریقہ کے علاقے سوویٹو میں ہزاروں سیاہ فام طلبہ نے نسل پرستانہ تعلیمی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ حکومت نے طلبہ کو افریقی زبان میں تعلیم دینے کا فیصلہ کیا تھا جسے انہوں نے اپنی ثقافتی شناخت پر حملہ قرار دیا۔پرامن احتجاج کے دوران پولیس نے فائرنگ کر دی جس سے متعدد طلبہ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس واقعے کی تصاویر پوری دنیا میں پھیل گئیں اور جنوبی افریقہ کی حکومت کو شدید عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔یہ احتجاج بعد میں نسل پرستی کے خلاف عالمی تحریک کی علامت بن گیا اور جنوبی افریقہ میں آزادی کی جدوجہد کو مزید تقویت ملی۔ بلومز ڈے 16 جون کو دنیا بھر میں Bloomsday منایا جاتا ہے۔ یہ دن آئرش ادیب جیمز جوائس کے مشہور ناول Ulysses کے مرکزی کردار لیوپولڈ بلوم کے ایک دن (16 جون 1904) کی یاد میں منایا جاتا ہے۔یہ ادبی دن پہلی بار 1954ء میں منایا گیا اور بعد میں دنیا کے مختلف ممالک تک پھیل گیا۔ اس دن ادبی تقریبات، ریڈنگ سیشنز اور جیمز جوائس کے ناول کے اقتباسات پڑھے جاتے ہیں۔یہ واقعہ ادب کی دنیا میں اپنی نوعیت کا منفرد تہوار سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ کسی افسانوی دن کو عالمی سطح پر یادگار بنانے کی مثال ہے۔ شین ذو 9 مشن 16 جون 2012 ء کو چین نے خلائی مشنShenzhou 9 لانچ کیا۔ اس مشن میں لیو یانگ شامل تھیں جو خلا میں جانے والی چین کی پہلی خاتون بنیں۔اس مشن کے دوران خلائی سٹیشن کے ماڈیول کے ساتھ ڈاکنگ اور مختلف سائنسی تجربات کیے گئے۔ یہ چین کے خلائی پروگرام کی بڑی کامیابی تھی اور اس نے ملک کی تکنیکی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔۔لیو یانگ کی کامیابی نے چین میں خواتین کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئے امکانات پیدا کیے۔

خلا کے عظیم گھر کا آخری سفر!

خلا کے عظیم گھر کا آخری سفر!

2030ء تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو محفوظ طریقے سے تباہ کرنے کا منصوبہدو دہائیوں سے زائد عرصے تک انسان کی خلائی تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کی علامت رہنے والا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اب اپنی عمر کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ دنوں میں خلائی اسٹیشن میں ہونے والی ایک نئی لیک کے بعد اس کی سلامتی اور مستقبل کے حوالے سے خدشات نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے۔ انہی خدشات کے درمیان امریکی خلائی ادارے ناسا نے 2030ء تک آئی ایس ایس کو باقاعدہ طور پر مدار سے نکال کر زمین کے ماحول میں تباہ کرنے کے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے، جس پر تقریباً ایک ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور غیر معمولی آپریشن ہو گا، جس کا مقصد خلائی اسٹیشن کے ملبے کو محفوظ انداز میں زمین کے ایک دور افتادہ سمندری علاقے میں گرانا ہے تاکہ انسانی آبادی اور ماحول کو کسی قسم کے خطرے سے بچایا جا سکے۔بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہلے خلابازوں کی آمد کو 25 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اور اب زمین کے گرد مدار میں گردش کرنے والی اس خلائی چوکی کیلئے وقت تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ناسا کے خلابازوں کو ہنگامی انخلا کی تیاری کا حکم دیا گیا، جبکہ روسی خلانورد نے لیک کو درست کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ بالآخر کسی ہنگامی فرار کی ضرورت پیش نہیں آئی، تاہم اس خطرناک صورتحال نے یہ خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ خلائی سٹیشن اب اپنی عمر کے آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔خلائی ماہرین نے اس ایک ارب ڈالر مالیت کے منصوبے کی تفصیلات بیان کی ہیں جس کے تحت خلائی اسٹیشن کو زمین پر واپس لا کر تباہ کیا جائے گا۔ فضائی و خلائی شعبے کی کانفرنس ''ایسنڈ 2026ء‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے ناسا کے آپریشنز ڈائریکٹر ریان لینڈن نے کہا کہ آئی ایس ایس کو 2028ء کے دوران بتدریج زمین کی جانب دھکیلا جائے گا۔4لاکھ 50ہزار کلوگرام وزن رکھنے والے اس خلائی اسٹیشن کو اگر وقتاً فوقتاً اوپر کی جانب دھکیلا نہ جائے تو یہ آہستہ آہستہ اپنے مدار سے نیچے آنے لگتا ہے۔ خلائی اسٹیشن کو قدرتی طور پر مدار سے خارج ہونے دینا ایک بے قابو واپسی کا سبب بن سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں اس کا ملبہ زمین کے مختلف حصوں میں بکھرنے سے جانی و مالی نقصان کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔اسی لیے ناسا منصوبہ بندی کے تحت خلائی اسٹیشن کو مدار سے باہر دھکیلے گا، تاکہ اس کا ملبہ بحرالکاہل کے دور افتادہ اور غیر آباد سمندری علاقے میں گرایا جا سکے۔بین الاقوامی خلائی اسٹیشن اور اس میں موجود سات خلاباز زمین سے تقریباً 250 میل (400 کلومیٹر) کی بلندی پر مدار میں گردش کر رہے ہیں۔اس نسبتاً کم بلندی والے مدار کو برقرار رکھنے کیلئے خلائی اسٹیشن کو انتہائی تیز رفتاری سے حرکت کرنا پڑتی ہے۔ یہ تقریباً 28ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہے اور روزانہ 16 مرتبہ زمین کا چکر لگاتا ہے۔ اس دوران اسے مدار میں رکھنے کیلئے کئی بار اوپر کی جانب دھکیلا جاتا ہے تاکہ وہ نیچے نہ گرنے لگے۔ تاہم ناسا کا منصوبہ ہے کہ 2028ء سے اس عمل کو قدرتی انداز میں جاری رہنے دیا جائے۔ اگر اس عمل کو بغیر مداخلت کے جاری رہنے دیا جائے تو بالآخر خلائی اسٹیشن زمین کی فضا میں داخل ہو جائے گا، جہاں رگڑ کے باعث پیدا ہونے والی شدید حرارت اس کے بیشتر حصوں کو جلا کر ختم کر دے گی۔لیکن آئی ایس ایس جیسے بڑے حجم کے حامل خلائی ڈھانچے کیلئے اس قسم کی بے قابو واپسی خطرناک سمجھی جاتی ہے۔برطانیہ میں قائم خلائی مشاورتی ادارے بیلسٹیڈ ریسرچ (Belstead Research) کے ڈائریکٹر اور خلائی ملبے کے ماہر ڈاکٹر جیمز بیک کے مطابق یہ یقینی ہے کہ اس کے کچھ حصے زمین کی سطح تک پہنچ جائیں گے، اور غالب امکان ہے کہ ایسے حصوں کی تعداد خاصی زیادہ ہو گی۔اب بھی سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ خلائی اسٹیشن کے کتنے حصے زمین تک پہنچیں گے اور آیا ان پر کنٹرول برقرار رکھا جا سکے گا یا نہیں۔ ڈاکٹر جیمز بیک کے مطابق خلائی جہازوں کی زمین پر واپسی کیلئے بین الاقوامی سطح پر حادثاتی جانی نقصان کے خطرے کی ایک حد مقرر ہے، جو دس ہزار میں ایک سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ عام طور پر یہ حد اس وقت اہم ہو جاتی ہے جب کسی خلائی جہاز یا مصنوعی سیارے کا وزن تقریباً 500 سے ایک ہزارکلوگرام کے درمیان ہو، جبکہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا وزن تقریباً 450 ٹن ہے۔ڈاکٹر بیک کا کہنا ہے کہ یہ توقع کی جانی چاہیے کہ اس عمل کے نتیجے میں چند سو ایسے ٹکڑے پیدا ہوں گے جو زمین پر گرنے کی صورت میں جانی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ چونکہ خلائی ادارے اس بات کو مکمل طور پر کنٹرول نہیں کر سکتے کہ کتنا ملبہ زمین تک پہنچے گا، اس لیے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ملبہ کس مقام پر گرے، اس پر مکمل اور درست کنٹرول رکھا جائے تاکہ کسی انسان کو نقصان نہ پہنچے۔اسی مقصد کیلئے خلائی اسٹیشن کو اس کے مدار میں ایک مخصوص مقام پر پیچھے کی جانب دھکا دیا جائے گا، جس سے اس کی رفتار کم ہو جائے گی اور وہ بتدریج زمین کی طرف اترتے ہوئے بحرالکاہل کے ایک غیر آباد اور دور افتادہ علاقے میں جا گرے گا۔آئی ایس ایس کو زمین پر واپس کیسے لایا جائے گا؟٭...2028ء سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کو بتدریج اپنے مدار سے نیچے آنے دیا جائے گا، جس کے نتیجے میں اس کی بلندی زمین سے 250 میل سے کم ہو کر تقریباً 200 میل رہ جائے گی۔٭...2029ء میں خلائی اسٹیشن پر موجود آخری انسانی عملہ اسے چھوڑ دے گا اور اپنے ساتھ وہ تمام اشیا لے جائے گا جو تاریخی اہمیت کی حامل ہوں اور جنہیں لے جانا ممکن ہو۔٭...اس کے بعد جب آئی ایس ایس کی بلندی 200 میل سے کم ہو کر 175 میل تک پہنچ جائے گی تو اسپیس ایکس کے ترمیم شدہ ڈریگن (Dragon) خلائی کیپسول کو اسٹیشن کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔٭...جب خلائی اسٹیشن 175 میل کی اس بلندی پر پہنچ جائے گا، جسے واپسی کے ''ناقابلِ واپسی مرحلے‘‘(Point Of No Return) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تو ڈریگن کیپسول آئی ایس ایس کو ایک بیضوی (Elliptical) مدار میں لے جانے کا عمل شروع کرے گا۔٭...مناسب وقت آنے پر یہ خلائی گاڑی خلائی اسٹیشن کو آخری طاقتور دھکا دے گی، جس کے نتیجے میں یہ نصف مدار سے بھی کم وقت میں زمین کی فضا کی جانب بڑھنے لگے گا۔٭...آخرکار آئی ایس ایس اور اسے نیچے لانے والی خلائی گاڑی تقریباً 17ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی فضا میں داخل ہوں گے، جہاں شدید حرارت اور رگڑ کے باعث دونوں بڑی حد تک تباہ ہو جائیں گے۔

مقبرہ جہانگیر۔۔ مغلیہ سلطنت کا خاموش امین

مقبرہ جہانگیر۔۔ مغلیہ سلطنت کا خاموش امین

لاہور کے نواح میں واقع مقبرہ جہانگیر مغلیہ دور کی عظمت، شان و شوکت اور فن تعمیر کا ایک بے مثال شاہکار ہے۔ صدیوں پر محیط تاریخ کا یہ خاموش امین آج بھی اپنے بلند و بالا میناروں، نفیس سنگِ مرمر کی نقش و نگاری اور دلکش باغات کے ذریعے ماضی کی داستانیں سناتا دکھائی دیتا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر کی آخری آرام گاہ کے طور پر تعمیر کیا گیا یہ مقبرہ نہ صرف ایک تاریخی یادگار ہے بلکہ برصغیر کی تہذیبی اور ثقافتی وراثت کا قیمتی سرمایہ بھی شمار ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے باوجود اس کی دلکشی اور تاریخی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی، یہی وجہ ہے کہ یہ مقام ملکی و غیر ملکی سیاحوں، محققین اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔مغل بادشاہ جہانگیر کا اصل نام سلیم تھا جو 1564ء میں شہنشاہ اکبر کے ہاں راجپوت رانی مریم الزمانی کے بطن سے پیدا ہوا۔ 1605ء میں تخت نشین ہوا اورتقریباً ساڑھے اکیس سال حکومت کر کے8 نومبر 1627ء کو کشمیر سے لاہور واپس آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہوا۔ اُسے دریائے راوی کے کنارے واقع ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا کے وسط میں دفن کیا گیا۔ اس باغ کو باغ دلاآمیز بھی کہا جاتاہے۔ جہانگیر کا مقبرہ اُس کے بیٹے شاہجہاں نے بنوایا تھا۔مقبرہ جہانگیر کو مغلیہ عہد میں تعمیر کئے گئے مقابر میں اہم مقام حاصل ہے۔ دریائے راوی کے دوسرے کنارے یعنی شاہدرہ کی طرف سے لاہور آئیں تو مغلیہ دور کی تعمیرات میں سے مقبرہ جہانگیر، مقبرہ آصف جاہ اور ملکہ نور جہاں کا مقبرہ نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کا شمار مغلوں کی تعمیر کردہ حسین یادگاروں میں ہوتا ہے۔مقبرہ جہانگیر باغ ''دلکشا‘‘ میں واقع ہے۔ باغ دلکشا نواب مہدی قاسم کی ملکیت تھا جو اکبر بادشاہ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا۔ اس نے یہ باغ 1556ء میں دریائے راوی کے پار بنوایا تھا۔ نواب مہدی خاں کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اب لوگ باغ دلکشا کا نام بھول چکے ہیں اور اس ساری جگہ کو مقبرہ جہانگیر ہی کہا جاتا ہے۔ مقبرہ جہانگیر کی تعمیر کا آغاز ملکہ نور جہاں نے کیا تھا اور شاہ جہاں نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ شہنشاہ اکبر کی وفات 1605ء میں ہوئی تو اس کا بیٹا جہانگیر ''نور الدین جہانگیر‘‘ کے لقب کے ساتھ تخت نشیں ہوا۔ اس نے کئی اصلاحات کیں۔ فریادیوں کی داد رسی کیلئے اپنے محل کی دیوار کے ساتھ ایک زنجیر لگوا دی جسے '' زنجیرِ عدل‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس کے ذریعے ہر کوئی اپنی شکایت باآسانی بادشاہ تک پہنچا سکتا تھا۔ شہنشاہ جہانگیر نے حکم دیا کہ شاہراہوں پر سرائے، کنویں اور مساجد تعمیر کی جائیں۔شہنشاہ جہانگیر کو بھی اپنے باپ اکبر کی طرح لاہور سے بہت زیادہ لگائو تھا۔ 1624ء میں جب کشمیر کے سفر کے دوران اس کی وفات ہوئی تو اس نے وفات سے قبل لاہور میں دفن کیے جانے کی خواہش ظاہر کی تھی چنانچہ اسے چہیتی بیگم ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا میں دفن کیا گیا۔ شاہ جہاں نے مقبرے کی تعمیر پر دس لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔ قرآن پاک پڑھنے کیلئے حفاظ مقرر کئے گئے جو باری باری ہر وقت مزار پر قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔ مقبرہ جہانگیر کی حدود میں ملکہ نور جہاں نے ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کروائی تھی۔ یہاں نور جہاں نے کافی عرصہ رہائش بھی اختیار کی اس لیے یہاں رہائشی عمارات بھی تعمیر کی گئی تھیں۔ ملکہ نور جہاں اور شہنشاہ جہانگیر کے مقبرے ایک ہی رقبے میں تھے لیکن جب انگریزوں نے ان کے درمیان ریلوے لائن بچھائی تو مقبرہ جہانگیر اور مقبرہ نور جہاں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔مقبرہ جہانگیر کے چاروں کونوں پر خوبصورت مینار موجود ہیں۔ ہر مینار سو فٹ بلند ہے اور اس کی اکسٹھ سیڑھیاں ہیں۔ مقبرہ کی عمارت ایک مربع نما چبوترے پر ہے۔ قبر کا تعویز سنگ مرمر کا ہے اور اس پر عقیق، نیلم، مرجان اور دیگر قیمتی پتھروں سے گلکاری کی گئی ہے۔ دائیں اور بائیں اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام کندہ ہیں۔ سرہانے کی طرف بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہے۔ مزار کے چاروں جانب سنگ مرمر کی جالیاں لگی ہوئی ہیں۔ مقبرے کا اندرونی فرش سنگ مرمر، سنگ موسیٰ اور سنگ ابری جیسے مختلف قیمتی پتھروں سے مزین ہے۔ مقبرہ جہانگیر کا غربی دروازہ جس میں سے ہاتھی بمعہ سوار کے گزر سکتا تھا اور چار دیواری کے باہر جو کنویں تھے دریا برد ہو چکے ہیں صرف ایک کنواں موجود ہے۔ باغ کے اندر آج بھی کھجور کے قدیم درخت موجود ہیں۔ باغ کی دیواروں کے ساتھ کمروں کی ایک لمبی قطار موجود ہے جہاں شاہی محافظ، سپاہی اور خدام رہا کرتے تھے۔نادر شاہ اور احمد شاہ کے حملوں اور سکھوں کے دور میں مقبرہ جہانگیر کو بہت نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود یہ عمارت آج بھی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے اور اپنی عہدِ رفتہ کی یاد دلاتی ہے۔

بیمار غوطہ خور نے تاریخ رقم کر دی

بیمار غوطہ خور نے تاریخ رقم کر دی

ایک سانس میں پانی کے اندر طویل ترین چہل قدمیاپنی جسمانی کمزوری اور بیماری کے باوجود ایک غوطہ خور نے انسانی حوصلے اور عزم کی نئی مثال قائم کر دی ہے۔ اس نے ایک ہی سانس میں پانی کے اندر طویل ترین پیدل چہل قدمی کا اپنا ہی سابقہ عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ یہ کارنامہ نہ صرف اس کی غیر معمولی صلاحیتوں کا ثبوت ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ مسلسل محنت اور مضبوط ارادے کے ذریعے ناممکن دکھائی دینے والے ہدف بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اس حیران کن کامیابی نے عالمی سطح پر کھیلوں کے شائقین اور ماہرین کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔پولینڈ سے تعلق رکھنے والے غوطہ خور سٹانسلاء اوبڈیزیلک (Stanislaw Odbiezalek) نے ایک ہی سانس میں پانی کے اندر طویل ترین چہل قدمی کا اپنا سابقہ ریکارڈ 110.70 میٹر (363.18 فٹ) سے بڑھا کر 120.10 میٹر (394 فٹ) کر دیا۔یہ کارنامہ اس وقت اور بھی زیادہ متاثر کن ہو جاتا ہے جب معلوم ہو کہ سٹانسلاء اس وقت برونکائٹس (bronchitis) جیسے مرض میں مبتلا ہیں۔انہوں نے مارچ میں اپنی تازہ کوشش کی تیاری کے دوران کہا تھا کہ میں خود کو 100 فیصد ٹھیک محسوس نہیں کر رہا لیکن اتنی زیادہ تیاری کے بعد میں اس موقع کو ضائع نہیں کر سکتا۔ میرا خیال ہے کہ جسم اس برونکیل انفیکشن پر قابو پانے کیلئے کافی مضبوط ہے، اور ہم بس جا کر یہ کر دیں گے۔ مجھے یہ کرنا ہے۔ سٹانسلاء نے بتایا کہ وہ تقریباً ڈیڑھ سال سے اس مقابلے کی تیاری کر رہے تھے اور اس دوران وہ سخت محنت کرتے رہے تاکہ اپنے پھیپھڑوں کی صلاحیت کو مزید بڑھا سکیں اور ایک سانس میں زیادہ طویل فاصلہ طے کر سکیں۔اس ریکارڈ کو حاصل کرنے کیلئے سٹانسلاء کو ایک سوئمنگ پول کی تہہ تک ڈوبنا پڑتا ہے اور ایک ہی سانس روک کر زیادہ سے زیادہ لمبائی تک چلنا ہوتا ہے۔ جس لمحے وہ سانس لینے کیلئے پانی کی سطح پر واپس آتا ہے اور سانس لیتا ہے، اسی وقت اس کی کوشش ختم ہو جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹریننگ ضرورت سے زیادہ سخت تھی اور یہ ایک اچھی بات ثابت ہوئی، کیونکہ معلوم ہوا کہ گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے سے ایک ہفتہ پہلے مجھے برونکائٹس ہو گیا تھا۔ اس لیے مجھے یہ کوشش اب اسی وقفے میں کرنی ہے جب مجھے کھانسی نہیں آ رہی۔ یہ مشکل ہوگا، لیکن میں کوشش کروں گا۔ میں خوش ہوں کیونکہ آج جو کچھ ہوا وہ واقعی ناقابلِ یقین ہے۔ غوطہ لگانے سے بہت پہلے میں توجہ مرکوز کیے ہوئے تھا اور اس بات کیلئے جدوجہد کر رہا تھا کہ کھانسی کچھ دیر کیلئے رک جائے اور گلے میں ہونے والی خراش کا احساس ختم ہو۔ جب ایسا مختصر وقفہ آیا اور سب کچھ تھوڑا بہتر ہوا تو میں نے کہا ''یہی لمحہ ہے‘‘۔ میں نے جا کر یہ کر دکھایا، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ میرے پاس تھوڑا سا اضافی مارجن موجود تھا۔ میں اس سے بھی آگے جا سکتا تھا، لیکن کون جانتا ہے، شاید ہم اگلے سال اس میں مزید بہتری لے آئیں۔اس نے وہی تکنیک استعمال کی جو اس نے پہلی بار ریکارڈ بنانے کیلئے اپنائی تھی، یعنی کولہوں سے جھک کر اپنے دھڑ کو افقی (horizontal) حالت میں رکھنا جب وہ چل رہا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ ایک دوسرے پر رکھ کر آگے کی طرف پھیلائے رکھے تاکہ پانی کی مزاحمت کم ہو سکے۔ اور وہ اپنے گھٹنوں کو موڑ کر پوری طاقت سے دھکا لگاتا تھا تاکہ آگے بڑھ سکے، اور ہر بار جب وہ پول کی دیوار تک پہنچتا تو اپنے ہاتھوں کی مدد سے خود کو موڑ لیتا تھا۔ پچھلی بار کی طرح اس بار بھی ایک اسکوبا غوطہ خور ہر وقت اس کے ساتھ پانی کے اندر موجود تھا تاکہ اس کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کی کوشش کی ویڈیو بھی ریکارڈ کر سکے۔