نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عیدکی چھٹیوں پرسخت احتیاط کی ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- این سی اوسی نےکوروناصورتحال میں بہترین کام کیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ساری دنیامیں ویکسین کی کمی ہوگئی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کوشش کررہےہیں ملک میں ویکسین تیارکریں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- لاک ڈاؤن سےہمارےجیسےاورسرکاری ملازمین پرکوئی فرق نہیں پڑےگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- لاک ڈاؤن سےصرف مزدورمتاثرہوتےہیں،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- ٹیم کے 11 کھلاڑی ہوتےہیں،سب سپراسٹارنہیں ہوتے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کچھ وزرابہت اچھاکام کررہےہیں،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- جووزرااچھاکام نہیں کریں گےانہیں تبدیل کردیاجائےگا،وزیراعظم

سگریٹ نوشی 4 لاکھ افراد لقمۃ اجل بنے

سگریٹ نوشی 4 لاکھ افراد لقمۃ اجل بنے

اسپیشل فیچر

تحریر : عمر گاکھڑی


سگریٹ نوشی مضر صحت ہے۔ سگریٹ نوشی پھیپھڑوں کے کینسر کا باعث بنتی ہے۔ یہ اور اس طرح کے کئی اور فقرے ہم روز دیکھتے، سنتے، بولتے اور پڑھتے ہیں لیکن ان کے اتنے عادی ہو چکے ہوتے ہیں کہ ان پہ کان نہیں دھر جاتا۔کبھی یہ فقرہ ہماری کسی حس کو چھو کے نہیں گزرا۔ کیوں! کیونکہ ہم ایسا سننا نہیں چاہتے، دیکھنا، پڑھنا اور بولنا نہیں چاہتے۔ ''پناہ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق 2020ء میں4 لاکھ افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے لقمئہ اجل بنے۔ یہ صرف ایک برس کے اعدادو شمار ہیں۔ حساب لگائیں جب سے سیگریٹ دریافت ہوئی تب سے لے کر آج تک کتنے افراد سیگریٹ نوشی کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے ۔ اگر شرح اموات کا یہی حال رہا تو اندازہ لگا لیجئے کہ مستقبل میں تمباکو نوشی کتنی نقصان دہ ثابت ہونے والی ہے۔
ذراٹھہرئیے، حال ہی میں امریکا میں ایک ریسرچ سامنے آئی ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ 2050ء تک امریکہ سے تمباکو نوشی کا خاتمہ ہو چکا ہوگا۔ یہ بات حیران کن بھی ہے اور خوش آئند بھی ۔بلوم برگ میں شائع کردہ ایڈم سپیل مین کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر تمباکو نوشی میں کمی کا رجحان برقرار رہتا ہے تو 2050 تک امریکہ، یورپ، آسٹریلیا اور لاطینی امریکہ میں سگریٹ کا استعمال صفر ہو جائے گا۔بلوم برگ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق گزشترہ دو دہائیوں میں تمباکو کی مصنوعات بنانے کی پانچ بڑی کمپنیوں ( BIG TOBACCO ) کے مطابق نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے رجحان میں غیر یقینی 75 فیصد کمی ہوئی ہے۔ سی ڈی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق 2005 میں مردوں میں سگریٹ نوشی کی شرح 20 فیصد تھی جو کم ہو کر 14 فیصد رہ گئی ہے ، ہر گزرتے سال کے ساتھ ساتھ اس میں متواتر کمی ہو رہی ہے ۔ ''اسی ڈی سی‘‘ کے مطابق تمباکو نوشی سے پھیپھڑوں کے کینسر میں اضافہ ہوا ہے اور یہ خطرہ نمبر ون ہے۔ 9 مارچ کو امریکی احتیاطی خدمات ٹاسک فورس نے کہا کہ تمباکو نوشی کرنے والوں کو 50 سال کی عمر میں پھیپھڑوں کے کینسر کی جانچ پڑتال شروع کر دینی چاہئے جو موجودہ سفارشات کی توسیع ہے۔ 2019 میں سی ڈی سی نے اطلاع دی کہ 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 100 امریکی بالغوں میں سے 14 افراد سگریٹ پیتے ہیں جن کی تعداد 34.1 ملین ہے۔ پاکستان میں سگریٹ نوشوں کی تعداد 1.4 کرور کے لگ بھگ ہے ،جو 143208 ملین سگریٹ سالانہ پی جاتی ہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے بعد یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ تمباکو کی صنعت میں یہ تبدیلیاں سگریٹ بنانے والی فیکٹریوں کے لئے سگریٹ کے متبادل میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کریں گی اگر کوئی فیکٹری اس کے متبادل کوئی پراڈکٹ لاتی ہے تو اس میں سرمایہ کاری کے نتائج نتیجہ خیز ہونگے جس سے یقینا ایک نئے شعبے کا قیام اور فروغ عمل میں لایا جا سکتا ہے کیونکہ موجودہ دور میں سگریٹ نوشی ایک رواج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ سپیل مین نے اس جذبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ دور میں سگریٹ نوشی کی طرف رجحانات کسی چیز کی تجویز نہیں کرسکتے اس لئے سگریٹ کے متبادلات کی طرف دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ کچھ کمپنیوں نے اپنے چند شعبوں میں سگریٹ نوشی کے متبادلات کو شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ تمباکو کی مصنوعات میں ایک مایہ ناز نام رکھنے والی کمپنی فلپ مورس انٹرنیشنل کارپوریٹڈ، جو مارلبورو اور چیسٹر فیلڈ سگریٹ تیار کرتی ہے نے حالیہ کچھ برس میں اپنا ایک IQOS گرم تمباکو آلہ متعارف کروایا ہے اور وہ اس کی فروخت بڑے پیمانے پہ کر رہی ہے۔ کمپنی کا 25 فیصد محصول غیر منقولہ مصنوعات سے حاصل ہو رہا ہے ۔ اس بات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں سگریٹ کے متبادلات میں سرمایہ کاری کس حد تک منافع بخش ثابت ہوسکتی ہے۔ سپیل مین کے مطابق اگلی نسل کی مصنوعات یعنی سگریٹ کے متبادلات نے کئی مارکیٹیوں میں نیکوٹین کے استعمال میں کمی کر دی ہے اور نیکوٹین کی مصنوعات کی فروخت کو سست روی کا شکار کر دیا ہے۔
تاہم کچھ ممالک ان متبادل مصنوعات کے فروغ کی طرف اپنا رخ نہیں کر رہے۔یہ بات پریشان کن ہے کہ چین، روس، پاکستان اور بھارت اس طرف توجہ مرکوز نہیں کر رہے، شاید 2050 ء تک ان ممالک میں سگریٹ نوشی کا خاتمہ ممکن نہ ہو سکے ،یہاں شائد سگریٹ نوشی میں معمولی سی کمی ہو۔ تمباکو نوشی میں کمی لانے کے لئے ہمیں بھی امریکہ جیسی پالیسی اپنانا چاہئے ۔ ہم بھی سگریٹ کی متبادل مصنوعات بناکر اپنے لوگوں کو تمباکو کے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں ،تب ہی پاکستان 2050 ء تک سگریٹ نوشی کے خاتمے کے لئے امریکہ اور دوسرے ممالک کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہو سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
 جنگجو ملکہ زنوبیا مصر ، شام، اناطولیہ ،فلسطین اور لبنان کی فاتح

جنگجو ملکہ زنوبیا مصر ، شام، اناطولیہ ،فلسطین اور لبنان کی فاتح

''پیلمائرا‘‘ کی جنگجو ملکہ زنوبیا انتہائی حسین و جمیل حکمران تھی۔جس نے اپنی قائدانہ اور سپہ سالارانہ صلاحیتوں کی بنا ء پر 268ء سے 272 ء کے درمیان میں مصر ، شام، اناطولیہ ،فلسطین اور لبنان کو اپنی سلطنت کا حصہ بنا لیا تھا۔وہ شام سے مصر پر حملہ آور ہوئی اور اس پر قابض ہونے میں کامیاب رہی۔ ان فتوحات کے ذریعے وہ بالآخر اپنا ایک دیرینہ خواب پورا کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔وہ ان علاقوں کو فتح تو کرنا چاہتی تھی لیکن اتنی جلدی تسلط قائم ہو جائے گا اس کا شاید اس نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا ۔ اپنی موت کے بعد وہ اپنے بیٹے کو تخت نشین کرنے کی آرزو مند تھی لیکن یہ خواب پورا نہ ہو سکا۔زنوبیااور قلو پطرہ میں کئی باتیں مشترک تھیں ،حیرت انگیز اتفاق یہ تھا کہ دونوں کا انجام ایک جیسا تھا۔ بلندیوں کو چھو کر دونوں کو زندگی کے آخری ایام پس زنداں گزارنے پڑے۔اب ہم کچھ باتیں پیلمائرا کے بارے میں بتاتے ہیں۔پیلمائرا کہاں واقع ہے:دوسری صدی عیسوی میں رومن سلطنت کو بہت وسعت ملی ۔ وہ یورپ ، مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ کے بڑے حصوں پر مشتمل تھی ۔ اس وسیع و عریض سلطنت کے اہم شہروں میں سے '' تدمر‘‘ جسے بعد میں پیلمائرا کے نام سے شہرت ملی ، بھی شامل تھا۔یہ عسکری نقطہَ نظر سے انتہائی اہم شہر تھا۔مغرب میں بحیرہَ روم اور مشرق میں دریائے فرات تھا ۔ یہ رومن سلطنت کے سب سے بڑے حریف اور ہمسایہ سلطنت فارس (اس وقت ''ساسانی سلطنت ‘‘ کہلاتی تھی)کے درمیان ایک دیوار کی مانند واقع تھا۔ملکہ زنوبیا کون تھی؟: تاریخ کی کتابوں میں دوسری صدی میں ایک بادشاہ ''اودیناتو ‘‘ کا ذکر ملتا ہے۔ جسے سلطنت فارس کے خلاف کئی کامیاب مہمات کے بعد 260ء میں خدمات کے اعتراف کے طور پر رومن سلطنت کی بادشاہت دی گئی تھی۔ ہیران بادشاہ اودیناتو کی پہلی بیوی سے بیٹا اور جانشین تھا۔جبکہ دوسری بیوی ، زنوبیاکے بطن سے بھی ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام وابالاتو تھا ۔ شادی کے وقت زنوبیا کی عمر پچیس سال تھی۔اس کے والد رومن سلطنت میں گورنر تھے۔کہتے ہیں زنوبیا ایک مہذب اور تعلیم یافتہ لڑکی تھی جسے متعدد زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ تاریخ دان یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کی تعلیم و تربیت شاہی خاندان کے افراد کی طرح کی گئی۔یہ اعلیٰ اخلاق کے باعث بہت جلد دوسروں کو اپنا گرویدہ بنانے میں بھی ثانی نہیں رکھتی تھی۔267ء میں حمص شہر میں اودیناتو اور اس کے بڑے بیٹے ہیران کو سازش کے تحت بھتیجے نے قتل کر دیا۔ چنانچہ اودیناتو کی وفات کے بعد اس کی دوسری بیوی زنوبیا کے چھوٹے بیٹے وابا لاتو کو تخت پر بٹھا دیا گیا ۔وابالاتو کی کم عمری اور نابالغ پن کے سبب اودیناتو کی بیوہ زنوبیا نے سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالی اور اپنے نابالغ بیٹے کے نام پر کامیابی سے حکومت کی۔زنوبیا نے اپنے ملک کو شاندار سلطنت بنا دیا ۔ اس نے اپنی حکمرانی میں پیلمائرا میں جس کمال مہارت سے ترقیاتی کام کرائے ، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے گئے ہیں۔ ایک عرصہ تک پیلمائرا اپنی خوبصورت عمارتوں ، مجسموں اور باغیچوں کی وجہ سے مشہور رہا ہے ۔وہ نڈر ،ذہین اور بے باک تو تھی ہی ،چنانچہ اس نے نہ صرف پیلمائرا سلطنت کی خود مختاری کا تحفظ کیا بلکہ رومن سلطنت کو بھی چیلنج کیا۔ان دنوں پیلمائرا کی طاقت اور اہمیت اتنی بڑھ چکی تھی کہ جب 268ء میں رومن سلطنت کو زبردست بحران کا سامنا ہوا تو زنوبیا نے خود اپنی الگ سلطنت قائم کر لی تھی۔چونکہ اس میں ایک بہترین فوجی کے تمام تر اوصاف موجود تھے اس لئے وہ ان علاقوں کو بھی فتح کرنے میں کامیاب ہوئی جو رومن سلطنت کا حصہ تھے۔270ء میں زنوبیا نے مصر کی ملکہ کے طور پر اپنی تصویر کے ساتھ مصر کے سکے جاری کئے ۔اس نے اپنے شوہر اودیناتو کے منصوبوں کو جاری رکھا ۔زنوبیا نے شدید بحران سے دوچار رومن بادشاہ کلا ڈئیس دوئم گوتھک کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا ۔اسے ابھی تخت پربیٹھے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا اور اسے ہر لمحہ گوتھس ، غول اور جرمن ایلمانی قبیلے سے سلطنت کے تینوں اطراف سے حملوں کا خطرہ رہتاتھا۔زنوبیا نے اس کا بھی فائدہ اٹھایا۔اور ان کی سلطنت میں مداخلت کرتی رہی ۔ تاہم 270 ء میں روم کی بادشاہت کلاڈئیس سے اوریلیانو کو منتقل ہو گئی۔کلا ڈئیس ،اوریلیانو سے یکسر مختلف تھا۔اس نے زنوبیا کے منصوبوں کو بھانپ لیا تھا ، اور سب سے پہلے گوتھک، غول اور ایلمانی قبیلوں کے خلاف کامیابی حاصل کی۔ پھر مصر پر قبضہ کرنے کے بعد مشرق میں دوبارہ رومی سلطنت کا پرچم لہرانے کا ارادہ کر لیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اوریلیانو کی کمان میں رومی فوجیں یکے بعد دیگرے وہ تمام علاقے آزاد کراتی گئیں جن پر زنوبیا کی فوجیں قبضہ کر چکی تھیں۔تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال میں زنوبیا کو اپنی فوجیں واپس بلانا پڑیں اور اسے اپنے آپ کو پیلمائرا تک محدود کرنا پڑا۔اوریلیانو نے پیش قدمی جاری رکھی اور زنوبیاکا پیچھا کرتا ہوا پیلمائرا تک آن پہنچا ۔اس کی فوجوں نے پیلمائرا کوچاروں طرف سے گھیر لیا۔اسی دوران 272 ء میں زنوبیا اور اس کے بیٹا وابالاتونے سلطنت فارس کی جانب فرار ہونے کی کوشش کی لیکن رومی فوج نے دونوں کو گرفتار کر کے روم پہنچا دیا۔روم میں اوریلیانو نے فتح کا جشن منایا اور زنوبیا اور اس کے قیدی بیٹے کو روم کی سڑکوں پر گھما کر دونوں کی بے عزتی کی۔ان کی زندگی کے بارے میں بہت سی باتیں مستند نہیں ہیں، کچھ روایات کے مطابق انہیں زنداں میں رکھا گیا ،سب سے مقبول روایت کے مطابق زنوبیا اور اس کے بیٹے وابالاتو کو کچھ عرصہ بعد معاف کر کے زنداں سے نکال کر روم کے شمال مشرقی شہر تبور میں جلاوطن کر دیا گیا۔

شوال کا چاند اور خوبصورت ’’بلڈ مون‘‘

شوال کا چاند اور خوبصورت ’’بلڈ مون‘‘

غیر ملکی جریدے ''فوربس ‘‘ میگزین نے چاند کے بارے میں ایک دلچسپ تحریر شائع کی ہے، جریدے نے بتایا ہے کہ '' 1.80ارب مسلمان شوال کی پہلی تاریخ کو عید کی خوشیاں منائیں گے۔ چاند سعودی عرب سے افریقہ تک مختلف دنوں ایام نظرآئے گا۔ زیادہ تر ممالک میں 12مئی اور 13 مئی کو نظرآسکتا ہے لہٰذا عید الفطر 13 یا 14 مئی کو ہو سکتی ہے۔ 12مئی کو مکہ میں چاندنظر آنے کے قوی امکانات ہیں کیونکہ اس وقت اس کی عمر اتنی ہو گئی ہو گی کہ نظر آجائے،لیکن سعودی عرب کے کسی اور شہر میں نظرآنے کے امکانات کم ہیں۔اس وقت یہ 0.6فیصد روشن ہو گا۔11مئی کو برج ثور میں 'نیو ن مون‘ زمین اور سورج کے درمیان میں ہو رہا ہے اس لئے چاند کے نظر آنے کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔کم از کم پندرہ گھنٹے بعد چاند سورج کے مشرق کی جانب گردش کرے گا، اس وقت قدرے دھندلا ہو گا مگر نظر آ جائے گا۔ اس وقت یہ مکہ مقدسہ کے عین اوپر ہو گا۔ اگلے روز 13مئی کو چاند 1.7دن کا ہو جائے گا اور 2.9 فیصد حصہ روشن ہو گا۔تب کئی ممالک میں آنکھوں سے بھی دیکھا جا سکے گا۔'سپر فلاور بلڈ مون‘26مئی کو ہو گا اور یہ آسٹریلیا، امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیاء کے کئی حصوں میں دیکھا جا سکے گا۔تیسرا سپر مون بلڈ مون بھی کہلاتا ہے۔ اس دوران کئی حصوں میں 15 منٹ کے لئے سرخی مائل روشنی پھیل جائے گی۔جبکہ 10جون کو 'رنگ آف فائر‘ نامی سورج گرہن 3منٹ 33سیکنڈ برقرار رہے گا‘‘۔شوال کا چاند نظر آنے کے کچھ دنوں کے بعد دنیا میں دلچسپی سے دیکھا جانے والا ' بلڈ مون‘ ہو گا جبکہ 10جون کو سورج گرہن بھی لگنے والا ہے، جسے ''رنگ آف فائر ‘‘کہتے ہیں، یہ کینیڈا، امریکہ ، گریس لینڈ اور روس کے بعض حصوں میں بہتر طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔''رنگ آف فائر ‘‘ کہلانے والا سورج گرہن دیکھنے کے لئے شوقین حضرات مختلف ممالک کا سفر کرتے ہیں جس خطے میں بھی زیادہ دیر کے لئے نظرآئے ،وہیں ڈیرے ڈال لیتے ہیں‘‘۔ ان دنوں عالمی ٹریفک پر کئی پابندیاں ہیں ، لہٰذا نقل و حمل آسان نہیں ہو گی ۔مضمون نگار جمی کارٹر کے مطابق ''چاند دیکھنے کا عمل میرے دل میں بھی جنون پیدا کرتا ہے،اس کا بھی مزہ ہے۔چاند دیکھ کر دنیا بھر کے مسلمان رمضان کے روزے ختم کریں گے ۔باریک اور کم عمر ترین چاند کو دیکھتے کے لئے میں آپ کو ایک مشورہ دیتا ہوں ۔ سب سے پہلے سیارہ زہرہ کو تلاش کیجئے، یہ آسمان کا چمکتا ترین ستارہ ہے۔اس کے قریب ہی آپ کو چاند بھی ملے گا،باریک لکیر کی صورت میں ۔ بلڈ مون :جب بلیو مون کے دن مکمل چاند گرہن بھی ہوجائے تو اس وقت چاند گہرے مٹیالے رنگ کا نظرآتا ہے۔اسے بلڈ مون (Blood Moon) یا سپر بلڈ مون کہتے ہیں۔ سپر مون اس پورے چاند کو کہتے ہیں جو زمین کے قریب تر ہو ۔ چاند کا مدار بیضوی شکل میں ہوتا ہے لہٰذا اس کے بیضوی کونوں پر چاند کا زمین سے فاصلہ 50 ہزار کلومیٹر تک کم ہو جاتا ہے۔زمین کے قریب تر ہونے کی وجہ سے 14فیصد بڑا اور 30 فیصد زیادہ روشن نظرآتا ہے۔''سپر مون‘‘ کا نام پہلی مرتبہ 1979ء میں ماہر فلکیات رچرڈ نولے (Richard Nolle) نے استعمال کیا تھا۔کئی امریکی شہری نیلا چاند دیکھنے کا دعویٰ بھی کر چکے ہیں۔ ایک مہینے میں دو مرتبہ نظرآنے والے پورے چاند کو بلیو مون کہتے ہیں۔ ہر دو سے تین سال کے اندر ایسا ہوتا ہے۔گزشتہ بلیو مون 31 مارچ 2018 ء کو نظرآیا تھا۔اگلا بلیو مون 22 اگست 2021ء کو ہوگا۔اس کی ایک اور بھی توجیح ہے، کسی بھی موسم میں چار سے زیادہ پورے چاند نہیں ہوتے ، کسی ایک سیزن میں چار میں سے تیسرے پورے چاند کو بھی بلیو مون کہتے ہیں۔''مین فارمرز المانک ‘‘ (Maine Farmer's Almanac) کے مطابق اس قسم کے چاند کا سب سے پرانا نام بلیو مون ہی ہے۔ امریکہ میں کیلنڈر سال کے آخری تین مہینوں میں تین فل مون ہو سکتے ہیں۔لیکن زمانہ جدیدمیں کسی بھی ایک مہینے میں ہونے والے دو فل مون میں سے دوسرے فل مون کو بلیو مون کہا جاتا ہے۔ دستیاب تاریخ کے مطابق پہلا بلیو مون 21 اگست 1937ء کو ہوا تھا۔ 1937ء میں صرف 13فل مون ہوئے تھے۔''ریڈ مون‘‘ کا رنگ؟چندا ماما کو '' سرخ مون ‘‘ یا ریڈ مون بھی کہتے ہیں ۔ چاند اور زمین کے درمیان میں گرد آلود فضاء کے باعث ایسا ہو سکتا ہے، گرد کی وجہ سے کبھی کبھی چاند ''خوں رنگ ‘‘ دکھائی دیتا ہے ،لیکن آپ تو جانتے ہیں کہ چندا ماماکا خون کے رنگوں سے کیا تعلق۔شکاری کا چاند:اب ایک اور بات سن لیجئے۔ امریکہ اور کئی یورپی ممالک میں اکتوبر کے فل مون کو ''ہنٹرز مون‘‘ یعنی ''شکاری کا چاند‘‘ (Hunter's Moon)بھی کہا جاتا ہے ۔اس کا تعلق شکاراور کاشتکاری سے ہے ، ان ممالک میں اس موسم میں شکاریوں کی اور کاشت کاروں کی سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں اس لئے اسے شکاری کا چاند کہا جاتا ہے۔کاشت کاری کی نسبت سے اسے ''ہار ویسٹ مون ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔غیر ملکی ویب سائٹ ''ایسٹرومنی .کام‘‘ کے مطابق امریکہ میں اس ''ہارویسٹ مون ‘‘ کو فل مون کو کہا جاتا ہے جو موسم خزاں کے قریب ترہوا ہو ۔ امریکہ میں یہ ستمبر سے دسمبر تک ہوسکتا ہے۔بلیو مون کی ایک ہی تاریخ :ہر 19برس کے بعدبلیو مون ایک ہی تاریخ میں آتے ہیں۔ 2039ء کا بلیو مون بھی رواں سال کی طرح 31 اکتوبرکو ہی ہو گا۔مستقبل میں آنے والے بلیو مون کے چارٹ پر ایک نظر ڈال لیجئے ۔2023:1اگست اور31 اگست2026ء :2اور31 مئی2028ء :3اور31دسمبر2031ء :4اور30ستمبر2034ء :5اور31جولائی2037ء : 6اور31جنوری2037ء:7اور31 مارچ2039ء:8اور31اکتوبر

4 ہزار سال پرانی ’’ تختی ‘‘

4 ہزار سال پرانی ’’ تختی ‘‘

انسان نے کب لکھنا سیکھا ،سب سے پہلے کیا لکھا؟ اس بارے میں کچھ بھی وثوق سے کہنا مشکل ہے ۔ کہا جاتا تھا کہ میسو پوٹیمیا کے جنوب میں ناپید ہونے والی قدیم ترین ''سمرائی تہذیب‘‘ (Sumer Civilization)نے 3200قبل مسیح میں ''لکھنا‘‘ سیکھ لیا تھا۔ماہرین کا یہ بھی مانناتھا کہ اصل لکھائی اسی تہذیب کے لوگوں کی ایجاد ہے۔''مونوجینسس‘‘ (monogenesis) تھیوری سے بھی یہی ثابت ہوتا تھاکہ یہیں سے''لکھائی‘‘ دوسری تہذیبوں میں منتقل ہوئی۔پھر بعد میں مشرق وسطیٰ سے کوسوں دور ''میسو امریکن‘‘ لکھائی کی دریافت کے بعد نظریہ بدل گیا۔اب ماہرین نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ہر تہذیب میں زبان و تحریر کا عمل الگ الگ پروان چڑھا۔ہر تہذیب میں علامات یعنی ''رسم الخط‘‘ منفرد اور اس خطے کی مجموعی سوچ کا عکاس تھا ۔ تاہم ،ہم جسے رسم الخط کہتے ہیں ،جن میں با معنی الفاظ ہوں اور دوسرے لوگ بھی سمجھ سکیں ، یہ بہت بعد کے دور کی بات ہے ۔انسان کئی ''تحریروں‘‘کے معنی اب تک سمجھ سکا۔اب کہا جا رہا ہے کہ '' رسم الخط ‘‘ چار تہذیبوں میں ایک تدریجی عمل کے ذریعے پروان چڑھے۔ میسوپوٹیمیا میں 3400 تا3100قبل مسیح، مصر میں 3250قبل مسیح کے لگ بھگ ،چین میں1200قبل مسیح کے لگ بھگ اور جنوبی میکسیکو اور گوئٹے مالا میں 500قبل مسیح میں الگ الگ رسم الخط پروان چڑھے۔جہاں تک میسو پوٹیمیا اور مصر سے ملنے والے تاریخی آثار کا تعلق ہے ، تو دونوں میں کئی بنیادی فرق پایا جاتا ہے ۔ اسی طرح چین سے ملنے والے نمونے الگ پہچان رکھتے ہیں۔یہ مشرق قریب یا دوسرے ممالک سے ملنے والے نمونوں سے کوئی مماثلت نہیں رکھتے ۔تاہم وادی سندھ کی تہذیب اور'' مشرقی جزیرہ‘‘ میں ملنے والے '' رنگو رنگو رسم الخط ‘‘ (Rongorongo script ) 5500ہزار برس قبل مسیح کے بھی ہیں۔دنیاانہیں سمجھنے سے قاصر ہے۔400قبل مسیح کے انسانوں نے ''سیکسا جیسیمل سسٹم ‘‘ (60، 600، 3600) وغیرہ کو سمجھنا سیکھ لیا تھا۔ اس ضمن میں سمرائی تہذیب کی ''کش تختی ‘‘(Kish tablet) بھی اہمیت کی حامل ہے۔اس میں ''رسم الخط‘‘ کی تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں یعنی الفاظ کے معنی سمجھے جا سکتے تھے۔اس تہذیب کے باشندے لائیو سٹاک اور زرعی مصنوعات کا ریکارڈ رکھنے کے لئے مٹی کے پتھر استعمال کیا کرتے تھے۔بعد ازاں اس کی جگہ ہموار تختی نے لے لی۔3500قبل مسیح کی ایک نادر تختی ''ایشمولیان ‘‘ (Ashmolean) نامی عجائب گھر میں محفوظ ہے۔حال ہی میں چار ہزار 65برس پرانی ایک تختی ملی ہے۔اس کا زمانہ 2044قبل مسیح کا ہے، ہاتھ کی ہتھیلی کے برابر اس تختی میں ریکارڈ بھی رکھا جاتا تھا اور''امتحانات‘‘ بھی لئے جاتے تھے۔یہ شائد بڑی تعداد میں بنائی جاتی تھیں۔اور انہیں ایک دن یا چند گھنٹوں کے بعد ضائع کر دیا جاتا تھا۔ ایک تختی ایسی بھی ملی ہے جس پر گہرے سرخی مائل رنگ کے چند نشانات لگائے گئے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تختی غالباََکسی طالب علم کی ہے جس پر ''استاد‘‘ نے چیک کرنے کے بعداغلاط کو دوسرے رنگ میں ظاہر کیاتھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے کے لوگ نئی نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں کتنی دلچسپی رکھتے تھے۔ قدیم عراق میں ''انتظامی افسروں ‘‘ کی تختیاں بھی ملی ہیں جن پر کچھ حسابات درج ہیں یا مہریں (دیوتائوں کی اشکال )بنی ہوئی ہیں۔

احمد راہی کی اردو شاعری

احمد راہی کی اردو شاعری

احمد راہی کا شمار ان شعرا ء میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شاعری کی ان کی پنجابی شاعری کے حوالے سے تو بات کی جاتی ہے لیکن اردو شاعری کو نظرانداز کر دیا جاتاہے، یہ بہت افسوسناک رویہ ہے۔ احمد راہی نے پنجابی میں بہت خوبصورت نظمیں لکھیں اور ان کا مجموعہ ''ترنجن‘‘ ابھی تک مقبولیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پنجابی فلمی گیتوں کا بھی کوئی جواب نہیں۔ حزیں قادری کے بعد جس پنجابی گیت نگار کے نغمات سب سے زیادہ مقبول ہوئے اس کا نام احمد راہی ہے۔ ویسے تو وارث لدھیانوی نے بھی پنجابی نغمہ نگاری میں بڑا نام کمایا لیکن حزیں قادری اور احمد راہی نے جو مقام و مرتبہ حاصل کیا وہ کسی اور کا نہیں۔اس خاکسار کی احمد راہی مرحوم سے دو ملاقاتیں ہوئیں۔ ان دنوں وہ ریواز گارڈن لاہور میں رہائش پذیر تھے۔ وہ اس بات پر بہت رنجیدہ تھے کہ ان کی اردو غزلوں اور فلمی گیتوں کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے جل کر کہا ''جو آتا ہے وہ مجھے ''ترنجن‘‘ کی نظمیں اور ''ہیر رانجھا‘‘ کے نغمات سنانے لگتا ہے۔کیا میں نے عمر بھر یہی دو کام کیے ہیں۔ میں نے فلموں کے سکرپٹ بھی لکھے ''ہیر رانجھا‘‘ کے علاوہ اور بھی کئی پنجابی فلمیں ہیں جن میں میرے گیت شامل ہیں اور ان گیتوں کو بھی بڑی شہرت ملی۔ کیا ''مرزا جٹ‘‘ کے گیتوں کو کوئی بھول سکتاہے۔ اسی طرح جو میں نے اردو فلموں کیلئے نغمات لکھے ہیں ان کے معیاری ہونے میں کیا کسی کو شک ہے؟ میں نے فلم ''باجی‘‘ کی جو گیت لکھے وہ لافانی ہیں۔ ایسے گیت کوئی لکھ کر دکھائے اور پھر میری غزلوں پر کوئی لب کشائی کیوں نہیں کرتا‘‘۔راہی صاحب کی باتیں مبنی برحقیقت تھیں ایک تو وہ ویسے ہی سخت گیر آدمی تھے اورپھر اس ناانصافی نے ان کے لہجے میں تلخیوں کا زہر بھر دیا تھا۔ بہرحال اس کا گلہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کچھ اور بھی بڑی تلخ باتیں کیں جو اس مضمون میں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے غالب کی طرح یہ بھی نہیں کہا۔رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی سے معافآج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہےاگر زندگی نے وفا کی تو احمد راہی کے اردو نغمات پر یہ خاکسار پھر کبھی خامہ فرسائی کرے گا لیکن اس مضمون میں مرحوم کی اردو شاعری پر اپنے خیالات ضرور پیش کرے گا۔احمد راہی کی اردو شاعری سادگی اور سلاست سے بھرپور ہے۔ انہوں نے چھوٹی بحر میں جو غزلیں لکھیں وہ بھی تاثریت سے خالی نہیں۔ ان کی غزلوں میں رومانویت بھی ملتی ہے اور غم دوراں کی پرچھائیاں بھی۔ انہوں نے کلاسیکل شاعری کی روایت کو بھی اپنی شاعری کا حصہ بنایا اور جدید طرز احساس کو بھی رد نہیں کیا۔ وہ ترقی پسند سوچ رکھتے تھے اس لئے ان کی شاعری میں حیات افروز رجائیت بھی ملتی ہے۔ اگرچہ کبھی کبھی وہ مایوسی کی تاریکیوں میں بھی ڈوب جاتے ہیں لیکن پھر امید کی گھنگھور گھٹائیں برستی ہیں۔ جمالیاتی طرز احساس کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ یہ بات کبھی کبھی محسوس ہوتی ہے کہ ان کی شاعری میں تاثریت کی کمی ہے لیکن مجموعی طور پر ایسا نہیں۔ چونکہ انہوں نے اردو میں کم شاعری کی اور گیت بھی کم لکھے اس لئے شاید ان کو وہ شہرت نہیں ملی جو ان کی پنجابی شاعری کا مقدر بنی لیکن اگر یہ سمجھا جائے کہ ان کی اردو شاعری معمولی سطح کی ہے تو یہ درست نہیں۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ عمدہ شاعری کے تمام لوازمات احمدراہی کی اردو غزلوں میں موجود ہیں تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ان کی اردو شاعری کا معیار کسی بھی حوالے سے پست ہے۔مندرجہ ذیل تین اشعار ملاحظہ کریں۔بات چھوٹی سی کبھی پھیل کے افسانہ بنےکوئی دیوانہ بنائے‘ کوئی دیوانہ بنےحال دل کہتے ہوئے ان سے خیال آتا ہےکہیں اظہار تمنا بھی تماشا نہ بنےآگے کچھ لوگ ہمیں دیکھ کے ہنس دیتے تھےاب یہ عالم ہے کوئی پوچھنے والا بھی نہیںرومانوی شاعری کو نئے زاوئیے دینے والے بھی کئی شاعر ہیں جن میں داغ دہلوی‘ اختر شیرانی اور قتیل شفائی کے نام سر فہرست ہیں لیکن اس حوالے سے ذرا احمد راہی کے ان اشعار پر غور کیجئے۔تری وفا تری مجبوریاں بجا لیکنیہ سوزش غم ہجراں یہ سرد تنہائیغم حیات میں کوئی کمی نہیں آئینظر فریب تھی تیری جمال آرائیمرے حبیب میری مسکراہٹوں پہ نہ جاخدا گواہ مجھے آج بھی ترا غم ہےاگر سہل متمنع (Deceptive Simplicity) کی بات کی جائے تو مندرجہ ذیل اشعار دیکھئے۔لمحہ لمحہ شمار کون کرےعمر بھر انتظار کون کرےدوستی ایک لفظ بے معنیکس پہ اب انحصار کون کرےکوئی بتلائو کہ کیا ہیں یاروہم بگولے کہ ہوا ہیں یاروجن کے قدموں سے ہیں گلزار یہ دشتہم وہی آبلہ پا ہیں یارواب ذرا ندرت خیال دیکھئےہم جو کرتے ہیں کہیں مصر کے بازار کی باتلوگ پا لیتے ہیں یوسف کے خریدار کی باتجیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ ا حمد راہی نے سادگی اور سلاست پر توجہ دی ہے اور براہ راست ابلاغ کی شاعری کی ہے۔ انہوں نے تراکیب کا استعمال کم سے کم کیا ہے۔ شاعری کے سب رنگ ان کے ہاں موجودہیں۔ جہاں تک قوت متخیلہ کا تعلق ہے تو وہ بھی ان کے اکثر اشعار میں بلندیوں پر نظر آتی ہے۔ ذرا ان دو اشعار پر غور کیجئے۔گلہ نہیں تجھ سے زندگی کے وہ نظریے بدل گئے ہیںمری وفا‘ وہ تیرے تغافل کی نوحہ خواں تھک کے سو گئی ہےدل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گادرد پہلو سے جدا ہو کے کہاں جائے گارجائیت پسند ہونے کے باوجود جب شاعر ناامیدی کے صحرا میں بھٹکنے لگتا ہے تو قاری کو حیرت تو ہوتی ہے لیکن اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ناامیدی اور مایوسی کی دھوپ بھی برداشت کرنی پڑتی ہے۔ احمد راہی کہتے ہیں۔سحر سے رشتہ امید باندھنے والےچراغ زیست کی لو شام ہی سے مدھم ہےاحمد راہی کی غزلیں پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ اہل ادب سے ان کا گلہ جائز تھا۔ اس خاکسار کی رائے سے اختلاف کرنے کا سب کو حق ہے لیکن غیر جانبدار ہو کے ان کی اردو شاعری کا تجزیہ کیا ہے۔ راہی صاحب کے کچھ اور اشعار پیش خدمت ہیں۔دن گزرتا ہے کہاں رات کہاں ہوتی ہےدرد کے ماروں کی اب بات کہاں ہوتی ہےزندگی کے وہ کسی موڑ پہ گاہے گاہےمل تو جاتے ہیں ملاقات کہاںہوتی ہےتمہارے ہاتھ سہی فیصلہ مگر پھر بھیذرا اسیر کی روداد بھی سنی جائےاب اس سے بڑھ کے بھلا اور کیا ستم ہوگازبان کھل نہ سکے آنکھ دیکھتی جائےاس مضمون کا ہر گزیہ مطلب نہیں کہ احمد راہی کی پنجابی اور اردو شاعری کا تقابلی جائزہ لیا جائے صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ راہی صاحب کو محض پنجابی زبان کے شاعر کی حیثیت سے یاد نہ رکھا جائے وہ اردو کے بھی بہت عمدہ شاعر تھے۔ 

پہلے اپنے دل کا آئینہ صاف کیجیے

پہلے اپنے دل کا آئینہ صاف کیجیے

ایک شادی شدہ جوڑے کے گھر کے سامنے نئے پڑوسی آ کررہنے لگے-اس جوڑے کے گھر کی کھڑکیوں سے نئے آنے والے پڑوسیوں کا گھر صاف دکھائی دیتا تھا۔ یہی وجہ تھی اس جوڑے کی بیوی ان کے گھر تانک جھانک کیے رکھتی اور گاہے بگاہے اس گھر کے مختلف معاملات پر اپنے شوہر کو خبر بھی دیتی اور بلا روک ٹوک تبصرہ بھی کرتی۔ ایک دن جب یہ دونوں میاں بیوی ناشتے میں مشغول تھے تو سامنے گھر کی خاتون نے کپڑے دھو کر تاروں پر ڈالے۔ بیوی کی نظر کپڑوں پر پڑی تو تبصرہ کرتے ہوئے کہنے لگی یہ کیسے لوگ ہیں کپڑے بھی صحیح سے نہیں دھونے آتے۔ابھی تک گندے ہی کپڑے تار پر ڈال دئیے ہیں۔ شوہر بیوی کی ایسی باتوں کو نظر اندازکر دیا کرتا۔ کچھ دن گزرے پھر ایسا ہی ہوا تو عورت نے اپنے شوہر سے اس پر تبصرہ کیا کہ دیکھیں کیسے لوگ ہیں ابھی تک ان کو کپڑے دھونے نہیں آتے۔انہیں چاہیے یا تو کچھ خرچہ کر کے اچھا صابن لے آئیں یا کسی عقل مند سے کپڑے دھونا سیکھ لیں۔خیر شوہر نے معمول کی مسکراہٹ بکھیری اور ناشتہ کرنے لگا۔ اب جب بھی پڑوسی کپڑے دھوتے تب ہی یہ خاتون ایسے مبالغہ آمیز تبصرے کرتیں اور شوہر ہر دفعہ معمول کی مسکراہٹ بکھیر کر دفتر چلا جاتا۔ کافی دنوں بعد ایک صبح پھر ایسا ہوا لیکن اس مرتبہ تبصرہ نگار خاتون کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا کہ یہ کیا آج تو انہوں نے بڑے صاف کپڑے دھوئے ہیں۔ آج تو لگتا ہے کسی سے کپڑے دھونا سیکھ لیا ہے یا صابن اچھے والا لے آئے ہیں۔ او ہو آپ دیکھیں نہ۔ شوہر کو متوجہ کرتے ہوئے وہ خاتون بولے جا رہی تھی۔ شوہر نے سکوت توڑا مسکرایا اور کہا آج صبح میں جلدی اٹھ گیا تھا تو میں نے اپنی کھڑکی کا شیشہ صاف کر دیا جس سے تم پڑوسیوں کے گھر دیکھتی ہو۔جی ہاں! یہ کہانی انسان کی مکمل زندگی کی عکاسی ہے ناکامی کی علامات میں سے بے جا تنقید کرنا بھی شامل ہے۔ ہم اپنے دل کے آئینے سے گرد صاف نہیں کرتے اسی لیے لوگ ہمیں میلے عیب دار خراب بے عقل نظر آتے ہیں۔ پٹی ہماری آنکھوں پر بندھی ہوتی ہے اور ہم دوسروں کو اندھیرے میں سمجھتے ہیں ابھی ہماری عقل اور سوچ پختہ نہیں ہوتی ہم دوسروں کوکم عقل اور کند ذہن سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ تو ایسا ہی ہوا کہ یرقان کا مریض جس کی آنکھیں بیماری کی وجہ سے پیلی ہو چکی ہوتی ہیں اسے ساری دنیا ہی پیلی نظر آتی ہے ہر چیز زرد نظر آتی ہے۔ ہم لوگوں کا فی زمانہ سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ ہم خود سکون سے جی نہیں رہے ہوتے اور دوسروں کی زندگی کے مسائل کو موضوع بحث بنایا ہوتا ہے کبھی بیٹھ کر اپنے عیبوں اور کمی کجیوں کی فہرست نہیں بنائی دوسروں کا لمحہ لمحہ نوٹ کر رہے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہماری زندگیاں بے سکون ہوئی پڑی ہیں ہر شخص دوسرے کے عیبوں کی تلاش میں ہے اور اپنے گناہوں کو سرشت آدم سمجھ کر ٹال رہا ہے اپنی آنکھوں کی کھڑکی کے سامنے سے افسانے گمان خوش فہمیاں تکبر اوور کانفیڈینس جیسی پٹیاں اتارنا ہوں گی تبھی ہی زندگی کا لطف لیا جا سکتا ہے ورنہ یہ عیوب ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑیں گے۔ اصلاح کا سفر اپنے آپ سے اپنے اندر کی تبدیلی سے شروع ہو گا دوسروں میں جھانکنے سے پہلے اپنے من میں جھانکیے۔ جب اپنے دل کا آئینہ صاف ہو گا تو ہر چیز صاف دکھائی دے گی۔سب اچھے دکھائی دیں گے۔ کتاب'' کامیابی کے راز ‘‘سے انتخاب

اڑھائی کروڑ افراد کا مستقبل

اڑھائی کروڑ افراد کا مستقبل

کچھ دنوں سے زراعت پر طبع آزمائی کررہا تھا ملک میں دیگر شعبوں کی طرح یہ شعبہ بھی تنزلی کا شکار نظر آیا۔ دوران مطالعہ زراعت کے کچھ اعدادو شمار نظر سے گزرے تو ششدر رہ گیا کہ زراعت تو ہماری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے مگر اب حالت نزع میں ہے۔ نزع کا لفظ گو کہ نامناسب بھی ہے اور خطرے کی علامت بھی مگر جب کپاس کے شعبے کی کارکردگی پر نظر پڑی تو حقیقتاً حالت نزع ہی تھی۔ ہماری برآمدات میں کپاس کابہت بڑا حصہ ہے اور یہ پڑھ کر تو تشویش اور بڑھ گئی کہ اڑھائی کروڑ سے زائد آبادی کسی نہ کسی شکل میں اس شعبے سے منسلک ہے جس کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ ناقص حکمت عملی نے کاشکاروں کو دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے خصوصاً کپاس کے کاشتکار سخت مشکل کا شکار ہیں اور وہ کپاس کے بدلے چاول، گندم اور مکئی کی کاشتکاری کو اولیت دے رہے ہیں۔ ہماری معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے۔ اس شعبے کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ یہ شعبہ ملکی آبادی کے 80 فیصد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔صنعت کیلئے خام مال فراہم کرتا ہے اورہماری غیر ملکی تجارت کی بنیاد ہے۔تجارتی سامان کی برآمدات سے حاصل ہونیوالا زرمبادلہ ملک کی مجموعی برآمدات کا 45 فیصد ہے۔67.5 فیصد افراد دیہی علاقوں میں رہ رہے ہیں جو کہ اس میں براہ راست شامل ہیں۔وطن عزیز میں فصلوں کے دو اہم سیزن ہیں یعنی ربیع اور خریف، اہم اور نقدفصلیں گندم، چاول مکئی، کپاس ہیں جس میں کپاس سرفہرست ہے۔پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 2020-21ء میں کپاس کی پیداوار 34.35 فیصد کی کمی سے 5.571 ملین بیلزپر آ گئی ۔ گذشتہ سال ملک میں کی پیداوار 8.487 ملین بیلز تھی۔2.9 ملین گانٹھوں کی کمی ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے ایک تشویشناک صورتحال تھی جو کہ برآمدی شعبوں میں سے ایک بڑا شعبہ ہے اور ملک کی مجموعی سالانہ برآمدی آمدنی کا 60 فیصد ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے کئی برسوں سے نقد کی بڑی فصل کے بارے میں غفلت برتی جارہی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گذشتہ 30 سال میں کپاس کی سب سے کم پیداوار ریکارڈ کی گئی ۔ اگر ریگولیٹر کے طور پر کام کرنیوالی حکومت حرکت میں نہ آئی تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔بیج سے متعلق مسائل، مناسب قیمتوں کے فقدان اور بڑھتی ہوئی لاگت اور ناقص کیڑے مار ادویات کے استعمال کی وجہ سے کپاس کی نمو میں کمی کا معاملہ جلد ہی حل ہوتا نظر نہیں آرہا۔موجودہ حکومت نے کپاس کے کاشتکاروں کو سبسڈی والا بیج دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کا یہ بھی ارادہ ہے کہ کسانوں کو دوسری فصلوں کی طرف متوجہ ہونے سے روکنے کیلئے مراعات دی جائیں۔لیکن ہائبرڈ ہائی پیداوار کے بیج، کیڑوں پر قابو پانے کے بہتر طریقے اور کسانوں کو بہتر سپورٹ پرائس دینے کی تجویز کردہ مراعات اور پالیسیاں ہماری پیداوار بڑھانے کیلئے کافی ثابت نہیں ہوں گی۔حکومت کو کسانوں کو کریڈٹ کی سہولیات بھی فراہم کرنی چاہئے کپاس جنوبی پنجاب ریجن کی بڑی فصل رہی ہے۔لیکن جنوبی پنجاب کے اضلاع میں گذشتہ ایک دہائی کے دوران کپاس کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) نے اپنی جاری کردہ 15روزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ گذشتہ سال کے اسی عرصے میں پیدا ہونیوالی 8.487 ملین بیلز کے مقابلے میں ملکی کپاس کی پیداوار 31 جنوری تک 34.35 فیصد کمی کے ساتھ 5.571 ملین بیلز تک پہنچ گئی۔کاٹن ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ 30 سال کے دوران کپاس کی یہ سب سے کم پیداوار ہے جو ٹیکسٹائل سیکٹر کے ساتھ ساتھ برآمدات کیلئے بھی تشویشناک ہے۔