مار خور، پاکستان کا قومی جانور، معدومیت کے خطرے سے دوچار

مار خور،  پاکستان کا قومی جانور،  معدومیت کے خطرے سے دوچار

اسپیشل فیچر

تحریر : خاور نیازی


مارخور جس کو پاکستان کے قومی جانور ہونے کا اعزاز حاصل ہے یہ جنگلی بکرے کی ایک قسم کا چرندہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر پہاڑی جانور ہے جو عموماً 600 سے3600میٹر تک کی بلندیوں پر پایا جاتا ہے۔ اس جانور کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہ ان 72جانوروں میں شامل ہے جن کی تصاویر ڈبلیو ڈبلیو ایف کے 1976ء میں جاری کردہ سکوں پر کندہ ہیں۔
ابتدائی تعارف : جنگلی بکروں سے ملتا جلتا یہ جانور جس کے لفظی معنی فارسی میں''سانپ کھانے والا‘‘ کے ہیں۔ کیونکہ فارسی میں ''مار‘‘ سانپ کو کہتے ہیں جبکہ ''خور‘‘ کے معنی کھانے والا کے ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق مارخور چونکہ ایک چرند ہے اس لئے سانپ یا جانور کھانا اس کی فطرت کے خلاف ہے۔ جبکہ اس جانور بارے صدیوں سے سنی جانے والی لوک کہانیوں کے مطابق مارخور سانپ کو اپنے سینگوں کے ذریعے مار کر چبا جاتا ہے اور اس کی جگالی کے نتیجے میں اس کے منہ سے جو جھاگ نکلتی ہے وہ نیچے گرتے ہی خشک اور سخت ہو جاتی ہے۔ اس سے منسلک کہاوت یہ بھی ہے کہ یہ خشک جھاگ سانپ کے کاٹے کا مؤثر علاج تصور ہوتا ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق اس کے نام کی مناسبت اس کے سینگوں کی وجہ سے بھی ہے جو سانپ کی طرح بل دار ہوتے ہیں۔
مارخور عمومی طور پر سیاہی مائل بھورے رنگ میں پائے جاتے ہیں جبکہ ان کی ٹانگوں کا نچلا حصہ سفید اور سیاہی مائل ہوتا ہے۔ نر مارخور کے سینگ لگ بھگ 65 انچ جبکہ مادہ کے سینگ 10انچ لمبے ہوتے ہیں۔ مارخور کا قد عام طور پر 26 انچ سے لیکر 45 انچ تک ہوتا ہے، اس کی لمبائی 52 انچ سے لیکر 72انچ تک ہوتی ہے۔
خوراک اور عادات : مارخور چونکہ بنیادی طور پر ایک چرند ہے اس لئے گھاس ہی اس کی بنیادی غذا ہے۔ یہ ویسے تو مختلف قسم کی جنگلی بوٹیاں کھا لیتا ہے لیکن صنوبر، شاہ بلوط، دفران اس کی مرغوب غذائیں ہیں۔ اس کی غذا کی ایک منفرد بات یہ ہے کہ یہ سردیوں میں تو درختوں کے پتے کھاتا ہے جبکہ گرمیوں اور بہار کے موسم یہ گھاس کو پسند کرتا ہے۔ مارخور کی عادات دوسرے جانوروں سے قدرے مختلف ہوتی ہیں۔ نر مارخور جب پیٹ بھر کر خوراک کھا لیتے ہیں تو یہ آپس میں اپنے سینگ پھنسا کر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مادہ جانور ان سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ مادہ مارخوروں میں یہ خصلت بہت مشترک ہے کہ یہ اپنے مادہ بچوں کے ساتھ ریوڑ کی شکل میں رہنا پسند کرتی ہیں جبکہ نر مارخور ان سے بالکل مختلف ہوتے ہیں اور وہ عموماً اکیلا رہنا پسند کرتے ہیں۔
مار خور پالتو بکروں کا جد امجد؟:اکثر شکاریوں کو اس بحث میں اُلجھتے دیکھا گیا ہے کہ مارخور کے جد امجد کا تعلق کہاں سے ہے۔ تاریخ کی کتب سے جو شواہد ملے ہیں ان کے مطابق یہ جنگلی جانور صدیوں سے پہاڑوں اور جنگلوں میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ پالتو اور گھریلو بکرے دراصل مارخور خاندان اور پہاڑی بکروں کی آپس میں افزائش نسل کا نتیجہ ہیں۔ بعض مصنفین نے تو چند مصری نسل کے بکروں کو بھی ان کے سینگوں کی مشابہت کے باعث مارخور کے خاندان کے اجداد سے ہی قرار دیا ہے۔ چترال، لداخ اور تبت وغیرہ میں پائی جانے والی نایاب نسل ''پشمینہ‘‘ بکریوں کا تعلق بھی بعض روایات کے مطابق مارخور خاندان سے ہی جوڑا جاتا ہے۔ سسلی میں بکریوں کی معروف نسل ''گرگنٹانہ‘‘ اور آئرلینڈ میں بکریوں کی نسل ''ہلبری‘‘ جو عادات و اطوار اور شکل میں مارخور سے بہت مشابہت رکھتی ہیں ان کے بارے بھی غالب گمان یہی ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان کا تعلق مارخور کے خاندان سے ہی جا ملتا ہے۔
اقسام :دنیا بھر میں اس کی پانچ مستند اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سے تین پاکستان میں بھی پائی جاتی ہیں۔ جن کو استور، سلیمان اور کشمیر مارخور کے نام سے جانا جاتا ہے۔'' استور مارخور‘‘یہ پاکستان میں چترال، گلگت بلتستان، کوہستان، وادی ہنزہ، ودای جہلم میں بھی پایا جاتا ہے۔ ''سلیمان مارخور‘‘ یہ پاکستان کے سلسلہ کوہ سلیمان میں پایا جاتا ہے۔ ''کشمیر مارخور‘‘ یہ چترال کے علاقوں میں نظر آتا ہے۔
نسل کو لاحق خطرات:مارخور کے بارے عالمی تنظیم ''بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت‘‘ (آئی یو سی این) نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ مارخور کی نسل تیزی سے معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔اگر بروقت مناسب اقدامات نہ کئے گئے تو مارخور جس کا وجود جو معدومیت کے قریب ہے ناپید ہو جائے گا۔ اس تنظیم نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق اب اس نایاب جانور کی تعداد محض چند ہزاروں تک محدود ہو چکی ہے۔
کم ہوتی نسل کی وجوہات :محکمہ جنگلی حیات کے ایک سروے کے مطابق2019ء میں ملک میں مارخور کے سب سے بڑے مرکز نیشنل گول پارک چترال میں اس قومی جانور کی تعداد 2800 تھی جبکہ 2020ء میں یہ تعداد کم ہو کر 2ہزارتک رہ گئی تھی۔ ایک غیر سرکاری سروے کے مطابق کم ہوتی تعداد کی وجوہات میں نیشنل پارک میں حفاظت پر مامور وہ نگہبان ہیں جو فنڈز میں کمی کے باعث تنخواہیں نہ ملنے پر خود ہی ان جانوروں کا غیر قانونی شکار کرنے لگ گئے ہیں۔
گول نیشنل پارک چترال میں مارخور کی کم ہوتی نسل بارے علاقے کے عمائدین کے بقول یہاں سے ایک معقول تعداد ان جانوروں کی ہر سال افغانستان ہجرت کر جاتی ہے۔مارخور کے تناسب کے لحاظ سے گول نیشنل پارک کا رقبہ کم ہے۔ ورلڈ بنک کے بنائے گئے منصوبے کے مطابق گول نیشنل پارک میں مارخوروں کی تعداد 425 ہونی چاہئے۔
ان کی کم ہوتی نسل کی بڑی وجہ ان کا غیر قانونی شکار بھی ہے کیونکہ مارخور کا گوشت جو ذائقہ کے اعتبار سے اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ اپنی مانگ کے سبب یہ اس وقت مہنگے داموں فروخت ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے سینگ جو نمائشی اور آرائشی سامان بنانے کے کام آتے ہیں اس وقت بھی بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی بہت مانگ ہے۔ یہی حال اس کی کھال کا ہے بین الاقوامی مارکیٹ میں جس کی خاصی مانگ ہے۔
خاورنیازی لاہور میں مقیم ایک سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں، تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مسجد گوہر شاہ: تیموری عہد کا عظیم شاہکار

مسجد گوہر شاہ: تیموری عہد کا عظیم شاہکار

ایران کے شہرمشہد میں واقع مسجد گوہر شاہ اسلامی فن تعمیر، روحانیت اور تاریخ کا ایک شاندار سنگم ہے۔ یہ عظیم الشان مسجد دراصل امام رضا کے روضہ مبارک کے وسیع و عریض احاطے میں واقع ہے اور اسے خطے کی اہم ترین مذہبی اور تاریخی عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس مسجد کی تعمیر 15ویں صدی میں تیموری سلطنت کے دور میں ہوئی اور اس کی بنیاد تیموری فرمانروا شاہ رخ کی اہلیہ بیگم گوہر شاہ نے رکھی تھی، جن کے نام پر اس مسجد کو گوہر شاہ یا گوہرشاد مسجد کہا جاتا ہے۔گوہرشاہ بیگم اپنے دور کی نہایت بااثر اور صاحب ذوق خاتون تھیں۔ انہوں نے 1418ء میں اس مسجد کی تعمیر کا حکم دیا تاکہ زائرین حرم کو عبادت کیلئے ایک وسیع اور خوبصورت مقام میسر آسکے۔ اس مسجد کی تعمیر کیلئے اس دور کے ممتاز معمار شیرازی کی خدمات حاصل کی گئیں۔ استاد شیرازی کی زیر نگرانی یہ مسجد بارہ سال میں مکمل ہوئی۔ مسجد سمر قندی طرز تعمیر سے تیار کی گئی۔تیموری دور اسلامی فن تعمیر کے عروج کا زمانہ تھا، چنانچہ مسجد کی تعمیر میں اس دور کی جمالیاتی روایات پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں نظر آتی ہیں۔ خط کوفی میں قرآنی آیات اتنی خوشخطی سے تحریر کی گئی ہیں کہ چھ صدیاں گزرنے کے بعد بھی زمانے کے حوادث ان کی آب و تاب میں سرموفرق نہیں لا سکے۔ گوہر شاہ مسجد کا فن تعمیر اپنی دلکشی اور نفاست کے باعث بے مثال سمجھا جاتا ہے۔ مسجد کا وسیع صحن، بلند و بالا ایوان، دلکش گنبد اور باریک و نفیس نیلی ٹائلوں کی آرائش دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتی ہے۔ پیازی طرز کا گنبد مسجد کی شان ہے۔ گنبد کا رنگ فیروزی ہے، مسجد کا کل رقبہ 101292مربع فٹ ہے اور صحن 180فٹ لمبا اور 160فٹ چوڑا ہے۔ مسجد کے صحن میں سنگ مر مر استعمال کیا گیا ہے صحن کے تینوں اطراف میں برآمدے بنائے گئے ہیں۔ مسجد کے دو مینار ہیں جو 131فٹ بلند ہیں۔ گنبد کا قطر49فٹ اور اس کا محیط207فٹ ہے صحن سے مسجد کے اندر ہال میں داخل ہونے کیلئے نو محرابی دروازے ہیں۔ گنبد کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ دہری تہہ میں بنایا گیا ہے۔ مسجد کی تعمیر میں سرخ اینٹوں، ٹائلوں اور سنگ مر مر کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس مسجد کے چار بڑے ایوان ہیں جو ایرانی طرزِ تعمیر کی کلاسیکی روایت کی عکاسی کرتے ہیں۔ مسجد کے گنبد اور دیواروں پر بنے نقش و نگار، قرآنی آیات اور خطاطی کے نمونے اسلامی فنونِ لطیفہ کی اعلیٰ مثالیں پیش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ مسجد کے اندرونی حصے میں موجود محراب اور منبر بھی نہایت خوبصورتی سے آراستہ ہیں۔ مسجد کا منبر اخروٹ کی لکڑی سے تیار کیا گیا ہے۔ منبر کی تیاری میں کہیں بھی لوہے کی میخ کا استعمال نہیں کیا گیا۔ رنگین ٹائلوں، جیومیٹرک نقشوں اور نفیس خطاطی کے امتزاج نے اس مسجد کو فن تعمیر کا ایک زندہ عجائب گھر بنا دیا ہے۔چونکہ یہ مسجد امام رضا کے روضہ مبارک کے قریب واقع ہے، اس لیے یہاں دنیا بھر سے آنے والے زائرین بڑی تعداد میں نماز اور عبادت کیلئے حاضر ہوتے ہیں۔ صدیوں سے یہ مسجد نہ صرف عبادت کا مرکز رہی ہے بلکہ اسلامی ثقافت، تعلیم اور روحانی اجتماع کا بھی اہم مقام رہی ہے۔ رمضان المبارک، محرم اور دیگر مذہبی مواقع پر یہاں خصوصی اجتماعات اور عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔مسجد کے ہال میں ہاتھ سے تیار کردہ خوبصورت ایرانی قالین بچھائے گئے ہیں۔ مسجد سے ملحق ایک بڑی لائبریری ہے جس میں 35ہزار کتب رکھی گئی ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ مسجد زلزلوں اور بعض سیاسی ہنگاموں سے متاثر بھی ہوئی، تاہم ہر بار اس کی مرمت اور بحالی کا کام کیا گیا۔ ایرانی حکومت اور مذہبی اداروں نے اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کیلئے مسلسل اقدامات کیے ہیں تاکہ یہ آئندہ نسلوں کیلئے بھی باقی رہے۔ صفوی حکمران شاہ عباس نے مسجد گوہر شاہ کی مرمت اور تزئین و آرائش پر خاص توجہ دی۔1803ء میں زلزلے نے اس مسجد کے کچھ حصے کو نقصان پہنچایا جس کی بعد میں مرمت کر دی گئی۔مسجد گوہر شاہ نہ صرف ایک عبادت گاہ ہے بلکہ اسلامی تہذیب، فن تعمیر اور روحانی روایت کی عظیم علامت بھی ہے۔ اس کی دلکش عمارت، تاریخی پس منظر اور مذہبی اہمیت اسے عالم اسلام کی ممتاز مساجد میں شامل کرتی ہے۔ آج بھی جب زائرین اس مسجد کے صحن میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں تاریخ، روحانیت اور فن کے حسین امتزاج کا دلنشیں منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔

رمضان کے پکوان

رمضان کے پکوان

ڈیٹ ڈئیلائٹ اجزاء :کھجوریں دو پیالی( درمیان میں سے گٹھلی نکال کر گودا بنالیں) ۔ میری بسکٹ ایک پیکٹ، ناریل گری آدھی پیالی ،چینی آدھی پیالی، فریش کریم ایک پیالی۔ مارجرین چار کھانے کے چمچترکیب :سب سے پہلے ایک دیگچی میں مارجرین کو ہلکا سا گرم کریں، پھر اس میں کھجوروں کا گودا ڈال کر ہلکا سا بھون لیں۔ تاکہ اچھاسا پیسٹ بن جائے پھر شکر اور ناریل کی گری ڈال کر پانچ سے دس منٹ تک بھونیں بسکٹ کو توڑ کر چورا کرلیں پھر سب چیزوں کے ساتھ بسکٹ بھی ڈال دیں۔ دوتین منٹ بھون کر ایک تھالی میں ذرا سی چکنائی لگاکر کھجور اور بسکٹ کے آمیزے کو پھیلا کر رکھ دیں۔ ٹھنڈا ہونے دیں فریش کریم کو خوب پھینٹیں، جب وہ گاڑھی ہو جائے تو اس کے اوپر ڈال دیں، چوکور ٹکڑے کاٹ کر پیش کریں۔ نوٹ:یہ ڈش چار سے چھ افراد کے لیے کافی ہے۔ منچ ویج کباباجزاء : قیمہ آدھا کلو،شملہ مرچ ایک عدد ، گاجر ایک عدد، آلو 3 عدد، نمک ایک ٹیبل سپون، کالی مرچ ایک ٹیبل سپون،کٹی لال مرچ ایک ٹیبل سپون، لہسن ادرک 2 ٹیبل سپون، انڈا ایک عدد ، ڈبل روٹی کا چور آدھا کپترکیب:آلو ابال کر میش کرلیں۔گاجر کو بھی باریک چوپ کر کے ابال لیں۔شملہ مرچ کو بھی باریک کٹ لگا لیں۔اب تما م سبزیوں میں سارے مصالحے ڈا ل کر مکس کریں۔انڈا اور چورا ڈال کر مکس کریں اور کباب بنا کر پیش کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

کرائسٹ چرچ حملہ15مارچ 2019ء کو کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا۔ دہشت گرد مسجد النور میں دوپہر 1بجکر 40منٹ پر داخل ہوا اور اندھادھند فائرنگ شروع کر دی۔ کچھ لوگ نماز پڑھ کر فارغ ہو چکے تھے جبکہ کچھ نماز پڑھ رہے تھے۔ حملہ آور مسجد سے گزرتا ہوا اسلامک سینٹر میں داخل ہوا۔ اس نے وہاں بھی فائرنگ جاری رکھی اور یہ سلسلہ1بجکر52منٹ تک چلتا رہا۔ اس قتل عام میں 51افراد شہید جبکہ40افراد زخمی ہوئے۔ یہ واقع اسی اسلاموفوبیا کا نتیجہ تھا جو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف مغربی میڈیا کی جانب سے پھیلایا جاتا تھا۔خواتین کی پہلی بوٹ ریسخواتین کی بوٹ ریس کا ہر سال انعقاد کیا جاتا ہے۔ پہلی مرتبہ یہ ریس آکسفورڈ یونیورسٹی وومن بوٹ کلب اور کیمبرج یونیورسٹی بوٹ کلب کے درمیان15مارچ1927ء میں ہوئی۔ 1964ء کے بعد سے اب تک اس ریس کا ہر سال انعقاد کیا جاتا ہے جس میں دونوں یونیورسٹیوں کی طالبات شریک ہوتی ہیں۔ یہ ریس لندن میں موجود دریائے تھامس میں پٹنی سے مورٹ لیک تک کھیلی جاتی ہے اور اس کا کل فاصلہ4.2میل ہے۔دُنیا کا پہلا ٹیسٹ میچآسٹریلیا اور برطانیہ کے درمیان کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا گیا۔1876ء میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دورے کوفرسٹ کلاس کرکٹ کا پہلا آفیشل دورہ بھی مانا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی برطانیہ کی کالونیاں آپس میں کرکٹ دورے کرتی تھیں لیکن 1876ء میں ہونے والے دورے کوآفیشل ہونے کی وجہ سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ اسی دورے کے دوران برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں دنیا کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا گیا۔فن لینڈ میں خانہ جنگی1918ء کو فن لینڈ میں شروع ہونے والی خانہ جنگی نے شدت اختیار کر لی اور آج کے دن ٹیمپیر کے مقام پر ایک نئی جنگ کا آغاز ہوا۔ یہ جنگ فن لینڈ کے دو گروہوں کے درمیان لڑی گئی اور 6اپریل تک جاری رہی۔ٹیمپیر کے مقام پر ہونے والی اس جنگ میں بہت زیادہ خون بہایا گیا ، فن لینڈ کی تاریخ میں اسے آج بھی بطور سیاہ دن یاد کیا جاتا ہے۔اس خوفناک لڑائی میں تقریباً30ہزار افراد نے حصہ لیا۔

نیوجی مسجد

نیوجی مسجد

چین میں اسلام کی قدیم اور روشن علامتچین کا دارالحکومت بیجنگ صدیوں پرانی تہذیب، ثقافت اور تاریخ کا امین شہر ہے۔ اسی تاریخی شہر میں واقع نیوجی(niujie) مسجد چین کی قدیم ترین اور اہم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ یہ مسجد نہ صرف چینی مسلمانوں کیلئے ایک روحانی مرکز ہے بلکہ چین میں اسلام کی قدیم موجودگی اور ثقافتی ہم آہنگی کی ایک روشن مثال بھی ہے۔ اپنی منفرد تعمیر، تاریخی اہمیت اور مذہبی تقدس کی وجہ سے نیوجی مسجد کو چین میں اسلامی ورثے کی نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔نیوجی مسجد کی تعمیر تقریباً ایک ہزار سال قبل 996ء میں عمل میں آئی۔ اس زمانے میں چین کے مختلف علاقوں میں مسلمان تاجروں اور مبلغین کی آمد و رفت جاری تھی، جس کے نتیجے میں اسلام یہاں پھیلتا گیا۔ بیجنگ میں آباد مسلمان تاجروں اور مقامی مسلمانوں کی عبادت کیلئے اس مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔وقت کے ساتھ ساتھ مختلف چینی سلطنتوں کے ادوار میں اس مسجد کی مرمت اور توسیع ہوتی رہی۔ خصوصاً ''منگ ڈائنیسٹی‘‘(Ming Dynasty)اور چنگ ڈائنیسٹی (Qing Dynasty) کے زمانے میں اس مسجد کی عمارت کو مزید وسعت دی گئی اور اس کی تزئین و آرائش کی گئی۔ اس طرح نیوجی مسجد نہ صرف ایک عبادت گاہ بلکہ چین میں اسلام کی تاریخی یادگار بھی بن گئی۔بیجنگ میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ نیوجی مسجد ان مسلمانوں کیلئے نہ صرف عبادت کا مرکز ہے بلکہ ایک مذہبی، ثقافتی اور سماجی مرکز کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔یہاں باقاعدگی سے نمازِ جمعہ، عیدین کی نمازیں اور دیگر دینی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ رمضان المبارک کے دوران مسجد میں خصوصی عبادات اور افطار کے اجتماعات بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں اسلامی تعلیمات کی ترویج اور مذہبی رہنمائی کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔منفرد طرزِ تعمیراس مسجد کا کل رقبہ ڈیڑھ ایکڑ ہے جبکہ اندرونی رقبہ64600مربع فٹ ہے۔ اس میں ایک ہی وقت میں ایک ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔نیوجی مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا منفرد فن تعمیر ہے۔ بظاہر یہ مسجد ایک روایتی چینی عمارت کی طرح دکھائی دیتی ہے، کیونکہ اس کی تعمیر میں چینی طرزِ تعمیر کے اصولوں کو اختیار کیا گیا ہے۔ مسجد کی چھتیں خمیدہ انداز میں بنی ہوئی ہیں، لکڑی کی نفیس نقاشی اور سرخ ستون چینی فن تعمیر کی جھلک پیش کرتے ہیں۔تاہم اندر داخل ہونے پر اسلامی فن تعمیر کے نمایاں عناصر نظر آتے ہیں۔ مسجد کے اندرونی حصے میں عربی خطاطی، قرآنی آیات اور اسلامی نقش و نگار موجود ہیں۔ قبلہ کی سمت میں محراب نہایت خوبصورت انداز میں بنائی گئی ہے، جبکہ نماز کیلئے وسیع ہال بھی موجود ہے جہاں سینکڑوں نمازی بیک وقت عبادت کرسکتے ہیں۔ اس طرح یہ مسجد چینی اور اسلامی فن تعمیر کے حسین امتزاج کی مثال ہے۔ثقافتی اور سیاحتی اہمیتنیوجی مسجد مذہبی اہمیت کے ساتھ ساتھ سیاحتی لحاظ سے بھی خاصی شہرت رکھتی ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے سیاح اس تاریخی مسجد کو دیکھنے اور اس کے منفرد فن تعمیر کا مشاہدہ کرنے کیلئے بیجنگ کا رخ کرتے ہیں۔ مسجد کے اطراف کا علاقہ بھی مسلمانوں کی ثقافت اور طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں حلال کھانوں کے ریستوران اور اسلامی مصنوعات کی دکانیں موجود ہیں۔یہ مسجد اس حقیقت کی علامت ہے کہ مختلف تہذیبیں اور مذاہب ایک ہی معاشرے میں باہمی احترام اور ہم آہنگی کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ چینی طرزِ تعمیر اور اسلامی روحانیت کا امتزاج اس مسجد کو دنیا کی منفرد مساجد میں شامل کرتا ہے۔نیوجی مسجد بیجنگ نہ صرف چین کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے بلکہ اسلام کے عالمی تاریخی ورثے کا بھی ایک اہم حصہ ہے۔ تقریباً ایک ہزار سال سے یہ مسجد مسلمانوں کی عبادت، روحانیت اور اجتماعیت کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس کی تاریخی عظمت اور فن تعمیر کی خوبصورتی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اسلام نے دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی اقدار اور ثقافت کے ساتھ مقامی تہذیبوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کی ہے۔

عباس ابن فرناس

عباس ابن فرناس

عظیم مسلم سائنسدان جس نے انسانی پرواز کا تجربہ کیاابوالقاسم عباس ابن فرناس نویں صدی عیسوی کے مسلم سپین سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے انسانی پرواز کا تجربہ کیا، وہ دور جب انسانی پرواز کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ عباس ابن فرناس نے اس زمانے میں اڑنے کی کوشش کی۔ اس نے اڑنے کیلئے ایک غلاف تیار کیا جس میں پراور متحرک بازو لگے ہوئے تھے۔ عباس ابن فرناس نے اپنے تیار کردہ پروں والے اس غلاف کی مدد سے خود اڑنے کا خطرہ مول لیا اور مصنوعی پروں کے ساتھ ایک بلند چٹان سے کود پڑا۔ تھوڑی دیر ہوا میں رہنے کے بعد وہ نیچے اترنے لگا تو سنبھل نہ سکا اور زخمی ہو گیا۔ پرواز میں اترتے ہوئے ابن فرناس کی ناکامی کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس نے پرندوں کی اڑان کا مطالعہ کرتے وقت اس چیز پر غور نہیں کیا کہ وہ نیچے آتے ہوئے اپنی دم سے بھی مدد لیتے ہیں۔عباس ابن فرناس کے حالات زندگی کے متعلق کوئی تاریخی مواد نہیں ملتا۔ اس کے بارے میں صرف یہی معلومات میسر ہیں کہ وہ بربرالاصل اور بنو امیہ کا آزاد کردہ غلام تھا اور رندہ(Ronda)کے علاقے کا رہنے والا تھا۔ بلور بھی اسی کی ایجاد ہے۔ اس نے ایک میقات (گھڑی) اور چوڑی وار گولا'' کرۂ فلکی‘‘ بھی ایجاد کیا۔ ابو القاسم عباس ابن فرناس اندلس کا شاعر، ادیب تھا۔ وہ اموی امراء قرطبہ، الحکم الاول، عبدالرحمن ثانی اور محمد اول کے دربار سے وابستہ رہا اور اپنی قصیدہ گوئی کی بدولت متواتر تین بادشاہوں کے عہد حکومت میں دربار سے منسلک رہا۔نویں صدی کے آخری عشروں میں قرطبہ میں وہ تنہا شخص تھا جو خلیل بن احمد کی کتاب کے مضامین کی تشریح کر سکتا تھا۔ اس نے 887ء میں وفات پائی۔

رمضان کے پکوان

رمضان کے پکوان

اریبین رائساجزاء: چاول آدھا کلو، شملہ مرچ دو عدد، چکن پیس ایک کپ،نمک ایک چائے کا چمچ، چکن پاؤڈر ایک کھانے کا چمچ،سفید مرچ ایک چائے کا چمچ، سرکہ چار کھانے کے چمچ،پیلا رنگ، کشمش ایک چوتھائی کپ۔ترکیب:چاول ابال لیں۔اب ایک پین میں چار کھانے کے چمچ آئل لیں اور اس میں شملہ مرچ ،ابلی ہوئی چکن پیس، نمک اور چکن پاؤڈر سفید مرچ سرکہ کشمش ڈال کر فرائی کریں اور پھر ابلے ہوئی چاول ڈال کر مکس کریں اور پیلا رنگ ڈال کر پانچ منٹ دم دیں۔عربی بریڈ پڈنگ اجزاء :ڈبل روٹی کے توس چھ عدد (چاروں طرف کے کنارے کاٹ لیں)۔سوکھی خوبانی ایک پیالی( گٹھلی نکال کر باریک باریک کاٹ لیں)، سنگترے کے چھلکے چار عدد ( سفید والا حصہ نکال کر باریک کاٹ لیں )،کنڈینس ملک ایک ٹن۔ کارن فلور ایک چائے کا چمچ،بادام دس عدد (باریک کاٹ لیں)۔ تلنے کیلئے کوکنگ آئل۔ ترکیب: سب سے پہلے ایک فرائنگ پین میں کوکنگ آئل گرم کریں۔ توس گولڈن برائون تل کر نکال لیں۔ ایک اخبار پر پھیلا دیں تاکہ چکنائی جذب ہو جائے۔ ایک الگ فرائنگ پین لیں۔ دودھ ڈال کر ذرا پکالیں اور کارن فلور ملاکر گاڑھا گاڑھا کرلیں۔ پھر سے ایک فرائنگ پین لے لیں اس میں چینی پگھلا کر خوبانی کے ٹکڑے ، سنگترے کے چھلکے اور بادام ڈال کر پکالیں۔ چینی جب شیرا بن جائے تو اتارلیں۔ تلے ہوئے توس کے اوپر سب سے پہلے اچھی طرح گاڑھا کیا ہوا دودھ لگا لیں پھر تینوں چیزیں لگاکر ایک ڈش میں رکھتے جائیں۔ چاہیں تو ٹھنڈا پیش کریں یا گرم گرم پیش کریں۔ دونوں طرح سے مزے دار لگیں گے۔ یہ ڈش پانچ افراد کیلئے کافی ہے۔