بحر ظلمات:زمین کے 20فیصد حصے پر مشتمل سمندر
اسپیشل فیچر
10کروڑ 64 لاکھ 60 ہزار مربع کلومیٹر سطحی رقبہ،28 ہزار 232 فٹ انتہائی گہرائی اور 1 لاکھ 11 ہزار866 کلومیٹر طویل ساحل کے ساتھ بحر ظلمات جسے بحیرہ اوقیانوس اور بحراوقیانوس اطلس بھی کہتے ہیں یہ دنیا کادوسرا بڑاسمندر ہے جس نے اس وقت زمین کا 20 فیصد حصہ گھیرا ہوا ہے۔انگریزی میں اس سمندر کو '' اٹلانٹک اوشن ‘‘ کہتے ہیں۔اس کے اس نام نے یونانی داستانوں سے شہرت پائی ہے۔کیونکہ اٹلانٹک کامطلب '' اطلس کا بیٹا‘‘ ہے جبکہ یونانی زبان میں اسے Okeanos کہتے ہیں۔یونانی داستانوں سے روایت ہے کہ جہاں دگائیا (Gaia )اور دیوتا یورنس (Uranus)کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی جس کا نام اوشیئنس Oceanus رکھا گیا۔ چنانچہ اسی مناسبت سے اس سمندر کو اوقیانوس کہا جانے لگا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ عربی میں اوقیانوس یا اوشین سمندر ہی کو کہتے ہیں۔ جہاں تک لفظ ظلمات کا تعلق ہے اس کے لفظی معنی تو اندھیرا، تاریکی یا ایسی جگہ کے ہیں جس کی بابت پتہ نہ ہو کہ یہاں کیا کچھ ہے۔ چنانچہ تاریخ میں بحر واقیانوس کو بحر ظلمات اس لئے کہا گیا ہے کہ بر اعظم افریقہ کے مغرب میں واقع اس سمندر کے پار کیا ہے اور اور کیا نہیں ہے، انسان اس بارے ایک عرصہ تک لاعلم تھا۔
جغرافیائی تقسیم
بحر ظلمات کو مغرب میں شمالی و جنوبی امریکہ جبکہ مشرق میں یورپ اور افریقہ نے گھیرا ہوا ہے۔یہ بحر شمال میں بحر منجمد شمالی اور جنوب میں آبنائے ڈریک کے ذریعے بحرالکاہل سے جڑا ہوا ہے۔بحر الکاہل اور بحر ظلمات کے درمیان نہر پانامہ کے ذریعے مصنوعی رابطہ جڑا ہوا ہے۔ مشرقی سمت سے بحر ظلمات اور بحر ہند کو جدا کرنے والا خط 20 درجے مشرقی نصف النہار ہے جو کیپ اگلہاس سے انارکٹکا تک جاتا ہے۔جہاں تک بحر منجمد شمالی کاتعلق ہے یہ بحر ظلمات کو ایک خط کے ذریعے الگ کرتا ہے جو گرین لینڈ سے سپٹسبرگن کے انتہائی جنوبی سرے اور پھر شمالی ناروے میں شمالی کیپ تک جاتا ہے۔ بحرہ ظلمات زمین کے 20 فیصدحصے پر قابض ہے جبکہ پھیلاؤ کے اعتبار سے یہ صرف بحرالکاہل سے چھوٹا ہے۔اس کاکل رقبہ بمع معاون سمندروں کے 10کروڑ 64 لاکھ مربع کلو میٹر جبکہ معاون سمندروں کے بغیر اس کا کل رقبہ 8 کروڑ 24 لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ اس کا مجموعی حجم بشمول معاون سمندروں کے 35 کروڑ 47 لاکھ مکعب کلو میٹر اور معاون سمندروں کے بغیر اس کا حجم 32 کروڑ 36 لاکھ مکعب کلومیٹر ہے۔
بحر ظلمات کی اوسط گہرائی معاون سمندروں سمیت10ہزار 932 فٹ جبکہ معاون سمندروں کے بغیر اس کی اوسط گہرائی12ہزار 881 فٹ ہے۔پورٹو ریکو اس سمندر کاگہرا ترین مقام ہے جہاں اس کی گہرائی 28 ہزار 232 فٹ ہے۔
جہاں تک بحر ظلمات کی چوڑائی کا تعلق ہے اس کی چوڑائی متغیر ہے۔ مثلاً برازیل اور لائبیریا کے درمیان اس سمندر کی چوڑائی سب سے کم یعنی2ہزار 848 کلومیٹر ہے۔جبکہ سب سے زیادہ چوڑائی ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور شمالی افریقہ کے درمیان یعنی 4 ہزار 830کلومیٹر ہے۔ یوں تو بحر ظلمات کا ساحل لاتعداد کھاڑیوں، معاون سمندروںاور خلیجوں پر مشتمل ہے لیکن یہ ساحل یکسانیت سے یکسر محروم ہے۔ان میں قابل ذکر بحیرہ روم، بحیرہ اسود، بحیرہ شمال ، بحیرہ کیریبین ،بحیرہ لیبریڈور ، بحیرہ نارویجن ، خلیج فارس ، خلیج میکسیکو ، خلیج سینٹ لارنس اور گرین لینڈ شامل ہیں۔ اس میں شامل جزائر میں جزائر برطانیہ ، جزائر فارو، جزائر میڈیرا ، جزائر فاک لینڈ ، جزیرہ جنوبی جارجیا ، گرین لینڈ ، آئس لینڈ ، راکال ، فرنینڈو ڈی نورونہا ، ویسٹ انڈیز ، اسینشن، سینٹ بیلینا، ٹرینڈاڈ ، مارٹن واز ، ٹرسٹن ڈاکنہا ، ازورز، کیپ وردے ، ساؤ ٹامے ، نیو فاؤنڈلینڈ اور برمودا شامل ہیں۔
قدرتی وسائل
بحر ظلمات (بحر اوقیانوس ) دنیا کے سمندروں میں بلحاظ قدرتی وسائل ایک مالامال سمندر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔اس سمندر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے اپنے اردگرد کے ممالک کی اقتصادی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ ذرائع آمدورفت کے علاوہ اس کی ساحلی چٹانیں معدنی تیل، گیس اور قیمتی دھاتوں سے اٹی پڑی ہیں۔مچھلی کی دنیا کاایک کثیر حصہ بحر اوقیانوس (بحر ظلمات )سے حاصل ہوتا ہے۔
ماحولیاتی اور موسمیاتی خطرات کی زد میں
دنیا کے اس دوسرے سب سے بڑے سمندر کو جہاں ایک طرف موسمی خطرات نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے وہیں دوسری طرف ماحولیاتی تبدیلیاں اس کی بقا کیلئے تیزی سے خطرات کا باعث بنتی جا رہی ہیں۔سمندری طوفان، شمالی بحراوقیانوس کے جنوبی حصے میں کیپ وردے اور جزائر ونڈورڈ کے درمیانی حصے میں وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں اور مغرب کی جانب بحیرہ کیریبین تک جاتے ہیں جبکہ بعض اوقات ان کی منزل شمالی امریکہ کا مشرقی ساحل ہوتا ہے جہاں یہ ٹکرانے کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بھی بنتے ہیں۔یہ طوفان عام طور پر مئی اور دسمبر کے درمیان بنتے ہیں۔شمالی بحراوقیانوس میں عام طور پر درجہ حرارت منفی ہونے کے سبب طوفانوں کا ظہور پذیر ہونا ایک معمول بنتا جارہا ہے جس کی وجہ سے اس علاقے کو عبور کرنا نہ صرف مشکل ہو جاتا ہے بلکہ خطرے سے خالی بھی نہیں ہوتا۔