الخوارزمی:الگورتھم کا بانی
اسپیشل فیچر
مسلمان سائنسدانوں نے جہاں علوم کی مختلف شاخوں میں اپنا لوہا منوایا ہے، وہیں ان علوم کے پھیلائو میں بھی ان کا اہم کردار رہا ہے، ان علوم میں ریاضی سرفہرست ہے۔ مسلمان سائنسدانوں نے اپنے زمانہ عروج میں ہر ایک سائنسی علوم کی شاخ پر کام کیا اور تاحیات باقی دنیا کیلئے آسانیاں پیدا کیں۔ آج ہم ریاضی کی شاخ ''الجبرا‘‘ کی بنیاد رکھنے والے سائنسدان محمد عبداللہ بن موسیٰ الخورازمی کا ذکر کرنے والے ہیں۔
ریاضی کے قاعدے بنانے اور اسے ترقی دینے میں الخوارزمی کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ خوارزمی فیثا غورث کے زمانے سے ریاضی کے سب سے بڑے عالم مانے جاتے ہیں۔ ان کی وضع کردہ گنتی آج تک مشرق ومغرب میں رائج ہے۔ الخوارزمی کی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ریاضی میں ایسا علم ایجاد کیا جس کا پہلے سے کوئی وجود نہیں تھا۔
آج کمپیوٹر پروگرامنگ انہی کی ایجاد کردہ الگورتھم استعمال کرتا ہے۔ بیسویں صدی میں جب کمپیوٹر ایجاد ہوا تو اس شعبے کے ماہرین نے کمپیوٹر پروگرام یا سافٹ ویئر لکھنے کامنظم طریقہ وضع کیا جسے الخوارزمی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ''الگورتھم‘‘ کہا جانے لگا۔ واضح رہے کہ الگورتھم کا تعلق کسی پروگرامنگ لینگوئج سے نہیں ہوتا بلکہ یہ کسی مخصوص کام کو انجام دینے والے ضوابط کا منظم اور ترتیب وار مجموعہ ہوتا ہے جسے سامنے رکھتے ہوئے کوئی کمپیوٹر پروگرام یعنی ''سافٹ وئیر‘‘ لکھا جاتا ہے۔ طب (میڈیسن) کے شعبے میں امراض کی تشخیص سے لے کر علاج معالجے تک منظم اور ترتیب وار طریقہ کار کو بھی ''الگورتھم‘‘ہی کہا جاتا ہے، اس لیے الخوارزمی کا نام جدید سائنس میں آج بھی زندہ ہے۔
الخوارزمی بغداد میں 780ء سے لے کر854تک مقیم رہے، اس دوران انہوں نے دارلحکمت میں کتابوں سے استعفادہ کیا جو خلیفہ مامون کی لائبریری میں دستیاب تھیں۔ انہوں نے ریاضی، جغرافیہ، فلکیات،تاریخ،یونانی اور ہندوستانی علوم کا مطالعہ کیا اورعربی زبان میں اپنی تمام تصنیف شائع کیں۔ عربی اس زمانے میں سائنس کی زبان تصور کی جاتی تھی۔
الجبرا عربی کا لفظ ہے جو الخوارزمی کی ''کتاب المختصر فی حساب الجبرو المقابلہ ‘‘سے لیا گیا ہے۔ یہ ریاضی کی ایک شاخ ہے جس میں نامعلوم یا معلوم اعداد کی جگہ علامتوں کا استعمال کر کے انہیں حل کیا جاتا ہے۔الجبرا کے کلیوں کے ذریعے مساوات تلاش کی جاتی ہیں۔الخوارزمی نے سب سے پہلے الجبرا کو منطقی اور سائنسی زبان میں سمجھایا اور اس کے جدید کلیے وضع کیے۔ انہوں نے عربی اعدادکا استعمال کیایہاں تک کہ وہ رومن ہندسوں کی جگہ استعمال ہونے لگے جو اس وقت یورپ ،مشرق وسطی اور سلطنت روم میں رائج تھے۔علمِ حساب اور الجبرا کو الگ کیا، اس سے قبل یہ دونوں ایک تصور کیے جاتے تھے۔ انہوں نے لفظ ''الجبرا‘‘ ایجاد کیا جو اس علم کا نام پڑگیا، جسے بعد میں مختلف مغربی تہذیبوں نے اپنایا۔
الخوارزمی نے اعداد میں اعشاریہ متعارف کروایا اور سب سے پہلے صفرکا استعمال کیا علم ریاضی میں یہ ایک انقلاب تھا جو آج تک اپنی افادیت رکھے ہوئے ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ اس کے ذریعے اسلامی اور مغربی ریاضی میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے ہندوستانی نظام میں اعداد کو متعارف کروایا، آہستہ آہستہ تمام عالم اسلام میں پھیل گیا اور یورپ نے بھی ان کا استعمال شروع کردیا۔الخوارزمی نے کئی موضوعات پر تصانیف لکھی ہیں۔ انہوں نے جتنے علوم سیکھے سب پر کتابیں لکھیں۔ ان کی مشہور تصینف''کتاب المختصر حساب الجبروالمقابلہ‘‘ہے۔الخوارزمی نہ صرف علم ِحساب میں عظیم نام رکھتے ہیں بلکہ سائنس کی دنیا میں بھی اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔انہوں نے نہ صرف جدید الجبرا کی بنیاد رکھی بلکہ علمِ فلک میں اہم دریافتیں کیں۔
بے شک الخورازمی کی شہرت کی سب سے بڑی وجہ ان کا ریاضی کے میدان میں کام تھا لیکن اس کی کل تحقیق کا دائرہ نہایت وسیع تھا۔ اس نے فلکیات،جغرافیہ اور زمینیات جیسے سائنس کے بے شمار شعبوں میں کام کیا۔اس میں سے ایک کارنامہ ''صورئہ ارض‘‘نامی کتاب کی تصنیف بھی ہے جس میں انہوں نے مختلف قدرتی اور آدم سازیعنی انسانوں کے بنائے ہوئے خطے مثلاً پہاڑوں، سمندروں، جزیروں، دریاوں، نہروں کو ان کے ناموں کی ترتیب کے اعتبار سے ارضیاتی نقشہ جات میں وقت اور تصحیح کے ساتھ ذکر کیا۔
الخوارزمی کے سائنسی کارناموں کی تاثیر اتنی گہری تھی کہ اس کے آثار آج بھی پوری دنیا میں موجود ہیں۔انہوں نے ایک ہزار سے زائدکتب لکھیں، جن میں سے آٹھ سو ریاضی کے مضامین پر ہیں۔انہوںنے روزانہ کی زندگی کو الجبرا کی اہمیت سے روشناس کرایا اورمختلف پیشوں میں اس کا استعمال بتایااور موسم کی بنیاد پر دنیا کو مختلف حصوں میں بانٹا۔