وقت کی پیمائش کا نیا طریقہ
اسپیشل فیچر
دنیا میں وقت معلوم کرنے کا روایتی تصور صدیوں پرانا ہے۔ گھڑی کی سوئیاں، ریت کے دانے، یا پینڈولم کی جھولتی حرکات ہمیں گزرنے والے لمحات کا پتہ دیتی ہیں۔ لیکن جب ہم مادے کی انتہائی چھوٹی یعنی کوانٹم سطح پر پہنچتے ہیں تو وہاں وقت کی یہ سیدھی لکیر دھندلا جاتی ہے۔ ذرات کی حرکات اتنی تیز اور غیر یقینی ہوتی ہیں کہ ''اب‘‘ اور ''تب‘‘ کا فرق تقریباً مٹ جاتا ہے۔ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر روایتی گھڑیاں وہاں کارآمد نہیں تو وقت کی پیمائش کیسے ممکن ہے؟ اسی بنیادی سوال کا ایک حیران کن جواب 2022ء میں سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے پیش کیا تھا۔ انہوں نے وقت ناپنے کا ایک بالکل نیا طریقہ دریافت کیا جو کسی ابتدائی لمحے یا ''زیرو پوائنٹ‘‘ پر منحصر نہیں ، یعنی گھڑی چلانے کی ضرورت ہی نہیں!
کوانٹم دنیا کا عجیب منظرنامہ
سائنس کے مطابق جب ہم مادے کو انتہائی چھوٹے پیمانے پر دیکھتے ہیں تو ذرات کی حرکات اندازوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ ایک الیکٹران کہاں ہوگا اور کس سمت میں حرکت کرے گا یہ بات یقینی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔ اسی غیر یقینی صورتحال کو کوانٹم فزکس کا بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔عام حالات میں ہم وقت کا تعین کسی حرکت یا تبدیلی کی بنیاد پر کرتے ہیں جیسے سورج کا نکلنا، گھڑی کا چلنا یا پینڈولم کا جھولنا، لیکن جب الیکٹران خود کسی مخصوص مقام یا رفتار میں محدود نہ ہوں تو وہاں وقت کی پیمائش ایک پیچیدہ ریاضیاتی پہیلی بن جاتی ہے۔
اپسالا یونیورسٹی کی ٹیم نے اپنے تجربات میں جس مظہر کا سہارا لیا اسے ریڈبرگ ایٹم (Rydberg Atom) کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل ایسے ایٹم ہوتے ہیں جن کے الیکٹران لیزر کی شعاعوں سے اتنی زیادہ توانائی حاصل کر لیتے ہیں کہ وہ نیوکلیس سے بہت دور چلے جاتے ہیں، گویا ایٹم ایک ''پھولا ہوا غبارہ‘‘ بن جاتا ہے۔یہی ریڈبرگ حالت (Rydberg state ) سائنسدانوں کے لیے دلچسپ ہے کیونکہ اس میں الیکٹران نہایت لطیف موج کے انداز میں حرکت کرتے ہیں۔ جب کئی ایسی الیکٹرانک موجیں آپس میں ملتی ہیں تو وہ تعامل پیدا کرتی ہیں، بالکل ویسے جیسے پانی کی لہریں آپس میں ٹکرانے پر مخصوص پیٹرن بناتی ہیں۔
تحقیق میں سائنسدانوں نے ہیلیم کے ایٹم کو لیزر سے چمکایا تاکہ اس کے الیکٹران ریڈبرگ حالت میں پہنچ جائیں۔ اس کے بعد ان ایٹموں سے نکلنے والے پیٹرنز کا تجزیہ کیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر ان پیٹرنز میں ایک مخصوص ترتیب پائی گئی جو وقت کے گزرنے کے ساتھ بدلتی تھی۔سائنسدانوں نے مشاہدہ کیا کہ ہر لمحے کا نقش ایک منفرد ''فنگر پرنٹ‘‘ رکھتا ہے۔ یعنی اگر کوئی مخصوص پیٹرن سامنے آئے تو اس سے یہ جانا جا سکتا ہے کہ کتنا وقت گزر چکا ہے ، بغیر اس کے کہ گھڑی چلانے کی ضرورت پڑے۔تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر مارٹا برہولٹس نے ایک دلچسپ مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ روایتی کاؤنٹر استعمال کرتے ہیں تو آپ کو ابتدا میں ایک زیرو طے کرنا پڑتا ہے یعنی کہاں سے گننا شروع کیا جائے لیکن اس نئے طریقے میں آپ کو گنتی شروع کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ آپ صرف تعامل کے پیٹرنز کو دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ مثلاً چار نینو سیکنڈ گزر چکے ہیں۔
یہ نیا طریقہ ''کوانٹم ٹائم سٹیمپنگ‘‘ کہلاتا ہے۔ اس میں وقت کا اندازہ کسی ابتدائی لمحے کے مقابلے میں نہیں بلکہ الیکٹرانک لہروں کے باہمی تعلق سے لگایا جاتا ہے۔ گویا سائنسدان مختلف ریڈبرگ حالتوں کے ''پیٹرن بینک‘‘ تیار کر سکتے ہیں جنہیں کسی بھی نئے تجربے میں وقت کے حساب کیلئے استعمال کیا جا سکے۔یہ بالکل ایسے ہے جیسے ایک دوڑ میں آپ کے پاس سٹاپ واچ نہ ہو مگر آپ دوسرے دوڑنے والوں کی رفتار کے پیٹرن سے یہ اندازہ لگا لیں کہ ایک مخصوص کھلاڑی نے کتنی دیر میں فاصلہ طے کیا۔
اس دریافت کے ذریعے سائنسدان انتہائی مختصر وقفوں ، جیسے 1.7 ٹریلین واں حصہ سیکنڈ (1.7 پیکو سیکنڈ) تک کو درستگی سے ناپ سکتے ہیں۔ یہ صلاحیت مستقبل کی کئی ٹیکنالوجیز میں انقلاب لا سکتی ہے مثلاً الٹرافاسٹ الیکٹرانکس میں جہاں برقی سگنلز نینو سیکنڈ کے پیمانے پر حرکت کرتے ہیں۔ کوانٹم کمپیوٹنگ میں جہاں معلومات کا تبادلہ لمحوں کے ہزارویں حصے میں ہوتا ہے۔ پمپ پروب سپیکٹروسکوپی میں جو مالیکیولر سطح پر کیمیائی ردِعمل کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ان تجربات کے ذریعے وقت کے ان گوشوں کو ناپنا ممکن ہو گیا ہے جنہیں پہلے محض ریاضیاتی مفروضوں سے سمجھا جاتا تھا۔ انسانی تہذیب میں وقت ہمیشہ ایک سیدھی لکیر کی مانند سمجھا گیا ہے۔ ماضی، حال اور مستقبل مگر کوانٹم فزکس ہمیں بتاتی ہے کہ اس سطح پر وقت شاید ایک دھارا نہیں بلکہ ایک جال نما ڈھانچہ ہے جہاں ''اب‘‘ اور ''تب‘‘ باہم ملے ہوتے ہیں۔ یہ نیا طریقہ اسی تصور کو سائنسی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس میں وقت کا تعین نہ کسی آغاز پر منحصر ہے نہ انجام پر بلکہ محض ذرات کی موجوں کی حرکات سے ہونے والے نقوش سے کیا جاتا ہے، گویا وقت خود ایک پیٹرن بن جاتا ہے کوئی بہتا ہوا دھارا نہیں۔
اپسالا یونیورسٹی کے سائنسدان اب یہ تجربہ دیگر عناصر پر دہرانے کا ارادہ رکھتے ہیں مثلاً نیون یا آکسیجن جیسے ایٹموں پر تاکہ وقت کے مزید ''فنگر پرنٹس‘‘ دریافت کیے جا سکیں۔ اسی طرح مختلف لیزر انرجی استعمال کر کے بھی نئے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔وقت کی پیمائش کا یہ نیا نظریہ صرف سائنس کی دنیا میں ہی نہیں بلکہ فلسفے، ٹیکنالوجی اور کائناتی نظریات پر بھی گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر وقت کو بغیر آغاز یا انجام کے ناپا جا سکتا ہے تو کیا ہمیں کائنات کے وجود اور تسلسل کے بارے میں بھی اپنی پرانی سوچ بدلنی ہوگی؟