سکندریہ کا روشن مینار، انسانی تاریخ کا عظیم شاہکار
اسپیشل فیچر
قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہونے والا اسکندریہ کا روشن مینار انسانی ذہانت، فنی مہارت اور سائنسی شعور کی شاندار علامت تھا۔ بحیرہ روم کے ساحل پر قائم یہ عظیم الشان مینار صرف جہاز رانوں کیلئے رہنمائی کا ذریعہ ہی نہیں تھا بلکہ یہ قدیم مصری اور یونانی تہذیب کے علمی و تعمیری کمالات کا بھی عکاس تھا۔ اس کی بلند و بالا ساخت، دور تک نظر آنے والی روشنی اور مضبوط تعمیر نے صدیوں تک اسکندریہ کی بندرگاہ کو دنیا کی مصروف ترین تجارتی گزرگاہوں میں شامل رکھا اور آج بھی یہ مینار تاریخ کے اوراق میں انسانی تخلیقی صلاحیت کا درخشاں استعارہ بن کر جگمگاتا ہے۔
جب سکندراعظم نے 331 قبل مسیح میں مصر فتح کیا تو اس نے بحیرہ روم کے ساحل پر نئے شہر کی بنیاد رکھی جسے اس نے اپنے نام سے منسوب کرتے ہوئے سکندریہ کا نام دیا۔ سکندر کی موت کے بعد اس کے جرنیل بطلیموس اوّل نے مصر کا تخت سنبھالا۔ اس نے سکندریہ کو علم، تجارت اور طاقت کا مرکز بنانے کا عزم کیا۔ چونکہ سکندریہ کی بندرگاہ بہت مصروف تھی اور وہاں کا ساحلی علاقہ کافی خطرناک تھا، اس لیے بحری جہازوں کو چٹانوں سے بچانے کیلئے بلند و بالا مینار کی ضرورت محسوس کی گئی۔
اس مینار کی تعمیر کا آغاز بطلیموس اوّل کے دور میں ہوا اور یہ اس کے بیٹے بطلیموس دوم کے دور 280 قبل مسیح میں مکمل ہوا۔ اس کی تعمیر کا ذمہ یونانی انجینئر سوسٹراٹس کے سپرد تھا۔ اس عظیم الشان عمارت کی تعمیر میں تقریباً 800 ٹیلنٹ (قدیم یونانی چاندی کی کرنسی) خرچ ہوئے، جو اس دور کے حساب سے ایک خطیر رقم تھی۔
قدیم مؤرخین کے مطابق، سکندریہ کا روشن مینار اہرام مصر کے بعد دنیا کی بلند ترین عمارتوں میں سے ایک تھا۔ اس کی اونچائی 330 سے 450 فٹ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس کی تعمیر میں سفید سنگ مرمر اور بڑے پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا۔اس مینار کی بناوٹ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
نچلا حصہ چوکور تھا اور اس میں ملازمین کے رہنے کے کمرے اور سامان رکھنے کے گودام تھے۔ درمیانی حصہ ہشت پہلو تھا جو خوبصورتی کے ساتھ اوپر کی طرف جاتا تھا۔ اوپری حصہ گول تھا جہاں روشنی کا انتظام کیا گیا تھا۔
مینار کے بالکل اوپر یونانی دیوتاؤں زیوس اور پوسائڈن کا مجسمہ نصب تھا۔اس مینار کی سب سے خاص بات اس کا روشنی کا نظام تھا۔ دن کے وقت سورج کی روشنی کو منعکس کرنے کیلئے بڑے بڑے کانسی کے آئینے استعمال کیے جاتے تھے، جن کی چمک میلوں دور سے نظر آتی تھی۔ رات کے وقت مینار کی چوٹی پر بہت بڑی آگ جلائی جاتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی روشنی 30 سے 50 میل کی دوری سے دیکھی جا سکتی تھی، جس کی بدولت جہاز ران بحفاظت بندرگاہ تک پہنچ پاتے تھے۔
سکندریہ کا روشن مینار 1600 سال تک قائم رہا۔ اس دوران اس نے کئی جنگیں اور طوفان دیکھے۔ اسے سب سے زیادہ نقصان زلزلوں نے پہنچایا۔ 956ء میں آنے والے ایک زلزلے نے اس کی اوپری ساخت کو نقصان پہنچایا۔ 1303ء اور 1323ء کے شدید زلزلوں نے اسے کھنڈر میں بدل دیا۔ مشہور سیاح ابنِ بطوطہ نے 14ویں صدی میں جب یہاں کا دورہ کیا تو اس نے لکھا کہ مینار اتنی بری حالت میں ہے کہ اب اس کے اندر داخل ہونا ممکن نہیں۔بالآخر 1480ء میں مصر کے سلطان قایتبائی نے اس کے بچے کھچے ملبے اور پتھروں کو استعمال کرتے ہوئے وہیں قلعہ تعمیر کروایا، جسے آج قلعہ قایتبائی کہا جاتا ہے۔
سکندریہ کا مینار یونانیوں کے سائنسی اور ریاضیاتی کمال کا ثبوت تھا۔ اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا زاویوں کا علم اور آئینے کا استعمال اس وقت کی بلند پایہ انجینئرنگ کو ظاہر کرتا ہے۔1994ء میں غوطہ خوروں اور ماہر آثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے سکندریہ کی بندرگاہ کے قریب سمندر کی تہہ سے اس مینار کے وزنی پتھر اور مجسمے دریافت کیے۔ ان دریافتوں نے مؤرخین کو اس عظیم عمارت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دی۔
سکندریہ کا روشن مینار انسانی عقل اور ضرورت کے تحت تخلیق پانے والا ایسا شاہکار تھا جس نے انسانی جانیں بچائیں بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے فن تعمیر کے نئے راستے کھولے۔ اگرچہ آج یہ مینار موجود نہیں لیکن قدیم دنیا کے عجائبات میں اس کا مقام ہمیشہ بلند رہے گا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان جب علم اور ہنر کو یکجا کرتا ہے تو وہ ایسی چیزیں تخلیق کر سکتا ہے جو صدیوں تک دنیا کو متحیر کرتی رہتی ہیں۔